Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 2 باب النكاح بغير ولي عصبة ) · حديث 4176

3947 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عامر قال ثنا سفيان الثوري عن أبي إسحاق عن أبي بردة عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله فصار أصل هذا الحديث عن أبي بردة عن النبي صلى الله عليه و سلم وعلى آله وسلم برواية شعبة وسفيان وكل واحد منهما عندهم حجة على إسرائيل فكيف إذا اجتمعا جميعا فإن قالوا فإن أبا عوانة قد رواه مرفوعا كما رواه إسرائيل وذكروا في ذلك ما حدثنا فهد قال ثنا أبو غسان قال ثنا إسرائيل وأبو عوانة ح

سفیان ثوری نے ابو اسحاق سے انہوں نے ابو بردہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے تو اصل کے لحاظ سے یہ روایت حضرت ابو بردہ رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے جناب نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے جس کو شعبہ و سفیان نے اپنی سند سے روایت کیا ہے ۔ ہر دو راوی اکیلے اکیلے بھی اسرائیل کے خلاف حجت ہیں تو جب دونوں جمع ہوں تو پھر ان کی روایت اسرائیل کے خلاف حجت کیوں نہ ہو گی۔

أَبِي بُرْدَةَ، ← أَبِي بُرْدَةَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← أَبُو عَامِرٍ ← بن مرزوق

Hadith 4176

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 2 باب النكاح بغير ولي عصبة ) · حديث 4177

3948 - وحدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا سعيد بن منصور قال ثنا أبو عوانة ح

فہد نے ابوغسان سے انہوں نے ابوعوانہ سے بسند دیگر ۔ صالح بن عبدالرحمن نے سعید بن منصور سے انہوں نے ابوعوانہ سے ۔

أَبُو عَوَانَةَ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← وحدثنا صالح بن عبد الرحمن

Hadith 4177

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 2 باب النكاح بغير ولي عصبة ) · حديث 4178

وحدثنا أحمد بن داود قال ثنا أبو الوليد قال ثنا أبو عوانة عن أبي إسحاق عن أبي بردة عن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه و سلم قال لا نكاح إلا بولي قيل لهم قد روي عن أبي عوانة هذا كما ذكرتم ولكنا نظرنا في أصل ذلك فإذا هو عن أبي عوانة عن إسرائيل عن أبي إسحاق فرجع حديث أبي عوانة أيضا إلى حديث إسرائيل

ابو الولید نے ابو عوانہ سے انہوں نے ابو اسحاق سے انہوں نے ابو بردہ سے انہوں نے ابو موسیٰ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے نقل کیا ہے کہ ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں ن ہوتا۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اس روایت کو ابوعوانہ نے نقل کیا ہے مگر جب سند پر نگاہ ڈالی تو ابوعوانہ نے بھی اسرائیل سے ہی روایت کی ہے پس دوبارہ لوٹ کر معاملہ تو اسرائیل پر چلا گیا۔

أبي إسحاق فرجع حديث أبي عوانة أيضا إلى حديث إسرائيل ← اِسْرَائِیْلُ ← أَبِي عَوَانَةَ، ← أبي عوانة هذا كما ذكرتم ولكنا نظرنا في أصل ذلك فإذا هو ← لا نكاح إلا بولي قيل لهم قد روي ← النبي صلى الله عليه و سلم ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← وحدثنا أحمد بن داود

Hadith 4178

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 2 باب النكاح بغير ولي عصبة ) · حديث 4179

3949 - حدثنا بذلك أبو أمية قال ثنا المعلى بن منصور الرازي قال ثنا أبو عوانة عن إسرائيل عن أبي إسحاق فذكر بإسناده مثله فانتفى بذلك أن يكون عند أبي عوانة في هذا عن أبي إسحاق شيء فإن قالوا فإنه قد رواه قيس بن الربيع عن أبي إسحاق أيضا كما رواه إسرائيل وذكروا في ذلك ما

معلیٰ بن منصور رازی نے ابوعوانہ سے انہوں نے اسرائیل عن ابی اسحاق سے انہوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔ اب اس بات کی تو نفی ہو گئی کہ ابو عوانہ کے پاس ابو اسحاق کی طرف سے کسی اور سند سے کوئی چیز پہنچی ہو۔ اسرائیل نے فقط ابو اسحاق سے یہ روایت نقل نہیں کہ بلکہ قیس بن ربیع نے بھی بالکل روایت اسرائیل کی طرح نقل کی ہے ۔

فإنه قد رواه قيس بن الربيع ← أبي إسحاق شيء فإن ← بإسناده مثله فانتفى بذلك أن يكون عند أبي عوانة في هذا ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← المعلى بن منصور الرازي ← بذلك أبو أمية

Hadith 4179

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 2 باب النكاح بغير ولي عصبة ) · حديث 4180

3950 - حدثنا فهد قال ثنا محمد بن الصلت الكوفي ح

فہد نے محمد بن صلت کوفی سے ۔ ابوالولید نے قیس بن ربیع سے انہوں نے ابو اسحاق سے انہوں نے ابو بردہ عن ابی موسیٰ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا لا نکاح الا بولی اجازت ولی کے بغیر نکاح نہیں ۔ یہ بات شک سے بالا تر ہے کہ اس روایت کو قیس نے اسی طرح روایت کیا ہے جس طرح تم نے اس کو نقل کیا ہے مگر قیس سے اسرائیل کی توثیق تو کیا ہوتی وہ تو مرتبہ میں اسرائیل سے بھی کم درجہ ہے جب اسرائیل خود سفیان و شعبہ کے مقابل نہیں تو جو ان سے کم تر ہے وہ ان کا مقابل کیونکر ہوگا۔ اس روایت کو سفیان کے بعض شاگردوں نے اس طرح بیان مرفوع کیا ہے جس طرح کہ اسرائیل اور قیس رحمہما اللہ نے بیان کیا ہے جیسا کہ اس روایت میں موجود ہے ۔ یہ بات شک سے بالا تر ہے ہ اس روایت کو قیس نے اسی طرح روایت کیا ہے جس طرح تم نے اس کو نقل کیا ہے مگر قیس سے اسرائیل کی توثیق تو کیا ہوتی وہ تو مرتبہ میں اسرائیل سے بھی کم درجہ ہے جب اسرائیل خود سفیان و شعبہ کے مقابل نہیں تو جو ان سے کم تر ہے وہ ان کے مقابل کیونکر ہو گا۔ اس روایت کو سفیان کے بعض شاگردوں نے اس طرح مرفوع بیان کیا ہے جس طرح کہ اسرائیل اور قیس رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا ہے اور وہ روایت درج ذیل ہے ۔

مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ الْكُوفِيُّ ← فهد

Hadith 4180

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 2 باب النكاح بغير ولي عصبة ) · حديث 4181

وحدثنا أحمد بن داود ثنا أبو الوليد قالا ثنا قيس بن الربيع عن أبي إسحاق عن أبي بردة عن أبي موسى أن النبي صلى الله عليه و سلم قال لا نكاح إلا بولي قيل لهم صدقتم قد رواه قيس كما ذكرتم وقيس عندهم دون إسرائيل فإذا انتفى أن يكون إسرائيل مضادا لسفيان ولشعبة كان قيس أحرى أن لا يكون مضادا لهما فإن قالوا فإن بعض أصحاب سفيان قد رواه عن سفيان مرفوعا كما رواه إسرائيل وقيس وذكروا في ذلك ما

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← وحدثنا أحمد بن داود

Hadith 4181

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 2 باب النكاح بغير ولي عصبة ) · حديث 4182

3951 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا أبو كامل قال ثنا بشر بن منصور عن سفيان عن أبي إسحاق عن أبي بردة عن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال لا نكاح إلا بولي قيل لهم قد صدقتم قد روي هذا بشر بن منصور عن سفيان كما ذكرتم ولكنكم لا ترضون من خصمكم بمثل هذا إن احتجوا عليه بما رواه أصحاب سفيان أو أكثرهم عنه على معنى ويحتج هو عليكم بما رواه بشر بن منصور عن سفيان بما يخالف ذلك المعنى وتعدون المحتج عليكم بمثل هذا جاهلا بالحديث فكيف تسوغون أنفسكم على مخالفكم مالا يسوغونه عليكم إن هذا لجور بين وما كلامي في هذا إرادة مني الإزراء على أحد ممن ذكرت ولا أعد مثل هذا طعنا ولكني أردت بيان ظلم هذا المحتج وإلزامه من حجة نفسه ما ذكرت ولكني أقول إنه لو ثبت عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال لا نكاح إلا بولي لم يكن فيه حجة لما قال الذين احتجوا به لقولهم في هذا الباب لأنه قد يحتمل معاني فيحتمل ما قال هذا المخالف لنا إن ذلك الولي هو أقرب العصبة إلى المرأة ويحتمل أن يكون ذلك الولي من تولية المرأة من الرجال قريبا كان منها أو بعيدا وهذا المذهب يصح به قول من يقول لا يجوز للمرأة أن تتولى عقد نكاح نفسها وإن أمرها وليها بذلك ولا عقد نكاح غيرها ولا يجوز أن يتولى ذلك إلا الرجال وقد روى عن عائشة رضي الله عنها مثل ذلك

بشر بن منصور نے سفیان سے انہوں نے ابواسحاق سے انہوں نے ابو بردہ سے انہوں نے ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ اور انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اس طرح روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔ ان کے جواب میں کہا جائیگا کہ تم نے بالکل درست کہا کہ بشر بن منصور نے سفیان سے اسی طرح روایت نقل کی ہے جس طرح تم نے بیان کیا مگرفریق ثانی کی طرف سے اگر سفیان کے اکثر شاگردوں نے ایک روایت بیان کی ہو اور بشر بن منصور جیسا راوی دوسرے شاگردوں کے خلاف روایت کررہا ہوتو تم فریق ثانی کی بشر بن منصور والی روایت کو کبھی قبول کرنے کے لئے تیار نہ ہو گے بلکہ اسی روایت بیان کرنے والے کو حدیث سے جاہل و ناواقف قرار دو گے تو جو چیز اپنے حق میں قبول نہیں کرتے دوسروں کے حق میں وہ کیوں استعمال کرتے ہو کیا ظلم نہیں اور کھلی زیادتی نہیں۔ میرے اس کلام سے ہرگز یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ میں (نعوذ باللہ ) ان روات پر الزام لگا رہا ہوں اور اس قسم کی بات کو میں طعن شمار بھی نہیں کرتا بلکہ اس سے مقصود یہ ظاہر کرنا ہے کہ فریق اول نے جو کچھ کہا ہے یہ اسی کے اپنے بیان کا لازمہ ہے۔ میں عرض کرتا ہوں کہ اگر جناب نبی اکرم ﷺ سے یہ روایت ثابت ہوجائے کہ دلی کے بغیر نکاح درست نہیں تو پھر بھی فریق اول کے لئے استدلال کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ اس کے معنی میں کئی احتمالات ہیں: نمبر 1:ولی سے قریب ترین عصبہ مراد ہے جیسا کہ تم نے مرادلیاہے۔ نمبر 2:ولی سے عورت کا مرد رشتہ دارمراد ہو خواہ وہ قریبی رشتہ دار ہو یا نہ ہو اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے اس آدمی کا قول درست ہے جس کے ہاں عورت اپنا نکاح نہیں کر سکتی اگرچہ ولی اسے اس بات کی اجازت بھی دے اور نہ ہی وہ کسی دوسرے کا نکاح کر سکتی ہے کیونکہ ولایت نکاح صرف مردوں کو حاصل ہوتی ہے اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے اس سلسلہ میں روایت ہے ۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← بِشْرُ بْنُ مَنْصُورٍ ← أَبُو کَامِلٍ ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Hadith 4182

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 2 باب النكاح بغير ولي عصبة ) · حديث 4183

3952 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا يوسف بن عدي قال ثنا عبد الله بن إدريس عن بن جريج عن عبد الرحمن بن القاسم عن أبيه عن عائشة رضي الله عنها أنها أنكحت رجلا من بني أخيها جارية من بني أخيها فضربت بينهما بستر ثم تكلمت حتى إذا لم يبق إلا النكاح أمرت رجلا فأنكح ثم قالت ليس إلى النساء النكاح ويحتمل أيضا قوله لا نكاح إلا بولي أن يكون الولي هو الذي إليه ولاية البضع من والد الصغيرة أو مولى الأمة أو بالغة حرة لنفسها فيكون ذلك على أنه ليس لأحد أن يعقد نكاحا على بضع الأولى ذلك البضع وهذا جائز في اللغة قال الله تعالى فليملل وليه بالعدل فقال قوم ولي الحق هو الذي له الحق فإذا كان من له الحق يسمى وليا كان من له البضع أيضا يسمى وليا له فلما أحتمل ما روينا عن رسول الله صلى الله عليه و سلم من قوله لا نكاح إلا بولي هذه التأويلات انتفى أن يصرف إلى بعضها دون بعض إلا بدلالة تدل على ذلك إما من كتاب وإما من سنة وإما من إجماع واحتج الذين قالوا لا نكاح إلا بولي لقولهم أيضا بما

عبدالرحمن بن قاسم نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے اس طرح روایت کی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے اپنے کسی بھتیجے اور بھتیجی کا با ہم نکاح کیا تو انہوں نے ان دونوں کے درمیان پردہ ڈال کر گفتگو کی یہاں تک کہ جب نکاح کے سوا کوئی بات باقی نہ رہی تو ایک مرد کو حکم دیا چنانچہ اس نے نکاح کر دیا پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا عورتوں کو نکاح کر کے دینے کا کوئی اختیار نہیں۔ سے مراد وہ ہے جس کو ولایت بضع حاصل ہوتی ہے۔ مثلا چھوٹی بچی کے لئے والد یا لونڈی کے لئے اس کا مالک یا بالغہ حرہ بذات خود ۔ پس اس احتمال کے مطابق مطلب یہ ہوا کہ بضع کا عقد نکاح صرف وہی کرسکتا ہے جس کو بضع کی ولایت حاصل ہوگی اور لغوی اعتبار سے ولایت کا یہ معنی درست ہے اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے فلیملل وليہ بالعدل پس چاہئے کہ اس کا ولی انصاف سے لکھوائے۔ ایک جماعت کا قول یہ ہے کہ ولی اس کو کہا جاتا ہے جو صاحب حق ہواب اس اطلاق کے مطابق جب صاحب کو بھی ولی کہا جاسکتا ہے تو جس کو ولایت بضعہ حاصل ہو اس کو تو بدرجہ اولیٰ ولی کہا جائے گا۔ حاصل کلام یہ ہے کہ جب لا نكاح الأبولی میں ولی کا لفظ ان تمام معانی کا احتمال رکھتا ہے تو کسی ایک معنی کو ترک کر کے دوسرا معنی اس وقت تک نہیں لے سکتے جب تک قرآن مجید سنت و اجماع سے اس پر دلیل نہ پائی جاتی ہو۔ جو حضرات نکاح کو ولی کے بغیر جائز قرارنہیں دیتے ان کی دلیل اس روایت سے بھی ہے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← بن جُرَيْجٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Hadith 4183

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 2 باب النكاح بغير ولي عصبة ) · حديث 4184

3953 - حدثنا فهد ثنا محمد بن سعيد قال أخبرنا نا شريك ح

محمد بن سعید نے شریک سے نقل کی ۔

شَرِيکٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ ← فهد

Hadith 4184

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 2 باب النكاح بغير ولي عصبة ) · حديث 4185

وحدثنا فهد قال ثنا الحماني قال ثنا شريك عن سماك بن حرب عن بن أخي معقل عن معقل بن يسار أن أخته كانت تحت رجل فطلقها ثم أراد أن يراجعها فأبى عليه معقل فنزلت هذه الآية فلا تعضلوهن أن ينكحن أزواجهن إذا تراضوا بينهم بالمعروف قالوا فلما أمر الله تعالى وليها بترك عضلها دل ذلك أن إليه عقد نكاحها وكان ذلك عندنا قد يحتمل ما قالوا ويحتمل غير ذلك يحتمل أن يكون عضل معقل كان تزهيده لأخته في المراجعة فتقف عند ذلك فأمر بترك ذلك فلما لم يكن في هذه الآثار دليل على ما ذهب إليه أهل المقالة الأولى نظرنا فيما سواها هل نجد فيه شيئا يدل على الحكم في هذا الباب كيف هو فإذا يونس قد

حمانی نے شریک سے معقل کے بھتیجہ نے معقل بن یسار سے روایت نقل کی ہے کہ ان کی بہن ایک شخص کے نکاح میں تھیں اس نے اس کو طلاق دی ( پھر عدت کے اندر ) رجوع کا ارادہ کیا معقل نے انکار کر دیا تو یہ آیت نازل ہوئی ۔ " فلا تعضلو ھن ان ینکحن ازواجھن اذا تراضوا بینھم بالمعروف " اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ولی کو حکم فرمایا کہ وہ ان عورتوں کو نکاح سے نہ روکیں تو اس سے یہ بات خود ثابت ہو گئی کہ دوسرا عقد کا ولی وہی ہے جس نے پہلا نکاح کر کے دیا۔ اس آیت میں دو احتمال ہیں ۔ نمبر 1 : وہی احتمال ہے جس کا تذکرہ فریق اول نے کیا ہے ۔ نمبر 2: دوسرا احتمال یہ ہے کہ معقل کا روکنا اس بات سے تھا کہ انہوں نے اس کے رجوع کرنے سے بے رغبتی اختیار کی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوا کہ وہ اس بے توجہی کو چھوڑ دیں بلکہ اس میں دلچسپی لے کر اس کا نکاح کر دیں۔

بن أخي معقل ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← شَرِيکٍ ← الحماني ← فهد

Hadith 4185

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 2 باب النكاح بغير ولي عصبة ) · حديث 4186

3954 - حدثنا قال أخبرنا بن وهب أن مالكا حدثه عن عبد الله بن الفضل عن نافع بن جبير بن مطعم عن بن عباس رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال الأيم أحق بنفسها من وليها والبكر تستأذن في نفسها وإذنها صماتها

نافع بن جبیر بن مطعم نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیوہ اپنے نفس کی ولی سے زیادہ حقدار ہے اور باکرہ عورت سے اس کے نفس کے متعلق اجازت لی جائے گی اور اس کی اجازت خاموشی ہے ۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، ← بن وهب أن مالكا

Hadith 4186

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 2 باب النكاح بغير ولي عصبة ) · حديث 4187

3955 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا القعنبي قال ثنا مالك فذكر بإسناده مثله

قعنبی نے مالک سے پھر انہوں نے اپنی سند سے روایت بیان کی ہے ۔

مالك فذكر بإسناده مثله ← الْقَعْنَبِيُّ ← بن مرزوق

Hadith 4187

chevron_left Previous
12345…20
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter