Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 2 باب النكاح بغير ولي عصبة ) · حديث 4188

3956 - حدثنا حسين بن نصر قال ثنا يوسف بن عدي قال ثنا حفص بن غياث عن عبد الله بن عبد الله بن موهب عن نافع بن جبير فذكر بإسناده مثله فبين رسول الله صلى الله عليه و سلم في هذا الحديث بقوله الأيم أحق بنفسها من وليها أن أمرها في تزويج نفسها إليها لا إلى وليها وقد روي عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في هذا الباب ما يدل على هذا المعنى أيضا

عبداللہ بن عبداللہ بن موہب نے نافع بن جبیر سے پھر انہوں نے اپنی سند سے روایت اسی طرح نقل کی ہے ۔ اس روایت میں جناب رسول اللہ ﷺ نے اپنے ارشاد : الا یم احق بنفسھا من ولیھا سے یہ بات واضح فرمادی کہ بیوہ عورت کو نکاح کے سلسلہ میں اختیار ہے ولی کو اختیار نہیں ہے اور اس مفہوم پر دلالت کرنے والی مزید روایت یہ ہیں ۔

Hadith 4188

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 2 باب النكاح بغير ولي عصبة ) · حديث 4189

3957 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا يزيد بن هارون قال أخبرنا حماد بن سلمة ح

یزید بن ہارون نے حماد بن سلمہ سے روایت کی ہے ۔

حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← علي بن شيبة

Hadith 4189

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 2 باب النكاح بغير ولي عصبة ) · حديث 4190

وحدثنا بن أبي داود قال ثنا أبو سلمة موسى بن إسماعيل قال ثنا حماد بن سلمة ح

موسیٰ بن اسماعیل نے حماد بن سلمہ سے روایت نقل کی ہے ۔

حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو سَلَمَةَ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← وحدثنا بن أبي داود

Hadith 4190

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 2 باب النكاح بغير ولي عصبة ) · حديث 4191

وحدثنا بن أبي داود أيضا قال ثنا آدم بن أبي إياس قال ثنا سليمان بن المغيرة قالا ثنا ثابت عن عمر بن أبي سلمة عن أم سلمة قالت دخل علي رسول الله صلى الله عليه و سلم وعلى آله وسلم بعد وفاة أبي سلمة فخطبني إلى نفسي [ ص 12 ] فقلت يا رسول الله إنه ليس أحد من أوليائي شاهدا فقال إنه ليس منهم شاهد ولا غائب يكره ذلك قالت قم يا عمر فزوج النبي صلى الله عليه و سلم فتزوجها فكان في هذا الحديث أن رسول الله صلى الله عليه و سلم وعلى آله وسلم خطبها إلى نفسها ففي ذلك دليل أن الأمر في التزويج إليها دون أوليائها فإنما قالت له إنه ليس أحد من أوليائي شاهدا قال إنه ليس منهم شاهد ولا غائب يكره ذلك فقالت قم يا عمر فزوج النبي عليه السلام وعمر هذا ابنها وهو يومئذ طفل صغير غير بالغ لأنها قد قالت للنبي صلى الله عليه و سلم وعلى آله وسلم في هذا الحديث إني امرأة ذات أيتام يعني عمر ابنها وزينب بنتها والطفل لا ولاية له فولته هي أن يعقد النكاح عليها ففعل فرآه النبي صلى الله عليه و سلم وعلى آله وسلم جائزا وكان عمر بتلك الوكالة قام مقام من وكله فصارت أم سلمة رضي الله عنها كأنها عقدت النكاح على نفسها للنبي صلى الله عليه و سلم ولما لم ينتظر النبي صلى الله عليه و سلم حضور أوليائها دل ذلك أن بضعها إليها دونهم ولو كان لهم في ذلك حق أو أمر لما أقدم النبي صلى الله عليه و سلم على حق هو لهم قبل إباحتهم ذلك له فإن قال قائل إن النبي صلى الله عليه و سلم وعلى آله وسلم كان أولى بكل مؤمن من نفسه قيل له صدقت هو أولى به من نفسه يطيعه في أكثر مما يطيع فيه نفسه فأما أن يكون هو أولى به من نفسه في أن يعقد عليه عقدا بغير أمره من بيع أو نكاح أو غير ذلك فلا وإنما كان سبيله في ذلك صلى الله عليه و سلم وعلى آله وسلم كسبيل الحكام من بعده ولو كان ذلك كذلك لكانت وكالة عمر إنما تكون من قبل النبي صلى الله عليه و سلم وعلى آله وسلم لا من قبل أم سلمة لأنه هو وليها فلما لم يكن ذلك كذلك وكانت الوكالة إنما كانت من قبل أم سلمة فعقد بها النكاح فقبله رسول الله صلى الله عليه و سلم وعلى آله وسلم دل ذلك أن النبي صلى الله عليه و سلم وعلى آله وسلم إنما كان ملك ذلك البضع بتمليك أم سلمة إياه لا بحق ولاية كانت له في بضعها أو لا ترى أنها قد قالت إنه ليس أحد من أوليائي شاهدا فقال لها النبي صلى الله عليه و سلم وعلى آله وسلم إنه ليس أحد منهم شاهد ولا غائب يكره ذلك ولو كان هو أولى بها منهم لم يقل لها ذلك ولقال لها أنا وليك دونهم ولكنه لم ينكر ما قالت وقال لها إنهم لا يكرهون ذلك فهذا وجه هذا الباب من طريق تصحيح معاني الآثار ولما ثبت أن عقد أم سلمة رضي الله عنها النكاح على بضعها كان جائزا دون أوليائها وجب أن يحمل معاني الآثار التي قدمنا ذكرها في هذا الباب على هذا المعنى أيضا حتى لا يتضاد شيء منها ولا يتنافى ولا يختلف وأما النظر في ذلك فإنا قد رأينا المرأة قبل بلوغها يجوز أمر والدها عليها في بضعها ومالها فيكون العقد في ذلك كله إليه لا إليها وحكمه في ذلك كله حكم واحد غير مختلف فإذا بلغت فكل قد أجمع أن ولايته على مالها قد ارتفعت وأن ما كان إليه من العقد عليها في مالها في صغرها قد عاد إليها فالنظر على ذلك أن يكون كذلك العقد على بضعها يخرج ذلك من يد أبيها ببلوغها فيكون ما كان إليه من ذلك قبل بلوغها قد عاد إليها ويستوي حكمها في مالها وفي بضعها بعد بلوغها فيكون ذلك إليها دون أبيها ويكون حكمها مستويا بعد بلوغها كما كان مستويا قبل بلوغها فهذا حكم النظر في هذا الباب وهذا قول أبي حنيفة رحمه الله أيضا إلا أنه كان يقول إن زوجت المرأة نفسها من غير كفء فلوليها فسخ ذلك عليها وكذلك إن قصرت في مهرها فتزوجت بدون مهر مثلها فلوليها أن يخاصم في ذلك حتى يلحق بمهر مثل نسائها وقد كان أبو يوسف رحمة الله عليه كان يقول إن بضع المرأة إليها الولاء في عقد النكاح عليه لنفسها دون وليها يقول إنه ليس للولي أن يعترض عليها في نقصان ما تزوجت عليه عن مهر مثلها ثم رجع عن قوله هذا كله إلى قول من قال لا نكاح إلا بولي وقوله الثاني هذا قول محمد بن الحسن رحمة الله تعالى عليه والله أعلم بالصواب

ثابت نے عمر بن ابی سلمہ سے اور انہوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ ابوسلمہ کی وفات کے بعد میرے ہاں تشریف لائے اور آپ ﷺ نے مجھے اپنے ساتھ نکاح کا پیغام دیا میں نے عرض کی : یارسول اللہ ﷺ میرے اولیاء میں سے کوئی یہاں موجود نہیں۔ آپ نے فرمایا ان میں سے حاضر و غائب کوئی بھی اس کو نا پسند نہ کرے گا تو اس پر حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ ا نے اپنے بیٹے عمر کو فرمایا اے عمر اٹھو اور جناب نبی اکرم ﷺ سے میرا نکاح کر دو چنا نچہ عمر نے ان کا نکاح آپ ﷺ سے کر دیا۔ اس روایت سے معلوم ہورہا ہے کہ آپ ﷺ نے ذاتی طور پر ان کو پیغام نکاح دیا یہ اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ نکاح کے معاملہ کا اختیار عورت کو حاصل ہے اس کے اولیاء کونہیں۔ چنانچہ جب ام سلمہ رضی اللہ عنہ نے یہ گزارش کی کہ میرے اولیاء میں سے کوئی بھی یہاں موجو نہیں تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ان میں سے کوئی حا ضر و غائب اس بات کو نا پسند نہ کرے گا اس کے بعدام سلمہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے عمرکوفرمایا اے عمر اٹھو اور حضور علیہ السلام کے ساتھ میرا نکاح کر دو اور یہ عمر رضی اللہ عنہ ام سلمہ کے بیٹے تھے اور وہ ان دنوں ابھی بالغ بھی نہ تھے کیونکہ اس روایت میں یہ بات بھی موجود ہے کہ ام سلمہ نے جناب نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ میں ایسی عورت ہوں جس کے یتیم بچے ہیں یعنی عمر اور زینب اور بچوں کو ولایت حاصل نہیں ہوتی لیکن اس کے باوجود انہوں نے عمر بن سلمہ کو نکاح کرنے کا اختیار دیا۔ چنانچہ انہوں نے نکاح کر دیا اور جناب رسول اللہ ﷺ نے اس کو جائز قرار دیا۔ پس عمر بن سلمہ اس نکاح میں وکیل کے قائم مقام قرار پائے تو گویا حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اپنا نکاح خودکیا آپ ﷺ کا اس کے کسی ولی کا انتظار نہ کرنا۔ اس بات کی دلیل ہے۔ کہ ام سلمہ ا پنی بضع کی خود ما لک تھیں ان کے ولی ما لک نہ تھے اور اگر اس سلسلے میں ان ولیا ءکا کوئی حق يا اختیار ہوتا تو جناب رسول اللہ ﷺ ان اولیاء کی اجازت سے پہلے ان کے حق پر اقدام نہ فرماتے۔ کیا اس بات پر تم نے غور نہیں کیا کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میرا کوئی ولی یہاں موجود نہیں تو آپ نے ان سے فرمایا کہ ان میں سے کوئی بھی حاضر و غائب اس نکاح کو نا پسند نہ کرے گا۔ تو اگر جناب نبی اکرم ﷺ ان اولیاء سے زیادہ ولایت رکھتے تو یہ بات نہ فرماتے بلکہ اس طرح فرماتے کہ تمہارا ولی میں ہوں۔ وہ نہیں ہیں۔ لیکن آپ نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ کی بات کا انکار نہیں فرمایا اور ان کے جواب میں فرمایا کہ تمہارے اولیاء اس کو نا پسند نہ کریں گے۔ آثار کے معانی کی تصحیح کے لحاظ سے تو یہ وضاحت ہے پس جب یہ بات ثابت ہوچکی کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ کا نکاح اولیاء کے بغیر اجازت جائز تھا تو ضروری ہے کہ جن روایات کو فریق اول نے) شروع میں ذکر کیا ہے ان کے معانی کو بھی اس پرمحمول کیا جائے تا کہ ان روایات میں تضادو اختلاف اور منافات نہ رہے۔ اس مسئلہ پر غوروفکر کا تقاضا یہ ہے کہ ہم نے عورت کے بارے میں دیکھا کہ بلوغت سے پہلے اس کے بضع اور مال میں اس کے والد کو ولایت حاصل ہوتی ہے اور اس وقت عقد کا اختیار مکمل طور پر باپ کو حاصل ہوتا ہے نا بالغہ کے ہاتھ میں نہیں ہوتا۔ اس سلسلے میں تمام معاملات کا حکم ایک ہی ہوتا ہے اس میں اختلاف نہیں ہوتا جب وہ بالغ ہوجاتی ہے تو اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ اس کے مال سے باپ کی ولایت اٹھ جاتی ہے اور اس کے مالک عقد جو بچپن کی وجہ سے باپ کے اختیار میں تھا اب اس کی طرف لوٹ آتا ہے تو قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ عقد بضع بھی اسی طرح ہو کہ بالغ ہونے کی وجہ سے باپ کے ہاتھ سے نکل جائے اور بلوغت سے پہلے جراختیار والد کو حاصل تھا اب اس لڑکی کی طرف لوٹ آئے اور بلوغت کے بعد اس کے مال اور بضع کے سلسلہ میں اس کا حکم برابر ہو پس یہ اختیار خود اسے حاصل ہو گا والد کونہیں اور جس طرح بلوغت سے پہلے اس کا حکم ( مال وبضع) میں یکساں تھا بلوغت کے بعد بھی برابر ہونظر کے اعتبار سے اس باب کا یہی حکم ہے اور امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا یہی مسلک ہے البتہ وہ اتنی بات مزید فرماتے ہیں کہ اگر عورت غیر کفو میں خود اپنا نکاح کرے تو ولی کو فسخ کا حق حاصل ہے اسی طرح اگر مہر کم رکھا جائے اور مہر مثل سے کم پر نکاح کرے تو ولی اس سلسلے میں مخاصمت کر سکتا ہے اس وقت تک وہ جھگڑا کرسکتا ہے یہاں تک کہ اس کا مہراس کی ہم مثل لڑکیوں کے برابر ہو جائے۔ امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ کہا کرتے تھے کہ عورت کو اپنے بضع کی ولایت اپنا نکاح کرنے کے سلسلہ میں حاصل ہے پھر گروه مہر مثل سے کم پر نکاح کر لیتی ہےتو ولی کو اعتراض کا حق حاصل نہیں ہے پھر انہوں نے اپنے اس قول سے رجوع کر کے ان لوگوں کے قول کو اختیار کرلیاجوالا نکاح إلا بولی کہ ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں ہوتا کے قائل ہیں۔ امام محمد رحمتہ اللہ علیہ کا قول بھی انہی کے موافق ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔

أُمِّ سَلَمَةَ ← عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ← ثَابِتٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← بن أبي داود أيضا

Hadith 4191

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 3 باب الرجل يريد تزوج المرأة هل يحل له النظر إليها أم لا ) · حديث 4192

3958 - حدثنا سليمان بن شعيب الكيساني قال ثنا يحيى بن حسان قال ثنا أبو شهاب الحناط عن الحجاج بن أرطأة عن محمد بن سليمان بن أبي حثمة عن عمه سليمان بن أبي حثمة قال رأيت محمد بن مسلمة يطارد ثبيتة بنت الضحاك فوق إجار لها ببصرة طردا شديدا فقلت أتفعل هذا وأنت من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال إني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول إذا ألقي في قلب أمرئ خطبة امرأة فلا بأس أن ينظر إليها

حجاج بن ارطاۃ نے محمد بن سلیمان بن ابی حثمہ سے انہوں نے اپنے چچا سلیمان بن ابی حثمہ سے روایت نقل کی ہے کہ میں نے حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ بصر ہ میں اپنی ایک کھلی چھت سے ثبیتہ بنت ضحاک کو خوب غور سے دیکھ رہے ہیں میں نے کہا آپ اصحاب رسول اللہ ﷺ میں سے ہوتے ہوئے ایسا کرتے ہیں انہوں نے فرمایا میں جناب رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ جب کسی شخص کے دل میں کسی عورت کے نکاح کا خیال ڈال دیا جائے تو اسے دیکھنے میں کوئی حرج نہیں ۔

عمه سليمان بن أبي حثمة ← مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ← الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، ← أَبُو شِهَابٍ الْحَنَّاطُ، ← يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ الْكَيْسَانِيُّ

Hadith 4192

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 3 باب الرجل يريد تزوج المرأة هل يحل له النظر إليها أم لا ) · حديث 4193

3959 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا سعيد بن سليمان الواسطي عن زهير بن معاوية قال ثنا عبد الله بن عيسى عن موسى بن عبد الله بن يزيد عن أبي حميد وكان قد رأى النبي صلى الله عليه و سلم قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا خطب أحدكم أمرأة فلا جناح عليه أن ينظر إليها إذا كان إنما ينظر إليها للخطبة وإن كانت لا تعلم

موسیٰ بن عبداللہ بن یزید نے ابو حمید رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ کی زیارت کی تھی ، وہ بیان کرتے ہیں کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص عورت کو پیغام نکاح دے تو وہ اس کو دیکھنے میں کوئی حرج نہیں جبکہ اس کا یہ دیکھنا صرف نکاح کے لئے ہو ۔ اگرچہ اس عورت کو معلوم نہ ہو۔

أبي حميد وكان قد رأى النبي صلى الله عليه و سلم ← مُوسَی بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَی ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ ← بن أبي داود

Hadith 4193

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 3 باب الرجل يريد تزوج المرأة هل يحل له النظر إليها أم لا ) · حديث 4194

3960 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا الوهبي قال ثنا بن إسحاق عن داود بن الحصين عن واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ عن جابر بن عبد الله قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا خطب أحدكم المرأة فقدر على أن يرى منها ما يعجبه فليفعل قال جابر فلقد خطبت أمرأة من بني سلمة فكنت أتخبأ أي أختفي في أصول النخل حتى رأيت منها بعض ما يعجبني فخطبتها فتزوجتها

عمرو بن سعد بن معاذ نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کو پیغام نکاح دے اور اس کو پسند والے حصہ ( چہرہ وغیرہ ) دیکھنے کی بساط ہو تو دیکھ لے ۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے بنی سلمہ کی ایک عورت کو نکاح کا پیغام بھیجا میں کھجور کے درختوں کی جڑوں میں چھپ گیا یہاں تک کہ میں نے اس کا بعض پسند آنے والا حصہ دیکھا لیا تو میں نے منگنی کو پختہ کر کے اس سے نکاح کر لیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← وَاقِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ← دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ← بن إِسْحَاقَ، ← الوهبي ← بن أبي داود

Hadith 4194

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 3 باب الرجل يريد تزوج المرأة هل يحل له النظر إليها أم لا ) · حديث 4195

3961 - حدثنا محمد بن النعمان السقطي قال ثنا الحميدي قال ثنا سفيان قال ثنا يزيد بن كيسان اليشكري عن أبي حازم عن أبي هريرة أن رجلا أراد أن يتزوج أمرأة من نساء الأنصار فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم أنظر إليها فإن في أعين نساء الأنصار شيئا يعني الصغر

ابو حازم نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک آدمی نے انصار کی ایک عورت سے نکاح کا ارادہ کیا تو جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسے دیکھ لو۔ اس لئے کہ انصار کی عورتوں کی آنکھوں میں کوئی چیز یعنی چھوٹا پن پایا جاتا ہے ۔

أبي هريرة أن رجلا أراد أن يتزوج أمرأة من نساء الأنصار ← أَبِي حَازِمٍ ← يزيدُ بنُ كيسانَ اليَشكريُّ: ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← محمد بن النعمان السقطي

Hadith 4195

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 3 باب الرجل يريد تزوج المرأة هل يحل له النظر إليها أم لا ) · حديث 4196

3962 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا عبد الرحمن بن مهدي قال ثنا سفيان بن عاصم الأحول عن بكر بن عبد الله المزني أن المغيرة بن شعبة أراد أن يتزوج امرأة فقال له النبي صلى الله عليه و سلم أنظر إليها فإنه أحرى أن يؤدم بينكما

بکر بن عبداللہ مزنی بیان کرتے ہیں کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ایک عورت سے نکاح کا ارادہ کیا تو جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اسے دیکھ لو یہ دائمی تعلق کے لیے زیادہ مناسب ہے ۔

سفيان بن عاصم الأحول ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Hadith 4196

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 3 باب الرجل يريد تزوج المرأة هل يحل له النظر إليها أم لا ) · حديث 4197

3963 - حدثنا محمد بن عمرو بن يونس قال ثنا أبو معاوية عن عاصم عن بكر بن عبد الله عن المغيرة بن شعبة قال خطبت امرأة فقال لي النبي صلى الله عليه و سلم هل نظرت إليها فقلت لا فقال فانظر إليها فإنه أحرى أن يؤدم بينكما قال أبو جعفر ففي هذه الآثار إباحة النظر إلى وجه المرأة لمن أراد نكاحها فذهب إلى ذلك قوم وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لا يجوز ذلك لمن أراد نكاح المرأة ولا لغير من أراد نكاحها إلا أن يكون زوجا لها أو ذا رحم محرم منها واحتجوا في ذلك بما

بکر بن عبداللہ نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے میں نے ایک عورت کو پیغام نکاح بھیجا تو جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم نے اسے دیکھ لیا ہے میں نے نفی میں جواب دیا تو آپ نے فرمایا اس کو دیکھ لو یہ تمہارے مابین دائمی موافقت کے لیے زیادہ مناسب ہے ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جو آدمی کسی عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہو وہ اس کے چہرے کو دیکھ سکتا ہے یہ مذکورہ بالا آثار انہی کی دلیل ہیں ۔ دوسرے فریق نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ عورت کے چہرہ وغیرہ کا نکاح کا ارادہ ہو یا نہ ہو کسی صورت دیکھنا جائز نہیں بس خاوند اور ذی رحم محرم کو اس کے مقامات زینت کا دیکھنا درست ہے فریق ثانی نے ان روایات سے استدلال کیا ہے ۔

فَانْظُرْ إلَيْهَا فَإِنَّهُ أَحْرَى أَنْ يُؤْدَمَ بَيْنَكُمَا. ← لي النبي صلى الله عليه و سلم هل نظرت إليها فقلت لا ← خطبت امرأة ← الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← عَاصِمٍ، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← محمد بن عمرو بن يونس

Hadith 4197

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 3 باب الرجل يريد تزوج المرأة هل يحل له النظر إليها أم لا ) · حديث 4198

3964 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا عفان بن مسلم قال ثنا حماد بن سلمة عن محمد بن إسحاق عن محمد بن إبراهيم عن سلمة بن أبي طفيل عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه و سلم قال له يا علي إن لك كنزا في الجنة وإنك ذو قرنيها فلا تتبع النظرة النظرة فإنما لك الأولى وليست لك الأخرى

سلمہ بن ابی طفیل نے حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے مجھے فرمایا اے علی ! جنت میں تمہارے لیے ایک خزانہ ہے اور تم اس کے دونوں کناروں کے مالک ہو۔ تم ایک نظر کے بعد دوسری نظر مت ڈالو۔ بیشک تمہارے لیے پہلی بار ( اچانک دیکھنے سے جو پڑ جائے دیکھنا مقصود نہ ہو جائز ہے ) ہے اور دوسری بار تمہارے لیے ( جائز و درست ) نہیں ۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← سَلَمَةَ بْنِ أَبِي طُفَيْلٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Hadith 4198

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 3 باب الرجل يريد تزوج المرأة هل يحل له النظر إليها أم لا ) · حديث 4199

3965 - حدثنا أبو العوام محمد بن عبد الله بن عبد الجبار المرادي قال ثنا يحيى بن حسان قال ثنا وهيب بن خالد وأبو شهاب عن يونس بن عبيد عن عمرو بن سعيد عن أبي زرعة بن عمرو بن جرير عن جرير قال سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم وعلى آله وسلم عن نظرة الفجأة قال اصرف بصرك

ابو زرعہ بن عمر و بن جریر سے نقل کیا کہ میں نے جناب رسول اللہ ﷺ نے اچانک پڑ جانے والی نگاہ کے متعلق سوال کیا تو فرمایا اپنی نظر پھیر لو ( دوسری بار مت دیکھو ) ۔

اصرف بصرك ← نظْرِة الفجْأةِ؟ ← سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم وعلى آله وسلم ← جَرِيرٌ ← اَبِیْ زُرْعَۃَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِیْرٍ، ← عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← وهيب بن خالد وأبو شهاب ← يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ ← أبو العوام محمد بن عبد الله بن عبد الجبار المرادي

Hadith 4199

chevron_left Previous
1…456…20
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter