Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 27 باب اللباس والطيب متى يحلان للمحرم ) · حديث 3952

3738 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا مؤمل ح

ابوبکرہ نے مومل سے روایت نقل کی ہے۔

مُؤَمَّلٍ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3952

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 27 باب اللباس والطيب متى يحلان للمحرم ) · حديث 3953

وحدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عاصم عن سفيان عن سلمة بن كهيل عن الحسن العرني عن بن عباس رضي الله عنهما قال إذا رميتم الجمرة فقد حل لكم كل شيء إلا النساء فقال له رجل والطيب فقال أما أنا فقد رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم يضمخ رأسه بالمسك أفطيب هو ففي هذا الحديث من قول بن عباس رضي الله عنهما ما قد ذكرنا من إباحة كل شيء إلا النساء إذا رميت الجمرة ولا يذكر في ذلك الحلق وفيه أنه رأى النبي صلى الله عليه و سلم يضمخ رأسه بالمسك ولم يخبر بالوقت الذي فعل فيه رسول الله صلى الله عليه و سلم ذلك وقد يجوز أن يكون ذلك من رسول الله صلى الله عليه و سلم قبل الحلق ويجوز أن يكون بعده إلا أن أولى الأشياء بنا أن نحمل ذلك على ما يوافق ما قد ذكرناه عن عائشة رضي الله عنها لا على ما يخالف ذلك فيكون ما رأى النبي صلى الله عليه و سلم يفعله من ذلك كان بعد رميه الجمرة وحلقه على ما في حديث عائشة رضي الله عنها ثم قال بن عباس رضي الله عنهما يعد برأيه إذا رمى فقد حل له برميه أن يحلق حل له أن يلبس ويتطيب [ ص 230 ] وهذا موضع يحتمل النظر وذلك أن الإحرام يمنع من حلق الرأس واللباس والطيب فيحتمل أن يكون حلق الرأس إذا حل حلت هذه الأشياء وأحتمل أن لا يحل حتى يكون الحلق فاعتبرنا ذلك فرأينا المعتمر يحرم عليه بإحرامه في عمرته ما يحرم عليه بإحرامه في حجته ثم إذا رأيناه إذا طاف بالبيت وسعى بين الصفا والمروة فقد حل له أن يحلق ولا يحل له النساء ولا الطيب ولا اللبائس حتى يحلق فلما كانت حرمة العمرة قائمة حل له أن يحلق ولا يكون إذا حل له أن يحلق في حكم من حل له ما سوى ذلك من اللبائس والطيب كان كذلك في الحجة لا يحب لما حل له الحلق فيها أن يحل له شيء مما سواه مما كان حرم عليه بها حتى يحلق قياسا ونظرا على ما أجمعوا عليه في العمرة ثم رجعنا إلى النظر بين هذين الفريقين جميعا وبين أهل المقالة الأولى الذين ذهبوا إلى حديث عكاشة فرأينا الرجل قبل أن يحرم يحل له النساء والطيب واللبائس والصيد والحلق وسائر الأشياء التي تحرم عليه بالإحرام فإذا أحرم حرم عليه ذلك كله بسبب واحد وهو الإحرام فاحتمل أن يكون كما حرمت عليه بسبب واحد أن يحل منها أيضا بسبب واحد واحتمل أن يحل منها بأشياء مختلفة إحلالا بعد إحلال فاعتبرنا ذلك فرأيناهم قد أجمعوا أنه إذا رمى فقد حل له الحلق هذا مما لا اختلاف فيه بين المسلمين وأجمعوا أن الجماع حرام عليه على حالته الأولى فثبت أنه حل مما قد كان حرم عليه بسبب واحد بأسباب مختلفة فبطل بهذه العلة التي ذكرنا فلما ثبت أن الحلق يحل له إذا رمى وأنه مباح له بعد حلق رأسه أن يحلق ما شاء من شعر بدنه ويقص أظفاره أردنا أن ننظر هل حكم ذلك أو حكمه حكم الجماع فلا يحل حتى يحل الجماع فاعتبرنا ذلك فرأينا المحرم بالحج إذا جامع قبل أن يقف بعرفة فسد حجه ورأيناه إذا حلق شعره أو قص أظفاره وجبت عليه في ذلك فدية ولم يفسد بذلك حجه ورأينا لو لبس ثيابا قبل وقوفه بعرفة لم يفسد عليه بذلك إحرامه ووجبت عليه في ذلك فدية فكان حكم اللباس قبل عرفة مثل حكم قص الشعر والأظفار لا مثل حكم الجماع فالنظر على ذلك أن يكون حكمه أيضا بعد الرمي والحلق كحكمها لا كحكم الجماع فهذا هو النظر في ذلك فإن قال قائل فقد رأينا القبلة حراما على المحرم بعد أن يحلق وهي قبل الوقوف بعرفة في حكم اللباس لا في حكم الجماع فلم لا كان اللباس بعد الحلق أيضا كهي قيل له إن اللباس بالحلق أشبه منه بالقبلة لأن القبلة هي بعض أسباب الجماع وحكمها حكمه تحل حيث يحل وتحرم حيث يحرم في النظر في الأشياء كلها والحلق واللباس ليسا من أسباب الجماع إنما هما من أسباب إصلاح البدن فحكم كل واحد منهما بحكم صاحبه أشبه من حكمه بالقبلة فقد ثبت بما ذكرنا أنه لا بأس باللباس بعد الرمي والحلق وقد قال ذلك أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم من بعده

حسن عرنی نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جب تم جمرہ عقبہ کی رمی کر لوتو عورتوں کے علاوہ تمہارے لئے ہر چیز حلال ہو جاتی ہے ان کو ایک آدمی نے پوچھا کیا خوشبوبھی ۔ تو انہوں نے فرمایا میں نے تو جناب رسول اللہﷺ کو دیکھا کہ آپ کا سرمبارک کستوری سے لت پت تھا۔ تم بتلاؤ کیاوہ خوشبو ہے؟ اس روایات حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول کہ عورتوں کے سواء ہر چیز حلال ہو گئی جب کہ جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماری ہیں‘‘ ذکر کیا ہے۔انہوں نے اس روایت سر منڈانے کا تذکرہ نہیں کیا اور اس روایت یہ بات بھی موجود ہے کہ انہوں نے جناب رسول اللہ کودیکھا کہ آپ نے سرمبارک پر کستوری لگائی مگر اس روایت میں یہ اطلاع موجودنہیں کہ آپ نے یہ عمل کس وقت کیا۔ عین ممکن ہے کہ آپ نے سرمنڈانے سے پہلے یہ فعل کیا ہواور عین ممکن ہے کہ حلق کے بعد ایسا کیا ہو ۔ زیادہ بہتر بات یہ ہے کہ اس اجمال کو اسی وضاحت پر محمول کریں جواس روایت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ میں ہے ۔ نہ کہ اس کے خلاف ۔ پس اس صورت میں یہ جمرہ کی کنکریوں اور حلق کے بعد ہو گا جیسا حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہ نے ذکر کیا۔ پھر ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میری رائے یہ ہے کہ جب رمی کر لی تو رمی سے ہی یہ حلال ہو گیا کہ وہ حلق کروائےاور اس کے لئے لباس و خوشبو درست ہو گئے ۔ یہ موقعہ غور وفکر کا ہے ۔ کہ احرام تو سرمنڈانے اور لباس پہننے اور خوشبو سے روکتا ہے ۔ پس یہ اس بات پر محمول کیا جائے کہ جب سرمنڈانا جائز ہو گیا تو تمام چیزیں اسے جائز ہوگئیں اور یہ بھی احتمال ہے کہ وہ اس وقت تک حلال نہیں جب تک حلق کر وانہیں لیتا۔ جب اس بات کو جانچا تو یہ معلوم ہوا کہ عمرہ کرنے والے پر وہی چیز یں حرام ہوتی ہیں ،جو احرام حج سے حرام ہوتی ہیں ۔ پھر دوسری بات یہ بھی پائی کہ جب اس نے طواف اور سعی صفاومر وہ کر لیا تو اسے سرمنڈانا درست ہو جا تا ہے مگر عورتیں اس کے لئے حلال نہیں ہوتیں اور نہ خوشبولگا تا اور نہ لباس پہننا جائز ہوتا ہے جب تک سر نہ منڈ والے۔ پس جب عمرہ کی حرمت قائم ہے تو حلق حلال ہو گیا ۔مگر جواز حلق سے وہ اس آ دمی کے حکم میں نہیں جس کولباس اور خوشبو جائز ہواور حج میں بھی اسی طرح ہے ۔ کہ جب حلق جائز ہوا تو اس کی وجہ سے احرام کی وجہ سے جوامور حرام ہوتے تھے وہ سب جائز نہیں ہو جاتے ۔ وہ تب حلال ہوتے ہیں جب سرمنڈالے۔ یہ اس بات پر قیاس کیا ہے جو سب کے ہاں عمرہ میں اتفاقی ہے ۔ اب ہم ان دونوں اول قول والے لوگوں کے اقوال کی طرف لوٹتے ہیں جنہوں نے حضرت عکاشہ رضی اللہ عنہ کی روایت اختیار کی ہے ۔ پس ہم نے یہ بات پائی کہ احرام سے پہلے آدمی کے لئے عورتوں کے پاس جانا، خوشبو ملنا، لباس پہننا اور شکار کرنا، سرمنڈانا اور وہ تمام اشیاءکرنا جائز ہے۔ جو احرام کی وجہ سے حرام ہو جاتی ہیں۔ پھر جب وہ احرام باندھ لیتا ہے تو ایک سبب سے اس پر یہ تمام کام حرام ہو جاتے ہیں ۔اور وہ احرام ہے۔ پس یہ احتمال ہے کہ جیسا ایک سبب سے حرام ہوتے تو ایک سبب سے حلال ہو جاتے ہیں اور یھی احتمال ہے کہ مختلف چیزوں سے حلال ہوں ہم نے اسے جانچا تو اس پر اجماع پایا کہ جب اس نے جمرہ عقبہ کی رمی کر لی تو اسکے لئے حلق جائز ہو گیا اس پرتو کسی بھی فر دمسلمان کواختلاف نہیں اور اس پرا تفاق ہے کہ پہلی حالت میں اس کے لیے جماع حرام ہے۔ پس اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ وہ امور جواس پر ایک سبب سے حرام ہوتے ہیں مختلف اسباب سے وہ ان سے حلال ہو جا تا ہے۔ اس سے مذکورہ علت باطل ہوگئی ۔ پس جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ رمی سے حلق درست ہو جا تا ہے تو سرمنڈانے کے بعد جسم کے ہر حصہ کے بال مونڈ نا جائز ہو جاتے ہیں ۔اور اسی طرح ناخن ترشوانا بھی ۔ اب ہم یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ آیا لباس کا حکم یہی ہے یا اس سے مختلف جماع کی طرح ہے ۔ کہ وہ جماع کے جواز تک جائز نہ ہوگا۔ ہم نے غور کیا کہ حج کا احرام باند ھنے والا اگر عرفات سے قبل جماع کرے تو اس کا حج فاسد ہو جا تا ہے اور یہ بھی معلوم ومعروف ہے کہ اگر وہ اپنے بال ،ناخن ترشوائے تو اس پر فدیہ ضروری ہو جائےگا مگرحج فاسد نہ ہوگا۔ اگر اس نے وقوف عرفات سے پہلے کپڑے پہن لیے تو اس سے اس کا احرام فاسد نہ ہو گا البتہ فدیہ لا زم ہو جائے گا پس معلوم ہو گیا کہ لباس کا حکم وقوف عرفات سے پہلے پہلے بال کاٹنے اور ناخن تراشنے کی طرح ہے ۔ جماع جیسانہیں تو قیاس اس بات کا متقاضی ہے کہ رمی وحلق کے بعد اس کا حکم ان دونوں جیسا ہو جماع جیسا نہ ہو قیاس کا تقاضا یہی ہے ۔ اگر کوئی شخص یہ اعتراض کرے کہ ہم جانتے ہیں کہ محرم کوحلق کے بعد بوسہ حرام ہے اور وقوف سے پہلے یہ لباس کی طرح ہے جماع کی طرح نہیں تو حلق کے بعد بھی مناسب یہ ہے کہ لباس بوسہ کے حکم جیسا ہو ۔ تو اس کے جواب میں یہ کہا جائےگا ۔ کہ لباس بوسہ کے مقابلے میں سرمنڈانے کے ساتھ زیادہ مشابہت رکھتا ہے۔ کیونکہ بوسہ اسباب جماع سے شمار ہوتا ہے تو اس کا حکم جماع کے حکم کی طرح ہوگا۔ جب وہ حلال ہو گا تو یہ بھی حلال ہوگا ۔ جب وہ حرام ہوگا تو یہ بھی حرام ہوگا اورغور وفکر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حلق اور لباس دونوں جماع کے اسباب سے نہیں بلکہ وہ درستی بدن کے من جملہ اسباب سے ہیں تو ان میں سے ہر ایک کا حکم ایک دوسرے سے ملنا زیادہ مناسب ہے بجائے اس کے کہ اسے بوسہ کے ساتھ ملائیں ۔ اس تمام بحث سے ثابت ہوگیا کہ کنکریاں مارنے اور سرمنڈانے کے بعد لباس زیب تن کرنے میں کچھ حرج نہیں۔ کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے بھی یہ منقول ہے ملاحظہ ہو۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3953

