Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 9 كتاب الأيمان والنذور ) ‹ ( 2 باب الرجل يحلف أن لا يكلم رجلا شهرا كم عدد ذلك الشهر من الأيام ) · حديث 4669

4410 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا روح بن عبادة قال ثنا بن جريج قال أخبرني يحيى بن عبد الله بن محمد بن صيفي أن عكرمة بن عبد الرحمن أخبره أن أم سلمة أخبرته أن النبي صلى الله عليه و سلم حلف أن لا يدخل على بعض أهله شهرا فلما مضى تسع وعشرون يوما غدا عليهم أو راح فقيل له حلفت يا نبي الله أن لا تدخل عليهن شهرا فقال إن الشهر تسع وعشرون يوما

عکرمہ بن عبدالرحمن نے بتلایا کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ نے مجھے خبر دی کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے قسم اٹھائی کہ اپنی بعض ازواج کے ہاں ایک ماہ داخل نہ ہوں گے جب انتیس دن گزر گئے تو آپ ان زوجہ محترمہ رضی اللہ عنہ کے ہاں صبح یا شام کو تشریف لائے آپ سے عرض کیا گیا کہ آپ نے تو ایک ماہ اپنی ازواج کے پاس نہ جانے کی قسم اٹھائی تھی آپ ﷺ نے فرمایا یہ مہینہ انتیس دن کا ہے ۔

يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيٍّ، ← بن جُرَيْجٍ ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← بن مرزوق

Hadith 4669

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 9 كتاب الأيمان والنذور ) ‹ ( 2 باب الرجل يحلف أن لا يكلم رجلا شهرا كم عدد ذلك الشهر من الأيام ) · حديث 4670

4411 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا روح بن عبادة قال ثنا زكريا بن إسحاق قال ثنا أبو الزبير أنه سمع جابر بن عبد الله يقول هجر رسول الله صلى الله عليه و سلم نساءه شهرا وكان يكون في العلو ويكن في السفل فنزل إليهن في تسع وعشرين فقال رجل إنك مكثت تسع وعشرين ليلة فقال إن الشهر هكذا وهكذا بأصابع يديه وهكذا وقبض في الثالثة إبهامه

ابو الزبیر نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ و فرماتے سنا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواج کو ایک ماہ کیلئے چھوڑ دیا اور آپ بالا خانے میں رہتے تھے اور ازواج مطہرات نچلے حجرات میں رہائش پذیر تھیں۔ آپ ﷺ انتیس دنوں بعد اتر کر ان کے ہاں تشریف لے گئے ۔ تو ایک آدمی نے کہا آپ تو انتیس راتیں ٹھہرے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا مہینہ اتنا، اتنا اور اتنا ہوتا ہے آپ نے انگلیوں سے اشارہ فرمایا اور آخری مرتبہ انگوٹھے کو ساتھ ملا لیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ← زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← بن مرزوق

Hadith 4670

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 9 كتاب الأيمان والنذور ) ‹ ( 2 باب الرجل يحلف أن لا يكلم رجلا شهرا كم عدد ذلك الشهر من الأيام ) · حديث 4671

4412 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا روح قال ثنا بن جريج قال أخبرني أبو الزبير أنه سمع جابرا فذكر مثله

ابو الزبیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا پھر اسی طرح روایت بیان کی ۔

جابرا فذكر مثله ← أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ← بن جُرَيْجٍ ← رَوْحٌ، ← بن مرزوق

Hadith 4671

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 9 كتاب الأيمان والنذور ) ‹ ( 2 باب الرجل يحلف أن لا يكلم رجلا شهرا كم عدد ذلك الشهر من الأيام ) · حديث 4672

4413 - حدثنا نصر بن مرزوق قال ثنا علي بن معبد قال ثنا إسماعيل بن جعفر عن حميد عن أنس قال آلى رسول الله صلى الله عليه و سلم من نسائه فأقام في مشرية تسعا وعشرين ثم نزل فقالوا يا رسول الله آليت شهرا فقال الشهر تسع وعشرون قال أبو جعفر رحمه الله فذهب قوم إلى أن الرجل إذا حلف لا يكلم رجلا شهرا فكلمه بعد مضي تسعة وعشرين يوما أنه لا يحنث واحتجوا في ذلك بهذه الآثار وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا إن كان حلف مع رؤية الهلال فهو على ذلك الشهر الذي كان ثلاثين يوما أو تسعا وعشرين يوما وإن كان حلف في بعض شهر فيمينه على ثلاثين يوما واحتجوا في ذلك بالحديث الذي ذكرناه في أول هذا الباب أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال الشهر تسع وعشرون فإذا رأيتموه فصوموا وإذا رأيتموه فأفطروا فإن غم عليكم فأكملوا ثلاثين يوما أفلا تراه قد أوجب عليهم إذا غم ثلاثين وجعله على الكمال حتى يروا الهلال ذلك وكذلك فعل أيضا في شعبان أمر بالصوم بعد ما يرى هلال شهر رمضان فإذا أغمى عليهم لم يصوموا وكان شعبان على الثلاثين إلا أن ينقطع ذلك برؤية الهلال وقد روي عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذلك غير ما في الآثار الأول

حمید نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواج کے ہاں نہ جانے کی قسم اٹھائی پس آپ انتیس روز بالا خانہ میں مقیم ہو گئے پھر اتر کر ان کے ہاں تشریف لے گئے ۔ انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ آپ نے تو ایک ماہ کی قسم اٹھائی تھی تو آپ نے فرمایا مہینہ انتیس دنوں کا ہوتا ہے ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں علماء کی ایک جماعت کہتی ہے کہ جب کوئی آدمی یہ قسم اٹھا لے کہ وہ ایک ماہ کلام نہ کرے گا پھر اس نے انتیس روز گزرنے پر کلام کر لیا تو وہ حانث نہ ہو گا اور انہوں نے مندرجہ بالا روایات سے استدلال کیا ہے ۔ دوسرے علماء کہتے ہیں کہ اگر اس نے چاند دیکھتے ہی قسم اٹھائی تھی تو وہ اس ماہ سے متعلق ہو گی جو تیس روز کا ہوتا ہے یا انتیس روز کا ہوتا ہے اور اگر اس مہینے کے چند دن گزرنے پر قسم اٹھائی تھی تو پھر اس کی قسم تیس روز گنتی کے ہوں گے اور ان کی دلیل وہ روایت ہے جس کو ابتداء بات میں ذکر کیا گیا ہے ۔ آ پ ﷺ نے اپنے ارشاد میں فرمایا : الشھر تسع و عشرون کہ مہینہ انتیس دن کا ہوتا ہے پس جب تم چاند کو دیکھو تو روزہ رکھو اور دیکھ کر افطار کرو۔ پھرا گر چاند ( بادل سے ) چھپ جائے تو تیس روز کی گنتی پوری کرو۔ ذرا روایت میں غور کرو کہ آپ ﷺ نے چاند چھپ جانے کی صورت میں تیس دن کی گنتی کو لازم کیا اور اس کو کامل ماہ قرار دیا یہاں تک کہ وہ چاند دیکھ لیں اسی طرح شعبان کے سلسلے میں بھی فرمایا کہ ماہ رمضان کا چاند نظر آنے پر روزے رکھیں اور جب وہ ان پر چھپ جائے تو روزہ نہ رکھیں اور شعبان تیس روز کا شمار ہوگا مگر یہ کہ چاند دکھائی دینے کی وجہ سے یہ مدت کم ہو جائے ۔ اس روایت کے علاوہ روایات بھی وارد ہیں جن کو ذکر کیا جاتا ہے۔

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Hadith 4672

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 9 كتاب الأيمان والنذور ) ‹ ( 2 باب الرجل يحلف أن لا يكلم رجلا شهرا كم عدد ذلك الشهر من الأيام ) · حديث 4673

4414 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا الوهبي قال ثنا بن إسحاق عن عبد الله بن أبي بكر عن عمرة عن عائشة قالت حلف رسول الله صلى الله عليه و سلم ليهجرنا شهرا فدخل علينا لتسع وعشرين فقلنا يا رسول الله إنك حلفت أن لا تكلمنا شهرا وإنما أصبحت من تسع وعشرين فقال إن الشهر لا يتم فأخبر أنه إنما فعل ذلك لنقصان الشهر فهذا دليل على أنه كان حلف عليهن مع غرة الهلال فكذلك نقول وقد روي في هذا ما هو أبين من هذا

عمرہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ایک ماہ تک ہمیں چھوڑے رکھنے کی قسم اٹھائی انتیس روز گزرنے پر آپ ہمارے ہاں تشریف لائے ہم نے خدمت میں گزارش کی یا رسول اللہ ﷺ آپ نے تو ایک ماہ تک ہم سے ہمکلام نہ ہونے کی قسم اٹھائی تھی اور آ پ نے انتیس روز پورے کئے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا ( بعض اوقات ) مہینہ پورا نہیں ہوتا۔ ( یہ اس طرح ہے ) اس روایت میں بتلا دیا کہ آپ نے مہینے کے کم ہونے کی وجہ سے ایسا کیا اس سے یہ دلیل مل گئی کہ آپ ﷺ نے چاند دیکھتے ہی ان کے ہاں نے جانے کی قسم اٹھائی تھی اور ہم بھی یہی بات کہتے ہیں اس سلسلہ میں تو واضح تر روایات وارد ہیں ۔

عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← بن إِسْحَاقَ، ← الوهبي ← بن أبي داود

Hadith 4673

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 9 كتاب الأيمان والنذور ) ‹ ( 2 باب الرجل يحلف أن لا يكلم رجلا شهرا كم عدد ذلك الشهر من الأيام ) · حديث 4674

4415 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا بن وهب قال أخبرني بن أبي الزناد عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة قالت وقولهم إن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال إن الشهر تسع وعشرون لا والله ما كذلك قال أنا والله أعلم بما قال في ذلك إنما قال حين هجرنا لأهجركن شهرا فجاء حتى ذهب تسع وعشرون ليلة فقلت يا نبي الله إنك أقسمت شهرا وإنما غبت تسعا وعشرين ليلة فقال إن شهرنا هذا كان تسعا وعشرين ليلة فثبت بذلك أن يمينه كانت مع رؤية الهلال وقد روي عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه من هذا شيء

ہشام نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ صحابہ کرام کا یہ کہنا کہ مہینہ انتیس دن کا ہوتا ہے اللہ کی قسم آپ ﷺ نے اس طرح نہیں فرمایا۔ اللہ کی قسم مجھے خبر ہے جو آپ نے اس سلسلے میں فرمایا بلاشبہ آپ ﷺ نے ہمیں چھوڑتے وقت فرمایا میں ایک ماہ تمہیں چھوڑے رکھوں گا اور ہوا یہ کہ انتیس راتیں گزریں تھیں کہ آ پ تشریف لے آئے تو میں نے کہا اے اللہ کے نبی ﷺ آپ نے تو ایک ماہ کی قسم اٹھائی تھی اور آپ ہم سے انتیس راتیں غائب رہے اس پر آپ نے فرمایا ہمارا یہ مہینہ انتیس راتوں کا ہے ۔ اس سے یہ بات ثابت ہو ئی کہ آپ کی قسم چاند دیکھتے ہی تھی اور حضرت عم رضی اللہ عنہ سے بھی اس سلسلہ میں مروی ہے ۔

وقولهم ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← بن أبي الزناد ← بن وَهْبٍ ← ربيع المؤذن

Hadith 4674

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 9 كتاب الأيمان والنذور ) ‹ ( 2 باب الرجل يحلف أن لا يكلم رجلا شهرا كم عدد ذلك الشهر من الأيام ) · حديث 4675

4416 - حدثنا أبو بكرة وابن مرزوق قالا ثنا عمر بن يونس قال ثنا عكرمة بن عمار عن سماك بن زميل قال حدثني عبد الله بن عباس قال حدثني عمر بن الخطاب رضي الله عنه فذكر إيلاء رسول الله صلى الله عليه و سلم من نسائه وأنه نزل لتسع وعشرين وقال إن الشهر قد يكون تسعا وعشرين وقد روي عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم في ذلك ما

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ کی قسم کا تذکرہ کیا جو بیویوں کے سلسلہ میں آپ نے اٹھائی تھی آپ ﷺ انتیس تاریخ کو نیچے اتر آئے اور فرمایا مہینہ کبھی انتیس دنوں کا ہوتا ہے ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس سلسلہ میں مروی ہے ۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← سماك بن زميل ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، ← أبو بكرة وابن مرزوق

Hadith 4675

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 9 كتاب الأيمان والنذور ) ‹ ( 2 باب الرجل يحلف أن لا يكلم رجلا شهرا كم عدد ذلك الشهر من الأيام ) · حديث 4676

4417 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا هارون بن إسماعيل قال ثنا علي بن المبارك قال ثنا يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة عن أبي هريرة حدثه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال إن الشهر يكون تسعا وعشرين ويكون ثلاثين وإذا رأيتموه فصوموا وإذا رأيتموه فأفطروا فإن غم عليكم فأكملوا العدة فأخبر رسول الله صلى الله عليه و سلم في هذا الحديث أنه إنما يكون تسعا وعشرين برؤية الهلال قبل الثلاثين فقد دلت هذه الآثار لما كشفت عما ذكرنا وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله وقد روي ذلك أيضا عن الحسن

ابو سلمہ نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مہینہ کبھی انتیس دن کا ہوتا ہے اور کبھی تیس دن کا ہوتا ہے پس جب تم چاند کو دیکھ لو ۔ تو روزہ رکھو اور جب تم چاند کو دیکھ لو تو افطار کر لو پھر اگر چاند چھپ جائے تو گنتی کو پورا کر لو۔ اس روایت میں جناب رسول اللہ ﷺ نے اطلاع دی ہے کہ انتیس دن کا مہینہ تیس یوم سے پہلے چاند دیکھنے کی صورت میں ہوتا ہے ۔ ( ورنہ گنتی میں تو تیس کا شمار کیا جائے گا۔ ) اس آثار سے دلالت مل گئی کہ جو بات ہم نے بیان کی وہ درست ہے اور یہ قول امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمتہ اللہ علیہ کا ہے اور حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ← هارون بن إسماعيل ← بن مرزوق

Hadith 4676

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 9 كتاب الأيمان والنذور ) ‹ ( 2 باب الرجل يحلف أن لا يكلم رجلا شهرا كم عدد ذلك الشهر من الأيام ) · حديث 4677

4418 - حدثنا أبو بشر الرقي قال ثنا معاذ بن معاذ عن أشعث عن الحسن في رجل نذر أن يصوم شهرا قال إن إبتدأ لرؤية الهلال صام لرؤيته وأفطر لرؤيته وإن إبتدأ في بعض الشهر صام ثلاثين يوما والله تعالى أعلم

اشعث نے حسن رحمتہ اللہ علیہ سے اس آدمی کے متعلق سوال کیا جس نے نذر مانی کہ وہ ایک ماہ روزہ رکھے گا تو انہوں نے فرمایا اگر اس نے روزے کی ابتداء رویت ہلال سے کی اور اس کو دیکھ کر روزہ شروع کیا تو افطار بھی چاند دیکھ کر کرے گا اور اگر اس نے روزے کی ابتداء چند دن گزرنے سے کی تو تیس دن کے روزے پورے کرے ۔ واللہ اعلم ۔

الحسن في رجل نذر أن يصوم شهرا ← أَشْعَثَ، ← مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، ← أبو بشر الرقي

Hadith 4677

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 9 كتاب الأيمان والنذور ) ‹ ( 3 باب الرجل يوجب على نفسه أن يصلي في مكان فيصلي في غيره ) · حديث 4678

4419 - حدثنا محمد بن الحجاج الحضرمي قال ثنا الخصيب بن ناصح قال ثنا حماد بن سلمة عن حبيب المعلم عن عطاء عن جابر أن رجلا قال يوم الفتح يا رسول الله صلى الله عليه و سلم إني نذرت إن فتح الله عليك مكة أن أصلي في بيت المقدس فقال له النبي صلى الله عليه و سلم صل ههنا فأعادها على النبي صلى الله عليه و سلم مرتين أو ثلاثا فقال النبي صلى الله عليه و سلم شأنك إذا قال أبو جعفر ففي هذا الحديث أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أمر الذي نذر أن يصلي في بيت المقدس أن يصلي في غيره فقال أبو حنيفة وأبو يوسف ومحمد بن الحسن من جعل لله عليه أن يصلي في مكان فصلى في غيره أجزأه ذلك واحتجوا في ذلك بهذا الحديث غير أن أبا يوسف قد قال في إملائه من نذر أن يصلي في بيت المقدس فصلى في المسجد الحرام أو في مسجد رسول الله صلى الله عليه و سلم أجزاه ذلك لأنه صلى في موضع الصلاة فيه أفضل من الصلاة في موضع الذي أوجب الصلاة فيه على نفسه ومن نذر أن يصلي في المسجد الحرام فصلى في بيت المقدس لم يجزه ذلك لأنه صلى في مكان ليس للصلاة فيه من الفضل ما للصلاة في ذلك المكان الذي أوجب على نفسه الصلاة فيه واحتج في ذلك بما روي عن رسول الله صلى الله عليه و سلم

عطاء نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ فتح مکہ کے دن ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں نے یہ نذر مان رکھی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کو فتح فرمایا تو میں بیت المقدس میں نماز پڑھوں گا جناب نبی ﷺ نے اس کو فرمایا اس جگہ نماز پڑھ لو اس نے اپنا سوال دو، تین مرتبہ دہرایا تو جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا پھر تو جان اور تیرا کام۔ اس حدیث سے معلوم ہو رہا ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کو جس نے بیت المقدس میں نماز کی نذر مان رکھی تھی ۔ دوسری جگہ پڑھنے کا حکم دیا اسی وجہ سے امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ کے نام کی نذر مانے کہ وہ فلاں مقام پر نماز ادا کرے گا اور اس نے اس کی بجائے دوسری جگہ نماز پڑھ لی تو اس کے لئے کافی ہے ۔ انہوں نے اسی روایت کو دلیل بنایا ہے ۔ البتہ امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ نے امالی ابو یوسف میں تحریر فرمایا جس آدمی نے یہ نذر مانی کہ وہ بیت المقدس میں نماز ادا کرے گا پھر اس نے بیت اللہ شریف میں نماز ادا کر لی یا مسجد نبوی میں نماز ادا کر لی تو اس کے لئے یہ نماز کافی ہو جائے گی ۔ کیونکہ اس نے ایسی جگہ میں نماز ادا کی ہے جو اس جگہ سے افضل ہے جہاں نذر کی اس نے نیت کی ہے اور جس نے اس طرح نذر کی کہ وہ مسجد حرام میں نماز ادا کرے گا اور اس نے بیت المقدس میں نماز ادا کرلی تو اس کے لئے کافی نہ ہو گی کیونکہ اس نے ایسی جگہ نماز ادا کی ہے جو اس سے فضیلت میں کم ہے جس کی اس نے نذر مان رکھی تھی ۔ انہوں نے اس سلسلہ میں ان روایات سے استدلال کیا ہے ۔

يوم الفتح: ← جابر أن رجلا ← عَطَاءٍ، ← حَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← الْخَصِيبُ بْنُ نَاصِحٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَجَّاجِ الْحَضْرَمِيُّ

Hadith 4678

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 9 كتاب الأيمان والنذور ) ‹ ( 3 باب الرجل يوجب على نفسه أن يصلي في مكان فيصلي في غيره ) · حديث 4679

4420 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا عمرو بن مرزوق قال ثنا شعبة عن أبي عبد العزيز الزبيدي عن عمرو بن الحكم عن سعد بن أبي وقاص عن النبي صلى الله عليه و سلم قال صلاة في مسجدي هذا أفضل من ألف صلاة فيما سواه إلا المسجد الحرام

عمرو بن حکم نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میری اس مسجد میں نماز پڑھنا مسجد حرام کے علاوہ دیگر مقامات میں ایک ہزار نماز پڑھنے سے زیادہ افضل ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← سَعْدَ بْنَ اَبِیْ وَقَّاصِ ← عمرو بن الحكم ← أبي عبد العزيز الزبيدي ← شُعْبَةُ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Hadith 4679

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 9 كتاب الأيمان والنذور ) ‹ ( 3 باب الرجل يوجب على نفسه أن يصلي في مكان فيصلي في غيره ) · حديث 4680

4421 - حدثنا علي بن معبد قال ثنا مكي وشجاع ح

علی بن معبد نے مکی اور شجاع سے روایت کی ۔

مكي وشجاع ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Hadith 4680

chevron_left Previous
12345…8
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter