Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 30 باب من قدم من حجه نسكا قبل نسك ) · حديث 3996

3780 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا يحيى بن يحيى قال ثنا أبو الأحوص عن إبراهيم بن مهاجر عن مجاهد عن بن عباس رضي الله عنهما قال من قدم شيئا من حجه أو أخره فليهرق لذلك دما

مجاہد نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے کوئی چیز مقدم ومؤخر کی ہووہ ایک جانور ذبح کرے۔

مَنْ قَدَّمَ شَيْئًا مِنْ حَجِّهِ أَوْ أَخَّرَهُ فَلْيُهْرِقْ لِذَلِكَ دَمًا. ← بْنِ عَبَّاسٍ ← مُجَاهِدٍ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3996

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 30 باب من قدم من حجه نسكا قبل نسك ) · حديث 3997

3781 - حدثنا نصر بن مرزوق قال ثنا الخصيب قال ثنا وهيب عن أيوب عن سعيد بن جبير عن بن عباس مثله فهذا بن عباس يوجب على من قدم شيئا من نسكه أو أخره دما وهو أحد من روى عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه ما سئل يومئذ عن شيء قدم ولا أخر من أمر الحج إلا قال لا حرج فلم يكن معنى ذلك عنده معنى الإباحة في تقديم ما قدموا ولا في تأخير ما أخروا مما ذكرنا إذ كان يوجب في ذلك دما ولكن كان معنى ذلك عنده على أن الذي فعلوه في حجة النبي صلى الله عليه و سلم كان على الجهل منهم بالحكم فيه كيف هو فعذرهم بجهلهم وأمرهم في المستأنف أن يتعلموا مناسكهم وتكلم الناس بعد هذا في القارن إذا حلق قبل أن يذبح فقال أبو حنيفة رحمه الله عليه دم وقال زفر رضي الله عنه عليه دمان وقال أبو يوسف ومحمد رحمهما الله لا شيء عليه واحتجا في ذلك بقول رسول الله صلى الله عليه و سلم للذين سألوه عن ذلك على ما قد روينا في الآثار المتقدمة وبجوابه لهم أن لا حرج عليهم في ذلك [ ص 239 ] وكان من الحجة عليهما في ذلك لأبي حنيفة وزفر رحمهما الله ما ذكرنا من شرح معاني هذه الآثار وحجة أخرى وهي أن السائل لرسول الله صلى الله عليه و سلم لم يعلم هل كان قارنا أو مفردا أو متمتعا فإن كان مفردا فأبو حنيفة رحمه الله وزفر لا ينكران أن يكون لا يجب عليه في ذلك دم لأن ذلك الذبح الذي قدم عليه الحلق ذبح غير واجب ولكن كان أفضل له أن يقدم الذبح قبل الحلق ولكنه إذا قدم الحلق أجزأه ولا شيء عليه وإن كان قارنا أو متمتعا فكان جواب للنبي صلى الله عليه و سلم في ذلك على ما ذكرنا فقد ذكرنا عن بن عباس في التقديم في الحج والتأخير أن فيه دما وأن قول النبي صلى الله عليه و سلم لا حرج لا يدفع ذلك فلما كان قول النبي صلى الله عليه و سلم في ذلك لا حرج لا ينفي عن بن عباس رضي الله عنهما وجوب الدم كان كذلك أيضا لا ينفيه عند أبي حنيفة وزفر رحمهما الله وكان القارن ذبحه ذبح واجب عليه يحل به فأردنا أن ننظر في الأشياء التي يحل بها الحاج إذا أخرها حتى يحل كيف حكمها فوجدنا الله عز و جل قد قال ولا تحلقوا رءوسكم حتى يبلغ الهدي محله فكان المحصر يحلق بعد بلوغ الهدي محله فيحل بذلك وإن حلق قبل بلوغه محله وجب عليه دم وهذا إجماع فكان النظر على أن يكون كذلك القارن إذا قدم الحلق قبل الذبح الذي يحل به أن يكون عليه دم قياسا ونظرا على ما ذكرنا من ذلك فبطل بهذا ما ذهب اليه أبو يوسف ومحمد رحمهما الله وثبت ما قال أبو حنيفة رحمه الله أو ما قال زفر رحمه الله فنظرنا في ذلك فإذا هذا القارن قد حلق رأسه في وقت الحلق عليه حرام وهو في حرمة حجة وفي حرمة عمرة وكان القارن ما أصاب قرانه مما لو أصابه وهو في حجة مفردة أو عمرة مفردة وجب عليه دم فإذا أصابه وهو قارن وجب عليه دمان فاحتمل أن يكون حلقه أيضا قبل وقته يوجب عليه أيضا دمين كما قال زفر فنظرنا في ذلك فوجدنا الأشياء التي توجب على القارن دمين فيما أصاب في قرانه هي الأشياء التي لو أصابها وهو في حرمة حجة أو في حرمة عمرة وجب عليه دم فإذا أصابها في حرمتهما وجب عليه دمان كالجماع وما أشبهه وكان حلقه قبل أن يذبح لم يحرم عليه بسبب العمرة خاصة ولا بسبب الحج خاصة إنما وجب عليه بسببهما وبحرمة الجمع بينهما لا بحرمة الحجة خاصة ولا بحرمة العمرة خاصة فأردنا أن ننظر في حكم ما يجب بالجمع هل هو شيئان أو شيء واحد فنظرنا في ذلك فوجدنا الرجل إذا أحرم بحجة مفردة أو بعمرة مفردة لم يجب عليه شيء وإذا جمعهما جميعا وجب عليه لجمعه بينهما شيء لم يكن يجب عليه في إفراده كل واحدة منهما فكان ذلك الشيء دما واحدا فالنظر على ذلك أن يكون كذلك الحلق قبل الذبح الذي منع منه الجمع بين العمرة والحج فلا يمنع منه واحدة منهما لو كانت مفردة أن يكون الذي يجب فيه دم واحد فيكون أصل ما يجب على القارن في انتهاكه الحرم في قرانه أن ننظر فيما كان من تلك الحرم تحرم بالحجة خاصة وبالعمرة خاصة فإذا جمعتا جميعا فتلك الحرمة محرمة لشيئين مختلفين فيكون على من أنتهكهما كفارتان وكل حرمة لا تحرمها الحجة على الانفراد ولا العمرة على الانفراد يحرمها الجمع بينهما فإذا انتهكت فعلى الذي أنتهكها دم واحد لأنه انتهك حرمة حرمت عليه بسبب واحد فهذا هو النظر في هذا الباب وهو قول أبي حنيفة وبه نأخذ

ایوب نے سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت کی ہے۔ یہ ابن د عباس رضی اللہ عنہ ہیں جواس آ دمی پر قربانی کولا زم کر رہے ہیں جس نے حج کے اعمال میں تقدیم و تا خیر کرے اور آپ ان حضرات میں سے ایک ہیں جنہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ اس حجۃ الوداع کے دن اگر آپ سے کسی حکم حج کی تا خیر وتقدیم کا پو چھا گیا تو یہی جواب دیالا حرج‘‘ تو گویا ان کے ہاں اس کا معنی نہیں کہ تقدیم وتاخیر مباح ہے۔ اس لئے کہ وہ فتوی میں اس پر قربانی لا زم کر رہے ہیں ۔ بلکہ ان کے ہاں اس کا مطلب یہ تھا کہ جن حضرات نے حجۃ الوداع کے موقع پرایسا کیاوہ حکم سے ناواقف تھے آپ نے علم نہ ہونے کی وجہ سے ان کو معذور قرار دیا اور ان کو حکم فرمایا کہ وہ مناسک کو آ ئند ہ سیکھ لیں ۔لوگوں نے قارن سے متعلق گفتگو کی ہے جو کہ ذبح سے پہلے سرمنڈائے۔ ۱۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے فرمایا اس پر ایک قربانی ہوگی ۔ ۲۔ امام زفر رحمہ اللہ اس پر دو قربانی لازم کرتے ہیں ۔۳۔ ابو یوسف ومحمدؒ فرماتے ہیں اس پر کچھ بھی لازم نہیں ۔امام ابو یوسف محمدؒ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے استدلال کیا ہے جو آپ نے سائلین سے لاحرج‘‘فرمایا۔ گذشتہ سطور میں ہم اس کو ذکر کر آئے ۔امام ابوحنیفہ اور زفر ؒ کی طرف سے ان کے خلاف وہ دلیل ہے جو ہم نے آ ثار کی تشریح میں ذکر کی ہے اور مزید دلیل یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کر نے والے کے متعلق یہ علم نہیں ہے کہ وہ قارن‘ متمتع‘ منفر د میں سے کون سا تھا۔اگر مفردتھا تو امام ابوحنیفہ وزفر اس پر عدم وجوب قربانی کے منکر نہیں کیونکہ جس قربانی پر اس نے حلق کو مقدم کیا وہ لا زم نہ تھی بلکہ اسے فضل یہ تھا کہ وہ ذبح کے بعد حلق کرے مگر جب اس نے حلق کو پہلے کرایا تو یہ اس کے لئے کافی ہے اور اس پر کچھ ازم نہ ہوگا اور اگر وہ قارن یامتمتع ہے ۔ تو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب وہی معنی رکھتا ہے جو ہم پہلے ذکر کرآئے کہ تقدیم و تا خیر احکام حج میں ابن عباس رضی اللہ عنہ دم کولا زم فرماتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان لاحرج میں اس کی نفی نہیں جب ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ہاں آ پ کا قول ”لا حرج‘‘ وجوب قربانی کی نفی نہیں کرتا ۔ تو امام ابوحنیفہ وزفر کے ہاں بھی و نفی نہ کرے گا ۔ اور قارن کا ذ بیحہ واجب ذ بیحہ تھاوہ اس کے ذریعہ احرام سے نکلتا ہے۔ اب ہم اس پرغور کر نا چاہتے ہیں کہ وہ کیا امور ہیں ۔جن کے ذریعہ حاجی احرام سے باہر آ تا ہے۔ کہ اگر وہ ان کو مؤ خر کرے اور احرام سے نکل گیا تو پھر اس کا کیا حکم ہوگا ۔ ہم نے قرآن میں فرمان الہٰی پایا ولا تحلقوا رء وسكم حتى يبلغ الهدى محله... کہ قربانی کے قربان گاہ تک پہنچنے سے پہلے تم سر نہ منڈ واؤ۔ پس وہ شخص جس کو حج میں رکاوٹ آ جائے وہ ھدی کے قربان گاہ تک پہنچنے پر حلق کر وا تا ہے اور اس کے ساتھ وہ احرام سے فارغ ہو جا تا ہے اوراگر اس نے قربانی کے حرم تک پہنچنے سے پہلے حلق کر والیا تو اس پر دم لازم ہے اور اس پر تمام کا اتفاق ہے ۔ پس ہم نے اس میں غوروفکر کیا تو معلوم ہوا کہ اس قارن نے ایسے وقت سرمنڈ وایا ہے جب سرمنڈ وانا اس پر حرام تھا یعنی وہ حج یا عمرہ کے احرام کی حالت میں ہو۔ قارن جب ایسا عمل کرے کہ اگر وہ حج مفر دوالا کرتا تو اس پر ایک قربانی لا زم ہوتی یا فقط عمرہ کر تا تو ایک دم آ تا جب وہ قارن اس کا مرتکب ہوا تو اس پر دوقربانیاں لازم ہوں گی ۔اب اس میں یہ احتمال ہوا کہ وقت سے پہلے حلق پر بھی اسے دوقر بانیاں لازم ہوئی چاہئیں ۔ جیسا کہ امام زفر رحمہ اللہ کا قول ہے اب ہم نے اس میں غور وفکر کیا کہ بعض امور میں قارن پر دوقر بانیاں لازم کر تے ہیں جبکہ وہ قران کے احرام میں کرے اوراگر و ہ اشیاءاحرام حج یا فقط عمر ہ والا کرے تو اس پر ایک قربانی لازم ہے ۔ پس اب قارن نے اس کا ارتکاب دونوں احراموں میں کیا تو اس پر دو دم ہیں مثلا جماع اور اس کے مشابہ امور اور اس کا حلق ذبیح سے پہلے عمرہ کی وجہ سے حرام نہیں ہوتا اور نہ حج کی وجہ سے حرام ہوتا ہے۔ بلکہ یہ دونوں کی وجہ سے لازم ہوا بلکہ جمع کرنے کی حرمت سے حرام ہوا۔ فقط حج یا فقط عمرہ اس کوحرام نہیں کرتے ۔اب ہم حج وعمرہ کے جمع کرنے کی صورت میں کیا چیز لازم آتی ہے ۔ اس پر غور کر نا چاہتے ہیں‘ کیا یہ دو چیز یں ہیں یا ایک ہی ہے ۔غور سے معلوم ہوا کہ جب کوئی حج یا عمرہ کا صرف احرام باند ھے تو اس پر کچھ لا زم نہیں ہے اور جب اس نے دونوں کو جمع کر لیا۔ تو اس کے جمع کی وجہ سے وہ چیز لازم آتی ہے جو انفرادی طور پر ان کی ادائیگی نے لازم نہیں ہے ۔اور وہ ایک قربانی ہے ۔ پس نظر وفکر چاہتے ہیں کہ حلق جو ذ بح سے پہلے ہو جس کو حج وعمرہ کے اکٹھ نے منع کیا ہے ۔اگران میں سے ایک ہوتا تو وہ اس سے منع نہ کر تا ۔اگروہ افراد ہوتا تو اس پر ایک دم لا زم ہوتا ۔ تو وہ اصل جس کی بے حرمتی پر قران میں جو چیز لازم ہوتی ہے ۔ تو اس پر غور کرنا ہوگا کہ وہ حرمت حج اور عمرہ جب جمع ہوں تو ان کی وجہ سے خاص ہے ۔اور یہ حرمت دو مختلف چیزوں کی وجہ سے ہوئی پس ان دونوں کی خلاف ورزی پر دو کفارے لا زم ہوں گے‘ اور ہر وہ حرمت جوصرف حج یا صرف عمرہ سے نہیں ہوتی وہ ان دونوں کے اجتماعی طور پر کرنے سے پیدا ہوتی ہے‘ پس جوشخص اسے توڑ دے گا اس پر ایک قربانی لازم ہوگی ۔اس لئے کہ اس نے ایسی حرمت کو پائمال کیا ہے جو ایک سبب سے حرام ہوتی تھی ۔ نظر کا اس باب میں یہی تقاضا ہے اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا یہی قول ہے اور ہم اسی کواختیار کر تے ہیں۔

سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَيُّوبَ، ← وُهَيْبٌ، ← الخصيب ← نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3997

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter