Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 36 باب دخول الحرم هل يصلح بغير إحرام ) · حديث 4077

3856 - حدثنا محمد بن عبد الله بن ميمون قال ثنا الوليد بن مسلم عن الأوزاعي عن يحيى قال ثنا أبو سلمة قال حدثني أبو هريرة رضي الله عنه قال لما فتح الله عز و جل على رسوله عليه السلام مكة قتلت هذيل رجلا من بني ثقيف بقتيل كان لهم في الجاهلية فقام النبي صلى الله عليه و سلم فقال إن الله عز و جل حبس عن أهل مكة الفيل وسلط عليهم رسوله والمؤمنين وأنها لم تحل لأحد كان قبلي ولا تحل لأحد بعدي وإنما أحلت لي ساعة من نهار وإنها ساعتي هذه حرام لا يعضد شجرها ولا يختلى شوكها ولا يلتقط ساقطها إلا لمنشد

ابوسلمہ نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ جب اللہ تعالی نے اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مکہ کو فتح کر دیا تو بنو ہذیل نے بنوثقیف کے ایک آدمی کوقتل کر دیا اور یہ ایک مقتول کے بدلے میں تھا جس کا واقعہ زمانہ جاہلیت میں پیش آیا تھا۔جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ارشادفرمایا اللہ تعالی نے اہل مکہ سے ہاتھی والوں کو روک دیا اور اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مؤمنوں کو ان پر غلبہ وتسلط عنایت فرمایا۔ یہ مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہیں ہوا اور نہ میرے بعد کسی کے لئے حلال ہوگا میرے لئے دن کی ایک گھڑی حلال ہوا اور بلاشبہ اس گھڑی یہ حرام ہے اس کا درخت نہ کاٹا جائے گا اور نہ اس کا کانٹا توڑاجائے گا اوراس کی گری پڑی چیز کو نہ اٹھایا جائےگامگر اعلان کرنے والے کے لئے۔

أَبُو هُرَيْرَةَ ← أَبُو سَلَمَةَ ← يَحْيَى ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَيْمُونٍ،

Hadith 4077

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 36 باب دخول الحرم هل يصلح بغير إحرام ) · حديث 4078

3857 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا حرب بن شداد عن يحيى بن أبي كثير فذكر بإسناده مثله غير أنه قال إن الله عز و جل حبس عن أهل مكة الفيل قال ولا يلتقط ضالتها إلا لمنشد [ ص 262 ] فأخبر رسول الله صلى الله عليه و سلم في هذه الآثار أن مكة لم تحل لأحد كان قبله ولا تحل لأحد بعده وأنها إنما أحلت له ساعة من نهار ثم عادت حراما كما كانت إلى يوم القيامة فدل ذلك أن النبي صلى الله عليه و سلم كان دخلها يوم دخلها وهي له حلال فكان له بذلك دخولها بغير إحرام وهي بعد حرام فلا يدخلها أحد إلا بإحرام فان قال قائل إن معنى ما أحل للنبي صلى الله عليه و سلم منها هو شهر السلاح فيها للقتال وسفك الدماء لا غير ذلك قيل له هذا محال إن كان الذي أبيح للنبي صلى الله عليه و سلم منها هو ما ذكرت خاصة إذ لم يقل ولا يحل لأحد بعدي وقد رأيناهم أجمعوا أن المشركين لو غلبوا على مكة فمنعوا المسلمين منها حلالا للمسلمين قتالهم وشهر السلاح بها وسفك الدماء وأن حكم من بعد النبي صلى الله عليه و سلم في ذلك في إباحتها في حكم النبي صلى الله عليه و سلم فدل ذلك أن المعنى الذي كان النبي صلى الله عليه و سلم خص به فيها وأحلت له من أجله ليس هو القتال وإذا أنتفي أن يكون هو القتال ثبت أنه الإحرام ألا ترى إلى قول عمر بن سعيد لأبي شريح إن الحرم لا يمنع سافك دم ولا مانع خربة ولا خالع طاعة جوابا لما حدثه به أبو شريح عن النبي صلى الله عليه و سلم فلم ينكر ذلك عليه أبو شريح ولم يقل له إن النبي صلى الله عليه و سلم إنما أراد بما حدثتك عنه أن الحرم قد يجير كل الناس ولكنه عرف ذلك فلم ينكره وهذا عبد الله بن عباس رضي الله عنه فقد روى ذلك عن النبي صلى الله عليه و سلم ثم قال من رأيه لا يدخل أحد الحرم إلا بإحرام وسنذكر ذلك في موضعه إن شاء الله تعالى فدل قوله هذا أن ما روي عن النبي صلى الله عليه و سلم فيما أحلت له ليس هو على إظهار السلاح بها وإنما هو على معنى آخر لأنه لما انتفى هذا القول ولم يكن غيره وغير القول الآخر ثبت القول الآخر ثم احتجنا بعد هذا إلى النظر في حكم من بعد المواقيت إلى مكة هل لهم دخول الحرم بغير إحرام أم لا فرأينا الرجل إذا أراد دخول الحرم لم يدخله إلا بإحرام وسواء أراد دخول الحرم لإحرام أو لحاجة غير الإحرام ورأينا من أراد دخول تلك المواضع التي بين المواقيت وبين الحرم لحاجة أنه له دخولها بغير إحرام فثبت بذلك أن حكم هذه المواضع إذا كانت تدخل للحوائج بغير إحرام كحكم ما قبل المواقيت وأن أهلها لا يدخلون الحرم إلا كما يدخله من كان أهله وراء المواقيت إلى الآفاق فهذا هو النظر عندي في هذا الباب وهو خلاف قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى وذلك أنهم إنما قلدوا فيما ذهبوا إليه من هذا ما

حرب بن شداد نے یحییٰ بن ابی کثیر سے نقل کیا پھر انہوں نے اپنی اسناد سے روایت نقل کی ہے ۔البتہ اس میں ان الفاظ کا فرق ہے۔ ’’ان الله عزوجل حبس عن اهل مكة الفيل‘‘اور یہ بھی فرق ہے۔”ولا یلتقط ضالتها الا لمنشد‘‘ ان روایات میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اطلاع دی ہے کہ آپ سے پہلے اور بعد کسی کے لئے بھی مکہ حلال نہیں ہوا۔ آپ کے لئے بھی دن کی ایک گھڑی حلال ہوا پھر قیامت تک اس کی حرمت واپس لوٹ آئی ۔ تو یہ اس بات پر دلالت ہے کہ جب آپ اس میں داخل ہوئے تو وہ آپ کے لئے حلال تھا اس وجہ سے آپ بلا احرام داخل ہوئے ۔لیکن اس کے بعد وہ حرم ہے کسی کو بلا احرام داخلے کی اجازت نہیں ہے۔اگر کوئی معترض یہ کہے کہ آپ کے لئے حلال ہونے کا تو مطلب یہ ہے کہ اس میں خون ریزی اور ہتھیار نکالا ہے اور کوئی مطلب نہیں ۔اس کے جواب میں کہیں گے ۔ کہ یہ بات ناممکن ہے کیونکہ اگر صرف اسی مقصد کے لئے حلال ہوا ہوتا تو آپ یہ نہ فرماتے کہ میرے بعد کسی کے لئے حلال نہیں اور ہم اس بات کو پاتے ہیں کہ تمام علماءکا اس پرا تفاق ہے کہ اگر مشرکین کا مکہ پر غلبہ ہو جائے اور وہ مسلمانوں و وہاں سے روک دیں تو مسلمانوں سے لڑنا اور ہتھیار نکالنا اور ان کا خون بہانا جائز ہے‘ اس سلسلہ میں تو اس کے جواز کا حکم وہی ہے جو آپ کے لئے تھا۔ پس اس سے یہ دلالت مل گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جو بات خاص تھی اور جب لڑائی کی نفی ہوگئی تو اس کا احرام ہونا خودثابت ہو گیا۔ کیا یہ بات تمہارے سامنے نہیں کہ حضرت عمرو بن سعید نے حضرت ابوشریح رضی اللہ عنہ کو کہا کہ حرم کسی خون ریز تخریب کارکو پناہ نہیں دیتا اور نہ اطاعت سے نکلنے والے کو پناہ دیتا ہے تو حضرت ابوشریح رضی اللہ عنہ نے ان کی بات سے انکار نہیں کیا اور یہ نہیں کہا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مرادوہی ہے جو میں نے بیان کی‘‘ کہ مکہ ہرقسم کے لوگوں کو پناہ دیتا ہے۔ بلکہ انہوں نے اس کو پہچانا اوراس کا انکار نہ کیا۔ یہ ابن عباس رضی اللہ عنہ ہیں جنہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات روایت کی ہے پھراپی رائے واجتہاد سے فرمایا کہ کوئی حرم میں بلا احرام نہ داخل ہو‘ ہم اس بات کو اس کے موقعہ پرلائیں گے ان شاءاللہ تعالی ۔ان کا یہ قول اس بات پر دال ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اس کے حلال ہونے کا مطلب ہتھیاروں کے ظاہر کر نے پر محمول نہیں بلکہ اس سے دوسرا معنی مراد ہے ۔ جب اس قول کی نفی ہوگئی اور دوسرا سبب پایانہیں جاسکتا تو احرام کا ہونا خود ثابت ہوگیا ۔اب ہمارے لئے یہ لازم ہے کہ میقات کے اندر کا علاقہ مکہ تک کیا حکم رکھتا ہے ۔ کیا ان کے احرام کے بغیر حرم میں داخلہ درست ہے یانہیں ہم نے یہ بات پائی کہ جب کوئی حرم میں داخلے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ بلا احرام داخل نہیں ہوتا خواہ وہ حرم میں احرام کا ارادہ رکھتا ہو یا دیگر کوئی عمل کر نا چا ہتا ہو اور یھی ہمارے سامنے ہے کہ جوشخص مواقیت اور حرم کے درمیان والے مقامات میں جانا چا ہے ۔ وہ بلا احرام جا سکتا ہے ۔ اس سے ثابت ہو کہ جب ان مقامات میں ضرورت کے لئے جائےتو بلا احرام جائے گا ۔جیسا کہ مواقیت سے پہلے کا حکم ہے اور وہاں کے رہنے والے حرم میں اسی طرح داخل ہوں جس طرح میقات سے باہر کے آفاقی لوگ داخل ہو تے ہیں ۔اس باب میں امام طحاوی کے نزدیک قیاس یہی ہے اور حضرت امام ابوحنیفہ‘ ابو یوسف ‘محمد رحمہ اللہ کے قول کے خلاف ہے۔ روایات ذیل میں ہیں۔

أهل مكة الفيل ← إن الله عز و جل حبس ← بإسناده مثله غير أنه ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Hadith 4078

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 36 باب دخول الحرم هل يصلح بغير إحرام ) · حديث 4079

3858 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا سعيد بن منصور قال ثنا هشيم قال أنا عبيد الله بن عمر عن نافع عن بن عمر أنه خرج من مكة يريد المدينة فلما بلغ قديدا بلغه عن جيش قدم المدينة فرجع فدخل مكة بغير إحرام

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ وہ مکہ سے مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوئے جب مقام قدید میں پہنچے توان کو اطلاع ملی مد ینہ پرلشکرحملہ آور ہوگیا تو وہ بلا احرام مکہ میں داخل ہوئے۔

جيش قدم المدينة فرجع فدخل مكة بغير إحرام ← بن عمر أنه خرج من مكة يريد المدينة فلما بلغ قديدا بلغه ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← صالح بن عبد الرحمن

Hadith 4079

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 36 باب دخول الحرم هل يصلح بغير إحرام ) · حديث 4080

3859 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد قال ثنا أيوب عن نافع أن بن عمر رضي الله عنهما خرج من مكة وهو يريد المدينة فلما كان قريبا لقيه جيش بن دلجة فرجع فدخل مكة حلالا

نافع نے ابن عمر پﷺ سے روایت کی ہے کہ وہ مکہ سے نکلے اور مدینہ منورہ جار ہے تھے جب وہ مد ینہ منورہ کے قریب پہنچے تو ابن دلجہ کالشکر ملا۔ وہ وہاں سے واپس لوٹے اور مکہ میں بلا احرام داخل ہو گئے ۔

أَيُّوبَ، ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Hadith 4080

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 36 باب دخول الحرم هل يصلح بغير إحرام ) · حديث 4081

3860 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن نافع أن عبد الله بن عمر أقبل من مكة حتى إذا كان بقديد بلغه خبر من المدينة فرجع فدخل مكة حلالا فقلدوا ذلك واتبعوه وكان النظر في ذلك عندنا خلاف ما ذهبوا إليه وقد روي عن غير بن عمر في ذلك ما يخالف هذا

نافع نے روایت کی ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ مکہ سے روانہ ہوئے جب مقام قد ید میں پہنچے تو ان کو اطلاع ملی کہ وہاں فوج کشی ہوگئی ہے تو وہ واپس لوٹے اور مکہ میں بلا احرام داخل ہوئے۔ان ائمہ احناف رحمتہ اللہ نے ان روایات کو اپنایا اوران کی اتباع کی اور نظر وفکر کا تقاضا ہمارے ہاں اس کے خلاف تھا اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے علاوہ دیگر حضرات سے اس کے خلاف روایات موجود ہیں۔ ذیل میں ملاحظہ ہوں ۔

بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Hadith 4081

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 36 باب دخول الحرم هل يصلح بغير إحرام ) · حديث 4082

3861 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا عثمان المؤذن قال ثنا بن جريج قال قال عطاء قال بن عباس رضي الله عنهما لا عمرة على المكي إلا أن يخرج من الحرم فلا يدخله إلا حراما فقيل لابن عباس رضي الله عنهما فإن خرج رجل من مكة قريبا قال نعم يقضي حاجته ويجعل مع قضائها عمرة

عطاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ مکی کے لئے عمرہ جائز نہیں صرف اس صورت میں عمرہ کر سکتا ہے جبکہ وہ حرم سے نکلے اور پھر حرم میں احرام سے داخل ہو۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا اگر ایک آدمی مکہ سے قر یبنی علاقہ میں نکل کر گیا تو تب بھی عمرہ کرسکتا ہے انہوں نے فرمایا جی ہاں وہ اپنی ضرورت بھی پوری کرے اور اپناعمرہ بھی پورا کرے۔

عَطَاءٍ، ← بن جُرَيْجٍ ← عُثْمَانُ الْمُؤَذِّنُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Hadith 4082

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 36 باب دخول الحرم هل يصلح بغير إحرام ) · حديث 4083

3862 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا سليمان بن حرب قال ثنا حماد بن زيد عن علي بن الحكم عن عطاء قال لا يدخل أحد الحرم إلا بإحرام فقيل ولا الحطابون قال ولا الحطابون قال ثم بلغني بعد أنه رخص للحطابين

عطاء کہتے ہیں کہ حرم میں صرف احرام سے داخل ہو۔ ان سے پوچھا گیا کیا لکڑ ہارے بھی؟ فرمایا ہاں لکڑ ہاروں کا بھی یہی حکم ہے۔ کہتے ہیں پھر مجھے یاطلاع ملی کہ انہوں نے لکڑ ہاروں کو رخصت دے دی۔

ثم بلغني بعد أنه رخص للحطابين ← ولا الحطابون ← لا يدخل أحد الحرم إلا بإحرام فقيل ولا الحطابون ← عَطَاءٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← بن أبي داود

Hadith 4083

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 36 باب دخول الحرم هل يصلح بغير إحرام ) · حديث 4084

3863 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا سعيد قال ثنا هشيم قال أنا عبد الملك عن عطاء بن أبي رباح عن بن عباس رضي الله عنهما أنه كان يقول لا يدخل مكة تاجر ولا طالب حاجة إلا وهو محرم

عطاء بن ابی رباح نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ وہ فرماتے تھے مکہ میں آنے والا تاجر یا حاجت مند صرف احرام سے داخل ہو ۔

لا يدخل مكة تاجر ولا طالب حاجة إلا وهو محرم ← بن عباس أنه كان ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← عَبْد الْمَلِكِ؛ ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدٌ، ← صالح بن عبد الرحمن

Hadith 4084

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 36 باب دخول الحرم هل يصلح بغير إحرام ) · حديث 4085

3864 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا سعيد بن منصور قال ثنا هشيم قال أنا يونس عن الحسن أنه كان يقول ذلك

ہشیم نے یونس سے انہوں نے حسن سے روایت کی ہے کہ (حسن )وہ یہ کہا کرتے تھے۔

ذَلِكَ ← الْحَسَنِ أَنَّهُ كَانَ ← يُونُسَ ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← صالح بن عبد الرحمن

Hadith 4085

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 36 باب دخول الحرم هل يصلح بغير إحرام ) · حديث 4086

3865 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد عن قيس عن عطاء عن بن عباس رضي الله عنهما قال لا يدخل أحد مكة إلا محرما

عطاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کوئی شخص مکہ میں بلا احرام داخل نہ ہو۔اگر کوئی شخص یہ بات کہے‘ کیا وہ شخص جومواقیت کے اندر والی جانب مکہ کی طرف ہوہ تمتع کر سکتا ہے۔ تو اس کے جواب میں کہا جائے گا۔ اس کا حکم اس میں مکہ والوں کے خلاف ہے اور یہ بات ائمہ احناف کے قول کے خلاف ہے ۔مگر ہمارے ہاں قیاس اسی بات کا متقاضی ہے ۔ جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ۔ ہمارے نزدیک’’ حاضری المسجد الحرام‘‘ سے صرف خاص مکی لوگ مراد ہیں‘ یہ قول جو ہم نے اختیار کیا ہے اس کو نافع مولیٰ ابن عمر اور عبدالرحمٰن بن ہرمز الاعرج نے اختیار کیا ہے۔

لا يدخل أحد مكة إلا محرما ← بْنِ عَبَّاسٍ ← عَطَاءٍ، ← قَيْسٍ ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Hadith 4086

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 36 باب دخول الحرم هل يصلح بغير إحرام ) · حديث 4087

3866 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عامر العقدي قال ثنا افلح بن حميد عن القاسم بن محمد قال لا يدخل أحد مكة إلا محرما فان قال قائل أفيجوز لمن كان بعد المواقيت إلى مكة أن يتمتع قيل له نعم وهو في ذلك أيضا خلاف أهل مكة وهذا أيضا خلاف قول أصحابنا ولكنه النظر عندنا على ما قد ذكرنا وبينا وحاضروا المسجد الحرام عندنا أهل مكة خاصة وقد قال هذا القول الذي ذهبنا اليه في هذا نافع مولى بن عمر وعبد الرحمن بن هرمز الأعرج

فلح بن حمید نے قاسم بن محمد سے روایت کی کہ وہ فرماتے تھے کوئی شخص مکہ میں بلا احرام داخل نہ ہو

الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← بن مرزوق

Hadith 4087

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 36 باب دخول الحرم هل يصلح بغير إحرام ) · حديث 4088

3867 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني مخرمة بن بكير عن أبيه قال سمعت نافعا مولى بن عمر يسأل عن قول الله عز و جل ذلك لمن لم يكن أهله حاضري المسجد الحرام أجوف مكة أم حولها قال جوف مكة وقال ذلك عبد الرحمن الأعرج

مخر مہ بن بکیر کہتے ہیں کہ میں نے نافع مولیٰ ابن عمر رضی اللہ عنہ کو فرماتے سناجب ان سے’’ذلك لمن لم يكن اهله حاضرى المسجدالحرام‘ (البقره ۱۹۱ )کے متعلق پو چھا گیا کیا مکہ کے اندرون لوگ مراد ہیں یا اطراف مکہ کے لوگ بھی؟ تو انہوں نے فرمایا اندرون مکہ کے لوگ مراد ہیں ۔اور یہ عبدالرحمٰن الاعرج نے بھی بات فرمائی۔

نافعا مولى بن عمر يسأل ← أَبِيهِ ← مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Hadith 4088

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter