Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 2 باب الرجل يطلق امرأته ثلاثا معا ) · حديث 4393

4142 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا أبو نعيم قال ثنا إسرائيل عن عبد الأعلى عن سعيد بن جبير عن بن عباس مثله

سعید بن جبیر نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

بن عباس مثله ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← اِسْرَائِیْلُ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4393

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 2 باب الرجل يطلق امرأته ثلاثا معا ) · حديث 4394

4143 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا وهب قال ثنا شعبة عن بن أبي نجيح وحميد الأعرج عن مجاهد أن رجلا قال لابن عباس رجل طلق امرأته مائة فقال عصيت ربك وبانت منك امرأتك لم تتق الله فيجعل لك مخرجا من يتق الله يجعل له مخرجا قال الله تعالى يا أيها النبي إذا طلقتم النساء فطلقوهن في قبل عدتهن ثم قد روي عن غيره من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم ورضي عنهم ما يوافق ذلك أيضا

مجاہد روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو سو طلاق دی ہیں تو آپ نے فرمایا تم نے اپنے رب کی نافرمانی کی تیری عورت تجھ سے جدا ہو گئی ۔ تو اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرا کہ تیرے لئے وہ کوئی راہ نکالتا ۔ ( چونکہ ) جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے نکلنے کی راہ پیدا فرما دیتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ( انا طلقتم النساء فطلقو ھن لعدتھن واحصوا العدۃ، واتقوا اللہ ربکم، لا تخرجوھن من بیوتھن ولا یخرجن ال ان یاتمن بفاحشۃ مبینہ ، و تلک حدود اللہ ، ومن یتعد حدود اللہ فقد ظلم نفسہ ، لا تدری لعل اللہ یحدث بعد ذلک امرا ) ( الطلاق : 1 )

لابن عباس رجل طلق امرأته مائة ← مُجَاهِدٍ؛ أَنَّ رَجُلاً ← بن أبي نجيح وحميد الأعرج ← شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4394

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 2 باب الرجل يطلق امرأته ثلاثا معا ) · حديث 4395

4144 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا سعيد بن منصور قال ثنا سفيان وأبو عوانة عن منصور عن أبي وائل عن عبد الله أنه قال فيمن طلق امرأته ثلاثا قبل أن يدخل بها قال لا تحل له حتى تنكح زوجا غيره

ابو وائل سے روایت ہے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کسی نے دریافت کیا کہ جو شخص اپنی بیوی کو تین طلاق دے دے اور یہ طلاق بھی قبل الدخول ہو۔ تو عبداللہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے وہ عورت اب اس کے لئے حلال نہیں جب تک کہ کسی اور خاوند سے نکاح نہ کرے ۔

لاَ تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ. ← فيمن طلق امرأته ثلاثا قبل أن يدخل بها ← عَبْدِ اللهِ أَنَّهُ ← أَبِي وَائِلٍ ← مَنْصُورٌ، ← سفيان وأبو عوانة ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← صالح بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4395

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 2 باب الرجل يطلق امرأته ثلاثا معا ) · حديث 4396

4145 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا بشر بن عمر قال ثنا شعبة عن منصور عن إبراهيم عن علقمة عن عبد الله أنه سئل عن رجل طلق امرأته مائة قال ثلاث تبينها منك وسائرها عدوان

علقمہ نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ ان سے ایسے ادمی کے متعلق سوال ہوا جو اپنی بیوی کو سو طلاق دے تو انہوں نے فرمایا تین طلاقوں نے اس کو مرد سے جدا کر دیا بقیہ ستانوے تو اس کا ظلم و زیادتی ہے ( جس کا وبال اس پر پڑے گا ) ۔

ثلاث تبينها منك وسائرها عدوان ← رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ مِائَةً ← عَبْدِ اللهِ أَنَّهُ سُئِلَ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← شُعْبَةُ، ← بِشْرُ بْنُ عُمَرَ؛ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4396

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 2 باب الرجل يطلق امرأته ثلاثا معا ) · حديث 4397

4146 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب أن مالكا أخبره عن يحيى بن سعيد عن بكير بن الأشج عن النعمان بن أبي عياش الأنصاري عن عطاء بن يسار أنه قال جاء رجل إلى عبد الله بن عمرو فسأله عن رجل طلق امرأته ثلاثا قبل أن يمسها قال عطاء فقلت له طلاق البكر واحدة فقال عبد الله إنما أنت قاص الواحدة تبينها والثلاث تحرمها حتى تنكح زوجا غيره

نعمان بن ابو عیاش انصاری نے عطاء بن یسار رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ ایک شخص عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آیا اور ان سے دریافت کیا کہ جس نے اپنی بیوی کو تین طلاق چھونے سے پہلے دے دی تو عطاء کہنے لگے میں نے کہا کہ باکرہ کی طلاق ایک ہے ؟ تو عبداللہ نے فرمایا تو تو قصہ گو ہے جو اس کو جدا کر دے گی اور تین اس کو حرام کر دیں گی وہ اس کے لئے دیگر خاوند سے نکاح کے بغیر حلال نہ ہو گی۔

عطاء فقلت له طلاق البكر واحدة ← رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلاثًا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا. ← جاء رجل إلى عبد الله بن عمرو فسأله ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ ← النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ الْأَنْصَارِيِّ، ← بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4397

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 2 باب الرجل يطلق امرأته ثلاثا معا ) · حديث 4398

4147 - حدثنا فهد قال ثنا بن أبي مريم قال أخبرنا بن لهيعة ويحيى بن أيوب قالا ثنا بن الهاد عن ربيعة بن أبي عبد الرحمن عن عطاء بن يسار عن عبد الله بن عمرو قال الواحدة تبينها والثلاث تحرمها

عطاء بن یسار نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک طلاق اس کو جدا کر دے گی اور تین اس کو حرام کر دیں گی۔

الواحدة تبينها والثلاث تحرمها ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← رَبِیْعَۃَ بْنِ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمِنِ ← بْنِ الْهَادِ ← بن لهيعة ويحيى بن أيوب ← بن اَبِیْ مَرْیَمَ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4398

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 2 باب الرجل يطلق امرأته ثلاثا معا ) · حديث 4399

4148 - حدثنا صالح قال ثنا سعيد هو بن منصور قال ثنا أبو عوانة عن شقيق عن أنس قال لا تحل له حتى تنكح زوجا غيره قال وكان عمر بن الخطاب إذا أتى برجل طلق امرأته ثلاثا أوجع ظهره

شقیق نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ وہ عورت اس کے لئے اس وقت تک دوبارہ حلال نہیں جب تک وہ عورت کسی اور خاوند سے نکاح نہ کرے ۔ شقیق کہتے ہیں کہ جب عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ایسا آدمی لایا جاتا جس نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی ہوتیں تھیں تو آپ اس کی پشت پر کوڑے برساتے ۔

وكان عمر بن الخطاب إذا أتى برجل طلق امرأته ثلاثا أوجع ظهره ← لاَ تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ. ← أَنَسٍ، ← شَقِيقٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← سعيد هو بن منصور ← صَالِحٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4399

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 2 باب الرجل يطلق امرأته ثلاثا معا ) · حديث 4400

4149 - حدثنا يونس قال أخبرنا سفيان عن عاصم بن بهدلة عن شقيق عن عبد الله بن مسعود قال في الرجل يطلق البكر ثلاثا إنها لا تحل له حتى تنكح زوجا غيره حدثنا يونس قال أخبرنا سفيان قال حدثني شقيق عن أنس بن مالك عن عمر مثله فإن قال قائل قد رأينا العباد أمروا أن لا ينكحوا النساء إلا على شرائط منها أنهم منعوا من نكاحهن في عدتهن فكان من نكح امرأة في عدتها لم يثبت نكاحه عليها وهو في حكم من لم يعقد عليها نكاحا فالنظر على ذلك أن يكون كذلك هو إذا عقد عليها طلاقا في وقت قد نهي عن إيقاع الطلاق فيه أن لا يقع طلاقه ذلك وأن يكون في حكم من لم يوقع طلاقا فالجواب في ذلك أن ما ذكر من عقد النكاح كذلك هو وكذلك العقود كلها التي يدخل العباد بها في أشياء لا يدخلون فيها إلا من حيث أمروا بالدخول فيها وأما الخروج منها فقد يجوز بغير ما أمروا بالخروج به من ذلك أنا قد رأينا الصلوات قد أمر العباد بدخولها أن لا يدخلوها إلا بالتكبير والأسباب التي يدخلون فيها وأمروا أن لا يخرجوا منها إلا بالتسليم فكان من دخل في الصلاة بغير طهارة وبغير تكبير لم يكن داخلا فيها وكل من تكلم فيها بكلام مكروه أو فعل فيها شيئا مما لا يفعل فيها من الأكل والشرب والمشي وما أشبهه خرج به من الصلاة وكان مسيئا فيما فعل من ذلك في صلاته فكذلك الدخول في النكاح لا يكون إلا من حيث أمر العباد بالدخول فيه والخروج منه قد يكون بما أمروا بالخروج منه وبغير ذلك فهذا كله قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين

شفیق نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ وہ آدی جو اپنی باکرہ بیوی کو تین طلاق دے وہ عورت اس کے لئے اور خاوند سے نکاح کے بغیر حلال نہ ہوگی اس روایت کو سفیان نے براہ راست بھی شفیق عن انس ، عن عمر رضی اللہ عنہ اسی طرح نقل کیا ہے۔ بندوں کو اس بات کا حکم ملا ہے کہ وہ عورتوں سے کچھ شرائط کی بنیاد پر نکاح کریں ان میں سے ایک شرط یہ ہے کہ ان عورتوں کی عدت کے دوران نکاح سے روکا۔ پس جو آدمی کسی عورت سے اس کی عدت کے دوران نکاح کرے اس کا اس سے نکاح بھی ثابت نہ ہوگا اور وہ نکاح نہ کرنے والوں کے حکم میں ہوگا۔ تو اس پر قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ اگر وہ ایسے وقت میں طلاق دے جبکہ طلاق دینا منع ہے تو طلاق واقع نہ ہوگی اور وہ طلاق نہ دینے والوں کے حکم میں ہوگا۔ عقد نکاح کے متعلق جو کچھ لکھا گیا ان تمام عقودکا معاملہ تو اسی طرح ہے جن کے ذریعہ بندے کی کام میں داخل ہوتے ہیں میں وہ صرف اسی صورت میں ہی اس کام میں داخل ہوتے ہیں جو حکم کے مطابق ہومگر کسی کام سے نکلنے کی صورت میں مامور طریقہ کے علاوہ بھی نکالا جاسکتا ہے۔ مثلا ہم دیکھتے ہیں کہ بندوں کو حکم ہے کہ وہ نماز کو تکبیر اور ان اسباب وذرائع سے شروع کر سکتے ہیں جن کے ذریعہ وہ نماز میں داخل ہوتے ہیں اور ان کو حکم ہے کہ سلام کے بغیر نماز سے نکلیں اب جو شخص طہارت اور تکبیر کے بغیر نماز کو شروع کرے تو وہ نماز میں داخلی شماری نہ ہوگا اور جو شخص نماز میں نا جائز کام کرے یا کوئی ایسا فعل کرے جو نماز میں کیا نہیں جاسکتا مثلا کھانا پینا اور چلنا وغیرہ تو وہ ان میں سے کسی ایک کے ارتکاب سے نماز سے خارج ہو جاتا ہے۔ البتہ جو اس سے دوران نماز کیا اس سے وہ گنہگار ہوگا اس طرح نکاح میں داخلہ کے لئے ان شرائط پرعمل ضروری ہے جس کا بندوں کو حکم دیا گیا مگر نکاح سے نکلنے کے لیے بعض اوقات تو وہی امور ہوتے ہیں جن کے ساتھ نکلنے کا حکم ملا اور بعض اوقات دیگر ایسے امور ذریعہ بن جاتے ہیں جن کا حکم نہیں دیا گیا (ثلا بیک وقت تین طلاق وغیرہ)۔ میں امام ابوحنیفہ، ابو یوسف ، محمد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← شَقِيقٍ، ← عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، ← سُفْيَانَ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4400

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 3 باب الإقراء قال أبو جعفر اختلف الناس في الإقراء التي تجب على المرأة إذا طلقت فقال قوم هي الحيض وقال ) · حديث 4401

4151 - حدثني بذلك محمود بن حسان النحوي قال ثنا عبد الملك بن هشام عن أبي زيد عن أبي عمرو بن العلاء وفي ذلك أيضا حجة أخرى أن عمر رضي الله عنه هو الذي خاطبه رسول الله صلى الله عليه و سلم بقوله فتلك العدة التي أمر الله عز و جل أن تطلق لها النساء ولم يكن ذلك عنده دليلا أن الأقراء الأطهار إذا قد جعل الأقراء الحيض فيما روى عنه فإذا كان هذا عند عمر رضي الله عنه وقد خاطبه رسول الله صلى الله عليه و سلم به لا دليل فيه على أن القرء الطهر كان من بعده فيه أيضا كذلك وسنذكر ما روي عن عمر رضي الله عنه في هذا في موضعه من هذا الباب إن شاء الله تعالى وكان مما احتج به الذين جعلوا الأقراء الأطهار أيضا ما قد

