شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( باب الرجل ينفي حمل امرأته أن يكون منه ) · حديث 4561
4304 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا بن وهب قال أخبرني بن أبي الزناد عن أبيه قال ثنا القاسم بن محمد عن عبد الله بن عباس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لاعن بين العجلاني وإمرأته وكانت حبلى فقال زوجها والله ما قربتها منذ عفرنا والعفر أن يسقى النخل بعد أن تترك من السقي بعد الآبار بشهرين فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم اللهم بين فزعموا أن زوج المرأة كان حمش الذراعين والساقين أصهب الشعرة وكان رميت به بن السحماء قال فجاءت بغلام أسود جعدا قططا عبل الذراعين خدل الساقين قال القاسم فقال بن شداد بن الهاد يا أبا عباس أهي المرأة التي قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لو كنت راجما بغير بينة لرجمتها فقال بن عباس لا ولكن تلك امرأة كانت قد أعلنت في الإسلام
قاسم بن محمد ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے عجلانی اور اس کی بیوی کے درمیان لعان کرایا وہ حاملہ تھیں اس کے خاوند نے کہا اللہ کی قسم جب سے ہم نے عفر کیا ( کھجور کے درختوں کی پیوند کاری کے دو ماہ بعد کھجور کے سیراب کیا جائے ) تو میں اس کے قریب نہیں گیا ۔ تو جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے اللہ خوب واضح فرما ۔ لوگوں کا خیال یہ تھا کہ اس عورت کا خاوند پتلے بازو اور پنڈلیوں والا ہے اس کے بالوں کا رنگ سرخ ساہی مائل ہے اور جس شخص کے ساتھ ملوث ہونے کا الزام تھا وہ ابن السحماء تھا ۔ راوی کہتے ہیں کہ سیاہ گھنگھریالے بالوں والا بچہ پیدا ہوا جس کے ہاتھ اور پنڈلیاں موٹی تھیں۔ ابن شداد بن الہاد نے کہا اے ابن عباس رضی اللہ عنہ کیا یہ وہی عورت ہے جس کے متعلق جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔ اگر میں بلا گواہوں کے کسی کو سنگسار کرتا تو اس عورت کو کرتا ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ کہنے لگے نہیں البتہ یہ پہلی عورت ہے جس کو اسلام میں سب سے پہلے لعان کیا گیا۔
عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← أَبِيهِ ← بن أبي الزناد ← بن وَهْبٍ ← ربيع المؤذن
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4561
