Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 34 باب حكم المحصر بالحج ) · حديث 4042

3825 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا محمد بن عبد الله الأنصاري قال ثنا الحجاج الصواف قال حدثني يحيى بن أبي كثير عن عكرمة عن الحجاج بن عمرو الأنصاري قال سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول من عرج أو كسر فقد حل وعليه حجة أخرى قال فحدثت بذلك بن عباس وأبا هريرة رضي الله عنهم فقالا صدق

عکرمہ نے حجاج بن عمر وانصاری سے روایت نقل کی ہے کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوفر ماتے سنا ہے جولنگڑا ہو یا ہڈی ٹوٹ گئی وہ گو یا حلال ہو گیا اس کے ذمہ دوسراحج ہے۔ عکرمہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ بات ابن عباس رضی اللہ عنہ اورابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو بیان کی تو دونوں نے کہا انہوں نے سچ بولا ہے۔

فحدثت بذلك بن عباس وأبا هريرة فقالا صدق ← من عرج أو كسر فقد حل وعليه حجة أخرى ← النبي صلى الله عليه و سلم ← الحجاج بن عمرو الانصاري ← عِكْرِمَةَ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4042

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 34 باب حكم المحصر بالحج ) · حديث 4043

3826 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عاصم عن الحجاج الصواف فذكر بإسناده مثله غير أنه لم يذكر ذكر عكرمة ذلك لابن عباس وأبي هريرة رضي الله عنهم

ابو عاصم نے حجاح الصواف سے انہوں نے اپنی اسناد سے روایت اس طرح نقل کی ہے۔البتہ انہوں نےیہ بیان نہیں کیا ۔’’ذکر عکرمہ ذلک لا بن عباس وابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ۔

عكرمة ذلك لابن عباس وأبي هريرة ← الحجاج الصواف فذكر بإسناده مثله غير أنه لم يذكر ← أَبُو عَاصِمٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4043

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 34 باب حكم المحصر بالحج ) · حديث 4044

3827 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا يحيى بن صالح الوحاظي قال ثنا معاوية بن سلام عن يحيى بن أبي كثير عن عكرمة قال قال عبد الله بن رافع مولى أم سلمة أنه قال أنا سألت الحجاج بن عمرو عمن حبس وهو محرم فقال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكر مثله فحدثت بذلك بن عباس وأبا هريرة رضي الله عنهم فقالا صدق قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن المحرم بالحج أو بالعمرة إذا كسر أو عرج فقد حل حينئذ فعليه قضاء ما حل منه إن كانت حجة فحجة وإن كانت عمرة فعمرة واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لا يحل حتى ينحر عنه الهدي فإذا نحر عنه الهدي حل واحتجوا في ذلك بما

عکرمہ نے عبداللہ بن رافع مولیٰ ام سلمہ سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حجاج بن عمرو سے اس آدمی کے متعلق پو چھا جس کو احرام کی حالت میں قید کر دیا جائے تو انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت نقل کر دی میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ بات بیان کی تو انہوں نے اس کی تصدیق کی ۔امام طحاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ۔ بعض علماء اس بات کو اختیار کرنے والے ہیں کہ محرم حج وعمر لنگڑ ا ہو جائے یا اس کا پاؤں ٹوٹ جائے تو وہ اسی وقت احرام سے نکل جاتا ہے اور اس پر اس کی قضاء ہے جس سے وہ نکلا۔اگر حج ہے تو حج اور اگر عمرہ ہے تو عمرہ لازم ہوگا اور اس روایت کو انہوں نے استدلال میں پیش کیا۔ دیگر علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا وہ اس وقت احرام سے نہ نکلے گا جب تک اس کی طرف سے ھدی ذبح نہ کی جاۓ ۔ جب ھدی کا جانور نحر کر دیا گیا تو وہ حلال ہو جائے گا۔اورانہوں نے ان روایات سے استدلال کیا ہے۔

سألت الحجاج بن عمرو عمن حبس وهو محرم فقال ← عبد الله بن رافع مولى أم سلمة أنه ← عِكْرِمَةَ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، ← يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4044

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 34 باب حكم المحصر بالحج ) · حديث 4045

3828 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا محمد بن عمرو بن عبد الله بن الرومي قال ثنا محمد بن الثور قال أنا معمر عن الزهري عن عروة عن المسور بن مخرمة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نحر يوم الحديبية قبل أن يحلق وأمر أصحابه بذلك

عروہ نے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے دن حلق سے پہلے نحر کیا اوراپنے اصحاب کو اس کا حکم فرمایا۔

الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← محمد بن الثور ← محمد بن عمرو بن عبد الله بن الرومي ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4045

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 34 باب حكم المحصر بالحج ) · حديث 4046

3829 - حدثنا محمد بن عمرو بن تمام قال ثنا يحيى بن عبد الله بن بكير قال حدثني ميمون بن يحيى عن مخرمة بن بكير عن أبيه قال سمعت نافعا مولى بن عمر يقول قال بن عمر إذا عرض للمحرم عدو فإنه يحل حينئذ قد فعل ذلك رسول الله صلى الله عليه و سلم حين حبسته كفار قريش في عمرته عن البيت فنحر هديه وحلق وحل هو وأصحابه ثم رجعوا حتى اعتمروا من العام المقبل فلما كان رسول الله صلى الله عليه و سلم لم يحل بالاختصار في عمرته بحصر العدو إياه حتى نحر الهدي دل ذلك أن كذلك حكم المحصر لا يحل بالإحصار حتى ينحر الهدي وليس فيما رويناه أول خلاف لهذا عندنا لأن قول رسول الله صلى الله عليه و سلم من كسر أو عرج فقد حل فقد يحتمل أن يكون فقد حل له أن يحل لا على أنه قد حل بذلك من إحرامه ويكون هذا كما يقال قد حلت فلانة للرجال إذا خرجت من عدة عليها من زوج قد كان لها قبل ذلك ليس على معنى أنها قد حلت لهم فيكون لهم وطؤها ولكن على معنى أنه قد حل لهم أن يتزوجوها تزوجا يحل لهم وطؤها هذا كلام جائز مستساغ فلما كان هذا الحديث قد احتمل ما ذكرنا وجاء عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في حديث عروة عن المسور ما قد وصفنا ثبت بذلك هذا التأويل وقد بين الله عز و جل ذلك في كتابه بقوله عز و جل فان أحصرتم فما استيسر من الهدي ولا تحلقوا رءوسكم حتى يبلغ الهدي محله فلما أمر الله تعالى المحصر أن لا يحلق رأسه حتى يبلغ الهدي محله علم بذلك أنه لا يحل المحصر من إحرامه إلا في وقت ما يحل له حلق رأسه فهذا قد دل عليه قول الله تعالى ثم فعل رسول الله صلى الله عليه و سلم زمن الحديبية والدليل على صحة ذلك التأويل أيضا أن حديث الحجاج بن عمرو قد ذكر عكرمة أنه حدثه بن عباس وأبا هريرة رضي الله عنهما فقالا صدق فصار ذلك الحديث عن بن عباس وعن أبي هريرة رضي الله عنهم أيضا وقد قال عبد الله بن عباس رضي الله عنهما في المحصر ما قد وافق التأويل الذي صرفنا اليه حديث الحجاج ودل عليه ما

نافع مولیٰ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب محرم کو دشمن روک دے تو وہ اس وقت حلال ہو جائے ۔اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کیا جبکہ کفار قریش نے عمرہ کرنے سے روک دیا اور بیت اللہ سے منع کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام نے ہدایا کونحر کیا اور احرام کھول دیئے پھر واپس لوٹے اگلے سال عمرہ کیا۔ جب جناب رسول اللہ اس وقت تک اپنے اس عمرہ سے حلال نہ ہوئے جس میں آپ کو روک لیا گیا تھا یہاں تک کہ آپ ہدی کونحر کیا تو اس سے یہ دلالت مل گئی کہ محصر کا حکم یہی ہے ۔ کہ جب تک وہ اپنے ھدی کونحر نہ کرے اسے حلال ہو نا درست نہیں ہے ۔اور شروع میں جو روایت ہم نے ذکر کی ہے اس میں ہمارے نزدیک اس کے خلاف کوئی بات نہیں ہے۔ کیونکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد’’من کراوعرج فقدحل‘‘ میں ایک احتمال یہ ہے کہ اس کا معنی ہو کہ اس کے لئے جائز ہے۔ کہ وہ حلال ہو جائے ۔ یہ مطلب نہیں کہ وہ اس سے حلال ہو گیا اور اسی طرح ہے جیسا محاورہ میں کہتے ہیں فلاتہ حلت للا جال‘‘ جب کہ وہ عدت پوری کرے جو سابقہ خاوند کی طرف سے اس پر لازم تھی۔ اس کا یہ معنی نہیں کہ وہ ان کے لئے حلال ہے اور وہ اس سے وطی کر سکتے ہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ وہ اس سے نکاح کر سکتے ہیں جس سے ان کے لئے وطی حلال ہو جائے گی ۔ یہ کلام محاورے میں درست اور مسلم ہے۔ پس جب اس روایت میں اس بات کا احتمال ہے اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادگرامی میں مسور والی روایت میں موجود ہے ۔ تو یہ تاویل مزید پختہ ہوگئی ۔اللہ تعالی نے قرآن مجید میں فرمایا: فان احصر تم فما استيسر من الهدى ولا تحلقوا رؤ سكم حتى يبلغ الهدى محله. جب اس آیت میں محصر کو یہ حکم دیا گیا ہے کو وہ ھدی کے نحر کی جگہ پہنچنے سے پہلے اپنے سرکو نہ منڈوائے ۔اس وقت فارغ ہوگا ۔ جب اسے منڈانا حلال ہوگا۔ اس پر قرآن مجید کی آیت دلالت کر رہی ہے اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے زمانہ میں اس پر عمل کیا اوراس کی صحت پر یہ دلیل بھی ہے کہ حجاج بن عمر و سے مذکور ہے کہ میں نے ابن عباس اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ بات ذکر کی تو انہوں نے اس کی تصدیق فرمائی پھر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے محصر کے متعلق اس تاویل کے موافق بات فرمائی ہے۔ روایت ذیل میں ملاحظہ ہو۔

نافعا مولى بن عمر ← أَبِيهِ ← مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، ← مَيْمُونُ بْنُ يَحْيَي، ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ تَمَّامٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4046

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 34 باب حكم المحصر بالحج ) · حديث 4047

3830 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا يحيى بن سعيد القطان عن الأعمش عن إبراهيم عن علقمة وأتموا الحج والعمرة لله فان أحصرتم فما استيسر من الهدي قال إذا أحصر الرجل بعث الهدي ولا تحلقوا رؤسكم حتى يبلغ الهدي محله فمن كان منكم مريضا أو به أذى من رأسه ففدية من صيام أو صدقة أو نسك فصيام ثلاثة أيام فإن عجل فحلق قبل أن يبلغ الهدي محله فعليه فدية من صيام أو صدقة أو نسك صيام ثلاثة أيام أو تصدق على ستة مساكين كل مسكين نصف صاع أو النسك شاة فإذا أمن مما كان به فمن تمتع بالعمرة إلى الحج فإن مضى من وجهه ذلك فعليه حجة وان أخر العمرة إلى قابل فعليه حجة وعمرة وما استيسر من الهدي فمن لم يجد فصيام ثلاثة أيام في الحج أخرها يوم عرفة وسبعة إذا رجعتم قال فذكرت ذلك لسعيد بن جبير فقال هذا قول بن عباس وعقد ثلاثين

اعمش نے ابراہیم عن علقمہ نقل کیا ہے۔ واتموالحج والعمره الله فان احصرتم فما استيسر من الهدی (البقره ۱۹۷ ) علقمہ کہنے لگے جب آدی احصار میں آ جائے تو ہدی روانہ کر دے ولا تحلقوا رؤسكم الایۃ تو صیام سے آیت میں تین دن کے روزے مراد ہیں اگر کسی نے ہدی پہنچنے سے پہلے حلق کروالی تو اس پر فدیہ لازم ہو گا خواہ روزے رکھے یا صدقہ کرے یا دم دے یعنی تین روزے یا چھ مساکین پر صدقہ کہ ہرمسکین کو نصف صاع صدقۃ الفطر کی مقدار دے یا بکری ذبح کرے۔ جب وہ احصار سے چھوٹ گیا جس نے حج وعمرہ دونوں کا فائدہ اٹھایایعنی دونوں کا احرام باندھا تھا مگر احصار پیش آنے سے ایام حج گزرے اور یہ احرام کے ساتھ رکا ر ہا اور چھوٹنے پر عمرہ کرلیا تو پھر اس پر صرف حج لازم ہوگا اور اگر اس نے عمرہ بھی نہ کیا تو اگلے سال حج وعمرہ دونوں کرے گا اور جو ہدی میسر ہووہ دے گا اگر ہدی نہ ہوتو ایام حج سے پہلے تین دن کے روزے رکھے گا جن میں آخری روز ہ یوم عرفہ کا ہوسکتا ہے اور سات فراغت حج کے بعد۔ابراہیم کہتے ہیں میں نے سعید بن جبیر کے سامنے اس کا تذکرہ کہا تو انہوں نے کہا یہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کا مکمل قول ہے۔

علقمة وأتموا الحج والعمرة لله فان أحصرتم فما استيسر من الهدي ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4047

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 34 باب حكم المحصر بالحج ) · حديث 4048

3831 - حدثنا أبو شريح محمد بن زكريا بن يحيى قال ثنا الفريابي قال ثنا سفيان الثوري عن الأعمش عن إبراهيم عن علقمة أنه قال في قول الله عز و جل لنا فإن أحصرتم قال من حبس أو مرض قال إبراهيم فحدثت به سعيد بن جبير فقال هكذا قال بن عباس رضي الله عنهما فهذا بن عباس لم يجعله يحل من إحرامه بالإحصار حتى ينحر عنه الهدي وقد روي عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال من كسر أو عرج فقد حل فدل ذلك أن معنى فقد حل عنده أي له أن يحل على ما ذهبنا إليه في ذلك وقد روي ذلك أيضا عن غير بن عباس رضي الله عنهما من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم أيضا

ابراہیم نے علقمہ سے بیان کیا کہ وہ ”فان احصرتم“ کے متعلق فرمانے لگے اس سے مرادقید کیا جانے والا یا بیمار ہے۔ابراہیم کہنے لگے میں نے یہ روایت سعید بن جبیر کو بیان کی تو فرمانے لگے ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بھی یہی فرمایا ہے۔ یہ ابن عباس رضی اللہ عنہ ہیں جنہوں نے رکاوٹ ہوجانے کی وجہ سے اس کو نحر ہدی کے بعد حلال کی اجازت دی اور جناب رسول اللہ رضی اللہ عنہ کا ارشاد: "من كسر اوعرج فقد حل“ یہ دلالت کر رہا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ وہ گویا اس وقت حلال ہو گیا یعنی اس کے لئے حلال ہو نا درست ہو گیا جس کی طرف ہم گئے ہیں اور ابن عباس رضی اللہ عنہ کے علاوہ دیگر اصحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی روایات آتی ہیں۔

عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← الْفِرْيَابِيُّ، ← أبو شريح محمد بن زكريا بن يحيى

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4048

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 34 باب حكم المحصر بالحج ) · حديث 4049

3832 - حدثنا فهد قال ثنا علي بن معبد بن شداد العبدي صاحب محمد بن الحسن قال ثنا جرير بن عبد الحميد عن منصور عن إبراهيم عن علقمة قال لدغ صاحب لنا بذات التنانين وهو محرم بعمرة فشق ذلك علينا فلقينا عبد الله بن مسعود رضي الله عنه فذكرنا له أمره فقال يبعث بهدي ويواعد أصحابه موعدا فإذا نحر عنه حل

منصور نے ابراہیم سے انہوں نے علقمہ سے نقل کیا کہ مقام تنانین میں ہمارے ایک ساتھی کو سانپ نے ڈس لیا وہ احرام میں تھا ہم پر یہ بات گراں گزری ہم ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ملے اور اس کا معاملہ ذکر کیا تو آپ نے فرمایا۔ ہدی روانہ کر دے اور اپنے ساتھیوں سے ایک دن طے کرے جب اس کی طرف سے ہدی ذبح کر دی جائے تو یہ حلال ہو جائے گا۔

عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← علي بن معبد بن شداد العبدي صاحب محمد بن الحسن ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4049

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 34 باب حكم المحصر بالحج ) · حديث 4050

3833 - حدثنا فهد قال ثنا علي قال ثنا جرير عن الأعمش عن عمارة بن عمير عن عبد الرحمن بن يزيد قال قال عبد الله ثم عليه عمرة بعد ذلك

عمارہ بن عمیر نے عبدالرحمٰن بن یزید سے نقل کیا عبداللہ فر مانے گے پھر اس پر اس (مرض سے شفایابی) کے بعد عمرہ ہے۔

عبد الله ثم عليه عمرة بعد ذلك ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← عَلِيٍّ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4050

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 34 باب حكم المحصر بالحج ) · حديث 4051

3834 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا أبو عوانة عن سليمان الأعمش فذكر بإسناده مثله

ابوعوانہ نے سلیمان الاعمش سے انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔

سليمان الأعمش فذكر بإسناده مثله ← أَبُو عَوَانَةَ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4051

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 34 باب حكم المحصر بالحج ) · حديث 4052

3835 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا بشر بن عمر قال ثنا شعبة عن الحكم قال سمعت إبراهيم يحدث عن عبد الرحمن بن يزيد قال أهل رجل من النخع بعمرة يقال له عمير بن سعيد فلدغ فبينا هو صريع في الطريق إذ طلع عليهم ركب فيهم بن مسعود رضي الله عنه فسألوه فقال ابعثوا بالهدي واجعلوا بينكم وبينه يوما أمارة فإذا كان ذلك فليحل قال الحكم وقال عمارة بن عمير وكان حدثك به عن عبد الرحمن بن يزيد أن بن مسعود رضي الله عنه قال وعليه العمرة من قابل قال شعبة وسمعت سليمان حدثه به مثل ما حدث الحكم سواء

ابراہیم عبدالرحمٰن بن یزید سے بیان کرتے تھے کہ ایک نخعی نے عمرے کا احرام باندھا اس کا نام عمیر بن سعید تھا اس کو سانپ نے ڈس لیا وہ راستہ میں بیمار پڑ گیا تو اچانک ایک قافلہ سامنے آیا جس میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ تھے انہوں نے ان سے سوال کیا کہ اس کا کیا حکم ہے۔ آپ نے فرمایا۔ ہدی روانہ کر دواور اس کے مابین ایک مقررہ دن طے کرلو جب وہ دن آجائے تو یہ حلال ہو جائے۔ حکم کہنے لگے عمارہ بن عمیر نے کہا تمہیں عبدالرحمٰن بن یزید سے یہ روایت اس طرح بیان کی تھی کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس کو آئندہ سال عمرہ لازم ہے۔ شعبہ کہنے لگے میں نے یہ روایت اسی طرح سلیمان سے سنی جس طرح حکم نے بیان کی تھی۔

عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← بِشْرُ بْنُ عُمَرَ؛ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4052

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 34 باب حكم المحصر بالحج ) · حديث 4053

3836 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن بن شهاب عن سالم عن بن عمر أنه قال المحصر لا يحل حتى يطوف بالبيت وبين الصفا والمروة وإن اضطر إلى شيء من لبس الثياب التي لا بد له منها والدواء صنع ذلك وافتدى فقد ثبت بهذه الروايات أيضا عن أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم ما يوافق ما تأولنا عليه حديث الحجاج الذي ذكرناه ثم اختلف الناس بعد هذ في الإحصار الذي هذا حكمه بأي شيء هو أو بأي معنى يكون فقال قوم يكون بكل حابس يحبسه من مرض أو غيره وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله وقد روينا ذلك أيضا فيما تقدم من هذا الباب عن بن مسعود وابن عباس رضي الله عنهم وقال آخرون لا يكون الإحصار الذي حكمه ما وصفنا إلا بالعدو خاصة ولا يكون بالأمراض وهو قول بن عمر

سالم نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ وہ فرمانے لگے محصر اس وقت حلال ہو گا جب بیت اللہ کا طواف کرے گا اور صفاومروہ کی سعی کرے گا اور اگر وہ مرض کی وجہ سے کسی کپڑے اور دوا کے استعمال پر مجبور ہوگا تو جتنا مجبور ہے اتنا کرے اور اس کا فدیہ دے گا۔ان روایات سے بھی ہماری تاویل کے موافق بات اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہوئی اور حد یث حجاج بن عمرو میں بھی یہ بات مذکور ہوئی ہے۔ اس کے بعد اس بارے میں اختلاف ہے کہ یہ کس احصار کا حکم ہے اور وہ احصارکس چیز سے ہواور کس مفہوم میں ہو۔ تو ایک گروہ علماء کا قول یہ ہے کہ ہر رکاوٹ مرض وغیرہ اس کا سبب ہوسکتا ہے۔ امام ابوحنیفہ‘ ابو یوسف محمد رحمہم اللہ کا یہ قول ہے اور ہم نے اسی باب میں حضرت ابن مسعود بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے ۔مگر دیگر علماء کہتے ہیں کہ احصار جو ہم نے بیان کیاوہ دشمن والا احصار ہے مرض والا احصار نہیں ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا یہی قول ہے۔

بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4053

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter