Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 11 باب وطء الحبالى ) · حديث 4344

4094 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا سعيد بن أبي مريم قال أخبرني يحيى بن أيوب قال حدثني أبو الأسود محمد بن عبد الرحمن بن نوفل قال ثنا عروة بن الزبير عن عائشة زوج النبي صلى الله عليه و سلم عن جدامة بنت وهب الأسدية عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه هم أن ينهى عن الغيل قال فنظرت فإذا فارس والروم يغيلون فلا يضر ذلك أولادهم

عروہ بن زبیر نے عائشہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جدامہ بنت وہب اسدیہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے نقل کیا کہ آپ ﷺ نے ارادہ کیا حاملہ عورت جس کا بچہ دودھ پیتا ہو اس کے ساتھ جماع سے منع کر دیا جائے آپ فرماتے ہیں کہ پھر میں نے دیکھا کہ فارس و روم حاملہ عورتوں سے جماع کرتے ہیں ۔ پس یہ چیز ان کی اولاد کو نقصان دہ نہیں ( تو مسلمانوں کی اولاد کو کیوں کر نقصان دہ ہو گی ) ۔

فنظرت فإذا فارس والروم يغيلون فلا يضر ذلك أولادهم ← الغيل ← النبي صلى الله عليه و سلم أنه هم أن ينهى ← جُدَامَةَ بِنْتِ وَهْبٍ الْأَسَدِيَّةِ ← عائشة زوج النبي صلى الله عليه و سلم ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← أبو الأسود محمد بن عبد الرحمن بن نوفل ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← بن أبي داود

Hadith 4344

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 11 باب وطء الحبالى ) · حديث 4345

4095 - حدثنا إبراهيم بن محمد بن يونس وصالح بن عبد الرحمن قالا ثنا المقرئ يعني أبا عبد الرحمن قال ثنا سعيد بن أبي أيوب عن أبي الأسود عن عروة عن عائشة أنها قالت حدثتني جدامة فذكر نحوه

عروہ نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا وہ فرماتی ہیں کہ مجھے جدامہ اسدیہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا پھر اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

حدثتني جدامة فذكر نحوه ← عَائِشَةَ أَنَّهَا ← عُرْوَةَ ← أَبِي الْأَسْوَدِ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← المقرئ يعني أبا عبد الرحمن ← إبراهيم بن محمد بن يونس وصالح بن عبد الرحمن

Hadith 4345

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 11 باب وطء الحبالى ) · حديث 4346

4096 - حدثنا ربيع الجيزي قال ثنا أبو زرعة قال أخبرنا حيوة عن أبي الأسود أنه سمع عروة يحدث عن عائشة رضي الله عنها عن جدامة رضي الله عنها عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله ففي هذا الحديث أن النبي صلى الله عليه و سلم هم بالنهي عن ذلك حتى بلغه أو حتى ذكر أن فارس والروم يفعلونه فلا يضر أولادهم ففي ذلك إباحة ما قد حظره الحديث الأول وأحتمل أن يكون أحد الأمرين ناسخا للآخر فنظرنا في ذلك فإذا

عروہ نے عائشہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جدامہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔ اس روایت میں جناب رسول اللہ ﷺ نے حالت حمل میں جماع منع کرنے کا ارادہ فرمایا یہاں تک کہ آپ کو یہ بات پہنچی یا آپ نے غور فرمایا فارس و روم ایسی حالت میں جماع کرتے ہیں مگر یہ چیز ان کی اولاد کے لئے باعث ضرر نہیں ( تو ہمیں کیوں باعث ضرر ہو گا) پہلی روایت میں جس چیز سے ڈرایا گیا اس روایت سے اس کی اباحت ثابت ہو رہی ہے اور احتمال پیدا ہو ا کہ دو میں سے ایک چیز دوسری کے لئے ناسخ ہو۔ پس ہم نے غور کیا۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ففي هذا الحديث ← جدامة ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← أَبِي الْأَسْوَدِ، أَنَّهُ ← حَيْوَةُ، ← أَبُو زُرْعَةَ ← ربيع الجيزي

Hadith 4346

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 11 باب وطء الحبالى ) · حديث 4347

4097 - روح بن الفرج قد حدثنا قال ثنا يحيى بن عبد الله بن بكير قال ثنا سفيان بن عيينة عن عمرو بن دينار عن عطاء عن بن عباس أن النبي صلى الله عليه و سلم كان ينهى عن الاغتيال ثم قال لو ضر أحدا لضر فارس والروم فثبت بهذا الحديث الإباحة بعد النهي فهذا أولى من غيره وجاء نهي النبي صلى الله عليه و سلم عن ذلك أنه كان من جهة خوفه الضرر من أجله ثم إباحه لما تحقق عنده أنه لا يضر ودل ذلك أنه لم يكن منع منه في وقت ما منع منه من طريق الوحي ولا من طريق ما يحل ويحرم ولكنه على طريق ما وقع في قلبه صلى الله عليه و سلم منه شيء فأمر به على الشفقة منه على أمته لا غير ذلك كما قد كان أمر في ترك تأبير النخل فإنه قد

عطاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے روایت نقل کی ہے آپ ﷺ حالت حمل میں جماع سے منع فرماتے پھر آپ نے فرمایا اگر اس سے کسی کو نقصان پہنچتا تو فارس و روم کو پہنچتا ۔ اس روایت سے ممانعت کے بعد اباحت ثابت ہوئی یہ دوسری روایت سے اولیٰ ہے آپ کا اس سے روکنا اندیشہ نقصان کے پیش نظر تھا جب آپ کے ہاں عدم نقصان ثابت ہو گیا تو اس کو مباح قرار دیا اور اس سے یہ دلالت میسر آ گئی کہ آپ کا روکنا شفقتہ تھا ۔ وحی الہی سے نہ تھا اور نہ یہ روکنا تحلیل و تحریم کے قبیل سے تھا بلکہ قلب اطہر میں شفقت امت کے پیش نظر بات آئی اور اس سے روک دیا اس کی نظیر تابیر نخل کی ممانعت والا واقعہ ہے ۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← عَطَاءٍ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ، ← روح بن الفرج قد

Hadith 4347

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 11 باب وطء الحبالى ) · حديث 4348

4098 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا أبو عامر قال ثنا إسرائيل قال ثنا سماك عن موسى بن طلحة عن أبيه أنه قال مررت مع النبي صلى الله عليه و سلم في نخل المدينة فإذا أناس في رءوس النخل يلقحون النخل فقال النبي صلى الله عليه و سلم ما يصنع هؤلاء فقيل يأخذون من الذكر فيجعلونه في الأنثى فقال ما أظن ذلك يغني شيئا فبلغهم فتركوه ونزعوا عنها فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه و سلم فقال إنما هو ظن ظننته إن كان يغني شيئا فليصنعوه فإنما أنا بشر مثلكم وإنما هو ظن ظننته والظن يخطئ ويصيب ولكن ما قلت لكم قال الله فلن أكذب على الله

موسیٰ بن طلحہ نے اپنے والد سے نقل کیا کہ وہ فرماتے تھے میرا گزر عبید اللہ کی معیت میں مدینہ منورہ کے باغات نخل میں سے کسی کے پاس سے ہوا۔ لوگ کھجوروں پر چڑھ کر ان کی تابیر کر رہے تھے تو جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ لوگ کیا کر رہے ہیں ؟ آپ سے عرض کیا گیا یہ نر کھجور سے مادہ کی پیوند کاری کر رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا میرے خیال میں تو یہ کچھ بھی فائدہ مند نہیں ہے جب صحابہ کرام کو یہ بات پہنچی تو انہوں نے اس کام کو چھوڑ دیا اور اس سے ہاتھ کھینچ لیا آپ ﷺ کو یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا وہ تو میرا ایک گمان تھا جو میں نے کیا اور گمان درست و نا درست دونوں طرح ہوتا ہے ۔ اگر اس سے کچھ فائدہ ہے تو انہیں کرنا چاہیے ۔ بلاشبہ میں تمہاری طرح ایک انسان ہوں وہ میرا گمان ہے جو میں نے کیا گمان دونوں طرح ہوتا ہے میں نے یہ تو نہیں کہا تھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اس لئے کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف ہر گز جھوٹی نسبت نہیں کر سکتا۔

أَبِيهِ ← مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، ← سِمَاكٍ، ← اِسْرَائِیْلُ ← أَبُو عَامِرٍ ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Hadith 4348

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 11 باب وطء الحبالى ) · حديث 4349

4099 - حدثنا يزيد قال ثنا أحمد بن عبدة قال أخبرنا حفص بن جميع قال ثنا سماك أنه سمع موسى بن طلحة يحدث عن أبيه عن النبي صلى الله عليه و سلم نحوه

موسیٰ بن طلحہ نے اپنے والد سے وہ جناب نبی اکرم رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت کرتے ہیں۔

النبي صلى الله عليه و سلم نحوه ← أَبِيهِ ← مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، ← سماك أنه ← حَفْصُ بْنُ جُمَيْعٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ← يَزِيدُ:

Hadith 4349

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 11 باب وطء الحبالى ) · حديث 4350

4100 - حدثنا يزيد قال ثنا أبو الوليد ويحيى بن حماد قال ثنا أبو عوانة عن سماك بن حرب عن موسى بن طلحة عن أمه عن النبي صلى الله عليه و سلم فحدث مثله

موسیٰ بن طلحہ نے اپنی والدہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے پھر اسی طرح کی روایت بیان کی۔

النبي صلى الله عليه و سلم فحدث مثله ← أُمِّهِ2، ← مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أبو الوليد ويحيى بن حماد ← يَزِيدُ:

Hadith 4350

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 11 باب وطء الحبالى ) · حديث 4351

4101 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود الطيالسي قال ثنا أبو عوانة عن سماك فذكر بإسناده مثله فأخبر رسول الله صلى الله عليه و سلم في هذا الحديث أن ما قاله من جهة الظن فهو فيه كسائر الناس في ظنونهم وأن الذي يقوله مما لا يكون على خلاف ما يقوله هو ما يقوله عن الله عز و جل فلما كان نهيه عن الغيلة لما كان خاف منها على أولاد الحوامل ثم أباحها لما علم أنها لا تضرهم دل ذلك على أن ما كان نهى عنه لم يكن من قبل الله عز و جل وأنه لو كان من قبل الله عز و جل لكان يقف به على حقيقة ذلك ولكنه من قبل ظنه الذي قد وقف بعده على أن ما في الحقيقة مما نهى عما نهي عنه من ذلك من أجله بخلاف ما وقع في قلبه من ذلك فثبت بما ذكرناه أن وطء الرجل أمراته وأمته حاملا حلال لم يحرم عليه قط وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم

ابوعوانہ نے سماک سے روایت نقل کی پھر انہوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت بیان کی ۔ اس روایت میں یہ بتلایا گیا کہ آپ ﷺ جو بات اپنے گمان سے فرمائیں تو اس گمان کا حکم عام لوگوں کے گمان کی طرح ہے اور وہ جو آپ الله تعالی کی طرف نسبت کر کے فرمائیں وہ اسی طرح ہے اس کے الٹ ہو جا نا ممکن نہیں ہے۔ جبکہ حالت حمل میں جماع سے ممانعت کا خیال ان بچوں کے سلسلہ میں شفقت وخوف کی وجہ سے تھا جو حاملہ عورتوں کے پیٹ میں ہوتا ہے پھر جب آپ کو معلوم ہوا کہ اس سے نقصان نہیں ہوتا تو اس کو مباح کردیا۔ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ ممانعت اللہ تعالی کی طرف سے نہ تھی اگر وہ اللہ تعالی کی طرف سے ہوتا تو آپ اس کی حقیقت سے واقف ہوتے بلکہ وہ آپ کا گمان تھا جس کے متعلق پتہ چلا کہ یہ درحقیقت ان امور سے نہیں ہے جس کی بناء پر آپ نے منع فرمایا ہے اور وہ جو خیال آیا تھا وہ اس کے خلاف تھا جو دل میں اتر اتھا۔ پس ثابت ہوا کہ آدی کا اپنی بیوی اور حاملہ لونڈی سے ہی کرنا درست ہے اس کی علت میں کوئی کلام نہیں۔ یہی ہمارے امام ابوحنیفہ ، ابو یوسف ، اور محمد رحمتہ اللہ علیہ کا مسلک ہے۔

Hadith 4351

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 12 باب انتهاب ما ينثر على القوم مما يفعله الناس في النكاح ) · حديث 4352

4102 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا شعيب بن الليث قال ثنا الليث عن يزيد بن أبي حبيب عن أبي الخير عن الصنابحي عن عبادة بن الصامت قال بايعنا رسول الله صلى الله عليه و سلم على أن لا ينتهب

ابو الخیر ضا سجی نے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ہم نے جناب رسول اللہ ﷺ کی اس شرط پر بیعت کی کہ ہم لوٹ مار نہیں کریں گے ۔

بايعنا رسول الله صلى الله عليه و سلم على أن لا ينتهب ← عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← الصُّنَابِحِیّ، ← أَبِي الْخَيْرِ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← اللَّيْثُ ← شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، ← ربيع المؤذن

Hadith 4352

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 12 باب انتهاب ما ينثر على القوم مما يفعله الناس في النكاح ) · حديث 4353

4103 - حدثنا فهد قال ثنا أحمد بن يونس قال ثنا زهير قال ثنا حميد الطويل عن الحسن عن عمران بن حصين قال قال النبي صلى الله عليه و سلم من انتهب فليس منها

حسن نے عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے لوٹ مار کی وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← الْحَسَنِ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← زُهَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← فهد

Hadith 4353

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 12 باب انتهاب ما ينثر على القوم مما يفعله الناس في النكاح ) · حديث 4354

4104 - حدثنا علي بن عبد الرحمن قال ثنا علي بن الجعد قال ثنا أبو جعفر الرازي عن الربيع بن أنس وحميد عن أنس قال إنما نهى النبي صلى الله عليه و سلم عن النهبة وقال من انتهب فليس منا

ابو جعفر رازی نے ربیع بن انس اور حمید نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے لوٹ سے منع فرمایا اور فرمایا جس نے لوٹ مار کی وہ ہم سے نہیں ۔

النُّهْبَةِ وَقَالَ مَنِ انْتَهَبَ فَلَيْسَ مِنَّا. ← إنما نهى النبي صلى الله عليه و سلم ← أَنَسٍ، ← الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ وَحُمَيْدٍ ← أبو جعفر الرازي ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← علي بن عبد الرحمن

Hadith 4354

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 12 باب انتهاب ما ينثر على القوم مما يفعله الناس في النكاح ) · حديث 4355

4105 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عامر عن بن أبي ذئب عن مولى لجهينة عن عبد الرحمن بن زيد بن خالد الجهني عن أبيه أن النبي صلى الله عليه و سلم نهى عن الخليسة والنهبة

عبدالرحمن بن زید بن خالد جہنی نے اپنے والد سے نقل کیا کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے اچکنے اور لوٹ مار کرنے سے منع فرمایا۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ← مَوْلَى لِجُهَيْنَةَ ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← أَبُو عَامِرٍ ← بن مرزوق

Hadith 4355

chevron_left Previous
1…17181920
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter