Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 33 باب المتمتع الذي لا يجد هدي ولا يصوم في العشر ) · حديث 4030

3813 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا عبد الله بن محمد الفهي قال أنا سليمان بن بلال عن يحيى بن سعيد أنه سمع يوسف بن مسعود بن الحكم الزرقي يقول حدثتني جدتي ثم ذكر نحوه

یحیٰی بن سعید کہتے ہیں کہ میں نے یوسف بن مسعود بن حکم زرقی کو کہتے سنا کہ مجھے میری دادی نے بیان کیا پھر اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

نَحْوَهُ ← حدثتني جدتي ثم ← يوسف بن مسعود بن الحكم الزرقي ← يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← عبد الله بن محمد الفهي ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4030

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 33 باب المتمتع الذي لا يجد هدي ولا يصوم في العشر ) · حديث 4031

3814 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا حسين بن مهدي قال ثنا عبد الرزاق قال أنا معمر عن الزهري عن مسعود بن الحكم الأنصاري عن رجل من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم قال أمر النبي صلى الله عليه و سلم عبد الله بن حذافة أن يركب راحلته أيام منى فيصيح في الناس ألا لا يصومن أحد فإنها أيام أكل وشرب قال فلقد رأيته على راحلته ينادي بذلك قالوا فلما ثبت بهذه الآثار عن رسول الله صلى الله عليه و سلم النهي عن صيام أيام التشريق وكان نهيه عن ذلك ب منى والحجاج مقيمون بها وفيهم المتمتعون والقارنون ولم يستثن منهم متمتعا ولا قارنا دخل المتمتعون والقارنون في ذلك النهي أيضا فان قال قائل فلم صار هذا أولى مما رويتم في أول هذا الباب قيل له من قبل صحة ما جاء في هذا وتواتر الآثار به وفساد ما جاء في الفصل الأول من ذلك حديث يحيى بن سلام عن شعبة فهو حديث منكر لا يثبته أهل العلم بالرواية لضعف يحيى بن سلام عندهم وابن أبي ليلى وفساد حفظهما مع أني لا أحب أن أطعن على أحد من العلماء بشيء ولكن ذكرت ما تقول أهل الرواية في ذلك ومن ذلك حديث يزيد بن سنان الذي ذكرناه من بعده عن بن عمر رضي الله عنهما وعائشة رضي الله عنها أنهما قالا لم يرخص لأحد في صوم أيام التشريق إلا لمحصر أو متمتع فقولهما ذلك يجوز أن يكونا عنيا بهذه الرخصة ما قال الله عز و جل في كتابه فصيام ثلاثة أيام في الحج فعداها أيام التشريق من أيام الحج فقالا رخص للحاج المتمتع والمحصر في صوم أيام التشريق لهذه الآية ولأن هذه الأيام عندهما من أيام الحج وخفي عليهما ما كان من توقيف رسول الله صلى الله عليه و سلم الناس من بعد على أن هذه الأيام ليست بداخلة فيما أباح الله عز و جل صومه من ذلك فهذا وجه هذا الباب من طريق تصحيح معاني الآثار وأما من طريق النظر فانا قد رأيناهم أجمعوا أن يوم النحر لا يصام فيه شيء من ذلك وهو إلى أيام الحج أقرب من أيام التشريق لما جاء عن رسول الله صلى الله عليه و سلم من النهي عن صومه مما سنذكره في هذا الباب إن شاء الله تعالى فكما كان نهي رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذلك يدخل فيه المتمتعون والقارنون والمحصرون كان كذلك نهيه عن صيام أيام التشريق يدخلون فيه أيضا فمما روي عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في النهي عن صوم يوم النحر ما

مسعود بن حکم انصاری نے ایک صحابی رسول سے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کوحکم فرمایا کہ منیٰ کے دنوں میں اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر لوگوں میں زور زور سے اعلان کر دے۔ خبر دار ان دنوں میں کوئی روزہ نہ رکھے یہ کھانے پینے کے دن ہیں ۔ راوی کہتے ہیں میں نے ان کوا پنی اونٹنی پر سوار یہ اعلان کر تے سنا۔

أمر النبي صلى الله عليه و سلم عبد الله بن حذافة ← رجل من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم ← مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ الْأَنْصَارِيِّ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← حُسَیْنُ بْنُ مَھْدِیٍّ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4031

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 33 باب المتمتع الذي لا يجد هدي ولا يصوم في العشر ) · حديث 4032

3815 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا عثمان بن عمر قال أنا بن أبي ذئب عن سعيد بن خالد عن أبي عبيد مولى بن أزهر قال شهدت العيد مع علي وعثمان رضي الله عنهما فكانا يصليان ثم ينصرفان يذكران الناس فسمعتهما يقولان نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن صيام هذين اليومين يوم النحر ويوم الفطر

ابن از ہر کے مولٰی ابوعبید کہتے ہیں کہ میں علی وعثان رضی اللہ عنہ اجمعین کے ساتھ عید میں موجودتھاوہ نماز پڑھ کرلوٹتے پھر لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے میں نے ان کو یہ تقریر کرتے سنا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو دنوں کے روزے سے منع فرمایا ہے۔ یوم نحر اور یوم فطر۔ان کا کہنا یہ ہے کہ جب ان روایات سے ایام تشریق میں روزے کی مخالت جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہوگئی ۔اور آپ نے لوگوں کومنیٰ میں منع فرمایا جب کہ حجاج وہاں قیام پذیر تھے‘ ان میں متمتع‘ قارن سبھی لوگ تھے ۔آپ نے کسی متمتع اور قارن کا استثناء بھی نہیں فرمایا ۔ معلوم ہوا کہ اس ممانعت میں تمتع اور قارن سب شامل ہیں ۔ اگر کوئی معترض کہے کہ ان روایات کی دوسری روایات سے اور اولولیت کی کیا وجہ ہے ۔ تو اس کے جواب میں کہا جائیگا کہ ان روایات کا تواتر اور صحت وجہ تر جیح ہے اور اسی طرح پہلی روایات میں واردکمز وریاں ہیں ۔ان کمز ور روایات میں یحیٰی بن سلام کی روایت ہے ‘حالانکہ وہ حدیث منکر ہے ۔ محدثین یحییٰ بن سلام اور ابن ابی لیلیٰ کے ضعف کی وجہ سے اس روایت کو درست قرارنہیں دیتے ۔ مجھے کسی اہل علم پر طعن پسند نہیں مگر اہل روایت نے جو کہا ہے اس کو بیان کرنا میر افرض ہے ۔ انہیں میں یزید بن سنان کی روایت ہے ۔جس کو ہم نے اس کے حضرت ابن عمر اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ محصر و متمتع کے علاوہ کسی کے لیے بھی ایام تشریق میں روزے کی اجازت نہیں ۔عین ممکن ہے کہ انہوں نے اپنے اس قول سے وہ بات مراد لی ہو جس کواللہ تعالی نے قرآن میں ذکر فرمایا(فصيام ثلاثة ايام فی الحج) پس حج کے دنوں میں تین دن کے تو روزے ہیں ۔انہوں نے ایاں تشریق کوایام حج سے قرار دیا اور فرمایا کہ متمتع ومحصر کو اس آیت میں ایام تشریق میں روزے کی اجازت دی گئی کیونکہ ان کے ہاں یہ دن ایام حج میں سے ہیں ۔ ان کو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد جو آپ نے منٰی میں لوگوں کو فرمایا کہ یہ ان ایام میں سے نہیں جن میں روزہ رکھنا درست ہے۔ روایات کی تصحیح کے لحاظ سے اس باب کا یہ حکم ہے ۔ نظر وفکر کے لحاظ سے اس باب کی وضاحت اس طرح ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ ایام قربانی میں کسی قسم کا روز ہ درست نہیں اور وہ ایام تشریق کی نسبت ایام حج کے قریب تر ہے ۔اس لئے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن میں روز ہ کومنع فرمایا ہے ۔ جیسا کہ ان شاءاللہ آئندہ مذکور ہوگا ۔ جس طرح اسی نہی میں متمتع اور قارن اور محصر تمام داخل ہیں ایام تشریق میں روزہ رکھنے کی ممانعت بھی ان تمام کو شامل ہے۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یوم نحر کے روزہ کی ممانعت والی روایات ذیل میں ہیں۔

أبي عبيد مولى بن أزهر ← سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4032

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 33 باب المتمتع الذي لا يجد هدي ولا يصوم في العشر ) · حديث 4033

3816 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن بن شهاب عن أبي عبيد قال شهدت العيد مع عمر رضي الله عنه فقال هذان يومان نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن صيامهما يوم الفطر ويوم النحر فأما يوم الفطر فيوم فطركم من صيامكم وأما يوم النحر فيوم تأكلون فيه من نسككم

ابوعبید کہتے ہیں کہ میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ عید میں حاضر ہوا وہ فرمانے لگے ان دو دنوں میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے سے منع فرمایا ہے یعنی یوم الفطر‘ یوم نحر۔ یوم فطرتو روزے سے افطار کا دن ہے اور یوم نحروہ دن ہے جس میں تم اپنی قربانی کے گوشت کھاتے ہو۔

هذان يومان نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← شهدت العيد مع عمر ← اَبِیْ عُبَیْدٍ، ← بن شِهَابٍ ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4033

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 33 باب المتمتع الذي لا يجد هدي ولا يصوم في العشر ) · حديث 4034

3817 - حدثنا أبو أمية قال ثنا عبيد الله بن موسى قال أنا إبراهيم بن إسماعيل بن مجمع وسفيان بن عيينة عن الزهري عن أبي عبيد مولى عبد الرحمن بن عوف قال صليت العيد مع عمر فذكر مثله

عبدالرحمٰن بن عوف کے مولیٰ ابوعبید کہتے ہیں کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ عید ادا کی پھر اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔

صليت العيد مع عمر فذكر مثله ← أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← إبراهيم بن إسماعيل بن مجمع وسفيان بن عيينة ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← اَبُوْ اُمَیَّۃَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4034

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 33 باب المتمتع الذي لا يجد هدي ولا يصوم في العشر ) · حديث 4035

3818 - حدثنا فهد قال ثنا علي بن معبد قال ثنا إسماعيل بن أبي كثير الأنصاري عن سعيد بن سعيد عن عمرة عن عائشة رضي الله عنها عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه نهى عن صوم يومين يوم الفطر ويوم النحر

عمرہ نے عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دن کے روزے سے منع فرمایایوم فطراور یوم نحر ۔

صوم يومين يوم الفطر ويوم النحر ← رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه نهى ← عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← سعيد بن سعيد ← إسماعيل بن أبي كثير الأنصاري ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4035

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 33 باب المتمتع الذي لا يجد هدي ولا يصوم في العشر ) · حديث 4036

3819 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد عن قتادة عن أبي نضرة عن أبي سعيد الخدري عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله

ابونضر ہ نے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت کی ہے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← قَتَادَةَ ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4036

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 33 باب المتمتع الذي لا يجد هدي ولا يصوم في العشر ) · حديث 4037

3820 - حدثنا بحر بن نصر قال ثنا بن وهب قال أخبرني عمرو بن الحارث أن المنذر بن عبيد المدني حدثه أن أبا صالح السمان حدثه أنه سمع أبا هريرة يخبر عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله

ابوصالح سمان نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت بیان کرتے سنا ہے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← أَبَا هُرَيْرَةَ يُخْبِرُ ← أَنَّهُ ← أن أبا صالح السمان ← عمرو بن الحارث أن المنذر بن عبيد المدني ← بن وَهْبٍ ← بحر بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4037

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 33 باب المتمتع الذي لا يجد هدي ولا يصوم في العشر ) · حديث 4038

3821 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا سعيد بن عامر عن الربيع بن صبيح عن يزيد الرقاشي عن أنس بن مالك رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

یز یدالر قاشی نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت کی ہے۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ ← الرَّبِيعُ بْنُ صَبِيحٍ ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4038

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 33 باب المتمتع الذي لا يجد هدي ولا يصوم في العشر ) · حديث 4039

3822 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب أن مالكا حدثه عن محمد بن يحيى بن حبان عن الأعرج عن أبي هريرة رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله

اعرج نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4039

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 33 باب المتمتع الذي لا يجد هدي ولا يصوم في العشر ) · حديث 4040

3823 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا وهيب قال ثنا شعبة عن عبد الله بن عمر عن قزعة عن أبي سعيد عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله فلما كان يوم النحر خارجا من أيام الحج التي جعل الله عز و جل للمتمتع الصوم فيها بدلا من الهدي لما قد أخرجه النبي صلى الله عليه و سلم من الأيام التي يصام فيها بنهيه عن صومه كان كذلك أيام التشريق خارجة من أيام الحج التي جعل الله عز و جل للمتمتع الصوم فيها بدلا من الهدي لما قد أخرجها النبي صلى الله عليه و سلم من الأيام التي تصام بنهيه عن صومها فثبت بما ذكرنا أن أيام التشريق ليس لأحد صومها في متعة ولا قران ولا إحصار ولا غير ذلك من الكفارات ولا من التطوع وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله وقد روى عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه ما يدل على ذلك أيضا

قزعہ نے ابوسعید رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔ پس جب یوم نحر ان کے ایام حج سے خارج ہے جن میں متمتع کو ہدی نہ ہونے کی وجہ سے روزہ رکھنے کا حکم ہے۔ کیونکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کر کے اسے ان ایام سے خارج کر دیا جن میں روزہ رکھا جا سکتا ہے۔اسی طرح ایام تشریق بھی اس سے خارج ہیں جن میں متمتع کوروزہ رکھنے کی اجازت ہے۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دنوں میں روزے کی ممانعت فرمائی ہے ۔ ان دنوں کوروزہ رکھنے والے دنوں سے خارج کر دیا ہے۔ ہمارے مذکورہ بیان سے ثابت ہوا کہ ایام میں کسی شخص کو کسی قسم کا روزہ ر کھنے کی اجازت نہیں ہے۔ خواہ وہ متمتع ہو یا قران والا یا محصر یا کفارے کا روزہ یانفل کا روزہ رکھنے والا ہو۔ ہمارے امام ابو حنیفہ‘ ابو یوسف و محمد رحمہم اللہ کا قول اسی طرح ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی روایت اس پر دلالت کر رہا ہے۔ملاحظہ ہو۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4040

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 33 باب المتمتع الذي لا يجد هدي ولا يصوم في العشر ) · حديث 4041

3824 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج بن المنهال قال ثنا حماد بن سلمة قال أنا حجاج عن عمرو بن شعيب عن سعيد بن المسيب أن رجلا أتى عمر بن الخطاب رضي الله عنه يوم النحر فقال يا أمير المؤمنين إني تمتعت ولم أهد ولم أصم في العشر فقال سل في قومك ثم قال يا معيقيب أعطه شاة أفلا ترى أن عمر لم يقل له فهذه أيام التشريق فصمها فدل تركه ذلك وأمره إياه بالهدي أن أيام الحج عنده التي أمر الله عز و جل المتمتع بالصوم فيها هي قبل يوم النحر وأن يوم النحر وما بعده من أيام التشريق ليس منها

عمرو بن شعیب نے سعید بن مسیب سے نقل کیا ہے کہ ایک آدمی جناب عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں نحر کے دن آیا اور کہنے لگا اے امیر المؤمنین میں نے حج تمتع کیا ہے اور ہدی نہیں دی اور نہ ہی ایام عشر میں روزے رکھے ہیں پھر فرمایا اپنی قوم سے مانگو! پھر فرمایا اے معیقیب ! اس کو ایک بکری دے دو۔ کیا تم اس بات کونہیں پاتے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو یہ نہیں فرمایا کہ یہ یاام تشرایق ہیں تو ان کا روزہ رکھ لے۔اس بات کا ترک اور اسے ھدی کا حکم اس بات پر دلالت ہے کہ ان کے ہاں وہ ایام حج جن میں متمتع کوروزہ کی اجازت ہے وہ ایام نحر سے پہلے پہلے ہیں اور یوم نحراور اس کے بعد والے ایام تشریق اس حکم میں نہیں ہیں ۔

سل في قومك ثم ← يا أمير المؤمنين إني تمتعت ولم أهد ولم أصم في العشر ← سعيد بن المسيب أن رجلا أتى عمر بن الخطاب يوم النحر ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← حجاج، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4041

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter