Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 3 باب الرجل يريد تزوج المرأة هل يحل له النظر إليها أم لا ) · حديث 4200

3966 - حدثنا نصر بن مرزوق قال ثنا الخصيب بن ناصح قال ثنا وهيب عن يونس فذكر بإسناده مثله

خصیب بن ناصح نے وہیب سے انہوں نے یونس سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

يُونُسُ، فَذَكَرَ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ ← وُهَيْبٌ، ← الْخَصِيبُ بْنُ نَاصِحٍ ← نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4200

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 3 باب الرجل يريد تزوج المرأة هل يحل له النظر إليها أم لا ) · حديث 4201

3967 - حدثنا فهد قال ثنا محمد بن سعيد قال ثنا إسماعيل بن علية عن يونس فذكر بإسناده مثله

اسماعیل بن علیہ نے یونس سے پھر انہوں نے اپنی سند سے روایت نقل کی ہے ۔

يُونُسُ، فَذَكَرَ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4201

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 3 باب الرجل يريد تزوج المرأة هل يحل له النظر إليها أم لا ) · حديث 4202

3968 - حدثنا فهد قال ثنا محمد بن سعيد قال أخبرنا شريك عن أبي ربيعة الإيادي عن أبي بريدة عن أبيه رفعه مثله يعني أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لعلي يا علي لا تتبع النظرة النظرة فإنما لك الأولى وليست لك الثانية

ابو ربیعہ ایادی نے ابو بریدہ سے انہوں نے اپنے والد سے اسی طرح مرفوع روایت نقل کی ہے یعنی جناب رسول اللہ ﷺ نے علی رضی اللہ عنہ کو فرمایا ۔ اے علی رضی اللہ عنہ ایک بار نظر پڑ جانے کے بعد دوبارہ نظر نہ ڈالو۔ بلا شبہ تمہارے لیے پہلی نظر ( جائز ) ہے اور دوسری تمہارے لیے ( جائز ) نہیں ہے ۔

أبيه رفعه مثله يعني ← أَبي بُرَيْدَةَ ← أَبِي رَبِيعَةَ الْإِيَادِيِّ ← شَرِيکٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4202

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 3 باب الرجل يريد تزوج المرأة هل يحل له النظر إليها أم لا ) · حديث 4203

3969 - وحدثنا أبو أمية قال حدثنا علي قادم قال أخبرنا شريك عن أبي ربيعة عن بن بريدة عن أبيه عن علي قال قال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم النظرة الأولى لك والآخرة عليك قالوا فلما حرم رسول الله صلى الله عليه و سلم وعلى آله وسلم النظرة الثانية لأنها تكون باختيار الناظر وخالف بين حكمها وبين حكم ما قبلها إذا كانت بغير اختيار من الناظر دل ذلك على أنه ليس لأحد أن ينظر إلى وجه المرأة إلا أن يكون بينه وبينها من النكاح أو الحرمة ما لا يحرم ذلك عليه منها فكان من الحجة عليهم في ذلك لأهل المقالة الأولى إن الذي إباحه رسول الله صلى الله عليه و سلم وعلى آله وسلم في الآثار الأول هو النظر للخطبة لا لغير ذلك فذلك نظر بسبب هو حلال ألا ترى أن رجلا لو نظر إلى وجه امرأة لا نكاح بينه وبينها ليشهد عليها وليشهد لها أن ذلك جائز فكذلك إذا نظر إلى وجهها ليخطبها كان ذلك جائزا له أيضا فأما المنهي عنه في حديث علي وجرير وبريدة رضي الله عنهم فذلك لغير الخطبة ولغير ما هو حلال فذلك مكروه محرم وقد رأيناهم لا يختلفون في نظر الرجل إلى صدر المرأة الأمة إذا أراد أن يبتاعها أن ذلك له جائز حلال لأنه إنما ينظر إلى ذلك منها ليبتاعها لا لغير ذلك ولو نظر إلى ذلك منها لا ليبتاعها ولكن لغير ذلك كان ذلك عليه حراما فكذلك نظره إلى وجه المرأة إن كان فعل ذلك لمعنى هو حلال فذلك غير مكروه له وإن كان فعله لمعنى هو عليه حرام فذلك مكروه له وإذا ثبت أن النظر إلى وجه المرأة ليخطبها حلال خرج بذلك حكمه من حكم العورة ولأنا رأينا ما هو عورة لا يباح لمن أراد نكاحها النظر إليها ألا ترى أن من أراد نكاح أمرأة فحرام عليه النظر إلى شعرها وإلى صدرها وإلى ما هو أسفل من ذلك في بدنها كما يحرم ذلك منها على من لم يرد نكاحها فلما ثبت أن النظر إلى وجهها حلال لمن أراد نكاحها ثبت أنه حلال أيضا لمن لم يرد نكاحها إذا كان لا يقصد بنظره ذلك لمعنى هو عليه حرام وقد قيل في قول الله عز و جل ولا يبدين زينتهن إلا ما ظهر منها أن ذلك المستثنى هو الوجه والكفان فقد وافق ما ذكرنا من حديث رسول الله صلى الله عليه و سلم وعلى آله وسلم هذا التأويل وممن ذهب إلى هذا التأويل محمد بن الحسن رحمة الله عليه كما حدثنا سليمان بن شعيب بذلك عن أبيه عن محمد وهذا كله قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين

ابور بیہ نے ابن بریدہ سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے جناب علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پہلی نظر تمہارے لئے جائز ہے اور دوسری نظر تم پر (گناہ) ہے۔ جب جناب رسول اللہ ﷺ نے دوسری نظر کو حرام قرار دیا کیونکہ وہ دیکھنے والے کے اختیار سے ہوتی ہے اور اس کے اور پہلی اچانک پڑنے والی نظر کے حکم میں فرق کیا جبکہ پہلی نظر دیکھنے والے کے اختیار سے نہ ہو تو یہ اس بات کی کھلی دلالت ہے کہ جب تک کسی مرد اور عورت کے مابین نکاح یا اسی طرح کی حرمت والا رشتہ نہ ہو جس کی وجہ سے دیکھنا حرام نہیں تو اس کی طرف دیکھنا جائز نہیں۔ مذکورہ بالا روایات میں جناب رسول اللہ ﷺ نے جس بات کو مباح اور جائز قرار دیا وہ منگنی کے سلسلہ میں دیکھنا ہے اس کے علاوہ نہیں اور یہ حلال سبب کی بناء پر دیکھنا ہے اس کی نظیر ملاحظہ ہو کہ اگر کوئی شخص کسی عورت کو جو اس کے نکاح میں نہیں اس کے خلاف یا حق میں گواہی دینے کے لئے اس کو دیکھے تو بے جائز ہے بالکل اسی طرح یہاں بھی اگرمنگنی کرنے کی نیت رکھتا ہو اور اس غرض سے دیکھے تو یہ بھی جائز ہے (کیونکہ حلال غرض ہے) حضرت علی ، حضرت جریر ، حضرت بریدہ رضی اللہ عنہم کی روایات میں جس دیکھنے کی ممانعت مذکور ہے وہ منگنی اور کسی دوسری حلال غرض کے لئے نہیں بلکہ اس کے علاوہ ہے پس مکروہ اور حرام ہے۔ ذرا فقہاء کرام کے طرز عمل کو ملاحظہ فرمائیں کہ وہ مرد کے لئے ایسی لونڈی کے سینے کو دیکھنا جائز قرار دیتے ہیں جس کو خریدنے کا ارادہ ہو اور یہ اس لئے جائز ہے کہ وہ اسے خریدنا چاہتا ہے کسی اور مقصد کے لئے نہیں اور اگر وہ اسے خریدنے کے علاوہ دیکھے تویہ دیکھنا حرام ہے۔ بالکل اسی طرح اگر کسی جائز غرض کے لئے کسی عورت کے چہرے کو دیکھے تو اس کے لئے مکروہ (تحریمی ) نہیں اور اگر کسی حرام غرض کے پیش نظر دیکھے تو حرام ہے۔ پس جب ثابت ہوگیا کہ عورت سے منگنی کے لئے اس کے چہرہ کی طرف دیکھنا جائز ہے تو اس سے وہ (چہرہ ) حکم ستر سے نکل گیا۔ نیز ہم بھی دیکھتے ہیں کہ جو شخص نکاح کا ارادہ کرے وہ بھی عورت کے ستر کی طرف نہیں دیکھ سکتا۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ جو شخص کسی عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہو تو اس پر اس عورت کے بالوں اور اس کے سینے اور اس کے نیچے کے بدن کی طرف دیکھنا حرام ہے جیسا کہ یہ اس شخص کے  ئے حرام وممنوع ہیں جو نکاح کا ارادہ رکھتا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ جب ثابت ہو چکا کہ نکاح کا ارادہ کرنے والے کے لئے عورت کے چہرے کی طرف نگاہ حلال ہے تو ثابت ہوگیا کہ اس شخص کے لئے بھی دیکھنا حلال ہے جو نکاح کا ارادہ نہ رکھتا ہو جبکہ اس کا مقصد کسی حرام کام کا ارتکاب نہ ہو۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:ولا یبدین زینتھن الا مظھر منھا ........... کہ وہ عورتیں اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں مگر وہ جو اس میں سے ظاہر ہو ۔ تو وہ جس کا یہاں استثناء کیا گیا وہ چہرہ اور ہتھیلیاں ہیں تو اس سے یہ تاویل اس حدیث کے موافق ہوگئی۔ اس تاویل کو امام محمد بن حسن رحمتہ اللہ علیہ نے اختیار کیا ہے جیسا کہ سلیمان بن شعیب نے اپنے والد سے اور انہوں نے امام محمد رحمتہ اللہ علیہ سے اس کو کیا ہے۔ یہ سب امام ابوحنیفہ ، ابو یوسف اور محمد رحمتہ اللہ علیہ کا مسلک ہے۔

عَلِيٍّ، ← أَبِيهِ ← بن بريدة ← أبي ربيعة ← شَرِيکٍ ← علي قادم ← اَبُوْ اُمَیَّۃَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4203

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 4 باب التزويج على سورة من القرآن ) · حديث 4204

3970 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب أن مالكا حدثه عن أبي حازم عن سهل بن سعد الساعدي أن رسول الله صلى الله عليه و سلم جاءته أمرأة فقالت يا رسول الله إني قد وهبت نفسي لك فقامت قياما طويلا فقام رجل فقال يا رسول الله زوجنيها إن لم يكن لك بها حاجة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم هل عندك من شيء تصدقها إياه فقال ما عندي إلا إزاري هذا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم إن أعطيتها إياه جلست لا إزار لك فالتمس شيئا فقال لا أجد شيئا قال فالتمس ولو خاتم حديد قال فالتمس فلم يجد شيئا فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم هل معك من القرآن شيء فقال نعم سورة كذا وسورة كذا السورة سماها فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم قد زوجتك بما معك من القرآن

ابو حازم نے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں ایک عورت حاضر ہوئی اور عرض کرنے لگی یا رسول اللہ ﷺ میں نے اپنا نفس آپ کو ہبہ کیا وہ کافی دیر کھڑی رہی تو ایک شخص کھڑا ہو کر عرض کرنے لگا یا رسول اللہ ﷺ اگر آپ کو اس کی ضرورت نہیں تو اسے میرے نکاح میں دے دیں۔ جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کیا اس کا مہر ادا کرنے کے لیے تیرے پاس کچھ ہے اس نے عرض کیا میرے پاس صرف یہ تہبند ہے آپ نے فرمایا اگر یہ تہبند اسے دے دے گا تو تو بلا ازار بیٹھ رہے گا پس کچھ تلاش کرو۔ اس نے عرض کیا مجھے کچھ بھی میسر نہیں ۔ آپ ﷺ نے پھر فرمایا تلاش کرو اگرچہ لوہے کی ایک انگوٹھی کیوں نہ ہو۔ راوی کہتے ہیں کہ اس نے تلاش کیا مگر کچھ نہ پایا تو اسے جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تمہارے پاس قرآن مجید میں سے کچھ ( یاد ) ہے تو اس نے جواب دیا فلاں فلاں سورت ، ان سورتوں کا نام لیا ۔ تو جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے اس کا نکاح اس کے ساتھ اس قرآن مجید کے بدلے کر دیا جو تمہیں یاد ہے۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، ← أَبِي حَازِمٍ ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4204

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 4 باب التزويج على سورة من القرآن ) · حديث 4205

3971 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا سفيان بن عيينة عن أبي حازم عن سهل عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله غير أنه قال قد أنكحتك مع ما معك من القرآن

ابو حازم نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی کی مثل روایت کی ہے ۔ البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں میں نے اس کا نکاح تمہارے ساتھ اس قرآن کے بدلے کر دیا جو تمہارے ساتھ ہے یعنی یاد ہے ۔

قد أنكحتك مع ما معك من القرآن ← النبي صلى الله عليه و سلم مثله غير أنه ← سَهْلٍ ← أَبِي حَازِمٍ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← أسد ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4205

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 4 باب التزويج على سورة من القرآن ) · حديث 4206

3972 - حدثنا محمد بن حميد بن هشام الرعيني قال ثنا عبد الله بن صالح قال حدثني الليث قال حدثني هشام بن سعد عن أبي حازم عن سهل عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله قال الليث لا يجوز هذا بعد رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يزوج بالقرآن قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن التزويج على سورة من القرآن مسماة جائز وقالوا معنى ذلك على أن يعلمها تلك السورة واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا من تزوج على ذلك فالنكاح جائز وهو في حكم من لم يسم مهرا فلها مهر مثلها إن دخل بها أو ماتا أو مات أحدهما وإن طلقها قبل أن يدخل بها فلها المتعة وكان من الحجة لهم على أهل المقالة الأولى أن الذي في حديث سهل من قول رسول الله صلى الله عليه و سلم قد زوجتك على ما معك من القرآن أن حمل ذلك على الظاهر وكذلك مذهب أهل المقالة الأولى في غير هذا فذلك على السورة لا على تعليمها وإن كان ذلك على السورة فهو على حرمتها وليست من المهر في شيء كما تزوج أبو طلحة أم سليم على إسلامه

ہشام بن سعد نے ابوحازم سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ امام لیث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے بعد قرآن مجید کے بدلے نکاح کرنا جائز نہیں۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ قرآن مجید کی کسی مقررہ سورت کے بدلے نکاح کرنا جائز ہے وہ فرماتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس کو وہ سورت سکھائے انہوں نے مذکورہ بالا روایت سے استدلال کیا ہے۔ مگر دوسرے حضرات نے اس سلسلے میں ان کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ جوشخص قرآن مجید کے بدلے نکاح کرے تو نکاح جائز ہو جائے گا لیکن اس کا حکم اس شخص کا ہے جس نے مہر مقرر نہ کیا ہو تو اس عورت کے لئے مہر مثلی ہے اگر اس نے اس سے جماع کر لیا یا دونوں مرگئے یا ان میں سے ایک کا انتقال ہوگیا اور اگر اس نے جماع سے پہلے طلاق دے دی تو اس عورت کے لئے کپڑوں کا جوڑا بطور متعہ ہوگا۔ دوسرے فریق کی فریق اول کے خلاف حجت یہ ہے کہ حضرت سہل رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ جناب رسول اللہ صلى الله عليہ وسلم نے فرمایا میں نے تیرا نکاح قرآن پاک کے بدلے کیا جو تجھے یاد ہے۔ اگر اس کو ظاہر پر محمول کیا جائے جیسا کہ فریق اول کا اس کے علاوہ میں قول ہے تو پھر اس سے سورة مراد ہوگی اس کی تعلیم مراد نہ ہوگی اور اگر اس سے سورت مراد لی جائے تو پھر اس کی تعظیم مقصود ہے اس کا مہر ہونا مراد نہیں جیسا کہ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ سے ان کے مسلمان ہونے کی وجہ سے نکاح کیا ( مطلب یہ ہوا کہ چونکہ ہمیں قرآن پاک یاد ہے پس اس فضیلت کی وجہ سے تیرا نکاح اس سے کرتا ہوں) روایت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ یہ ہے۔

سَهْلٍ ← أَبِي حَازِمٍ ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← محمد بن حميد بن هشام الرعيني

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4206

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 4 باب التزويج على سورة من القرآن ) · حديث 4207

3973 - حدثنا بذلك بن أبي داود قال ثنا الخطاب بن عثمان الفودي قال أخبرنا إسماعيل بن عياش عن عتبة بن حميد عن أبي بكر بن عبيد الله بن أنس عن أنس بن مالك أن أبا طلحة تزوج أم سليم على إسلامه فذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه و سلم فحسنه فلم يكن ذلك الإسلام مهرا في الحقيقة وإنما معنى تزوجها على إسلامه أي تزوجها لإسلامه وقد زاد بعضهم في حديث أنس هذا قال أنس والله ما كان لها مهرا غيره فمعنى ذلك عندنا والله أعلم أي ما أرادت منه مهرا غيره فكذلك معنى حديث سهل في المرأة التي ذكرنا ومن الحجة لأهل هذه المقالة على أهل المقالة الأولى أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد نهى أن يؤكل بالقرآن أو يتعوض به شيء من أمور الدنيا

ابو بکر بن عبید اللہ بن انس نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ سے ان کے اسلام کی وجہ سے نکاح کیا تو میں نے یہ بات جناب نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ذکر کی تو آپ نے اس کی تحسین فرمائی ۔ پس یہ اسلام حقیقت میں مہر نہ تھا۔ تذو جھا علی اسلامہ کا مطلب یہ ہے کہ ام سلیم سے ابو طلحہ کی شادی ان کے اسلام کی وجہ سے ہوئی بعض مھدثٰن نے اس روایت میں یہ اضافہ نقل کیا ہے کہ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اللہ کی قسم ام سلیم کا اس کے علاوہکوئی مہر نہ تھا۔ تو اب ہمارے ہاں اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ام سلیم نے اس کے علاوہ ان سے کسی مہر کا مطالبہ ہی نہ کیا واللہ اعلم ۔ اسی طرح سہل والی روایت میں جس عورت کا تذکرہ ہوا اس روایت کامطلب بھی یہی ہے ۔ فریق ثانی کا کہنا ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے قرآن مجید کے بدلے کھانے اور اس کا عوض دنیوی مفاد کی صورت میں حاصل کرنے سے منع کیا ہے جیسا کہ اس روایت میں مذکور ہے ۔

أَبِي بَكْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَنَسٍ، ← عُتْبَةَ بْنِ حُمَيْدٍ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← الخطاب بن عثمان الفودي ← بذلك بن أبى داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4207

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 4 باب التزويج على سورة من القرآن ) · حديث 4208

3974 - حدثنا أبو أمية قال ثنا أبو عاصم قال أخبرنا مغيرة بن دينار قال أخبرني عبادة بن نسي عن الأسود بن ثعلبة عن عبادة قال كنت أعلم ناسا من أهل الصفة القرآن فأهدى إلي رجل منهم قوسا على أن أقبلها في سبيل الله فذكرت ذلك لرسول الله صلى الله عليه و سلم فقال إن أردت أن يطوقك الله بها طوقا من النار فاقبلها

اسود بن ثعلبہ نے عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میں اہل صفہ میں سب سے زیادہ قرآن مجید کا ماہر تھا ان میں سے ایک آدمی نے مجھے کمان بطور ہدیہ دی کہ میں اس کو اللہ تعالیٰ کی خاطر قبول کروں تو میں نے اس بات کا تذکرہ جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا اگر تم چاہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں آگ کا طوق ڈالے تو اسے قبل کر لو۔

عبادة ← الْأَسْوَدِ بْنِ ثَعْلَبَةَ ← عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ ← مغيرة بن دينار ← أَبُو عَاصِمٍ ← اَبُوْ اُمَیَّۃَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4208

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 4 باب التزويج على سورة من القرآن ) · حديث 4209

3975 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا أبو عامر العقدي قال ثنا علي بن المبارك عن يحيى بن أبي كثير عن زيد بن سلام عن أبي سلام عن أبي راشد الحبراني عن عبد الرحمن بن شبل الأنصاري قال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول اقرءوا القرآن ولا تغلوا فيه ولا تجفوا عنه ولا تأكلوا به ولا تستكثروا به

ابو راشد حبرانی نے عبدالرحمن بن شبل انصاری رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ میں نے جناب رسول اللہ ﷺ فرماتے سنا قرآن مجید پڑھو مگر اس میں غلو نہ کرو اور نہ اس سے بے رخی اختیار کرو اور نہ اس کو کھانے کا ذریعہ بناؤ اور نہ اس سے مال میں کثرت کے طالب بنو۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ الْأَنْصَارِيِّ، ← أَبِي رَاشِدٍ الْحُبْرَانِيِّ ← أَبِي سَلَّامٍ ← زَیْدِ بْنِ سَلَّامٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4209

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 4 باب التزويج على سورة من القرآن ) · حديث 4210

3976 - حدثنا محمد بن خزيمة قال مسلم بن إبراهيم قال ثنا أبان بن يزيد عن يحيى بن أبي كثير ح

ابان بن یزید نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4210

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 4 باب التزويج على سورة من القرآن ) · حديث 4211

وحدثنا زيد بن أبي داود قال ثنا أبو مسلمة موسى بن إسماعيل قال ثنا أبان قال ثنا يحيى قال بن خزيمة في حديثه عن زيد وقال بن أبي داود قال ثنا زيد ثم اجتمعا جميعا فقالا عن أبي سلام عن أبي راشد الحبراني عن عبد الرحمن بن شبل أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يقول أقرءوا القرآن ولا تغلوا فيه ولا تأكلوا به فحظر عليهم رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يتعوضوا بالقرآن شيئا من عوض الدنيا فعارض ذلك ما حمل عليه المخالف معنى الحديث الأول لو ثبت أن معناه كذلك ولم يثبت ذلك إذ كان يحتمل تأويله بما وصفنا وقد يحتمل أيضا معنى آخر وهو أن الله عز و جل أباح لرسوله صلى الله عليه و سلم ملك البضع بغير صداق ولم يجعل ذلك لأحد غيره قال الله عز و جل وامرأة مؤمنة إن وهبت نفسها للنبي إن أراد النبي أن يستنكحها خالصة لك من دون المؤمنين فيحتمل أن يكون قد كان مما خصه الله عز و جل به من ذلك أن يملك غيره ما كان له تملكه بغير صداق فيكون ذلك خاصا للنبي صلى الله عليه و سلم كما قال الليث ومما يدل على ذلك أنها قالت للنبي صلى الله عليه و سلم قد وهبت نفسي لك فقام إليه ذلك الرجل فقال له إن لم يكن لك بها حاجة فزوجنيها فكان هذا ما ذكر في ذلك الحديث ولم يذكر فيه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم شاورها في نفسها ولا أنها قالت له زوجني منه فدل ذلك إذا كان تزويجه إياها منه لا بقول تأتي به بعد قولها قد وهبت نفسي لك وإنما هو بقولها الأول ولم تك قالت له قد جعلت لك أن تهبني لمن شئت بالهبة التي لا توجب مهرا جاز النكاح وقد أجمعوا أن الهبة خالصة لرسول الله صلى الله عليه و سلم لما ذكرنا من اختصاص الله تعالى إياه بها دون المؤمنين [ ص 19 ] غير أن قوما قالوا خالصة لك أي بلا مهر وجعلوا الهبة نكاحا لغيره يوجب المهر وقال آخرون خالصة لك أي أن الهبة تكون لك نكاحا ولا تكون نكاحا لغيرك فلما كانت المرأة المذكور أمرها في حديث سهل منكوحة بهبتها نفسها للنبي صلى الله عليه و سلم وعلى آله وسلم على ما ذكرنا ثبت أن ذلك النكاح خاص كما قال الذين ذهبوا إلى ذلك فإن قال قائل فقد يجوز أن يكون مع ما ذكرنا في الحديث سؤال من النبي صلى الله عليه و سلم وعلى آله وسلم لها أن يزوجها منه وإن كان ذلك لم ينقل إلينا في ذلك الحديث قيل له وكذلك يحتمل أيضا أن يكون النبي صلى الله عليه و سلم وعلى آله وسلم قد جعل لها مهرا غير السورة وإن كان ذلك لم ينقل إلينا في الحديث فإن حملت الحديث على ظاهره على ما تذهب إليه أنت لزمك ما ذكرنا من أن ذلك النكاح كان بالهبة التي وصفنا وإن حملت ذلك على التأويل على ما وصفت فلغيرك أن يحمله أيضا من التأويل على ما ذكرنا ثم لا تكون أنت بتأويلك أولى منه بتأويله فهذا وجه هذا الباب من طريق تصحيح معاني الآثار وأما وجهه من طريق النظر فإنا قد رأينا النكاح إذا وقع على مهر مجهول لم يثبت المهر ورد حكم المرأة إلى حكم من لم يسم لها مهرا فأحتيج إلى أن يكون المهر معلوما كما تكون الأثمان في البياعات معلومة وكما تكون الأجرة في الإجارات معلومة وكان الأصل المجتمع عليه أن رجلا لو أستأجر رجلا على أن يعلمه سورة من القرآن سماها بدرهم لا يجوز وكذلك لو أستأجره على أن يعلمه شعرا بعينه بدرهم كان ذلك غير جائز أيضا لأن الإجارات لا تجوز إلا على أحد معنيين إما على عمل بعينه مثل غسل ثوب بعينه أو على خياطته أو على وقت معلوم لا بد فيها من أن يكون الوقت معلوما أو العمل معلوما وكان إذا استأجره على تعليم سورة فتلك إجارة لا على وقت معلوم ولا على عمل معلوم إنما استأجره على أن يعلمه ذلك وقد يتعلم بقليل التعليم وبكثيره وفي قليل الأوقات وكثيرها وكذلك لو باعه داره على أن يعلمه سورة من القرآن لم يجز ذلك للمعاني التي ذكرناها في الإجارات فلما كان ذلك كذلك في الإجارات والبياعات وقد وصفنا أن المهر لا يجوز على أموال ولا على منافع إلا على ما يجوز عليه البيع والإجارة وغير ذلك وكان التعليم لا تملك به المنافع ولا أعيان الأموال ثبت بالنظر على ذلك أن لا يملك به الأبضاع فهذا هو النظر وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين

یحییٰ نے ابن خزیمہ سے اپنی روایت میں عن زید اور ابو داؤد نے اپنی روایت میں حدثنا زید سے روایت ذکر کی ہے پھر دونوں نے ابو سلام سے انہوں نے ابوراشد حبرانی سے انہوں نے عبدالرحمن بن شبل رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے قرآن مجید پڑھو اس میں غلو مت کرو اور نہ اس کو کھانے پینے کا ذریعہ بناؤ ۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے اس بات سے منع کیا کہ وہ قرآن مجید کے بدلے میں دنیا کی کوئی چیز حاصل کریں۔ اب یہ روایت فریق اول کی مستدل روایت کے خلاف آرہی ہے جبکہ اس کا وہی معنی لیا جائے جو فریق اول نے لیا ہے اور اگر اس سے وہ محتمل معنی مراد لیں جو ہم نے لیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کے لئے ملک بضع کو بلا مہر کے جائز قرار دیا تھا اور آپ کے علاوہ یہ کسی کے لئے جائز نہیں الله تعالی کا ارشاد ہے: وامراة مؤمنۃ أن وهبت نفسها للنبي ان اراد النبي أن يستنكحها خالصة لك من دون المؤمنين (الاحزاب ۵۰) اور اگر کوئی مومن عورت اپنا آپ جناب رسول اللہ ﷺ کو ہبہ کر دے اور آپ ﷺ اس سے نکاح کا ارادہ رکھتے ہوں تو یہ حکم آپ ﷺ کے لئے جائز ہے عام مؤمنوں کے لئے نہیں۔ پس اس بات کا احتمال ہے کہ اس کا تعلق اس معاملے سے ہو جو اللہ تعالی نے آپ کے ساتھ خاص کیا ہے مگر کوئی دوسرا بلا مہر مالک نہیں بن سکتا تو یہ جناب نبی اکرم ﷺ کے ساتھ خاص ہوا جیسا لیث رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے اور اس کے لئے دلالت روایت کے الفاظ ہیں کہ اس نے جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں خودعرض کیا ”قدوهبت نفسی لك“اسی گھڑی اس آدمی نے کھڑے ہو کر کہا ان لم يكن لك بها حاجة فزوجنيها “اس روایت میں یہی مذکور ہے اس میں یہ بات مذکور نہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اس عورت سے اس کے نفس کے سلسلہ میں مشورہ کیا اور نہ مذکور ہے کہ اس نے خودیہ عرض کیا کہ اس مرد سے میرا نکاح کر دیں تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ ﷺ نے جب اس عورت کا نکاح اس شخص سے کیا تو یہ اس عورت کی پہلی بات کی بنیاد پر کیا جو وهبت نفسی لك تھی۔ اس کے بعد اس عورت نے کوئی نئی بات نہیں کی۔ کہ قد جعلت لك ان تهبنی لمن شئت کہ میں نے آپ کو یہ حق دے دیا ہے کہ تم مجھے جس کو چاہو اسے ہبہ کردو جس میں مہر لازم نہ ہوتا ہو تو اس سے وہ نکاح جائز ہوا اور اس پرتوسب کا اتفاق ہے ہبہ تو جناب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خاص تھا جیسا کہ ہم نے ذکر کیا کہ وہ اللہ تعالی نے آپ کے ساتھ خاص کیا تھا کسی دوسرے مؤمن کے لئے اس کی اجازت نہ تھی ۔ البتہ بعض حضرات نے ”خالصة لك“ کی تفسیر میں یہ فرمایا کہ اس سے مراد مہر کے بغیر ہے اور دوسروں کے لئے انہوں نے ہبہ کو نکاح قرار دیا جس سے مہر لازم ہوتا ہے۔ بعض نے "خالصة لك“ کی تفسیر میں فرمایا کہ ہبہ کر دینا فقط آپ کے میں نکاح ہوگا دوسروں کے حق میں نکاح نہ بنے گا۔ پس جب وہ مذکورہ عورت جس کا تذکرہ حضرت سہل رضی اللہ عنہ کی روایت میں موجود ہے جناب نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں اپنے نفس کو ہبہ کر دینے سے منکوحہ ہوگی جیسا کہ ہم نے نقل کیا تو اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ نہ نکاح خاص ہے جیسا کہ اس بات کے قائلین نے فرمایا۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ ہماری اس مذکورہ گفتگو کے باوجود یہ ممکن ہے کہ اس شخص نے جناب رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا ہو کہ آپ اس عورت کا اس سے نکاح کر دیں اگر چہ یہ بات اس روایت میں منقول نہیں تو اس کے جواب میں عرض کریں گے کہ اگر مذکورہ احتمال ہوسکتا ہے تو یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے اس کے لئے سورت کے علاوہ مہر مقرر کیا ہو اگرچہ یہ بات اس حدیث نقل ہو کر ہم تک نہیں پہنچی ۔ (ماهو جوابكم فهو جوابنا) اور اگر اس روایت کو ظاہر پر محمول کرتے ہو جیسا کر تمہارا مذہب ہے تم پر وہ بات لازم آئے گی کہ یہ نکاح ہبہ کی صورت میں ہوا جیسا ہم نے ذکر کیا اور اگر بالفرض تم اس کو اپنی تاویل پر اصرار کرتے ہوئے محمول کرتے ہو تو دوسرے کو بھی تاویل کا حق حاصل ہے۔ جیسا کہ ہم نے تاویل ذکر کر دی ہے۔ پھر آخر اس تاویل کے مقابلے میں آپ کی تاویل کو اولیت کیوں کر حاصل ہوگی روایات و آثار کے معانی کی تصیحح کے پیش نظر ہم نے اس بات کا یہ مطلب بیان کر دیا اور اگر آپ نظری اعتبار سے دیکھیں تو ہم عرض کریں گے کہ جب نکاح مہر مجہول پرواقع ہوا ہو اور یہ ثابت نہ ہورہا ہو تو اس عورت کے مہر کا حکم اس عورت کے حکم کی طرف لوٹایا جاتا ہے جس کا مہر سرے سے مقرر نہ ہوا ہو۔ (اور مہر مثلی پر فیصلہ ہوتا ہے) پس یہاں بھی ضروری ہے کہ مہر معلوم ہوجیسا کہ خریدوفروخت میں قیمت معلوم ہوتی ہے اور جس طرح اجارات میں اجرت طے شدہ ہوتی ہے اور متفق علیہ ضابطہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کے ساتھ اس طرح اجارہ کرے کہ وہ اس کو چند مقره در اہم کے بدلے قرآن مجیدسکھا دے تو یہ جائز ہیں (متاخرین نے تعلیم قرآن کے ضیاع کے خطرے سے تعلیم قرآن پراجرت کے جواز کا فتوی دیا ہے)اسی طرح اگر چند مقررہ دراہم کے بدلے اشعارسکھانے کا اجارہ ہو تو یہ بھی جائز نہیں کیونکہ اجارہ کے جواز کی دو صورتیں ہیں :نمبر 1:کام مقرر ہومثلا چند معین کپڑے دھونا یا ان کی سلائی کرنا وغیرہ۔ نمبر 2:وقت و مدت معلوم ہو کہ اتنی مدت میں ہوگا جب تعلیم قرآن پر اجارہ کرے گا تو یہ معلوم وقت کے لئے نہیں بلکہ یہ اجارہ تو صرف اس سورت کے سکھانے کے لئے ہے اور تعلیم حاصل کرنے والا بھی کم تعلیم حاصل کرتا ہے اور کبھی زیادہ ، اسی طرح کبھی تھوڑے وقت میں سیکھ لیتا ہے اور کبھی زیادہ وقت میں اور کبھی تھوڑ اسکھانے سے زیادہ سیکھ لیتا ہے اور کبھی زیادہ سکھانے سے تھوڑا سا سیکھتا ہے۔ بالکل اسی طرح اگر کسی نے اپنا مکان اس شرط پر فروخت کیا کہ وہ اس کو قرآن مجید کی ایک سورت سکھا دے تو یہ اجارہ جائز نہیں کیونکہ اجارہ کی شرائط اس میں مفقود ہیں۔ پس جب عقد نکاح اجارے اور خریدوفروخت کی طرح ہے اور ہم بیان کر آئے کہ یہ صرف اس مال یا منافع کی صورت میں جائز ہے جوفریدوفروخت اور اجارے کی صورت میں جائز ہوتا ہے اورتعلیم کے ذریعہ نہ تو منافع کی ملکیت حاصل ہوتی ہے اور کسی چیز کی۔ تو اس پر قیاس سے یہ ثابت ہوا کہ اس تعلیم قرآن سے بضع عورت کی ملکیت بھی ثابت نہیں ہوتی۔ تقاضا قیاس بھی یہی ہے اور ہمارے امام ابوحنیفہ ، ابو یوسف اور امام محمد رحمتہ اللہ علیہ کا قول بھی یہی ہے۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ ← أَبِي رَاشِدٍ الْحُبْرَانِيِّ ← أَبِي سَلَّامٍ ← زيد ثم اجتمعا جميعا فقالا ← زيد وقال بن أبي داود ← بن خزيمة في حديثه ← يَحْيَى ← أَبَانُ، ← أبو مسلمة موسى بن إسماعيل ← وحدثنا زيد بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4211

chevron_left Previous
1…567…20
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter