شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 7 باب الرجل يقول لامرأته أنت طالق ليلة القدر متى يقع الطلاق ) · حديث 4549
4291 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا عبيد الله بن معاذ قال ثنا أبي قال ثنا شعبة عن قتادة قال سمعت مطرف بن عبد الله يحدث عن معاوية بن أبي سفيان عن النبي صلى الله عليه و سلم في ليلة القدر قال ليلة سبع وعشرين [ ص 94 ] فهذا منتهى ما وقفنا عليه من علم ليلة القدر أي ليلة هي مما دلنا عليه كتاب الله عز و جل وسنة رسول الله صلى الله عليه و سلم فأما ما روي بعد ذلك عن الصحابة رضي الله عنهم وتابعيهم فمعناه داخل في المعاني التي ذكرنا وإنما إحتجنا إلى ذكر ما روي في ليلة القدر لما قد أختلف فيه أصحابنا رحمهم الله في قول الرجل لامرأته أنت طالق في ليلة القدر متى يقع به الطلاق فقال أبو حنيفة رحمه الله إن قال لها ذلك قبل شهر رمضان لم يقع الطلاق حتى يمضي شهر رمضان لما قد أختلف في موضع ليلة القدر من ليالي شهر رمضان على ما قد ذكرنا في هذا الباب مما روي أنها في الشهر كله ومما قد روي أنها في خاص منه قال رحمه الله فلا أحكم بوقوع الطلاق إلا بعد مضي الشهر لأني أعلم بذلك أنه قد مضى الوقت الذي أوقع الطلاق فيه وأن الطلاق قد وقع قال رحمه الله وإن قال ذلك لها في شهر رمضان في أوله أو في آخره أو في وسطه لم يقع الطلاق حتى يمضي ما بقي من ذلك الشهر وحتى يمضي شهر رمضان أيضا كله من السنة القابلة قال رحمه الله لأنه قد يجوز أن تكون فيما مضى من هذا الشهر الذي هو فيه فلا يقع الطلاق حتى يمضي شهر رمضان كله من السنة الجائية وقد يجوز أن تكون فيما بقي من ذلك الشهر الذي هو فيه فيقع الطلاق فيها فيكون كمن قال لامرأته قبل شهر رمضان أنت طالق ليلة القدر فيكون الطلاق لا يحكم به عليه إلا بعد مضي شهر رمضان قال رحمه الله فلما اشكل ذلك لم أحكم بوقوع الطلاق إلا بعد علمي بوقوعه ولا أعلم ذلك إلا بعد مضي شهر رمضان الذي هو فيه وشهر رمضان الجائي بعده فهذا مذهب أبي حنيفة رحمه الله في هذا الباب وقد كان أبو يوسف رحمه الله قال مرة بهذا القول أيضا وقال مرة أخرى إذا قال لها ذلك القول في بعض شهر رمضان لم يحكم بوقوع الطلاق حتى يمضي مثل ذلك الوقت من شهر رمضان من السنة الجائية قال لأن ذلك إذا كان فقد كمل حول منذ قال ذلك القول وهي في كل حول فعلمنا بذلك وقوع الطلاق قال أبو جعفر وهذا قول عندي ليس بشيء لأنه لم يقل لنا إن كل حول يكون ففيه ليلة القدر على أن ذلك الحول ليس فيه شهر رمضان بكماله من سنة واحدة وإنما قيل لنا إنها في شهر رمضان من كل سنة هكذا دلنا عليه كتاب الله عز و جل وقاله لنا رسول الله صلى الله عليه و سلم على ما قد ذكرناه فيما تقدم من هذا الباب فلما كان ذلك كذلك أحتمل أن يكون إذا قال لها في بعض شهر رمضان أنت طالق ليلة القدر أن تكون ليلة القدر فيما مضى من ذلك الشهر فيكون إذا مضى حول من حينئذ إلى مثله من شهر رمضان من السنة الجائية لا ليلة قدر فيه ففسد بما ذكرنا قول أبي يوسف رحمه الله الذي وصفنا وثبت على هذا الترتيب ما ذهب إليه أبو حنيفة رضي الله عنه وقد كان أبو يوسف رحمه الله قال مرة أخرى إذا قال لها القول في بعض شهر رمضان إن الطلاق لا يقع حتى يمضي ليلة سبع وعشرين وذهب في ذلك فيما نرى والله أعلم إلى أن ما روي عن النبي صلى الله عليه و سلم فيه أنها في ليلة من شهر رمضان بعينها هو حديث بلال وحديث أبي بن كعب فإذا مضت ليلة سبع وعشرين علم أن ليلة القدر قد كانت فحكم بوقوع الطلاق وقبل ذلك فليس يعلم كونها فكذلك لم يحكم بوقوع الطلاق وهذا القول تشهد له الآثار التي رويناها في هذا الباب عن النبي صلى الله عليه و سلم
قتادہ نے مطرف بن عبداللہ سے نقل کیا وہ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے وہ جناب رسول اللہ ﷺ سے لیلتہ القدر کے متعلق نقل کرتے ہیں کہ وہ ستائیسویں رات ہے۔ یہ ان روایات میں سے آخری روایت ہے جو لیلتہ القدر کے متعلق معلومات کے سلسلہ میں ہمیں میسر و مہیا ہوئیں ۔ کہ وہ کون سی رات ہے؟ قرآن مجید اور سنت رسول اللہ ﷺ سے یہی کچھ معلوم ہوا ہے البتہ جو صحابہ کرام اور تابعین سے منقول ہے اس کا مفہوم تقر یباً اس سے ملتا جلتا ہے۔ یہاں ہمیں لیلۃ القدر کے متعلق تفصیل کی اس لئے ضرورت پیش آئی کہ ہمارے علماء کا اس سلسلہ میں باہمی اختلاف کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو کہے انت طالق في لیلتہ القدر تو اس عورت کو کب طلاق ہوگی۔ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا قول یہ ہے کہ اگر یہ بات رمضان سے پہلے کہی تو جب تک رمضان کا مہینہ گزرے گا طلاق واقع نہ ہوگی کیونکہ اس میں اختلاف ہے کہ لیلتہ القدر رمضان کی کون سی رات میں ہے جیسا ہم نے اس سلسلہ میں بیان کر دیا کہ بعض روایات سے اس کا تمام ماہ میں دائر ہونا معلوم ہوتا ہے اور بعض روایات سے خاص راتوں میں پایا جانا معلوم ہوتا ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں طلاق کے وقوع کا اس وقت حکم لگاؤں گا جبکہ مہینہ گزر جائے گا کیونکہ مجھے اس سے پختہ طور پر معلوم ہو جائے گا کہ وہ وقت گزر گیا کہ جس میں اس نے طلاق واقع کی اور طلاق واقع ہو گئی ۔ امام صاحب فرماتے ہیں اگر اس نے کہا في شهر رمضان - ابتداء یا انتہا میں یا درمیان میں تو طلاق اس وقت تک واقع نہ ہوگی جب تک مہینے کا بقیہ حصہ نہ گزر جائے اور تمام رمضان گزرے جو آئندہ سال آرہا ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ مہینے کا جو حصہ گزرا وہ اس میں گزر چکی تو اس کو طلاق سارا رمضان گزرنے تک نہ ہوگی جو کہ آئندہ سال آرہا ہے کیونکہ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ رات مہینے کا جو حصہ باقی ہے اس میں ہوتو اس میں طلاق واقع ہو جائے۔ اس صورت میں اس شخص کی طرح ہو گا۔ جس نے اپنی بیوی کو رمضان سے پہلے کہا: - انت طالق ليلة القدر تو اس کے متعلق طلاق کا فیصلہ ماہ رمضان گزرنے کے بعد ہو سکے گا۔ امام صاحب فرماتے ہیں جب اس میں اشکال پیدا ہوگیا تو میں اس کے متعلق طلاق کے واقع ہونے کا فیصلہ اس وقت ہی کروں گاجب مجھے معلوم ہو جائے گا کہ طلاق واقع ہو گئی ہے اور اس کا مجھے علم نہیں جب تک کہ پورا رمضان نہ گزر جائے جس میں ليلة القدر پائی جاتی ہے اور وہ رمضان جو کہ اس کے بعد آنے والا ہے وہ بھی۔ یہ تو امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا اس سلسلہ میں مذہب ہے۔ امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ بعض اوقات تو وہ بھی یہی فرماتے ہیں اور بعض اوقات یہ فرماتے ہیں جب اس نے یہ بات رمضان المبارک کے بعض دنوں میں کہی تو اس پر طلاق کا اس وقت حکم کیا جائے گا جب آئندہ سال کے رمضان سے اتنے دن گزر جائیں۔ ابو یوسف کہتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ ہے کیونکہ یہ رات مکمل سال میں ہے اور جب اس قول پر پورا سال گزرگیا تو ہم نے یقین سے جان لیا کہ وہ رات اس میں آگئی پس طلاق واقع ہوجائے گی۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں میرے نزدیک یہ قول کچھ وزن نہیں رکھتا کیونکہ ہمیں یہ نہیں کہا گیا کہ لیلۃ القدر تمام سال میں اس طور پر کہ جس میں رمضان کا مہینہ ایک سال میں مکمل نہ آتا ہو۔ بلکہ ہمیں یہ بتلایا گیا کہ ہر سال کے رمضان المبارک میں یہ رات پائی جاتی ہے۔ کتاب وسنت کی دلالت اس پر ہے جیسا کہ اس باب میں ہم پہلے ذکر کر آئے۔ پس جب یہ اسی طرح ہے۔ تو متکلم کا کلام جب کہ اس نے رمضان المبارک کا کچھ حصہ گزرنے پر کیا" انت طلاق ليلة القدر " میں احتمال ہوالیلة القدراس مہینہ کے گزشتہ دنوں میں اور اس وقت سے لے کر اگلے سال کے رمضان تک ہو جس میں لیلة القدر نہیں ۔ حالانکہ ذکورہ بات سے یہ بات غلط ثابت ہوتی ہے۔ اس ترتیب سے امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا قول ثابت ہوگیا۔ امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ کا دوسرا قولہ ہے کہ امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ بعض اوقات یہ کہتے ہیں کہ اگر رمضان المبارک کے کسی حصہ میں اس کو یہ بات کہے تو جب تک ، ستائیسویں شب نہ گزرنے پائے طلاق واقع نہ ہوگی۔ ہمارے نزدیک انہوں نے ہی یہ مسلک اس روایت کی بنیاد پراپنایا ہے کہ جس میں لیلتہ القدر رمضان المبارک کی ایک مخصوں رات ہے جیسا کہ حضرت ابی بن کعب اور بلال رضی اللہ عنہ کی روایات میں وارد ہے اس بناء پر جب ستائیس رمضان گزر جائے گی تو لیلتہ القدرگز رچکی جس سے طلاق کو مشروط کیا تھا۔ فلہذا اس کو طلاق پڑ جائے گی اور وقوع طلاق کا فیصلہ کردیا جائے گا اور اس سے پہلے چونکہ اس کے گزرنے کاعلم نہیں ہوا پس وقوع طلاق کا حکم نہ دیا جائے گا۔ اس قول کی شاہد وہ روایات ہیں جو ہم گزشتہ اوراق میں جناب رسول اللہ ﷺ سے نقل کر آئے ہیں۔ ليلة القدر کے متعلق تفصیل کی وجہ یہاں ہمیں لیلة القدر کے متعلق تفصیل کی اس لئے ضرورت پیش آئی کہ ہمارے علماء کا اس سلسلہ میں باہمی اختلاف کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو کہے انت طالق في ليلة القدر تو اس عورت کو کب طلاق ہوگئی۔ امام ابوحنیفہ کا قول: اگر یہ بات رمضان سے پہلے کی تو جب تک رمضان کا مہینہ نہ گزرے گا طلاق واقع ہوگی کیونکہ اس میں اختلاف ہے کہ لیلة القدر رمضان کی کون یارات میں ہے جیسا ہم نے اس سلسلہ میں بیان کر دیا کہ بعض روایات سے اس کا تمام ماہ میں دائر ہو اور بعض روایات سے خاص راتوں میں پایا جانا معلوم ہوتا ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں طلاق کے وقوع کو اس وقت حکم لگاؤں گا جبکہ مہینہ گزر جائے گا کیونکہ مجھے اس سے پختہ طور پر معلوم ہو جائے گا کہ وہ وقت گزر گیا کہ جس میں اس سے طلاق واقع کی اور طلاق واقع ہو گئی ۔
مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ ← مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبِي ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، ← بن أبي داود
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4549
