شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 4 باب المطلقة طلاقا بائنا ماذا لها على زوجها في عدتها ) · حديث 4429
4179 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا وهب قال ثنا سعيد عن أبي بكر بن أبي الجهم قال دخلت أنا وأبو سلمة على فاطمة بنت قيس فحدثت أن زوجها طلقها طلاقا بائنا وأمر أبا حفص بن عمرو أن يرسل إليها بنفقتها خمسة أوساق فأتت النبي صلى الله عليه و سلم فقالت إن زوجي طلقني ولم يجعل لي السكنى ولا النفقة فقال صدق فاعتدي في بيت بن أم مكتوم ثم قال إن بن أم مكتوم رجل يغشى فاعتدي في بيت أم فلان
ابو بکر بن جہم کہتے ہیں کہ میں اور ابو سلمہ ساتھ مل کر فاطمہ بنت قیس کے ہاں گئے انہون نے بیان کیا کہ ان کے خاوند نے ان کو طلاق بائنہ دے دی اور ابو حفص نے حکم دیا کہ اس کی طرف اس کا نفقہ پانچ وسق بھیج دیا جائے فاطمہ خود جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئیں اور کہنے لگیں میرے خاوند نے مجھے طلاق دے دی اور میرے لیے سکنیٰ اور نفقہ بھی مقرر نہیں کیا آپ ﷺ نے فرمایا اس نے درست کیا ہے پس تم ابن مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر میں عدت گزارو۔ پھر فرمایا۔ ابن مکتوم رضی اللہ عنہ کے ہاں لوگوں کی آمدو رفت ہے تم ام فلاں کے ہاں عدت گزارو۔
وَأَبُو سَلَمَةَ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ← دَخَلْتُ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ ← سَعِيدٌ، ← وَھْبٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4429