یہ علامہ مازنی المقری کا قول ہے : حدثنیٰ محمود بن حسان نحومی عبدالملک بن ہشام عن ابی زید عن ابی عمرو بن علاء المازنی النحوی المقرئی ۔ یہ سبعہ قراء سے ہیں تبع تابعین سے ہیں ۔ اس روایت میں دوسری دلیل یہ ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ کو جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: فتلک العدۃ التی امراللہ عزو جل ان تطلق لھا النساء " حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہاں اقراء سے طہر مراد ہونے کی دلیل نہ نفی کیونکہ آپ ﷺ نے اپنے ارشاد میں اقراء کو حیض قرار دیا ۔ پس جب عمر رضی اللہ عنہ کے ہاں جن کو جناب رسول اللہ ﷺ نے خود مخاطب فرمایا تو اس میں کوئی دلیل نہ رہی کہ قروء سے مراد طہر ہے اور ان کے بعد بھی یہ اس طرح ہے عنقریب ہم جناب عمر رضی اللہ عنہ کا ارشاد نقل کریں گے ۔ فریق ثانی اقراء سے طہر مراد لیتا ہے ان کے دلائل درج ذیل ہیں ۔

أبي عمرو بن العلاء وفي ذلك أيضا حجة أخرى ← أَبِي زَيْدٍ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ هِشَامٍ ← بذلك محمود بن حسان النحوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4401

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 3 باب الإقراء قال أبو جعفر اختلف الناس في الإقراء التي تجب على المرأة إذا طلقت فقال قوم هي الحيض وقال ) · حديث 4402

4152 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب أن مالكا أخبره عن بن شهاب عن عروة عن عائشة أنها نقلت حفصة بنت عبد الرحمن بن أبي بكر حين دخلت في الدم من الحيضة الثالثة قال بن شهاب فذكرت ذلك لعمرة فقالت صدق عروة قد جادلها في ذلك أناس وقالوا إن الله تعالى يقول ثلاثة قروء فقالت عائشة صدقتم أتدرون ما الأقراء إنما الأقراء الأطهار

عروہ نے عائشہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے حفصہ بن عبدالرحمن بن ابی بکر سے نقل کیا کہ جب ان کا تیسرا حیض شروع ہوا تو انہوں نے اس کو اپنے ہاں منتقل کر لیا۔ زہری کہتے ہیں میں نے یہ بات عمرہ بنت عبدالرحمن کو بتلائی تو وہ کہنے لگے عروہ نے درست بات کہی کچھ لوگوں نے ام المومنین سے اس سلسلہ میں جھگڑا بھی کیا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا ہے ثلاثۃ قروء۔ تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے درست کہا۔ کیا تم جانتے ہو کہ اقراء کس کو کہتے ہیں ۔ وہ تو طہر کا نام ہے ۔

بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4402

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 3 باب الإقراء قال أبو جعفر اختلف الناس في الإقراء التي تجب على المرأة إذا طلقت فقال قوم هي الحيض وقال ) · حديث 4403

4153 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب أن مالكا حدثه قال قال بن شهاب سمعت أبا بكر بن عبد الرحمن يقول ما أدركت أحدا من فقهائنا إلا وهو يقول هذا يريد الذي قالت عائشة

زہری کہتے ہیں کہ میں نے ابو بکر بن عبدالرحمن کو کہتے سنا کہ میں جتنے فقہاء سے ملا ہوں ان کو یہی کہتے پایا ان کی مراد عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے ۔

عَائِشَةَ ← هَذَا. يُرِيدُ الَّذِي ← مَا أَدْرَكْتُ أَحَدًا مِنْ فُقَهَائِنَا إِلا وَهُوَ ← أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← بن شِهَابٍ ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4403

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 3 باب الإقراء قال أبو جعفر اختلف الناس في الإقراء التي تجب على المرأة إذا طلقت فقال قوم هي الحيض وقال ) · حديث 4404

4154 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب أن مالكا أخبره عن نافع عن بن عمر أنه قال إذا طلق الرجل امرأته فدخلت في الدم من الحيضة الثالثة فقد برئت منه وبرئ منها ولا ترثه ولا يرثها

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک ادمی نے اپنی بیوی کو طلق دے دی وہ تیسرے حیض میں داخل ہو گئی تو اپنے خاوند کی عدت سے فارغ ہو گئی اور وہ اس سے بری الذمہ ہو گیا ۔ وہ اس کا وارث نہیں بن سکتا اور نہ یہ اس کی وارث ہو سکتی ہے ۔

بن عمر أنه ← نَافِعٍ ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4404

chevron_left Previous
1234…18
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter