Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 9 باب الحائض ما يحل لزوجها منها ) · حديث 4296

4054 - حدثنا بن أبي داود قال أخبرنا عمرو بن خالد قال ثنا عبيد الله عن أيوب عن أبي معشر عن إبراهيم عن مسروق عن عائشة مثل ذلك

ابراہیم نے مسروق سے انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

عَائِشَةَ مِثْلُ ذَلِكَ ← مَسْرُوقٍ ← إِبْرَاهِيمَ، ← أَبِي مَعْشَرٍ، ← أَيُّوبَ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4296

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 9 باب الحائض ما يحل لزوجها منها ) · حديث 4297

4055 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا شعيب بن الليث قال ثنا الليث عن بكير عن أبي مرة مولى عقيل عن حكيم بن عقال قال سألت عائشة ما يحرم علي من امرأتي إذا حاضت قالت فرجها فهذا وجه هذا الباب من طريق تصحيح معاني الآثار وأما وجهه من طريق النظر فإنا رأينا المرأة قبل أن تحيض لزوجها أن يجامعها في فرجها وله منها ما فوق الإزار وما تحت الإزار أيضا ثم إذا حاضت حرم عليه الجماع في فرجها وحل له منها ما فوق الإزار باتفاقهم واختلفوا فيما تحت الإزار على ما ذكرنا فأباحه بعضهم فجعل حكمه حكم ما فوق الإزار ومنع منه بعضهم فجعل حكمه حكم الجماع في الفرج فلما اختلفوا في ذلك وجب النظر لنعلم أي الوجهين هو أشبه به فيحكم له بحكمه [ ص 39 ] فرأينا الجماع في الفرج يوجب الحد والمهر والغسل ورأينا الجماع فيما سوى الفرج لا يوجب من ذلك شيئا ويستوي في ذلك حكم ما فوق الإزار وما تحت الإزار فثبت بما ذكرنا أن حكم ما تحت الإزار أشبه بما فوق الإزار منه بالجماع في الفرج فالنظر على ذلك أن يكون كذلك هو في حكم الحائض فيكون حكمه حكم الجماع فوق الإزار لا حكم الجماع في الفرج وهذا قول محمد بن الحسن رحمة الله عليه وبه نأخذ قال أبو جعفر رضي الله عنه ثم نظرت بعد ذلك في هذا الباب وفي تصحيح الآثار فيه فإذا هي تدل على ما ذهب إليه أبو حنيفة رحمة الله عليه لا على ما ذهب إليه محمد وذلك أنا وجدناها على ثلاثة أنواع فنوع منها ما روي عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه كان يباشر نساءه وهن حيض فوق الإزار فلم يكن في ذلك دليل على منع المحيض من المباشرة تحت الإزار لما قد ذكرناه في موضعه من هذا الباب ونوع آخر منها وهو ما روى عمير مولى عمر عن عمر رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم على ما ذكرناه في موضعه فكان في ذلك دليل على المنع من جماع الحيض تحت الإزار لأن ما فيه من كلام رسول الله صلى الله عليه و سلم وذكره ما فوق الإزار فإنما هو جواب لسؤال عمر رضي الله عنه إياه ما للرجل من امرأته إذا كانت حائضا فقال له ما فوق الإزار فكان ذلك جواب سؤاله لا نقصان فيه ولا تقصير ونوع آخر ما هو ما روى عن أنس رضي الله عنه على ما قد ذكرناه عنه فذلك مبيح لإتيان الحيض دون الفرج وإن كان تحت الإزار فأردنا أن ننظر أي هذين النوعين تأخر عن صاحبه فنجعله ناسخا له فنظرنا في ذلك فإذا حديث أنس فيه إخبار عما كانت اليهود عليه وقد كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يحب موافقة أهل الكتاب فيما لم يؤمر فيه بخلافهم قد روينا ذلك عن بن عباس رضي الله عنهما في كتاب الجنائز وكذلك أمره الله تعالى في قوله أولئك الذين هدى الله فبهديهم اقتده فكان عليه اتباع من تقدمه من الأنبياء حتى يحدث له شريعة تنسخ شريعته فكان الذي نسخ ما كانت اليهود عليه من اجتناب كلام الحائض ومؤاكلتها والاجتماع معها في بيت هو ما هو في حديث أنس رضي الله عنه لا واسطة بينهما ففي حديث أنس رضي الله عنه إباحة جماعه فيما دون الفرج وكان الذي في حديث عمر الإباحة لما فوق الإزار والمنع ما تحت الإزار فاستحال أن يكون ذلك متقدما لحديث أنس رضي الله عنه إذا كان حديث أنس رضي الله عنه هو الناسخ لاجتناب الاجتماع مع الحائض ومؤاكلتها ومشاربتها فثبت أنه متأخر عنه وناسخ لبعض الذي أبيح فيه فثبت بذلك ما ذهب إليه أبو حنيفة رحمة الله عليه من هذا بتصحيح الآثار وانتفى ما ذهب إليه محمد رحمة الله عليه

حکیم بن عقال کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ میرے لئے اپنی بیوی کے جسم میں سے حیض کی حالت میں کیا کچھ حلال نہیں ہے انہوں نے کہا اس کی شرمگاہ۔ پس آثارکے معانی کی درستی کے پیش نظر تو معنی اسی طرح ہوگا۔ حیض سے پہلے خاوند کو اپنی بیوی سے ازار سے پنچے اور اوپر ہر دوطرح مجامعت کا حق حاصل ہے پھر جب حالت حیض پیش آئی تو مجامعت کو شرمگاه تو حرام قرار پائی اور ازار سے اوپر استعال بالاتفاق حلال رہا۔ البتہ از ار کے نیچے شرمگاہ کے علاوہ میں اختلاف ہوا بعض نے اس کو مباح کہا اور ازار سے اوپر والے حکم کی طرح قرار دیا اور بعض نے اس سے منع کر کے اس کو مجامعت شرمگاہ کی طرح قرار دیا اب اختلاف کی صورت میں یہ بات لازم ہو گئی کہ ہم غور وفکر سے کام لیں تا کہ ان میں زیادہ مشابہت والی جانب متعین ہو کر اسی پر اس کا حکم لگ سکے۔ چنانچہ غور سے معلوم ہوا کہ شرمگاہ میں جماع سے حد 'مہر ' غسل لازم ہو جاتے ہیں اور شرمگاہ کے علاوہ جماع کی صورت میں ان میں سے کوئی چیز لازم نہیں آتی اس سلسلے میں چادر اور اس کے نیچے کا حکم برابر ہے تو جو ہم نے ذکر کیا اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ چادر کے نیچے کا حکم جماع في الفرج کی بنسبت چادر کے اوپر والے حکم کے ساتھ زیادہ مشابہت رکھتا ہے تو اس سے نظر وقیاس کا تقاضا یہ ہوا کہ حائضہ کے سلسلہ میں بھی حکم اسی طرح ہو فلهذا اس کا حکم چادر کے اوپر جماع کے حکم جیسا ہوگا شرمگاہ میں جماع کے حکم جیسا نہیں ہوگا۔ امام محمد کا قول اور ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ کی کا اپنار جحان بھی اس طرح معلوم ہوتا ہے۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس سلسلہ میں بار دیگر غور کیا تو روایات کی تصحیح کا یہ تقاضا پایا کہ وہ امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کے مسلک کی تائید کرتی ہیں امام محمد رحمتہ اللہ علیہ کے قول کے مؤید نہیں ہیں۔ اس سلسلہ کی روایات تین اقسام پر مشتمل ہیں قسم اول: وہ روایات ہیں جن میں آپ ﷺ کے متعلق مذکور ہے کہ آپ اپنی ازواج کے ساتھ لیٹ جاتے جب کہ انہوں نے ازار باندھی ہوتی۔ مگر اس قسم کی روایات میں چادر کے نیچے شرمگاہ میں مباشرت کے علاوہ پر ان میں کوئی دلیل نہیں پائی جاتی۔ جیسا کہ پہلے ہم ذکر کر آئے ہیں ۔ قسم دوم: دوسری قسم کی روایات میں مثلا عمیر رضی اللہ عنہ جو عمر رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے روایت کی ہے جیسا کہ ہم ان کو پیچھے نقل کر آئے ان میں حائضہ عورت سے چادر کے نے جماع سے منع کیا گیا ہے کیونکہ ان میں جناب رسول الاصلى الله عليہ وسلم کا ارشاد چادر سے اوپر والے حصہ سے متعلق ہے اور وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ایک سوال کا جواب ہے ان کا سوال یہ تھا کہ اگر عورت حائضہ ہوتو اس کا خاوند اس سے کیا فائدہ اٹھا سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا چادر کے اوپر سے فائدہ حاصل کر سکتا ہے اور اس سوال کا تو بغیر کمی بیشی کے تذکرہ ہے۔ قسم ثالث: ایک قسم روایات کی ہے جو حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے یہ روایت حائضہ عورت سے شرمگاہ میں مجامعت کے علاوہ کو جائز قرار دیتی ہے اگر چہ چادر کے نیچے ہو۔ اب ہم نے دیکھنا یہ ہے کہ ان گزشتہ روایات میں متاخر روایت کون سی ہے تا کہ اسے دوسری روایت کے لئے ناسخ قرار دیا جائے چنانچہ غور کرنے پر معلوم ہوا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت میں یہود کا تذکرہ موجود ہے اور جناب رسول اللہ ﷺ اس قسم کے معاملات میں جب تک وحی سے واضع حکم نہ ہوتا اہل کتاب کی موافقت کو پسند فرماتے تھے یہ بات ہم نے کتاب الجنائز میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت سے لی ہے۔ الله تعالی نے اپنے اس ارشاد میں بھی اس بات کا حکم دیا ہے۔ اولئك الذين هدى الله فبهداهم اقتده (الانعام ۔۹۰) پس آپ ﷺ پر گزشتہ انبیا علیہم السلام کی اتباع لازم تھی جب تک آپ کو شریعت کا وہ حکم نہ ملتا جوان کی شریعت کومنسوخ کرنے والا ہو ۔ تو یہود کا یہ طرزعمل کہ حائضہ سے مکمل پرہیز یعنی کھانے پینے رہنے سہنے سے گریز ہو اور گفتگو بھی نہ ہو۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت کا مضمون یہی ہے۔ تو حضرت انس رضی اللہ عنہ کی اس روایت سے ان کے ساتھ شرمگاہ کے علاوہ جماع ثابت ہوتا ہے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ والی روایت میں چادر سے اوپر کا جواز اور چادر کے نیچے کی ممانعت مذکور ہے پس اگر حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت کو یہود کے حائضہ عورتوں کے ساتھ طرز عمل کا ناسخ قرار دیا جائے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی روایت اس سے مقدم ثابت نہیں ہوسکتی۔ پس اس سے ثابت ہوا کہ یہ بعد کی روایت ہے اور اس بعض حکم کے لئے بھی ناسخ ہے جو حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت میں جائز قرار دیا گیا ہے۔ فلذا روایات کی تطبیق و تصیح سے امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا مذہب ثابت ہوگیا اور امام محمد رحمتہ اللہ علیہ نے جس بات کو اختیار کیا ہے اس کی نفی ہوگئی۔

حَكِيمِ بْنِ عِقَالٍ ← أَبِي مُرَّةَ مَوْلَی عَقِيلٍ ← بُكَيْرٍ، ← اللَّيْثُ ← شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4297

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 10 باب وطء النساء في أدبارهن ) · حديث 4298

4056 - حدثنا أحمد بن داود قال أخبرنا يعقوب بن حميد قال ثنا عبد الله بن نافع عن هشام بن سعد عن زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار عن أبي سعيد أن رجلا أصاب امرأته في دبرها فأنكر الناس ذلك عليه وقالوا أتعزبها فأنزل الله عز و جل نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن وطء المرأة في دبرها جائز واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وتأولوا هذه الآية على إباحة ذلك وخالفهم في ذلك آخرون فكرهوا وطء النساء في أدبارهن ومنعوا من ذلك وتأولوا هذه الآية على غير هذا التأويل

عطاء بن یسار نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نقل کیا ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے غیر فطری حرکت کی تو لوگوں نے اس کو ناپسند کیا اور کہا کہ تو اس کو ایسی عورت بنان چاہتا ہے جس کا خاوند نہ ہو۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ۔ نساؤکم حرث لکم فاتوا حرثکم انی شئتم ( البقرہ 223) امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بعض لوگ اس طرف گئے ہیں کہ عورتوں سے غیر فطری فعل جائز ہے اور انہوں نے اس روایت سے استدلال کیا اور اس آیت کی تاویل کر کے اس کی اباحت کو ثابت کیا مگر علماء نے اس کی مخالفت کی اور اس کو حرام قرار دیا اور اس سے سخت منع کیا اور اس آیت کی تفسیر بھی دوسرے انداز سے کی ۔ جو نیچے مذکور ہے دوسری تفسیر یہ ہے ۔

أبي سعيد أن رجلا أصاب امرأته في دبرها فأنكر الناس ذلك عليه ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ نَافِعٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4298

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 10 باب وطء النساء في أدبارهن ) · حديث 4299

4057 - فحدثنا يونس قال أخبرنا سفيان عن محمد بن المنكدر عن جابر أن اليهود قالوا من أتى امرأته في فرجها من دبرها خرج ولدها أحول فأنزل الله عز و جل نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم

محمد بن منکدر نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ یہود کہا کرتے تھے کہ جو شخص اپنی بیوی کے ساتھ دبر والی جانب سے شرمگاہ میں جماع کرے گا اس سے پیدا ہونے والا بچہ بھینگا پیدا ہو گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ نساؤکم حرث لکم فاتوا حرثکم انی شئتم ( البقرہ 223) کہ تمہاری بیویاں تمہارے لیے بمنزلہ کھیتیاں ہیں پس اپنی کھیتی میں جیسے چاہو جاؤ۔

جابر إن اليهود ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← سُفْيَانَ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4299

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 10 باب وطء النساء في أدبارهن ) · حديث 4300

4058 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال ثنا سفيان الثوري أن محمد بن المنكدر حدثه عن جابر مثله

محمد بن منکدر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت کی ہے ۔

جابر مثله ← سفيان الثوري أن محمد بن المنكدر ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4300

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 10 باب وطء النساء في أدبارهن ) · حديث 4301

4059 - حدثنا محمد بن زكريا أبو شريح قال ثنا الفريابي قال ثنا سفيان الثوري فذكر بإسناده مثله

فریابی نے سفیان ثوری سے انہوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت کی ہے ۔

سفيان الثوري فذكر بإسناده مثله ← الْفِرْيَابِيُّ، ← محمد بن زكريا أبو شريح

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4301

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 10 باب وطء النساء في أدبارهن ) · حديث 4302

4060 - حدثنا محمد بن مرزوق قال ثنا وهب قال ثنا شعبة عن محمد بن المنكدر عن جابر قال قالت اليهود إذا أتى الرجل أهله باركة جاء الولد أحول فذكر ذلك للنبي صلى الله عليه و سلم ثم ذكر مثله قالوا فإنما كان من قول اليهود ما ذكرنا فأنزل الله عز و جل ذلك دفعا لقولهم وإباحة للوطء في الفرج من الدبر ومن القبل جميعا وقد روى آخرون هذا الحديث عن بن المنكدر على ما ذكرنا وزاد فيه إذا كان ذلك في الفرج

محمد بن منکدر نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ یہود کہنے لگے جب کوئی آدمی اپنی بیوی کو اونٹ کی طرح بٹھا کر جماع کرتے تو اولاد بھینگی پیدا ہوتی ہے اس بات کا تذکرہ آپ ﷺ کے سامنے کیا گیا پھر انہوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔ اس روایت کے پیش نظر دوسرے علماء نے کہا کہ یہ آیت یہود کے اس قول کی تردید میں اتری ہے اور اس ایت سے عورت کے ساتھ شرمگاہ میں وطی اگلی یا پچھلی جانب دونوں سے درست ہے ۔ دوسروں نے کہا یہ روایت ابن منکدر نے دیگر سے بھی نقل کی ہے اور اس میں یہ اضافہ بھی موجود ہے " اذا کان ذلک فی الفرج " جبکہ یہ شرمگاہ میں وطی کی جائے ۔ روایات یہ ہیں ۔

جَابِرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوْقٍ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4302

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 10 باب وطء النساء في أدبارهن ) · حديث 4303

4061 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا المقدمي قال ثنا وهب بن جرير قال ثنا أبي قال سمعت النعمان بن راشد يحدث عن الزهري عن محمد بن المنكدر عن جابر بن عبد الله أن يهوديا قال إذا نكح الرجل امرأة مجبية خرج ولدها أحول فأنزل الله عز و جل نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم إن شئتم مجبية وإن شئتم غير مجبية إذا كان ذلك في صمام واحد

محمد بن منکدر نے جابر بن عبداللہ سے نقل کیا کہ ایک یہودی کہنے لگا جب کوئی آدمی اپنی بیوی سے چہرہ کے بل الٹا لٹا کر وطی کرے تو اس سے جو اولاد پیدا ہو گی وہ بھینگی ہو گی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ۔ نساؤکم حرث لکم فاتوا حرثکم انی شئتم ( البقرہ 223) خواہ الٹا لٹا کر کرو، خواہ سیدھا لٹا کر کرو۔ جبکہ مقام حرث یعنی شرمگاہ میں ہو۔

جابر بن عبد الله أن يهوديا ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← الزُّهْرِيِّ، ← النُّعْمَانَ بْنَ رَاشِدٍ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← الْمُقَدَّمِيُّ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4303

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 10 باب وطء النساء في أدبارهن ) · حديث 4304

4062 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني بن جريج أن محمد بن المنكدر حدثه عن جابر بن عبد الله أن اليهود قالوا للمسلمين من أتى امرأته وهي مدبرة جاء ولدها أحول فأنزل الله عز و جل نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم مقبلة ومدبرة ما كان في الفرج ففي توقيف النبي صلى الله عليه و سلم إياهم في ذلك على الفرج إعلام منه إياهم أن الدبر بخلاف ذلك وقد قيل في تأويل هذه الآية أيضا غير هذا التأويل

محمد بن منکدر نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ یہود مسلمانوں کو کہنے لگے جو اپنی بیوی کو الٹا لٹا کر جماع کرے اس کی اولاد بھینگی ہو گی۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت تاری نساؤکم حرث لکم فاتوا حرثکم انی شئتم ( البقرہ 223) پس جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ سیدھا لٹا کے یا الٹا کر بیوی سے جماع درست ہے ۔ ان تمام روایات میں جناب رسول اللہ ﷺ نے جماع کو قبل یعنی فرج سے خاص کیا تاکہ معلوم ہو جائے کہ پائخانہ والی جگہ کا استعمال درست نہیں ۔ اس آیت کی تفسیر میں اور اقاویل بھی پائے جاتے ہیں ۔ جیسا کہ اگلی روایات میں مذکور ہے ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ الْيَهُودَ ← بن جريج أن محمد بن المنكدر ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4304

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 10 باب وطء النساء في أدبارهن ) · حديث 4305

4063 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا مسدد قال ثنا أبو الأحوص قال ثنا أبو إسحاق عن زائدة قال سألت بن عباس عن العزل فقال نساؤكم حرث لكم إن شئت فاعزل وإن شئت فلا تعزل وكان من حجة أهل المقالة ألاولى أيضا لقولهم في ذلك ما قد روي عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما من إباحة ذلك كما

ابو اسحاق نے زائدہ سے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے عزل کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا تمہاری بیویاں کھیت کی ماند ہیں ار چاہو تو عزل کرو اور اگر نہ چاہو تو مت کرو۔ فریق اول نے اپنے مضمون کے ثبوت کے لئے ابن عمر رضی اللہ عنہ کی اس کمزور منقولہ روایت کا سہارا لیا ہے اس سے اس کی اباحت معلوم ہوتی ہے ۔

نساؤكم حرث لكم ← الْعَزْل ← سألت بن عباس ← زَائِدَۃَ، ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← مُسَدَّدٌ ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4305

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 10 باب وطء النساء في أدبارهن ) · حديث 4306

4064 - حدثنا أبو قرة محمد بن حميد بن هشام الرعيني قال ثنا أصبغ بن الفرج وأبو زيد عبد الرحمن بن أبي العمر قالا قال أبو القاسم وحدثني مالك بن أنس قال حدثني ربيعة بن أبي عبد الرحمن عن أبي الحباب سعيد بن يسار أنه سأل بن عمر عنه يعني عن وطء النساء في أدبارهن فقال لا بأس به قال أبو جعفر قد روي هذا عن بن عمر كما ذكرتم وروي عنه خلاف ذلك

ابو الحباب سعید بن یسار نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اپنی بیویوں کے ساتھ وطی دبر کا سوال کیا تو انہوں نے کہا اس میں کوئی حرج نہیں ۔

بن عمر كما ذكرتم وروي عنه خلاف ذلك ← أبو جعفر قد روي هذا ← وطء النساء في أدبارهن فقال لا بأس به ← أبي الحباب سعيد بن يسار أنه سأل بن عمر عنه يعني ← رَبِیْعَۃَ بْنِ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمِنِ ← أبو القاسم وحدثني مالك بن أنس ← أصبغ بن الفرج وأبو زيد عبد الرحمن بن أبي العمر ← أبو قرة محمد بن حميد بن هشام الرعيني

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4306

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 10 باب وطء النساء في أدبارهن ) · حديث 4307

4065 - حدثنا فهد قال ثنا عبد الله بن صالح ح

فہد نے عبداللہ بن صالح سے روایت نقل کی ہے ۔

عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4307

chevron_left Previous
1…131415…20
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter