شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 7 باب الرجل يقول لامرأته أنت طالق ليلة القدر متى يقع الطلاق ) · حديث 4537
4279 - حدثنا بحر بن نصر قال ثنا أسد قال ثنا حماد بن سلمة عن حميد عن أبي نضرة عن أبي سعيد أن النبي صلى الله عليه و سلم قال أطلبوا ليلة القدر في العشر الأواخر تسعا يبقين وسبعا يبقين وخمسا يبقين فقد يجوز أن يكون أراد بذلك العام الذي كان إعتكف فيه وأري ليلة القدر فأنسيها إلا أنه كان علم أنها في وتر فأمرهم بالتماسها في كل وتر من ذلك العشر ثم جاء المطر فاستدل بها أنها كانت في عامه ذلك في تلك الليلة بعينها وليس في ذلك دليل على وقتها في الأعوام الجائية بعد ذلك هل هي في تلك الليلة بعينها أو فيما قبلها أو فيما بعدها وقد يجوز أيضا أن يكون ما حكاه أبو نضرة في هذا عن أبي سعيد عن النبي صلى الله عليه و سلم هو الأعوام كلها فيعود معنى ذلك إلى معنى ما رويناه متقدما في هذا الباب عن بن عمر رضي الله عنهما إلا أن في حديث أبي سعيد رضي الله عنه زيادة معنى واحد وهو إنما تكون في الوتر من ذلك وقد
ابو نضرہ نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا لیلتہ القدر کو آخری عشرہ کی نو راتیں اور سات راتیں اور پانچ راتیں باقی ہوں تو تلاش کرو۔ عین ممکن ہے کہ اس سے وہ سال مراد ہو جس میں جناب رسول اللہ ﷺ نے اعتکاف فرمایا اور جس سال لیلتہ القدر دکھا کر بھلا دی گئی ۔ البتہ اس سے آپ نے یہ جان لیا کہ یہ طاق راتوں میں ہے ۔ اس لئے صحابہ کرام کو آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کا حکم فرمایا پھر بارش کا نزول ہوا تو اس سے استدلال کیا گیا کہ وہ رات اس سال اس معینہ رات میں تھی ۔ مگر اس میں اس بات کی کوئی دلیل نہیں کہ آئندہ سالوں میں بھی اسی طرح ہو گی اسی معینہ رات میں ہو گی یا اس سے پہلے یا اس کے بعد ہو گی اور یہ بھی کہنا ممکن ہے کہ ابو نضرہ نے جو ابو سعید رضی اللہ عنہ کی وساطت سے جناب نبی اکرم ﷺ کی طرف سے بیان کیا وہ آئندہ تمام سالوں میں اسی طرح ہو۔ اس صورت میں اس روایت کا معنی وہی ہو جائے گا جو ہم نے اس باب میں پہلے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا البتہ ابو سعید رضی اللہ عنہ کی روایت میں ایک معنی زائد ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ طاق راتوں میں ہو گی ۔
اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← حُمَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أسد ← بحر بن نصر
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4537
