Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 6 باب نكاح المتعة ) · حديث 4224

3987 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني عمر بن محمد العمري عن بن شهاب قال أخبرني سالم بن عبد الله أن رجلا سأل عبد الله بن عمر عن المتعة فقال حرام قال فإن فلانا يقول فيها قال والله لقد علم أن رسول الله صلى الله عليه و سلم حرمها يوم خيبر وما كنا مسافحين ففي هذه الآثار النهي من رسول الله صلى الله عليه و سلم عن المتعة فاحتمل أن يكون ما ذكرنا عن رسول الله صلى الله عليه و سلم من الإذن فيها كان ذلك منه قبل النهي ثم نهى عنها فكان ذلك النهي ناسخا لما كان من الإباحة قبل ذلك فنظرنا في ذلك فإذا يونس قد

سالم بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے متعہ کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا یہ حرام ہے ۔ اس آدمی سے دوسرا سوال کیا کہ فلاں یہ کہتا ہے تو فرمانے لگے اللہ کی قسم ! اس آدمی کو معلوم ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن اس کو حرام قرار دیا اور ہم زنا کار نہیں ہیں ۔

والله لقد علم ← فِيهَا. ← فإن فلاناً ← المتعة. فقال: حرام. ← سالم بن عبد الله؛ أن رجلاً سأل عبد الله بن عمر ← بن شِهَابٍ ← عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيِّ، ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4224

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 6 باب نكاح المتعة ) · حديث 4225

3988 - حدثنا قال ثنا أنس بن عياض الليثي عن عبد العزيز بن عمر بن عبد العزيز عن الربيع بن سبرة الجهني عن أبيه قال خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى مكة في حجة الوداع فأذن لنا في المتعة فانطلقت أنا وصاحب لي إلى أمرأة من بني عامر كأنها بكرة عنطاء فعرضنا عليها أنفسنا فقالت ما تعطيني فقلت ردائي وقال صاحبي ردائين وكان رداء صاحبي أجود من ردائي وكنت أشب منه فإذا نظرت إلى ردائي صاحبي أعجبها وإذا نظرت إلي أعجبتها فقالت أنت ورداؤك تكفيني فمكثت معها ثلاثة أيام ثم إن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال من كان عنده شيء من هذه النساء اللاتي يتمتع بهن فليخل سبيلها

عبدالعزیز بن عمر بن عبدالعزیز نے ربیع بن سبرہ جہنی سے انہوں نے اپنے والد سے روایت نقل کی ہے کہ ہم جناب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حجۃ الوداع کے لئے مکہ کی طرف روانہ ہوئے تو آپ نے ہمیں متعہ کی اجازت مرحمت فرمائی چنانچہ میں اور میرا ساتھی بنو عامر کی ایک عورت کے پاس گئے گویا کہ وہ جوان موٹی ہے ہم نے اپنے کو اس کے سامنے پیش کیا اس نے کہا مجھے کیا دو گے ؟ میں نے کہا میں اپنی چادر دوں گا اور میرے دوست نے کہا دو چادریں دوں گا میرے ساتھی کی چادر میری چادر سے عمدہ تھی اور میں اس کے مقابلہ میں زیادہ جوان تھا جب اس عورت نے میرے ساتھی کی چادروں کو دیکھا تو اسے پسند کیا اور جب مجھے دیکھا تو میں اس کو پسند آ گیا اس نے کہا تو اور تیر ی چادر مجھے کافی ہے ۔ چنانچہ میں اس کے پاس تین دن ٹھہرا پھر جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کسی کے پاس متعہ والی عورتیں ہوں وہ ان کا راستہ چھوڑ دے یعنی ان سے الگ ہو جائے ۔

أَبِيهِ ← الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ← أَنَسُ بْنُ عِيَاضِ اللَّيْثِيُّ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4225

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 6 باب نكاح المتعة ) · حديث 4226

3989 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا شعيب بن الليث قال ثنا الليث عن الربيع بن سبرة الجهني عن أبيه مثله

لیث نے ربیع بن سبرہ جہنی سے انہوں نے اپنے والد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

أَبِیہِ مِثْلَہُ۔ ← الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ، ← اللَّيْثُ ← شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4226

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 6 باب نكاح المتعة ) · حديث 4227

3990 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا مسدد قال ثنا حماد بن زيد عن أيوب عن الزهري أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى عن متعة النساء يوم الفتح فقلت ممن سمعته فقال حدثني رجل عن أبيه عن عمر بن عبد العزيز وزعم معمر أنه الربيع بن سبرة

ایوب نے زہری سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن عورتوں سے متعہ کی ممانعت فرما دی میں نے زہری سے سوال کیا یہ بات تم نے کس سے سنی تو انہوں نے کہا مجھے ایک آدمی نے اپنے والد سے انہوں نے عمر بن عبدالعزیز سے روایت نقل کی ہے ۔ معمر راوی کا خیال یہ ہے کہ وہ رجل ربیع بن سبرہ ہے ۔

الزُّهْرِيِّ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← مُسَدَّدٌ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4227

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 6 باب نكاح المتعة ) · حديث 4228

3991 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا أبو عمر الحوضي قال ثنا شعبة عن عبد ربه بن سعيد عن عبد العزيز بن عمر عن الربيع بن سبرة عن أبيه أن النبي صلى الله عليه و سلم رخص في المتعة فتزوج رجل أمرأة فلما كان بعد ذلك إذا هو يحرمها أشد التحريم ويقول فيها أشد القول

عبدالعزیز بن عمر نے ربیع بن سبرہ سے انہوں نے اپنے والد سے نقل کیا کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے متعہ کی رخصت دی تو ایک آدمی ایک عورت سے نکاح متعہ کیا تو اس کے بعد آپ نے اس کو سختی سے حرام کر دیا اور آپ اس کے متعلق سخت بات فرماتے تھے ۔

أَبِيهِ ← الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ ← عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4228

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 6 باب نكاح المتعة ) · حديث 4229

3992 - حدثنا علي بن معبد قال ثنا يونس بن محمد قال أخبرنا عبد الواحد بن زياد قال ثنا أبو عميس عن إياس بن سلمة بن الأكوع عن أبيه قال أذن رسول الله صلى الله عليه و سلم في متعة النساء ثم نهى عنها

ایاس بن سلمہ بن اکوع نے اپنے والد سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے متعہ نساء کی اجازت دی پھر اس سے منع فرما دیا۔

أَبِيهِ ← إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، ← أَبُو عُمَيْسٍ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4229

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 6 باب نكاح المتعة ) · حديث 4230

3993 - حدثنا أبو بكرة قال حدثنا مؤمل بن إسماعيل قال ثنا عكرمة بن عمار عن سعيد بن أبي سعيد المقبري عن أبي هريرة قال خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في غزوة تبوك فنزل ثنية الوداع فرأى مصابيح ونساء يبكين فقال ما هذا فقيل نساء تمتع بهن أزواجهن وفارقوهن فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم إن الله حرم أو هدر المتعة بالطلاق والنكاح والعدة والميراث ففي هذه الآثار تحريم رسول الله صلى الله عليه و سلم المتعة بعد إذنه فيها وإباحته إياها فثبت بما ذكرنا نسخ ما في الآثار الأول التي ذكرناها في أول هذا الباب ثم قد روي عن أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم ورضي عنهم النهي عنها أيضا

سعید بن ابی سعید بن مقبری نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ ہم جناب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ تبوک کے لئے روانہ ہوئے آپ ﷺ نے ثتیتہ الوداع میں قیام فرمایا آپ نے وہاں کچھ چراغ دیکھے اور کچھ عورتوں کو دیکھا جو رو رہی تھیں آپ نے دریافت فرمایا یہ کیا ۔ تو بتلایا گیا کہ ان عورتوں سے ان کے خاوندوں نے متعہ کیا اور پھر ان کو چھوڑ دیا جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے متعہ کو طلاق ، نکاح ، عدت اور وراثت کے ساتھ حرام یا باطل قرار دیا ہے ۔ پس ان روایات و آثار سے ثابت ہو رہا ہے کہ متعہ کی اجازت دینے اور اسے جائز قرار دینے کے بعد اس کو حرام قرار دیا گیا تو باب کے شروع میں مذکورہ روایات کا نسخ ثابت ہو گیا پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے بھی اس سلسلہ میں ممانعت کی روایت موجود ہیں جو اس نسخ کی توثیق کرتی ہیں ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4230

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 6 باب نكاح المتعة ) · حديث 4231

3994 - حدثنا ربيع الجيزي قال ثنا سعيد بن كثير بن عفير قال ثنا يحيى بن أيوب عن بن جريج عن عطاء عن بن عباس قال ما كانت المتعة إلا رحمة رحم الله بها هذه الأمة ولولا نهي عمر بن الخطاب عنها ما زنى إلا شقي قال عطاء كأني أسمعها من بن عباس إلا شقي

عطاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ متعہ ایک رحمت تھی جس سے اللہ تعالیٰ نے اس امت پر رحم فرمایا اور اگر عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس سے منع نہ کرتے تو کوئی بد بخت ہی زنا کا مرتکب ہوتا گویا میں الاشقی کے الفاظ کی گونج اب بھی سن رہا ہوں۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← عَطَاءٍ، ← بن جُرَيْجٍ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ عُفَيْرٍ، ← ربيع الجيزي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4231

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 6 باب نكاح المتعة ) · حديث 4232

3995 - حدثنا أبو بشر الرقي قال ثنا شجاع بن الوليد عن ليث بن أبي سليم عن طلحة بن مصرف عن خيثمة بن عبد الرحمن عن أبي ذر رضي الله عنه قال إنما كانت متعة النساء لنا خاصة

خیثمہ بن عبدالرحمن نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے عورتوں سے متعہ کا حکم ہمارے ساتھ مخصوص تھا۔

إنما كانت متعة النساء لنا خاصة ← اَبِیْ ذَرٍّ ← خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← طَلْحَۃَ بن مصرف ← ليث بن أبي سليم ← شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← أبو بشر الرقي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4232

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 6 باب نكاح المتعة ) · حديث 4233

3996 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا سعيد قال هشام أخبرنا عبد الملك عن عطاء عن جابر أنهم كانوا يتمتعون من النساء حتى نهاهم عمر

عطاء نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ وہ عورتوں سے متعہ کیا کرتے تھے یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے منع فرما دیا۔

جابر أنهم كانوا يتمتعون من النساء حتى نهاهم عمر ← عَطَاءٍ، ← عَبْد الْمَلِكِ؛ ← هِشَامٍ ← سَعِيدٌ، ← صالح بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4233

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 6 باب نكاح المتعة ) · حديث 4234

3997 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا وهب قال ثنا شعبة عن أبي جمرة قال سألت بن عباس عن متعة النساء فقال مولى له إنما كان ذلك في الغزو والنساء قليل فقال بن عباس رضي الله عنهما صدقت قال أبو جعفر فهذا عمر رضي الله عنه قد نهى عن متعة النساء بحضرة أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم فلم ينكر ذلك عليه منهم منكر وفي هذا دليل على متابعتهم له على ما نهى عنه من ذلك وفي إجماعهم على النهي في ذلك عنها دليل على نسخها وحجة ثم هذا بن عباس رضي الله عنهما يقول إنما أبيحت والنساء قليل أي فلما كثرن ارتفع المعنى الذي من أجله أبيحت وقال أبو ذر رضي الله عنه إنما كانت لنا خاصة فقد يحتمل أن يكون كانت لهم للمعنى الذي ذكره عبد الله بن عباس أنه أبيحت من أجله وأما قول جابر رضي الله عنه كنا نتمتع حتى نهانا عنها عمر فقد يجوز أن يكون لم يعلم بتحريم رسول الله صلى الله عليه و سلم إياها حتى علمه من قول عمر رضي الله عنه وفي تركه ما قد كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إباحه لهم دليل على أن الحجة قد قامت عنده على نسخ ذلك وتحريمه فوجب بما ذكرنا نسخ ما روينا في أول هذا الباب من إباحة متعة النساء وقد قال بعض أهل العلم إن النكاح إذا عقد على متعة أيام فهو جائز على الأبد والشرط باطل فمن الحجة على هذا القول أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لما نهاهم عن المتعة قال لهم من كان عنده من هذه النساء اللاتي يتمتع بهن شيء فليفارقهن فدل ذلك على أن ذلك العقد المتقدم لا يوجب دوام العقد للأبد لأنه لو كان يوجب دوام العقد للأبد لكان يفسخ الشرط الذي كانا تعاقدا بينهما ولا يفسخ النكاح إذا كان قد ثبت على صحة وجواز قبل النهي ففي أمره إياهم بالمفارقة دليل على أن مثل ذلك العقد لا يجب به ملك بضع وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم

شعبہ نے ابو جمرہ سے روایت کی ہے کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے عورتوں کے متعہ کے متعلق سوال کیا تو ان کے ایک آزاد کردہ غلام نے کہا یہ جہاد کے موقعہ پر ہوتا تھا جبکہ عورتوں کی تعداد تھوڑی ہوتی تھی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر فرمایا تونے سچ کہا۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں جنہوں نے صحابہ کرام کی موجودگی میں متعہ سے منع فرمایامگر ان میں سے کسی نے بھی ان کی اس بات کی مخالفت نہیں کی ۔ پس یہ بات کی کھلی دلیل ہے کہ اس ممانعت کے سلسلہ میں انہوں نے آپ کی اتباع کی اس متعہ کی ممانعت پر اتفاق کیانیز یہ اس متعہ کے منسوخ ہونے کی دلیل اور حجت ہے۔ پھر ابن عباس رضی اللہ عنہ کا یہ قول کہ یہ اس وقت جائز کیا گیا جب عورتیں کم تعداد میں تھیں جب ان کی تعداد زیادہ ہوگئی تو وہ علت اور وجہ ختم ہوگئی جس کے باعث اسے جائز کیا گیا تھا۔ اسی طرح حضرت ابو ذرا رضی اللہ عنہ کا قول کہ یہ ہمارے ساتھ مخصوص تھا تو اس میں اس بات کا احتمال ہے جس کا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ذکر کیا کہ عورتوں کی تعداد کم تھی اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا یہ قول کہ ہم متعہ کرتے رہے یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں اس سے منع کر دیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہوسکتا ہے کہ جابر رضی اللہ عنہ کو جناب رسول اللہ ﷺ کی ممانعت کا علم نہ ہوا ہو یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قول سے ان کو معلوم ہوا اور ان کا اس کو ترک کر دینا جسے جناب رسول الله ﷺ نے ان کے لئے جائز قرار دیا تھا اس بات کی بین دلیل ہے کہ ان کے ہاں بھی اس کے منسوخ اور حرام ہونے پر دلیل قائم ہو چکی تھی۔ اس باب کے شروع میں متعہ کے جواز کے سلسلہ میں جو روایات نقل کی ہیں اس مذکورہ کلام سے ان کا منسوخ ہونا ضروری قرار پایا۔ بعض اہل علم نے فرمایا کہ جب چند دنوں کے لئے متعہ پر نکاح کیا جائے تو وہ نکاح ہمیشہ کے لئے جائز ہو جائے گا اور شرط ایام باطل ٹھہرے گی ۔ اس کی دلیل یہ ہے۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے جب متعہ سے منع فرمایا تو ان صحابہ کرام سے فرمایا کہ جس کے پاس ان عورتوں میں سے کوئی عورت ہوجن سے متعہ کیا جاتا ہے تو وہ اس کو جدا کر دے تو یہ اس بات کی دلالت ہے کہ پہلے ہونے والا یہ عقد (متعہ) دائمہ عقد کو لازم نہیں کرتا کیونکہ اگر وہ اس عقد کو ہمیشہ کے لئے واجب کرتا تو وہ شرط جس پران دونوں نے عقد کیا ہے باطل ہو جاتی اور نکاح فسخ نہ ہوتا اور جب نہی سے پہلے اس کی صحت اور جواز ثابت ہوگیا تو ان عورتوں کو جدا کرنے کے سلسلہ میں صحابہ کرام کو آپ ﷺ کا حکم ملا جواس بات کی کھلی دلیل ہے کہ اس قسم کے عقود سے ملک بضع حامل نہیں ہوتی یہی امام ابوحنیفہ، ابو يوسف ، محمد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے۔

أَبِي جَمْرَةَ ← شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4234

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 7 باب مقدار ما يقيم الرجل عند الثيب أو البكر إذا تزوجها ) · حديث 4235

3998 - حدثنا يونس قال أخبرنا سفيان عن أيوب عن أبي قلابة عن أنس قال للبكر سبع وللثيب ثلاث

حضرت ابو قلابہ رحمتہ اللہ علیہ نے انس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا بکارہ عورت کے لئے سات دن اور ثیبہ کے لیے تین دن ہیں ۔

لِلْبِكْرِ سَبْعٌ، وَلِلثَّيِّبِ ثَلاثٌ. ← أَنَسٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← سُفْيَانَ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4235

chevron_left Previous
1…789…20
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter