شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 36 باب دخول الحرم هل يصلح بغير إحرام ) · حديث 4077
3856 - حدثنا محمد بن عبد الله بن ميمون قال ثنا الوليد بن مسلم عن الأوزاعي عن يحيى قال ثنا أبو سلمة قال حدثني أبو هريرة رضي الله عنه قال لما فتح الله عز و جل على رسوله عليه السلام مكة قتلت هذيل رجلا من بني ثقيف بقتيل كان لهم في الجاهلية فقام النبي صلى الله عليه و سلم فقال إن الله عز و جل حبس عن أهل مكة الفيل وسلط عليهم رسوله والمؤمنين وأنها لم تحل لأحد كان قبلي ولا تحل لأحد بعدي وإنما أحلت لي ساعة من نهار وإنها ساعتي هذه حرام لا يعضد شجرها ولا يختلى شوكها ولا يلتقط ساقطها إلا لمنشد
ابوسلمہ نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ جب اللہ تعالی نے اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مکہ کو فتح کر دیا تو بنو ہذیل نے بنوثقیف کے ایک آدمی کوقتل کر دیا اور یہ ایک مقتول کے بدلے میں تھا جس کا واقعہ زمانہ جاہلیت میں پیش آیا تھا۔جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ارشادفرمایا اللہ تعالی نے اہل مکہ سے ہاتھی والوں کو روک دیا اور اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مؤمنوں کو ان پر غلبہ وتسلط عنایت فرمایا۔ یہ مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہیں ہوا اور نہ میرے بعد کسی کے لئے حلال ہوگا میرے لئے دن کی ایک گھڑی حلال ہوا اور بلاشبہ اس گھڑی یہ حرام ہے اس کا درخت نہ کاٹا جائے گا اور نہ اس کا کانٹا توڑاجائے گا اوراس کی گری پڑی چیز کو نہ اٹھایا جائےگامگر اعلان کرنے والے کے لئے۔
أَبُو هُرَيْرَةَ ← أَبُو سَلَمَةَ ← يَحْيَى ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَيْمُونٍ،
Hadith 4077
