شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 12 باب انتهاب ما ينثر على القوم مما يفعله الناس في النكاح ) · حديث 4368
4118 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا يحيى بن سعيد القطان عن أشعث عن الحسن قال لا بأس بانتهاب الجوز وقال محمد بن سيرين يضعون في أيديهم وما فيه الإباحة من هذه الآثار عندنا أوجه في النظر مما فيه الكراهية منها وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد بن الحسن رحمة الله عليهم
اشعت نے حسن رحمتہ اللہ علیہ سے نقل کیا کہ اخروٹ کی لوٹ میں کوئی حرج نہیں ابن سیرین کہتے ہیں وہ لوٹ کی چیز ان کے ہاتھوں میں رکھ دیں گے ۔ ہمارے ہاں جن آثار سے اباحت ثابت ہوتی ہے وہ زیادہ بہتر ہیں ان آثار سے جن سے کراہت و حرمت ثابت ہوتی ہے یہی امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد بن حسن رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے ۔
لا بأس بانتهاب الجوز ← الْحَسَنِ، ← أَشْعَثَ، ← يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،
Hadith 4368
