Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 9 كتاب الأيمان والنذور ) ‹ ( 3 باب الرجل يوجب على نفسه أن يصلي في مكان فيصلي في غيره ) · حديث 4693

4431 - حدثنا يونس قال ثنا أنس بن عياض عن محمد بن عمرو عن سلمان الأغر عن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله

سلیمان الاغر نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح کی روایت کی ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَلْمَانَ الْأَغَرِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← أَنَسَ بْنَ عِيَاضٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4693

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 9 كتاب الأيمان والنذور ) ‹ ( 3 باب الرجل يوجب على نفسه أن يصلي في مكان فيصلي في غيره ) · حديث 4694

4432 - حدثنا أبو أمية قال ثنا خالد بن مخلد القطواني قال ثنا سليمان بن بلال قال حدثني عبد الله بن سلمان عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

عبداللہ بن سلمان نے اپنے والد سے انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلْمَانَ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ الْقَطَوَانِيُّ ← اَبُوْ اُمَیَّۃَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4694

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 9 كتاب الأيمان والنذور ) ‹ ( 3 باب الرجل يوجب على نفسه أن يصلي في مكان فيصلي في غيره ) · حديث 4695

4433 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا القعنبي قال ثنا محمد بن هلال عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

محمد بن ہلال نے اپنے والد سے انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ هِلاَلٍ ← الْقَعْنَبِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4695

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 9 كتاب الأيمان والنذور ) ‹ ( 3 باب الرجل يوجب على نفسه أن يصلي في مكان فيصلي في غيره ) · حديث 4696

4434 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا علي بن عياش قال ثنا إسماعيل بن عياش قال حدثني يحيى بن سعيد قال سألت أبا صالح هل سمعت أبا هريرة يذكر فضل الصلاة في مسجد رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لا ولكن حدثني إبراهيم بن عبد الله بن قارظ أنه سمع أبا هريرة يحدث عن رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكر مثله قال أبو جعفر فهذا رسول الله صلى الله عليه و سلم قد فضل الصلاة في مسجده على الصلاة في غيره بألف صلاة غير المسجد الحرام فأحتمل أن يكون لا فضل للصلاة في المسجد الحرام على الصلاة في مسجده أو تكون الصلاة في أحدهما أفضل من الصلاة في الآخر فنظرنا في ذلك فإذا أحمد بن داود قد

یحییٰ بن سعید کہتے ہیں کہ میں نے ابو صالح سے دریافت کیا کہ کیا تم نے جناب ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو مسجد رسول اللہ ﷺ کی فضیلت بیان کرتے سنا ہے ؟ اس نے کہا نہیں ۔ لیکن مجھے ابراہیم بن عبداللہ قارظ نے بیان کیا کہ میں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو جناب رسول اللہ ﷺ سے یہ بات اسی طرح بیان کرتے سنا ہے ۔ طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ان روایات میں جناب رسول اللہ ﷺ نے مسجد نبوی میں نماز کو مسجد حرام کے دوسرے تمام مقام پر نماز سے ایک ہزار درجہ افضل قرار دیا ۔ پس اس میں یہ احتمال پیدا ہوا کہ مسجد نبوی میں پڑھی جانے والی نماز پر مسجد حرام میں پڑھی جانے والی نماز کو فضیلت نہ ہو یا ان دونوں میں سے کسی میں نماز دوسری مسجد میں پڑھی جانے والی نماز سے افضل ہو۔ پس اس سلسلے میں ہم نے غور کیا مندرجہ ذیل روایات میسر آئیں ۔

يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4696

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 9 كتاب الأيمان والنذور ) ‹ ( 3 باب الرجل يوجب على نفسه أن يصلي في مكان فيصلي في غيره ) · حديث 4697

4435 - حدثنا قال ثنا مسدد قال ثنا حماد بن زيد عن حبيب المعلم عن عطاء بن الزبير قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم صلاة في مسجدي هذا أفضل من ألف صلاة فيما سواه من المساجد إلا المسجد الحرام وصلاة في ذلك أفضل من مائة صلاة في هذا

حبیب معلم نے عطاء بن زبیر سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس مسجد ( مسجد نبوی ) میں نماز وہ دوسری مساجد میں نماز سے سوائے مسجد حرام کے ہزار گنا افضل ہے اور مسجد حرام میں نماز مسجد نبوی کے مقابلے میں ایک سو گنا افضل ہے ۔ ( گویا بقیہ مساجد سے ایک لاکھ گنا افضل ہے )

عطاء بن الزبير ← حَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← مُسَدَّدٌ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4697

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 9 كتاب الأيمان والنذور ) ‹ ( 3 باب الرجل يوجب على نفسه أن يصلي في مكان فيصلي في غيره ) · حديث 4698

4436 - حدثنا محمد بن النعمان قال ثنا الحميدي قال ثنا سفيان قال حدثني زياد بن سعد قال حدثني سليمان بن عتيق قال سمعت عبد الله بن الزبير على المنبر يقول سمعت عمر بن الخطاب فذكر مثله ولم يرفعه قال سفيان فيرون أن الصلاة في المسجد الحرام أفضل من مائة ألف صلاة فيما سواه من المساجد إلا في مسجد الرسول صلى الله عليه و سلم فإنما فضله عليه بمائة صلاة

سلیمان بن عتیق کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ کہتے سنا کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا ہے پھر اسی طرح کی روایت نقل کی مگر اس کو مرفوع بیان نہیں کیا۔ سفیان ثوری کہتے ہیں اب علماء کا خیال یہ ہے کہ مسجد حرام میں نماز دوسرے مقام پر نماز سے ایک لاکھ گنا افضل ہے اور مسجد نبوی سے سو گنا افضل ہے ۔

مثله ولم يرفعه ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ عَلَی الْمِنْبَرِ ← سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ، ← زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← محمد بن النعمان

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4698

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 9 كتاب الأيمان والنذور ) ‹ ( 3 باب الرجل يوجب على نفسه أن يصلي في مكان فيصلي في غيره ) · حديث 4699

4437 - حدثنا يونس قال ثنا علي بن معبد قال ثنا عبيد الله بن عمرو عن عبد الكريم بن مالك عن عطاء بن أبي رباح عن جابر بن عبد الله قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم صلاة في مسجدي هذا أفضل من ألف صلاة فيما سواه إلا المسجد الحرام وصلاة في المسجد الحرام أفضل من مائة صلاة فيما سواه قال فلما كان فضل الصلاة في بعض هذه المساجد على بعض ما قد ذكر في هذه الآثار لم يجز لمن أوجب على نفسه صلاة في شيء منها إلا أن يصليها حيث أوجب أو فيما هو أفضل منه من المواضع وكان من الحجة لأبي حنيفة ومحمد على أهل هذا القول أن معنى قول رسول الله صلى الله عليه و سلم صلاة في مسجدي هذا أفضل من ألف صلاة فيما سواه إنما ذلك على الصلوات المكتوبات لا على النوافل ألا ترى إلى قوله في حديث عبد بن سعد لأن أصلي في بيتي أحب إلي من أن أصلي في المسجد وقوله في حديث زيد بن ثابت خير صلاة المرء في بيته إلا المكتوبة وذلك أنه حين أراد أن يقوم بهم في شهر رمضان في التطوع وقد ذكرنا ذلك في غير هذا الموضع من هذه الآثار فلما روى ذلك على ما ذكرنا كان تصحيح الآثار يوجب أن الصلاة في مسجد رسول الله صلى الله عليه و سلم التي لها الفضل على الصلاة في البيوت هي الصلاة التي هي خلاف هذه الصلاة وهي المكتوبة فثبت بذلك فساد ما احتج به أبو يوسف وثبت أن من أوجب على نفسه صلاة في مكان فصلاها في غيره أجزأه فهذا وجه هذا الباب من طريق الآثار وأما وجهه من طريق النظر فإنا رأينا الرجل إذا قال لله علي أن أصلي ركعتين في المسجد الحرام فالصلاة التي أوجبها قربة حيث ما كانت فهي عليه واجبة ثم أردنا أن ننظر في الموطن الذي أوجب على نفسه أن يصليها فيه هل يجب عليه كما يجب عليه تلك الصلاة أم لا فرأيناه لو قال لله علي أن ألبث في المسجد الحرام ساعة لم يجب ذلك عليه وإن كان ذلك اللبث هو لو فعله قربة فكان اللبث وإن كان قربة لا يجب بإيجاب الرجل إياه على نفسه فلما كان ما ذكرنا كذلك كان من أوجب لله على نفسه صلاة في المسجد الحرام وجبت عليه الصلاة ولم يجب عليه اللبث بها في المسجد الحرام فهذا هو النظر في هذا الباب وهو قول أبي حنيفة ومحمد رحمة الله عليهما والله أعلم

عطاء بن ابی رباح نے جابر بن عبداللہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری اس مسجد میں نماز دوسرے مقام کی مساجد میں نماز سے ایک ہزار گنا افضل ہے سوائے مسجد حرام کے اور مسجد حرام کی نماز دوسرے مقام کی نماز سے سو گنا افضل ہے ۔ نماز کے ادا کرنے میں جب ان مساجد میں سے بعض کو بعض پر فضیلت ہے جیسا کہ آثار میں مذکور ہے تو جس شخص نے ان میں سے کسی مسجد میں اپنے اوپر نماز کا لازم کیا ہو۔ اسے دوسرے مقام پر پڑھنا جائز نہیں ہے ۔ اسی مقام پر ادا کرنا ضروری ہے یا پھر ایسے مقام پر جو اس سے افضل ہو۔ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ اور محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جناب رسول اللہ ﷺ کے ارشاد صلاۃ فی مسجدی ۔۔۔کا مطلب یہ ہے اس سے فرض نمازیں مراد ہیں نہ کہ نوافل ۔ جیسا کہ عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ اگر میں اپنے گھر میں نماز ادا کروں تو وہ مجھے مسجد میں نماز سے زیادہ محبوب ہے اور آپ ﷺ کا یہ ارشاد جو حدیث زید بن ثابت میں ہے ۔ آدمی کی سب سے بہتر نماز ( یعنی نفلی ) اپنے گھر میں ہے سوائے فرض نماز کے اور یہ بات اس وقت فرمائی جبکہ ان کو رمضان المبارک کے مہینہ میں قیام رمضان کی ترغیب دی اس کے متعلق آثار ہم دوسرے مقام پر زکر کر آئے ہیں ۔ جب یہ ارشادات اس طرح مروی ہیں تو آثار کی تصحیح اس بات کو لازم کرتی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کی مسجد میں جس نماز کو گھر کی نمازوں پر فضیلت حاصل ہے وہ اس نماز کے علاوہ یعنی فرض نماز ہے ۔ اس سے امام یوسف رحمتہ اللہ علیہ نے جو استدلال کیا ہے اس کی غلطی ثابت ہوئی اور یہ بات پختہ طور پر ثابت ہو گئی کہ جس شخص نے اپنے اوپر کسی جگہ نماز پڑھنا لازم کر لیا اور اس کو کسی دوسرے مقام پر ادا کیا تو وہ ادائیگی کافی ہو جائے گی ۔ آثار کے پیش نظر تو اس بات کا حکم یہی ہے ۔ البتہ نظری انداز سے بھی حکم ظاہر کرتے ہیں ۔ بغور دیکھنے سے معلوم ہوا کہ وہ شخص جو کہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قسم مجھ پر مسجد حرام میں دو رکعت پڑھنا لازم ہے تو جس نماز کو اس نے بطور تقریب لازم کیا ہے وہ اس پر واجب ہو گئی خواہ جہاں بھی پڑھے اب ہم اس میں یہ غور کرنا چاہتے ہیں کہ جس جگہ نماز پڑھنے کی اس نے نذر مانی ہے تو کیا وہ اسی طرح واجب ہے جس طرح پر یہ نماز ( مسجد حرام ) واجب ہے یا نہیں تو ہم نے اس کو دیکھا کہ اگر اس نے اس طرح کہا اللہ کی قسم میں مسجد حرام میں ایک گھڑی ٹھہروں گا تو یہ اس پر واجب نہ ہو گا اگرچہ یہ ٹھہرنا وہ عبادت کے طور پر کرتا۔ پس یہ ٹھہرنا اگر بالفرض قربت و عبادت بھی ہوتا تب بھی آدمی کے اپنے نفس پر واجب کرنے سے واجب نہ ہوتا ۔ جب یہ بات اسی طرح ہے جو ہم نے ذکر کی ہے تو اب وہ شخص جس نے قاسم سے اپنے اوپر مسجد حرام کی نماز لازم کی ہے اس پر نماز تو لازم ہو جائے گی ۔ مگر اس پر مسجد حرا م میں ٹھہرنا لازم نہ ہو گا۔ اس بابت میں نظر کا یہی تقاضا ہے اور یہ ابو حنیفہ ، محمد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے ۔ واللہ اعلم ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← عبد الكريم بن مالك ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4699

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 9 كتاب الأيمان والنذور ) ‹ ( 4 باب الرجل يوجب على نفسه المشي إلى بيت الله ) · حديث 4700

4438 - حدثنا علي بن الرحمن قال ثنا عبد الله بن صالح قال حدثني الهفل بن زياد قال حدثني الأوزاعي قال حدثني عبد الرحمن بن اليمامي عن يحيى بن سعيد أن حميد الطويل أخبره أنه سمع أنس بن مالك يقول مر رسول الله صلى الله عليه و سلم برجل يهادى بين إبنين له فسأل عنه فقالوا نذر أن يمشي فقال إن الله عز و جل لغني عن تعذيب هذا نفسه وأمره أن يركب أي لعجزه عن المشي

حمید الطویل نے خبر دی ہے کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ جناب رسول اللہ ﷺ کا گزر ایک ایسے آدمی کے پاس سے ہوا جو اپنے دو بیٹوں کے سہارے چل رہا تھا آپ ﷺ نے اس کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے بتلایا کہ اس نے نذر مانی ہے کہ چل کر ( بیت اللہ ) جائے گا آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس شخص کے اپنے اپ کو عذاب دینے سے بری الذمہ ہے آپ نے اسے سوار ہونے کا حکم فرمایا ( کیونکہ وہ چلنے سے عاجز تھا )

يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← عبد الرحمن بن اليمامي ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الهفل بن زياد ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← علي بن الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4700

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 9 كتاب الأيمان والنذور ) ‹ ( 4 باب الرجل يوجب على نفسه المشي إلى بيت الله ) · حديث 4701

4439 - حدثنا الربيع الجيزي قال ثنا عبد الله بن صالح فذكر بإسناده مثله

ربیع جیزی نے عبداللہ بن صالح سے اسی طرح روایت کی پھر انہوں نے اپنی سند سے روایت نقل کی ہے ۔

عبد الله بن صالح فذكر بإسناده مثله ← الربيع الجيزي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4701

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 9 كتاب الأيمان والنذور ) ‹ ( 4 باب الرجل يوجب على نفسه المشي إلى بيت الله ) · حديث 4702

4440 - حدثنا محمد بن خزيمة وابن أبي داود قالا ثنا مسدد قال ثنا يحيى بن حميد عن ثابت عن أنس عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

یحییٰ بن حمید نے ثابت بن انس رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← يَحْيَى بْنِ حُمَيْدٍ، ← مُسَدَّدٌ ← محمد بن خزيمة وابن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4702

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 9 كتاب الأيمان والنذور ) ‹ ( 4 باب الرجل يوجب على نفسه المشي إلى بيت الله ) · حديث 4703

4441 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا عيسى بن إبراهيم قال ثنا عبد العزيز بن مسلم قال ثنا يزيد بن أبي منصور عن دخين الحجري عن عقبة بن عامر الجهني قال نذرت أختي أن تمشي إلى الكعبة حافية حاسرة فأتى عليها رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال ما بال هذه قالوا نذرت أن تمشي إلى الكعبة حافية حاسرة فقال مروها فلتركب ولتختمر قال أبو جعفر رحمه الله فذهب قوم إلى هذه الآثار فقالوا من نذر أن يحج ماشيا أمر أن يركب ولا شيء عليه غير ذلك وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا يركب كما جاء في هذا الحديث فإن كان أراد بقوله لله علي معنى اليمين فعليه مع ذلك كفارة يمين لأن معنى لله علي قد يكون في معنى والله لأن النذر معناه معنى اليمين وقد روي عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أن في النذر كفارة يمين فمما روي في ذلك ما

دخین الحجری نے عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میری بہن نے نذر مانی کہ وہ ننگے سر اور ننگے پاؤں بیت اللہ جائے گی جناب رسول اللہ ﷺ اس کے ہاں تشریف لائے اور دریافت فرمایا اسے کیا ہے انہوں نے بتلایا کہ اس نے کعبہ تک ننگے سر ننگے پاؤں چلنے کی نذر مانی ہے ۔ ارشاد فرمایا ۔ اس کو کہو کہ سوار ہو جائے اور دوپٹہ پہنے ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بعض علماء کا یہ خیال ہے کہ جس ادمی نے یہ نذر مان لی کہ وہ پیدل حج کرے گا تو اسے سوار ہونے کا حکم ہو گا اس کے علاوہ اس پر کوئی چیز لازم نہیں ۔ دوسرے علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ اسے یہ چاہیے کہ وہ سوار ہو جائے جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا۔ اب اگر للہ علی سے قسم مقصود تھی تو اس کے ذمہ قسم کا کفارہ بھی ہوگا کیونکہ بعض اوقات یہ الفاظ قسم کے لئے آتے ہیں کیونکہ نذر و قسم کا ایک ہی مطلب ہے جناب رسول اللہ ﷺ سے اس سلسلہ میں حدیث مروی ہے کہ ان فی النذر کفارۃ یمین کہ نذر میں قسم کا کفارہ ہے ۔

نَذَرَتْ أُخْتِي ← عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، ← دخين الحجري ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَنْصُورٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ← عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4703

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 9 كتاب الأيمان والنذور ) ‹ ( 4 باب الرجل يوجب على نفسه المشي إلى بيت الله ) · حديث 4704

4442 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أنا جرير بن حازم عن محمد بن الزبير التميمي عن أبيه عن عمران بن الحصين أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لا نذر في غضب وكفارته كفارة يمين

محمد بن زبیر تمیمی نے اپنے والد سے انہوں نے عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ غصے میں نذر نہیں ہوتی اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔

عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ: ← أَبِيهِ ← محمد بن الزبير التميمي ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4704

chevron_left Previous
1…5678
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter