Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 7 باب الرجل يقول لامرأته أنت طالق ليلة القدر متى يقع الطلاق ) · حديث 4549

4291 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا عبيد الله بن معاذ قال ثنا أبي قال ثنا شعبة عن قتادة قال سمعت مطرف بن عبد الله يحدث عن معاوية بن أبي سفيان عن النبي صلى الله عليه و سلم في ليلة القدر قال ليلة سبع وعشرين [ ص 94 ] فهذا منتهى ما وقفنا عليه من علم ليلة القدر أي ليلة هي مما دلنا عليه كتاب الله عز و جل وسنة رسول الله صلى الله عليه و سلم فأما ما روي بعد ذلك عن الصحابة رضي الله عنهم وتابعيهم فمعناه داخل في المعاني التي ذكرنا وإنما إحتجنا إلى ذكر ما روي في ليلة القدر لما قد أختلف فيه أصحابنا رحمهم الله في قول الرجل لامرأته أنت طالق في ليلة القدر متى يقع به الطلاق فقال أبو حنيفة رحمه الله إن قال لها ذلك قبل شهر رمضان لم يقع الطلاق حتى يمضي شهر رمضان لما قد أختلف في موضع ليلة القدر من ليالي شهر رمضان على ما قد ذكرنا في هذا الباب مما روي أنها في الشهر كله ومما قد روي أنها في خاص منه قال رحمه الله فلا أحكم بوقوع الطلاق إلا بعد مضي الشهر لأني أعلم بذلك أنه قد مضى الوقت الذي أوقع الطلاق فيه وأن الطلاق قد وقع قال رحمه الله وإن قال ذلك لها في شهر رمضان في أوله أو في آخره أو في وسطه لم يقع الطلاق حتى يمضي ما بقي من ذلك الشهر وحتى يمضي شهر رمضان أيضا كله من السنة القابلة قال رحمه الله لأنه قد يجوز أن تكون فيما مضى من هذا الشهر الذي هو فيه فلا يقع الطلاق حتى يمضي شهر رمضان كله من السنة الجائية وقد يجوز أن تكون فيما بقي من ذلك الشهر الذي هو فيه فيقع الطلاق فيها فيكون كمن قال لامرأته قبل شهر رمضان أنت طالق ليلة القدر فيكون الطلاق لا يحكم به عليه إلا بعد مضي شهر رمضان قال رحمه الله فلما اشكل ذلك لم أحكم بوقوع الطلاق إلا بعد علمي بوقوعه ولا أعلم ذلك إلا بعد مضي شهر رمضان الذي هو فيه وشهر رمضان الجائي بعده فهذا مذهب أبي حنيفة رحمه الله في هذا الباب وقد كان أبو يوسف رحمه الله قال مرة بهذا القول أيضا وقال مرة أخرى إذا قال لها ذلك القول في بعض شهر رمضان لم يحكم بوقوع الطلاق حتى يمضي مثل ذلك الوقت من شهر رمضان من السنة الجائية قال لأن ذلك إذا كان فقد كمل حول منذ قال ذلك القول وهي في كل حول فعلمنا بذلك وقوع الطلاق قال أبو جعفر وهذا قول عندي ليس بشيء لأنه لم يقل لنا إن كل حول يكون ففيه ليلة القدر على أن ذلك الحول ليس فيه شهر رمضان بكماله من سنة واحدة وإنما قيل لنا إنها في شهر رمضان من كل سنة هكذا دلنا عليه كتاب الله عز و جل وقاله لنا رسول الله صلى الله عليه و سلم على ما قد ذكرناه فيما تقدم من هذا الباب فلما كان ذلك كذلك أحتمل أن يكون إذا قال لها في بعض شهر رمضان أنت طالق ليلة القدر أن تكون ليلة القدر فيما مضى من ذلك الشهر فيكون إذا مضى حول من حينئذ إلى مثله من شهر رمضان من السنة الجائية لا ليلة قدر فيه ففسد بما ذكرنا قول أبي يوسف رحمه الله الذي وصفنا وثبت على هذا الترتيب ما ذهب إليه أبو حنيفة رضي الله عنه وقد كان أبو يوسف رحمه الله قال مرة أخرى إذا قال لها القول في بعض شهر رمضان إن الطلاق لا يقع حتى يمضي ليلة سبع وعشرين وذهب في ذلك فيما نرى والله أعلم إلى أن ما روي عن النبي صلى الله عليه و سلم فيه أنها في ليلة من شهر رمضان بعينها هو حديث بلال وحديث أبي بن كعب فإذا مضت ليلة سبع وعشرين علم أن ليلة القدر قد كانت فحكم بوقوع الطلاق وقبل ذلك فليس يعلم كونها فكذلك لم يحكم بوقوع الطلاق وهذا القول تشهد له الآثار التي رويناها في هذا الباب عن النبي صلى الله عليه و سلم

قتادہ نے مطرف بن عبداللہ سے نقل کیا وہ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے وہ جناب رسول اللہ ﷺ سے لیلتہ القدر کے متعلق نقل کرتے ہیں کہ وہ ستائیسویں رات ہے۔ یہ ان روایات میں سے آخری روایت ہے جو لیلتہ القدر کے متعلق معلومات کے سلسلہ میں ہمیں میسر و مہیا ہوئیں ۔ کہ وہ کون سی رات ہے؟ قرآن مجید اور سنت رسول اللہ ﷺ سے یہی کچھ معلوم ہوا ہے البتہ جو صحابہ کرام اور تابعین سے منقول ہے اس کا مفہوم تقر یباً اس سے ملتا جلتا ہے۔ یہاں ہمیں لیلۃ القدر کے متعلق تفصیل کی اس لئے ضرورت پیش آئی کہ ہمارے علماء کا اس سلسلہ میں باہمی اختلاف کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو کہے انت طالق في لیلتہ القدر تو اس عورت کو کب طلاق ہوگی۔ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا قول یہ ہے کہ اگر یہ بات رمضان سے پہلے کہی تو جب تک رمضان کا مہینہ گزرے گا طلاق واقع نہ ہوگی کیونکہ اس میں اختلاف ہے کہ لیلتہ القدر رمضان کی کون سی رات میں ہے جیسا ہم نے اس سلسلہ میں بیان کر دیا کہ بعض روایات سے اس کا تمام ماہ میں دائر ہونا معلوم ہوتا ہے اور بعض روایات سے خاص راتوں میں پایا جانا معلوم ہوتا ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں طلاق کے وقوع کا اس وقت حکم لگاؤں گا جبکہ مہینہ گزر جائے گا کیونکہ مجھے اس سے پختہ طور پر معلوم ہو جائے گا کہ وہ وقت گزر گیا کہ جس میں اس نے طلاق واقع کی اور طلاق واقع ہو گئی ۔ امام صاحب فرماتے ہیں اگر اس نے کہا في شهر رمضان - ابتداء یا انتہا میں یا درمیان میں تو طلاق اس وقت تک واقع نہ ہوگی جب تک مہینے کا بقیہ حصہ نہ گزر جائے اور تمام رمضان گزرے جو آئندہ سال آرہا ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ مہینے کا جو حصہ گزرا وہ اس میں گزر چکی تو اس کو طلاق سارا رمضان گزرنے تک نہ ہوگی جو کہ آئندہ سال آرہا ہے کیونکہ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ رات مہینے کا جو حصہ باقی ہے اس میں ہوتو اس میں طلاق واقع ہو جائے۔ اس صورت میں اس شخص کی طرح ہو گا۔ جس نے اپنی بیوی کو رمضان سے پہلے کہا: - انت طالق ليلة القدر تو اس کے متعلق طلاق کا فیصلہ ماہ رمضان گزرنے کے بعد ہو سکے گا۔ امام صاحب فرماتے ہیں جب اس میں اشکال پیدا ہوگیا تو میں اس کے متعلق طلاق کے واقع ہونے کا فیصلہ اس وقت ہی کروں گاجب مجھے معلوم ہو جائے گا کہ طلاق واقع ہو گئی ہے اور اس کا مجھے علم نہیں جب تک کہ پورا رمضان نہ گزر جائے جس میں ليلة القدر پائی جاتی ہے اور وہ رمضان جو کہ اس کے بعد آنے والا ہے وہ بھی۔ یہ تو امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا اس سلسلہ میں مذہب ہے۔ امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ بعض اوقات تو وہ بھی یہی فرماتے ہیں اور بعض اوقات یہ فرماتے ہیں جب اس نے یہ بات رمضان المبارک کے بعض دنوں میں کہی تو اس پر طلاق کا اس وقت حکم کیا جائے گا جب آئندہ سال کے رمضان سے اتنے دن گزر جائیں۔ ابو یوسف کہتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ ہے کیونکہ یہ رات مکمل سال میں ہے اور جب اس قول پر پورا سال گزرگیا تو ہم نے یقین سے جان لیا کہ وہ رات اس میں آگئی پس طلاق واقع ہوجائے گی۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں میرے نزدیک یہ قول کچھ وزن نہیں رکھتا کیونکہ ہمیں یہ نہیں کہا گیا کہ لیلۃ القدر تمام سال میں اس طور پر کہ جس میں رمضان کا مہینہ ایک سال میں مکمل نہ آتا ہو۔ بلکہ ہمیں یہ بتلایا گیا کہ ہر سال کے رمضان المبارک میں یہ رات پائی جاتی ہے۔ کتاب وسنت کی دلالت اس پر ہے جیسا کہ اس باب میں ہم پہلے ذکر کر آئے۔ پس جب یہ اسی طرح ہے۔ تو متکلم کا کلام جب کہ اس نے رمضان المبارک کا کچھ حصہ گزرنے پر کیا" انت طلاق ليلة القدر " میں احتمال ہوالیلة القدراس مہینہ کے گزشتہ دنوں میں اور اس وقت سے لے کر اگلے سال کے رمضان تک ہو جس میں لیلة القدر نہیں ۔ حالانکہ ذکورہ بات سے یہ بات غلط ثابت ہوتی ہے۔ اس ترتیب سے امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا قول ثابت ہوگیا۔ امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ کا دوسرا قولہ ہے کہ امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ بعض اوقات یہ کہتے ہیں کہ اگر رمضان المبارک کے کسی حصہ میں اس کو یہ بات کہے تو جب تک ، ستائیسویں شب نہ گزرنے پائے طلاق واقع نہ ہوگی۔ ہمارے نزدیک انہوں نے ہی یہ مسلک اس روایت کی بنیاد پراپنایا ہے کہ جس میں لیلتہ القدر رمضان المبارک کی ایک مخصوں رات ہے جیسا کہ حضرت ابی بن کعب اور بلال رضی اللہ عنہ کی روایات میں وارد ہے اس بناء پر جب ستائیس رمضان گزر جائے گی تو لیلتہ القدرگز رچکی جس سے طلاق کو مشروط کیا تھا۔ فلہذا اس کو طلاق پڑ جائے گی اور وقوع طلاق کا فیصلہ کردیا جائے گا اور اس سے پہلے چونکہ اس کے گزرنے کاعلم نہیں ہوا پس وقوع طلاق کا حکم نہ دیا جائے گا۔ اس قول کی شاہد وہ روایات ہیں جو ہم گزشتہ اوراق میں جناب رسول اللہ ﷺ سے نقل کر آئے ہیں۔ ليلة القدر کے متعلق تفصیل کی وجہ یہاں ہمیں لیلة القدر کے متعلق تفصیل کی اس لئے ضرورت پیش آئی کہ ہمارے علماء کا اس سلسلہ میں باہمی اختلاف کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو کہے انت طالق في ليلة القدر تو اس عورت کو کب طلاق ہوگئی۔ امام ابوحنیفہ کا قول: اگر یہ بات رمضان سے پہلے کی تو جب تک رمضان کا مہینہ نہ گزرے گا طلاق واقع ہوگی کیونکہ اس میں اختلاف ہے کہ لیلة القدر رمضان کی کون یارات میں ہے جیسا ہم نے اس سلسلہ میں بیان کر دیا کہ بعض روایات سے اس کا تمام ماہ میں دائر ہو اور بعض روایات سے خاص راتوں میں پایا جانا معلوم ہوتا ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں طلاق کے وقوع کو اس وقت حکم لگاؤں گا جبکہ مہینہ گزر جائے گا کیونکہ مجھے اس سے پختہ طور پر معلوم ہو جائے گا کہ وہ وقت گزر گیا کہ جس میں اس سے طلاق واقع کی اور طلاق واقع ہو گئی ۔

مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ ← مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبِي ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4549

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 8 باب طلاق المكره ) · حديث 4550

4292 - حدثنا ربيع بن سليمان المؤذن قال ثنا بشر بن بكر قال أخبرنا الأوزاعي عن عطاء عن عبيد بن عمير عن بن عباس قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم تجاوز الله لي عن أمتي الخطأ والنسيان وما استكرهوا عليه قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن الرجل إذا أكره على طلاق أو نكاح أو يمين أو إعتاق أو ما أشبه ذلك حتى فعله مكرها أن ذلك كله باطل لأنه قد دخل فيما تجاوز الله فيه للنبي صلى الله عليه و سلم عن أمته واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا بل يلزمه ما حلف به في حال الإكراه من يمين وينفذ عليه طلاقه وعتاقه ونكاحه ومراجعته لزوجته المطلقة إن كان راجعها وتأولوا في هذا الحديث معنى غير المعنى الذي تاوله أهل المقالة الأولى فقالوا إنما ذلك في الشرك خاصة لأن القوم كانوا حديثي عهد بكفر في دار كانت دار كفر فكان المشركون إذا قدروا عليهم إستكرهوهم على الإقرار بالكفر فيقرون بذلك بألسنتهم قد فعلوا ذلك بعمار بن ياسر رضي الله عنه وبغيره من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم ورضي عنهم فنزلت فيهم إلا من أكره وقلبه مطمئن بالإيمان وربما سهوا فتكلموا بما جرت عليه عادتهم قبل الإسلام وربما أخطأوا فتكلموا بذلك أيضا فتجاوز الله عز و جل لهم عن ذلك لأنهم غير مختارين لذلك ولا قاصدين إليه وقد ذهب أبو يوسف رحمه الله الى هذا التفسير أيضا حدثناه الكيساني عن أبيه فالحديث يحتمل هذا المعنى ويحتمل ما قال أهل المقالة الأولى فلما أحتمل ذلك إحتجنا إلى كشف معانيه ليدلنا على أحد التأويلين فنصرف معنى هذا الحديث إليه فنظرنا في ذلك فوجدنا الخطأ هو ما أراد الرجل غيره ففعله لا عن قصد منه إليه ولا إرادة منه إياه وكان السهو ما قصد إليه ففعله على القصد منه إليه على أنه ساه عن المعنى الذي يمنعه من ذلك الفعل وكان الرجل إذا نسي أن تكون هذه المرأة له زوجة فقصد إليها فطلقها فكل قد أجمع أن طلاقه عامل ولم يبطلوا ذلك لسهوه ولم يدخل ذلك السهو في السهو المعفو عنه فإذا كان السهو المعفو عنه ليس فيه ما ذكرنا من الطلاق والأيمان والعتاق كان كذلك الإستكراه المعفو عنه ليس فيه أيضا من ذلك شيء فثبت بذلك فساد قول الذين أدخلوا الطلاق والعتاق والأيمان في ذلك وإحتج أهل المقالة الأولى أيضا لقولهم بما روي عن النبي صلى الله عليه و سلم

عبيد بن عمیر رحمتہ اللہ علیہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ نقل کیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ الله تعالی نے میری امت کو خطاء نسیان اور جس پر ان کو مجبور کیا جائے ان کا گناہ معاف کر دیا۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بعض علماء کا خیال یہ ہے کہ جب کسی کو طلاق پر مجبور کیا جائے یا زبردستی نکاح یا قسم لی جائے یا آزاد کیا جائے یا اس کے مشابہہ جو دیگر افعال ہیں وہ کرائے جائیں اور اس نے ان کو مجبوری میں کر لیا۔ تو یہ سب باطل ہیں نافذ نہ ہوں گے۔ کیونکہ یہ اس چیز میں داخل ہے جن کے متعلق اللہ تعالی نے اس امت کو نبی اکرم ﷺ کی وجہ سے معاف کردیا اور اس کی دلیل کی یہ روایت ہے۔ دوسروں نے ان سے اختلاف کیا ہے کہ اکراہ کی حالت میں جو اس نے اپنے اوپر لازم کیا وہ نافذ ہو جائے گا۔ مثلاً قسم طلاق عتاق نکاح مطلقہ کی مراجعت اگر وہ اس سے رجوع کرنے والا ہو۔ اس حدیث کا وہ مفہوم نہیں جو تم نے لیا ہے بلکہ اس ارشاد کاتعلق شرک وغیرہ سے ہے کیونکہ وہ لوگ دار الكفر میں مقیم تھے اور نئے نئے اسلام لانے والے تھے اس لئے کفار کا جب بھی ان پربس چلتا وہ انہیں اقرار کفر پرمجبور کرتے۔ چنانچہ بسا اوقات وہ اپنی زبانوں سے اس کا اقرار کرتے۔ چنانچہ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ اور بعض دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے یہی معاملہ کیا گیا۔ اس وقت ان کے حق میں قرآن مجید کی آیت نازل ہوئی الامن اکرہ وقلبه مطمئن بالا یمان اور بعض اوقات وہ بھول کر اسلام سے پہلے کی عادت کے مطابق کلمہ کفر زبان سے نکال بیٹھتے اور کبھی غلطی سے بھی اس قسم کا کلام ہو جاتا۔ تو اس پر الله تعالی نے ان سے درگزر فرمایا کیونکہ اس میں ان کو کوئی اختیار نہ تھا اور نہ ہی وہ ایسا ارادہ سے کرتے تھے۔ امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ نے یہی تفسیر بیان فرمائی ہے اور ہم نے کیسانی کی سند سے امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ سے یہ بات نقل کی ہے۔ پس حدیث میں اس معنی کا احتمال بھی ہے اور دوسرا احتمال وہ ہے جس کو فریق اول نے ذکر کیا ہے جب احتمال ہواتواس روایت کے معنی کی پڑتال ضروری ہوئی تا کہ دونوں میں سے ایک مفہوم کی طرف راہنمائی ہو اور پھر ہم اس روایت کو اس معنی کی طرف پھیر دیں۔ ہم نے اس سلسلہ میں غور کیا تو معلوم ہوا کہ جب کوئی آدی کسی کام کا ارادہ کرے مگر اس کام کی بجائے جس کا ارادہ ہو دوسرے کام کو کرڈالے تو یہ خطاء ہے کیونکہ اس نے اس کام کا قصد نہیں کیا اور سہو ونسیان یہ ہے کسی کام کوتو ارادہ سے کرے مگر اس میں جو رکاوٹ تھی وہ بھول گیا۔ (مثلا روزہ کی حالت میں بھول کر کھا پی لیا ) اب اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے متعلق بھول جائے کہ وہ اس کی بیوی ہے لیکن اس کے باوجوقصد اس کو طلاق دے دے تو سب اس بات پر متفق ہیں کہ اس کی طلاق واقع ہو جائے گی اور وہ بھول کی وجہ سے اس طلاق کو باطل قرار نہیں دے سکتا اور یہ بھول اس بھول میں داخل شمار نہیں ہوتی جس کو معاف کر دیا گیا تو جب بھول کر دی جانے والی طلاق قسم اور آزادی سب میں بھول کا دخل نہیں اور اس بھول میں شامل نہیں جو معاف کر دی گئی تو جبر کے موقعہ پر مندرجہ امور بھی اس اکراہ میں شامل نہ ہوں گے جو معاف کردیا گیاہے۔ اس نے ان لوگوں کے قول کی غلطی ظاہر و ثابت ہو گئی جنہوں نے طلاق آزادی اور قسم کو اس میں شامل کیا۔ دلیل میں فریق اول کہتے ہیں کہ مندرجہ ذیل روایت بھی تو اس موقف کی تائید کرتی ہے روایت جناب نبی اکرم ﷺسے یہ ہے۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← عَطَاءٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ ← ربيع بن سليمان المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4550

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 8 باب طلاق المكره ) · حديث 4551

4293 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب أن مالكا حدثه عن يحيى بن سعيد عن محمد بن إبراهيم بن الحارث التيمي عن علقمة بن وقاص الليثي أنه سمع عمر بن الخطاب على المنبر يقول قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إنما الأعمال بالنيات وإنما لكل أمرئ ما نوى فمن كانت هجرته إلى الله ورسوله فهجرته إلى الله ورسوله ومن كانت هجرته إلى دنيا يصيبها أو إلى امرأة يتزوجها فهجرته إلى ما هاجر إليه

علقمہ بن وقاص لیثی رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ خطبہ دیتے ہوئے سنا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔ اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی پس جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ کے لئے ہو تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ کی طرف ہو گی اور جس کی ہجرت دنیا کے لئے ہو کہ اس کو حاصل کرے یا کسی عورت کے لئے ہو کہ اس سے نکاح کرے تو اس کی ہجرت اسی چیز کی طرف ہوگی جس کی جانب اس نے ہجرت کی ہے ۔

عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَلَى الْمِنْبَرِ ← علقمة بن وقاص الليثي أنه ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4551

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 8 باب طلاق المكره ) · حديث 4552

4294 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا سليمان بن حرب قال ثنا حماد بن زيد عن يحيى بن سعيد فذكر بإسناده مثله قالوا فلما قال رسول الله صلى الله عليه و سلم الأعمال بالنيات ثبت أن عملا لا ينفذ من طلاق ولا عتاق ولا غيره إلا أن تكون معه نية فكان من الحجة للآخرين في ذلك أن هذا الكلام لم يقصد به إلى المعنى الذي ذكره هذا المخالف وإنما قصد به إلى الأعمال التي يجب بها الثواب ألا تراه يقول الأعمال بالنيات وإنما لكل أمرئ ما نوى يريد من الثواب ثم قال فمن كانت هجرته إلى الله ورسوله فهجرته إلى الله ورسوله ومن كانت هجرته إلى دنيا يصيبها أو إلى امرأة يتزوجها فهجرته إلى ما هاجر إليه فذلك لا يكون إلا جوابا لسؤال كان النبي صلى الله عليه و سلم سئل عما للمهاجر في عمله أي في هجرته فقال إنما الأعمال بالنيات حتى أتى على الكلام الذي في الحديث وليس ذلك من أمر الإكراه على الطلاق والعتاق والرجعة والأيمان في شيء فانتفى هذا الحديث أيضا أن يكون فيه حجة لأهل المقالة التي بدأنا بذكرها على أهل المقالة التي ثنينا بذكرها وكان مما احتج به أهل المقالة الثانية لقولهم الذي ذكرنا ما

حماد بن زید نے یحییٰ بن سعید سے پھر انہوں نے اپنی سند سے روایت نقل کی ہے ۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ الاعمال بالنیات تو اس سے ثابت ہوا کہ کوئی عمل اس وقت تک نافذ نہ ہو گا جب تک نیت نہ ہو وہ عمل طلاق ، عتاق وغیرہ جو بھی ہو۔ دوسروں نے اپنی دلیل دیتے ہوئے کہا جو معنی آپ نے مراد لیا وہ مقصود نہیں بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ اعمال جن پر ثواب ملتا ہے ان کا دارومدار نیتوں پر ہے اگر نیت درست نہ ہو گی تو ثواب نہ ملے گا ذرا غور تو کرو کہ آپ ﷺ کا فرمان یہ ہے کہ اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی کچھ ہے جو اس نے نیت کی ہے پس اس سے ثواب مراد ہے پھر آپ نے فرمایا جس کی ہجرت دنیا کی غرض سے ہو گی کہ اسے حاصل کرے یا کسی عورت کے لئے ہو کہ اس سے نکاح کرے تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہو گی جس کی طرف اس نے ہجرت کی ہے یہ کلام کسی سوال کا جواب ہے گویا اس طرح مہاجر کے عمل ہجرت کا ثواب دریافت کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اعمال کا دارومدار نیت پر ہے یہاں تک کہ آپ نے وہ بات فرمائی جو روایت میں وارد ہوئی ہے اس روایت کا تعلق اکراہ سے طلاق ، عتاق رجوع ، قسم سے نہیں ہے ۔ پس اس سے فریق اول کا اعتراض بالکل زائل ہو گیا ۔ اس روایت میں ان کی دلیل نہ رہی جن کے تذکرہ سے ہم نے ابتداء کی تھی ۔ اب فریق ثانی کی حجت ذکر کی جا رہی ہے جو وہ پیش کرتے ہیں ۔

فَلَمَّا ← يحيى بن سعيد فذكر بإسناده مثله ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4552

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 8 باب طلاق المكره ) · حديث 4553

4295 - حدثنا فهد قال ثنا أبو بكر بن أبي شيبة قال ثنا أبو أسامة عن الوليد بن جميع قال ثنا أبو الطفيل قال ثنا حذيفة بن اليمان قال ما منعني أن أشهد بدرا إلا أني خرجت أنا وأبي فأخذنا كفار قريش فقالوا إنكم تريدون محمدا فقلنا ما نريد إلا المدينة فأخذوا منا عهد الله وميثاقه لننصرفن إلى المدينة ولا نقاتل معه فأتينا رسول الله صلى الله عليه و سلم فأخبرناه فقال انصرفا من الوفاء نفي ضد الغدر لهم بعهودهم ونستعين الله عليهم

ابو لطفیل نے حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میں غزوہ بدر میں شریک ہونے سے اس لئے رکا کہ میرے والد اور میں دونوں نکلے تو ہمیں کفار قریش نے پکڑ لیا اور کہنے لگے تم محمد ﷺ تک پہنچنا چاہتے ہو؟ ہم نے کہا ہم تو صرف مدینہ طیبہ کا ارادہ رکھتے ہیں تو انہوں نے ہم سے اللہ تعالیٰ کے نام سے پختہ عہد لیا کہ ہم میدنہ منورہ کی طرف لوٹ جائیں گے اور جناب نبی اکرم ﷺ کے ساتھ لڑائی میں شریک نہ ہوں گے ۔ چنانچہ ہم جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپ کو اس بات کی اطلاع دی تو آپ نے فرمایا تم وپاس جاؤ ۔ ہم ان کے عہد کو پورا کریں گے اور مشرکین کے خلاف اللہ تعالیٰ سے مدد چاہیں گے۔

وأبي فأخذنا كفار قريش ← ما منعني أن أشهد بدرا إلا أني خرجت ← حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ← أَبُو الطُّفَيْلِ ← الْوَلِيدِ بْنِ جُمَيْعٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4553

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 8 باب طلاق المكره ) · حديث 4554

4296 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا عبد الرحمن بن صالح قال حدثني يونس بن بكير عن الوليد عن أبي الطفيل عن حذيفة قال خرجت وأنا وأبي حسيل ونحن نريد رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم ذكر نحوه قالوا فلما منعهما رسول الله صلى الله عليه و سلم من حضور بدر لاستحلاف المشركين القاهرين لهما على ما استحلفوهما عليه ثبت بذلك أن الحلف على الطواعية والإكراه سواء وكذلك الطلاق والعتاق وهذا أولى ما فعل في الآثار إذا وقف على معاني بعضها أن يحمل ما بقي منها على ما لا يخالف ذلك المعنى متى ما قدر على ذلك حتى لا تضاد فثبت بما ذكرنا أن حديث بن عباس رضي الله عنهما في الشرك وحديث حذيفة رضي الله عنه في الطلاق والأيمان وما أشبه ذلك وأما حكم ذلك من طريق النظر فإن فعل الرجل مكرها لا يخلو من أحد وجهين إما أن يكون المكره على ذلك الفعل إذا فعله مكرها في حكم من لم يفعله فلا يجب عليه شيء أو يكون في حكم من فعله فيجب عليه ما يجب عليه لو فعله غير مستكره فنظرنا في ذلك فرأيناهم لا يختلفون في المرأة إذا أكرهها زوجها وهي صائمة في شهر رمضان أو حاجة فجامعها أن حجها يبطل وكذلك صومها ولم يراعوا في ذلك الإستكراه فيفرقوا بينه وبين الطواعية ولا جعلت المرأة فيه في حكم من لم يفعل شيئا بل قد جعلت في حكم من قد فعل فعلا يجب عليه الحكم ورفع عنها الإثم في ذلك خاصة وكذلك لو أن رجلا أكره رجلا على جماع امرأة اضطرت إلى ذلك كان المهر في النظر على المجامع لا على المكره ولا يرجع به المجامع على المكره لأن المكره لم يجامع فيجب عليه بجماعه مهر وما يجب في ذلك الجماع فهو على المجامع لا على غيره فلما ثبت في هذه الأشياء أن المكره عليها محكوم عليه بحكم الفاعل كذلك في الطواعية فيوجبون عليه فيها من الأموال ما يجب على الفاعل لها في الطواعية ثبت أنه كذلك المطلق والمعتق والمراجع في الإستكراه يحكم عليه بحكم الفاعل فيلزم أفعاله كلها فإن قال قائل فلم لا أجزت بيعه وإجارته قيل له إنا قد رأينا البيوع والإجارات قد ترد بالعيوب وبخيار الرؤية وبخيار الشرط وليس النكاح كذلك ولا الطلاق ولا المراجعة ولا العتق فما كان قد تنقض بالخيار للشروط فيه وبالأسباب التي في أصله من عدم الرؤية والرد بالعيوب نقض بالإكراه وما لا يجب نقضه بشيء بعد ثبوته لم ينقض بإكراه ولا بغيره وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله وقد رأينا مثل هذا قد جاءت به السنة

حضرت ابو الطفیل نے حضرت خذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ میں اور میرا والد جناب رسول اللہ ﷺ تک پہنچنے کا ارادہ لے کر نکلے پھر انہوں نے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب جناب رسول اللہ ﷺ کو بدر کی حاضری سے اس لئے منع کر دیا کہ ظالم مشرکوں نے ان سے زبردستی وعدہ لیا تھا اس سے ثابت ہوا کہ خوشی اور مجبوری دونوں حالتوں کی قسم کا حکم برابر ہے اور طلاق و عتاق کا بھی یہی حکم ہے۔ جب بعض روایات کے معنی کی اطلاع ہو گئی تو بقیہ آثار کو بھی اس معنی پر محمول کرنا زیادہ اولیٰ اور بہتر ہے تا کہ وہ اس معنی کے خلاف نہ ہوں اور روایات میں باہم تضاد نہ ہو۔ مذکورہ بالا بحث کے بعد یہ بات ثابت ہوئی کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ وقت کی روایت کا تعلق شرک وغیرہ اعتقادیات سے ہے اور حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی روایت تعلق قسم طلاق و عتاق جیسے معاملات سے ہے جب فریق ثانی کا موقف ثابت بالاآثار ہو گیا تو اب بطریق نظر بھی اس کو ثابت کیا جاتا ہے۔ چنانچہ غوروفکر سے معلوم ہوتا ہے کہ کی آدی کا مجبوری کی حالت میں کوئی کام کرنا دوحالتیں رکھتا ہے۔ وہ شخص اس فعل کے کرنے سے اس آدی کے حکم میں ہو جائے جس نے یہ عمل نہیں کیا تو اب اس شخص پر کچھ بھی لازم نہ ہوگا۔ وہ شخص عمل کرنے والے کے حکم میں ہوگا تو اس صورت میں اس پر وہ چیز لازم ہوگی جو مجبور نہ کرنے کی صورت میں عمل کی وجہ سے واجب ہوتی ہے۔ پس ہم نے اس سلسلہ میں جب غور کیا تو دیکھا کہ ان حضرات کا اس عورت کے بارے میں اختلاف نہیں ہے کہ جس کا خاوند اس کو جماع پر مجبور کرے اور اس نے رمضان المبارک کا روزہ رکھا ہوا تھا اور ج کا احرام باندھ رکھا تھا۔ اب جماع سے اس کا حج باطل ہو جائے گا اسی طرح روز بھی ٹوٹ جائے گا۔ فریق اول نے اس جبر میں کسی قسم کی رعایت نہیں دی کہ وہ اس مجبوری عمل اور مرضی سے عمل کرنے میں فرق کرتے اور اس ضمن میں عورت کول نہ کرنے والے کے حکم میں شمار نہ کرتے بلکہ اس مقام میں وہ عورت کو اس کے حکم میں شمار کرتے ہیں جس نے کوئی فعل کیا ہو اور اس پر حکم لازم ہوا ہو البتہ اس سے صرف گناہ اٹھا لیا گیا ہو۔ بالکل اسی طرح اگر کوئی شخص کسی دوسرے کو کسی ایسی عورت سے جماع کرنے پر مجبور کرے جو جماع کے لئے بے قرار ہو تو قیاس کے مطابق مہر جماع کرنے والے پر ہوگا جبر کرنے والے پر نہ ہوگا کیونکہ جماع جبر کرنے والے نے نہیں کیا کہ اس کے جماع کرنے سے مہر لازم ہوتو اس جماع کی صورت میں جماع کرنے والے پر مہر لازم ہوگا کسی دوسرے پرلازم نہ ہوگا۔ پس جب ان تمام اشیاء میں ثابت ہوگیا کہ فاعل وہی شخص کہلاتا ہے جس پر جبر کیا گیا ہے جس طرح کہ مرضی سے کام کرنے والے کو فاعل کہتے ہیں اور اس پر مال کو اسی طرح لازم کرتے ہیں جس طرح مرضی سے عمل کرنے والے پر لازم قرار دیتے ہیں پس ثابت ہوا کہ جبر کی صورت میں طلاق دینے والے آزاد کرنے اور رجوع کرنے والے پر فاعل جیسا حکم لگایا جائے گا اور اس کے تمام افعال لازم و نافذ شمار ہوں گے۔ اگر کوئی معترض یہ کہے کہ جبر کی حالت میں اجارہ اور تجارت کو تو آپ بھی جائز قرارنہیں دیتے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ہم نے خرید و فروخت اور اجارہ پر غور کیا کہ ان کو خیار عیب خیار رویت خیار شرط پر رد کر دیا جا تا ہے۔ گر نکاح طلاق وعتاق ایسی چیز نہیں جس کو رد کیا جا سکے۔ پس جو چیز خیار شرط کی وجہ سے ٹوٹ جائے اور اصل میں پائے جانے والے اسباب عدم رویت سے ٹوٹ جائے اور عیوب کی وجہ سے اس کو مسترد کیا جائے تو وہ مجبوری کی صورت میں بدرجہ اولیٰ ٹوٹ جانی اور رد ہونی چاہئے اور جو چیز ثابت ہونے کے بعد کسی چیز سے نہیں ٹوٹتی تو وہ جبر و اکراہ سے بھی نہ ٹوٹنی چاہیئے ۔ امام ابوحنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے اور حدیث سے اسی کی تائید ہوتی ہے روایت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یہ ہے۔

حُذَيْفَةَ ← أَبِي الطُّفَيْلِ، ← الْوَلِیْدُ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← عبد الرحمن بن صالح ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4554

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 8 باب طلاق المكره ) · حديث 4555

4297 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا الوحاظي قال ثنا سليمان بن بلال قال ثنا عبد الرحمن بن حبيب بن أردك أنه سمع عطاء بن أبي رباح يقول أخبرني يوسف بن ماهك أنه سمع أبا هريرة يحدث عن النبي صلى الله عليه و سلم قال ثلاث جدهن جد وهزلهن جد النكاح والطلاق والرجعة

یوسف بن ماہک نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرمان رسول اللہ ﷺ نقل کرتے سنا ۔ کہ تین چیزیں ایسی ہیں جو مزاح میں بھی سنجیدگی شمار ہوتی ہیں اور سنجیدگی میں تو سنجیدگی ہی وہ نکاح ، طلاق ، رجعت ہیں۔

ثَلاَثٌ جِدُّهُنَّ جِدٌّ وَهَزْلُهُنَّ جِدٌّ: النِّكَاحُ، وَالطَّلاَقُ، وَالرَّجْعَةُ. ← النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← يُوسُفُ بْنُ مَاهَكَ أَنَّهُ ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ أَرْدَكَ أَنَّهُ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← الوحاظي ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4555

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 8 باب طلاق المكره ) · حديث 4556

4298 - حدثنا نصر بن مرزوق قال ثنا الخصيب وأسد قالا ثنا عبد العزيز بن محمد الدراوردي عن عبد الرحمن بن حبيب بن أردك عن عطاء بن أبي رباح عن بن ماهك عن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله

یوسف بن ماہک نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← بن ماهك ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ أَرْدَكَ، ← عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِیُّ ← الخصيب وأسد ← نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4556

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 8 باب طلاق المكره ) · حديث 4557

4299 - حدثنا فهد قال ثنا علي بن معبد قال ثنا إسماعيل بن أبي كثير الأنصاري عن حبيب بن أردك عن عطاء بن أبي رباح عن بن ماهك عن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله فلما قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ثلاث جدهن جد وهزلهن جد فمنع النكاح من البطلان بعد وقوعه وكذلك الطلاق والمراجعة ولم نر البيوع على ذلك المعنى بل حملت ضده فجعل من باع لاعبا كان بيعه باطلا وكذلك من أجر لاعبا كانت إجارته باطلة فلم يكن ذلك عندنا والله أعلم إلا لأن البيوع والإجارات مما ينقض بالأسباب التي ذكرنا فنقضت بالهزل كما نقضت بذلك وكانت الأشياء الأخر من الطلاق والعتاق والرجعة لا يبطل بشيء من ذلك فجعلت غير مردود بالهزل فكذلك أيضا في النظر ما كان ينقض بالأسباب التي ذكرنا نقض بالإكراه وما كان لا ينقض بتلك الأسباب لم ينقض بالإكراه وقد روي ذلك عن عمر بن عبد العزيز

امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک جماعت کا موقف یہ ہے کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کے حمل کی اپنے سے نفی کرے تو قاضی ان کے درمیان اس حمل کی وجہ سے لعان کرائے گا اور وہ حمل اس کی ماں کی طرف منسوب کر دے گا اور اس عورت کو مرد سے جدا کر دے گا۔ ان کی دلیل یہ روایت ہے جس کو علقمہ نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے حمل کی وجہ سے یہاں لعان کیا ہے امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ نے یہ بات فرمائی تھی مگر ان کا مشہور مسلک یہ نہیں ہے۔ دوسرے علماء کا قول یہ ہے کہ حمل کی وجہ سے لعان نہ کیا جائے گا کیوں کہ یہ بھی ممکن ہے کہ حمل نہ ہو کیوں کہ جو کچھ طاہر ہورہا ہے اور اس کے ذریعہ ۔ اس کے حاملہ ہونے کا وہم کیا جارہا ہے اس سے معلوم نہیں ہوتا کہ واقعی وہ حمل ہے وہ تو ایک وہم ہے۔ لہذا وہم کرنے والے کی نفی سے لعان لازم نہیں ہوتا۔ پہلے قول والوں کے خلاف ان کے پاس دلیل یہ ہے کہ جس روایت سے تم نے استدلال کیا ہے وہ مختصر ہے اس کے راوی نے اس کو مختصر کر کے اس میں غلطی کی ہے اصل روایت یہ ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ان کے مابین حالت حمل میں ملاعنت کرائی اور ہمارے نزدیک یہ لعان قذف کی وجہ سے ہے حمل کی نفی کرنے کی وجہ سے لعان نہ تھا راوی کوہم ہوا کہ یہ حمل کی وجہ سے لعان ہے اس لئے اس نے روایت کو اختصار سے بیان کر دیا جیسا کہ ہم نے ذکر کر دیا۔ یہ روایت فہد کی سند سے بھی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ جب جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تین چیزیں سنجیدگی میں بھی سنجیدگی شمار ہوتی ہیں اور مزاح کی صورت میں بھی سنجیدگی شمار ہوتی ہے تو آپ نے نکاح کے واقع ہونے کے بعد اس کو باطل کرنے سے منع کر دیا اور طلاق ورجوع کا بھی یہی حکم ہے اور اس کے بالمقابل تم خرید و فروخت کو دیکھتے ہو کہ اسے اس معنی پر محمول نہیں کیا جاتا بلکہ اس کے برعکس معنی پر محمول کیا جاتا ہے فلہذا جو آدمی ہنسی مذاق میں کوئی چیز فروخت کرتا ہے اس کو بیع باطل کہتے ہیں۔ اسی طرح جو آدمی بطور کهیل اجارہ کرتا ہے تو ان کا اجارہ بھی باطل ہے اور ہمارے ہاں تو یہ اس وجہ سے ہے کہ خریدوفروخت اور اجاره ان اسباب سے ٹوٹ جاتے ہیں جن کا تذکرہ ہوا تو جس طرح وہ ان چیزوں سے ٹوٹ جاتے ہیں مذاق بھی ٹوٹ جائیں اور رہے طلاق عتاق اور رجعت وغیرہ تو یہ ان میں سے کسی چیز سے نہیں ٹوٹتے پس اسی وجہ سے ان کو مذاق سے بھی ٹوٹنے والا قرار دیا گیا۔ پس نظر کا تقاضا یہی ہے کہ جوان اسباب مذکورہ سے ٹوٹ جاتے ہیں وہ اکراہ و جبر سے بھی ٹوٹ جاتے ہیں اور جوان اسباب سے نہیں ٹوٹتے وہ اکراه و جر سے بھی نہیں ٹوٹتے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله فلما ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← بن ماهك ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← حبيب بن أردك ← إسماعيل بن أبي كثير الأنصاري ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4557

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 8 باب طلاق المكره ) · حديث 4558

4300 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا محمد بن عبد الرحمن العلاف قال ثنا بن سواء قال ثنا أبو سنان قال سمعت عمر بن عبد العزيز يقول طلاق السكران والمكره جائز

ابو سنان رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ کو فرماتے سنا کہ نشر والے اور مکروہ ( جبر والا ) کی طلاق نافذ ہے ۔

طلاق السكران والمكره جائز ← عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَبُو سِنَانٍ ← بن سواء ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَلَّافُ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4558

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( باب الرجل ينفي حمل امرأته أن يكون منه ) · حديث 4559

4301 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا حماد قال ثنا أبو عوانة عن سليمان عن إبراهيم عن علقمة عن عبد الله قال بينا نحن عشية في المسجد إذ قال رجل إن أحدنا رأى مع امرأته رجلا فإن قتله قتلتموه وإن هو تكلم جلدتموه وإن هو سكت سكت على غيظ لأسألن رسول الله صلى الله عليه و سلم فسأله فقال يا رسول الله إن أحدنا رأى مع امرأته رجلا فإن قتله قتلتموه وإن هو تكلم جلدتموه وإن سكت سكت على غيظ اللهم أحكم فأنزلت آية اللعان قال عبد الله فكان ذلك الرجل أول من إبتلي به

علقمہ نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ہم شام کے وقت مسجد میں تھے کہ ایک شخص نے آ کر کہا اگر ہم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو دیکھے پھر اگر وہ اسے قتل کر دے تو تم اسے قتل کرو گے ( قصاص میں ) اور اگر وہ اس کے متعلق بات کر لے تو تم اسے کوڑے لگاؤ گے اور اگر وہ خاموشی اختیار کرے تو وہ غصے کی حالت میں وہ خاموشی اختیار کرنے والا ہو گا ۔ میں اس کے متعلق جناب رسول اللہ ﷺ سے ضرور دریافت کروں گا ۔ چنانچہ اس نے جناب رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ﷺ ! اگر کوئی شخص ہم میں سے اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو دیکھے پھر اسے اگر وہ قتل کر دے تو آپ اس کو قتل ( قصاص میں ) کر دیں گے اور اگر وہ اس کے متعلق کلام کرے تو اس کو کوڑے لگائے جائیں گے اور اگر وہ خاموش رہے تو غصے کی حالت میں خاموشی اختیار کرنے والا ہو گا اے اللہ اس سلسلے میں حکم نازل فرمایا۔ پس لعان کی آیت نازل ہوئی ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ شخص سب سے پہلے اس میں مبتلا ہوا۔ مسئلہ لعان میں روایت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی اصل یہ ہے ۔ یہ لعان قذف ہے جو اس مرد نے اپنی بیوی کے متعلق حمل کی حالت میں الزام لگایا ۔ یہ حمل کی وجہ سے لعان نہیں ہے اور اس روایت کو اس طرح ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے علاوہ دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے بھی روایت کیا ہے ۔

بينا نحن عشية في المسجد إذ ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← سُلَیْمَانَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← حَمَّادٌ، ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4559

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( باب الرجل ينفي حمل امرأته أن يكون منه ) · حديث 4560

4302 - حدثنا يزيد قال ثنا حكيم بن سيف قال ثنا عيسى بن يونس عن الأعمش عن إبراهيم عن علقمة عن عبد الله قال قام رجل في مسجد رسول الله صلى الله عليه و سلم ليلة الجمعة فقال أرأيتم إن وجد رجل مع امرأته رجلا ثم ذكر نحوه وزاد فيه وقال عبد الله فابتلي به وكان رجلا من الأنصار جاء إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فلاعن امرأته فلما أخذت امرأته تلتعن قال لها رسول الله صلى الله عليه و سلم مه فالتعنت فلما أدبرت قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لعلها أن تجيء به اسود جعدا فجاءت به أسود جعدا حدثنا يزيد قال ثنا الحسن بن عمر بن شقيق قال ثنا جرير عن الأعمش فذكر بإسناده مثله فهذا هو أصل حديث عبد الله رضي الله عنه في اللعان وهو لعان بقذف كان من ذلك الرجل لامراته وهي حامل لا بحملها وقد رواه على ذلك أيضا غير بن مسعود رضي الله عنه

علقمہ نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے ایک آدمی جمعہ کے دن مسجد نبوی میں کھڑا ہوا اور کہنے لگا۔ تمہارا کیا خیال ہے اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے ؟ پھر اسی طرح کی روایت نقل کی ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے ۔ عبداللہ کہتے ہیں کہ یہی اس میں پہلے مبتلا ہوا یہ ایک انصاری آدمی تھا وہ جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور اس نے اپنی بیوی سے لعان کیا۔ جب بیوی لعان کرنے لگی تو اس کو جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔ رک جا اور لعان سے باز رہ مگر اس نے لعان کی جب وہ واپس مڑی تو جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا شاید اس کے ہاں ۔ گھنگھریالے بالوں والا سیاہ بچہ پیدا ہو۔ چنانچہ سیاہ گھنگھریالے بالوں والا بچہ پیدا ہوا ۔ جریر نے اعمش سے روایت کی پھر اس نے اپنی سند سے روایت نقل کی ہے ۔ اس روایت کو ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے علاوہ صحابہ کرام نے بھی روایت کیا ہے ۔ روایات ابن عباس رضی اللہ عنہ ملاحظہ ہوں۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4560

chevron_left Previous
1…15161718
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter