شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 4 باب المطلقة طلاقا بائنا ماذا لها على زوجها في عدتها ) · حديث 4417
4167 - حدثنا محمد بن عبيد الله بن ميمون قال ثنا الوليد بن مسلم عن الأوزاعي عن يحيى قال حدثني أبو سلمة قال حدثتني فاطمة بنت قيس أن أبا عمرو بن حفص المخزومي طلقها ثلاثا فأمر لها بنفقة فاستقلتها وكان النبي صلى الله عليه و سلم بعثه نحو اليمن فانطلق خالد بن الوليد في نفر من بني مخزوم إلى النبي صلى الله عليه و سلم وهو في بيت ميمونة فقال يا رسول الله إن أبا عمرو بن حفص طلق فاطمة ثلاثا فهل لها نفقة فقال النبي صلى الله عليه و سلم ليس لها نفقة ولا سكنى وأرسل إليها أن تنتقل إلى أم شريك ثم أرسل إليها أن أم شريك يأتيها المهاجرون الأولون فانتقلي إلى بن أم مكتوم فإنك إذا وضعت خمارك لم يرك
ابو سلمہ کہتے ہیں کہ مجھے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابو عمرو بن حفص مخزوی نے مجھے تین طلق دے دیں تو جناب رسول اللہ ﷺ نے میرے لئے نفقہ کا حکم فرمایا۔ میں نے اس نفقہ کی مقدار کو قلیل قرار دیا اور جناب رسول اللہ ﷺ نے میرے خاوند کو یمن بھیج رکھا تھا ۔ چنانچہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بنی مخزوم کا ایک نمائندہ وفد لے کر جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ اس وقت آپ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہ کے مکان پر تشریف فرما تھے ۔ خالد نے کہا یا رسول اللہ ﷺ کہ ابو عمر و بن حفص نے فاطمہ کو طلاق ثلاثہ دے دی ہیں کیا اس کو نفقہ دیا جائے گا۔ تو جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ۔ اس کو نہ نفقہ ملے گا اور نہ سکنیٰ ۔ آپ ﷺ نے فاطمہ کی طرف پیغام بھیجا کہ ام شریک کے مکان میں منتقل ہو جاؤ۔ پھر اس کی طرف دوبارہ پیغام بھیجا کہ ام شریک کے مکان پر تو مہاجرین اولین آتے جاتے ہیں ۔ پس تم ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے مکان میں منتقل ہو جاؤ۔ کیونکہ اگر کسی وقت تم اپنا دوپٹہ گھر میں اتار بھی لو گی تو وہ نابینا ہونے کی وجہ سے تمہیں نہ دیکھ سکیں گے۔
أَبُو سَلَمَةَ ← يَحْيَى ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← محمد بن عبيد الله بن ميمون
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4417