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 27 باب اللباس والطيب متى يحلان للمحرم ) · حديث 3954

3739 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو حذيفة موسى بن مسعود قال ثنا سفيان عن عمرو بن دينار عن طاوس عن بن عمر أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال إذا حلقتم ورميتم فقد حل لكم كل شيء إلا النساء والطيب

طائوس نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب تم حلق ورمی کر لو تو ہر چیز حلال ہوگئی سوائے عورتوں اور خوشبو کے۔

إذا حلقتم ورميتم فقد حل لكم كل شيء إلا النساء والطيب ← بن عمر أن عمر بن الخطاب ← طَاوْسٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3954

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 27 باب اللباس والطيب متى يحلان للمحرم ) · حديث 3955

3740 - حدثنا نصر بن مرزوق قال ثنا علي بن معبد قال ثنا إسماعيل بن جعفر عن عبد الله بن دينار عن بن عمر عن عمر رضي الله عنه مثله

عبداللہ بن دینار نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کی ہے۔

عُمَرَ مِثْلَهُ. ← بن عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3955

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 27 باب اللباس والطيب متى يحلان للمحرم ) · حديث 3956

3741 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد عن أيوب عن نافع عن بن عمر أن عمر رضي الله عنه خطب الناس بعرفة فذكر مثله

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو عرفات میں خطبہ دیا اور پھر اسی طرح روایت بیان فرمائی۔

بن عمر أن عمر خطب الناس بعرفة فذكر مثله ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3956

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 27 باب اللباس والطيب متى يحلان للمحرم ) · حديث 3957

3742 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا قبيصة قال ثنا سفيان عن بن جريج وموسى عن نافع عن بن عمر أنه كان يأخذ من أظفاره وشاربه ولحيته يعني قبل أن يزور فهذا عمر رضي الله عنه قد أباح لهم إذا رموا وحلقوا كل شيء الا النساء والطيب وقد خالفته عائشة رضي الله عنها وابن عباس رضي الله عنهما وابن الزبير في الطيب خاصة فاما عائشة رضي الله عنها وابن عباس فقد روينا ذلك عنهما فيما تقدم من هذا الباب وأما بن الزبير

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ وہ اپنے ناخن کاٹتے اور مونچھوں کو کاٹتے اور داڑھی کے ( زائد ) بال طواف زیارت سے پہلے کاٹتے۔ یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہیں جو ان کے لئے رمی جمرہ عقبہ اور حلق کے بعد عورتوں اور خوشبو کے علاوہ ہر چیز کو حلال قرار دے رہے ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ، ابن زبیر اور ابن عباس رضی اللہ عنہ خوشبو کے سلسلہ میں ان سے اختلاف کیا ہے ۔ عائشہ صدیقہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایات گزرچکیں۔ ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی روایت ذیل میں ہے۔

نَافِعٍ ← بن جريج وموسى ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ، ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3957

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 27 باب اللباس والطيب متى يحلان للمحرم ) · حديث 3958

3743 - فحدثنا محمد بن خزيمة وفهد قالا ثنا عبد الله بن صالح قال حدثني الليث قال حدثني بن الهاد عن يحيى بن سعيد عن القاسم بن محمد قال سمعت عبد الله بن الزبير يقول إذا رمى الجمرة الكبرى فقد حل له ما حرم عليه إلا النساء حتى يطوف بالبيت وقد روى عن بن عمر ما يدل على هذا أيضا

قاسم بن محمد نے عبداللہ زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے جب جمرہ عقبہ کی رمی کر لی گئی تو عورتوں کے علاوہ ہر چیز اس کو حلال ہو گئی اور وہ طواف زیارت کے بعد حلال ہوں گی اور ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ایسی باتیں مروی ہیں جو اس پر بھی دلالت کرتی ہیں۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← بْنِ الْهَادِ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← محمد بن خزيمة وفهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3958

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 27 باب اللباس والطيب متى يحلان للمحرم ) · حديث 3959

3744 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو حذيفة قال ثنا سفيان قال ثنا عمرو بن دينار عن طاوس عن بن عمر قال قال عمر رضي الله عنه فذكر مثل الذي رويناه عنه في الفصل الذي قبل هذا قال فقالت عائشة رضي الله عنها كنت أطيب رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا رمى جمرة العقبة قبل أن يفيض فسنة رسول الله صلى الله عليه و سلم أحق أن يؤخذ بها من سنة عمر والنظر بعد ذلك في هذا يدل على ذلك أيضا لأن حكم الطيب بحكم اللباس أشبه من حكمه بحكم الجماع لما قد فسرنا مما تقدم في هذا الباب وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رضي الله عنهم وقد روي ذلك أيضا عن جماعة من التابعين

طاؤس نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر جو پہلے او پر روایت گزری اسی طرح انہوں نے فرمایا: تو یہ سن کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں جناب رسول اللہﷺ کورمی جمرہ عقبہ کے بعد اور مکہ کی طرف روانگی سے پہلے خوشبو لگاتی تھی ۔ تو ابن عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ سنت رسول اللہﷺ وہ جناب عمر رضی اللہ عنہ کے فعل سے زیادہ اتباع کی حقدار ہے۔اس سلسلہ میں نظر وفکر بھی دلالت کرتے ہیں کیونکہ خوشبو کاحکم لباس کے ساتھ جماع کی نسبت زیادہ مشابہت رکھتا ہے ۔ جیسا کہ ہم نے اس باب میں پہلے تفسیر کی ہے ۔ یہ امام ابوحنیفہ، ابو یوسف ومحمد رحمہم اللہ کا قول ہے اور یہ قول تابعین کی ایک جماعت سے بھی منقول ہے۔ اور تقاضائےنظر میں بھی خوشبو کالباس کے ساتھ زیادہ مشابہ ہونا ہم بیان کر چکے ہیں۔ یہی قوم ابوحنیفہ،ابو یوسف،محمد رحمہم اللہ کا قول ہے۔ اور تابعین کی ایک جماعت کا قول بھی یہی ہے۔

مثل الذي رويناه عنه في الفصل الذي قبل هذا ← عُمَرَ، ← بن عُمَرَ ← طَاوْسٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3959

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 27 باب اللباس والطيب متى يحلان للمحرم ) · حديث 3960

3745 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عامر العقدي قال ثنا أفلح بن حميد عن أبي بكر بن حزم قال دعانا سليمان بن عبد الملك يوم النحر أرسل الى عمر بن عبد العزيز والقاسم بن محمد وسالم بن عبد الله وعبد الله بن عبد الله بن عمر وخارجة بن زيد وابن شهاب فسألهم عن الطيب فهذا اليوم قبل أن يفيض فقالوا أتتطيب يا أمير المؤمنين إلا أن عبد الله بن عبد الله قال كان عبد الله بن عمر رجلا قد رأى محمد صلى الله عليه و سلم فكان إذا رمى جمرة العقبة أناخ فنحر وحلق ثم مضى مكانه فأفاض إلى البيت

ابوبکر بن حزم کہتے ہیں کہ ہمیں سلیمان بن عبد الملک نے یوم نحرکو بلایا اور عمر بن عبدالعزیز ،قاسم بن محمد، سالم بن عبداللہ، عبداللہ بن عبداللہ ،عبداللہ بن عمر اور خارجہ بن زید، ابن شہاب رحمہم اللہ کو بلایا اور ان سب سے دریافت کیا کہ طواف زیارت کے لئے جانے سے قبل خوشبو کا کیا حکم ہے انہوں نے کہا۔ سب نے کہا آپ خوشبو لگائیں یعنی سب نے اثبات میں جواب دیا مگر عبداللہ بن عبداللہ نے کہا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ وہ آدی تھے جنہوں نے جناب رسول اللہﷺ کو دیکھا کہ جب آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کر لی تو ا پنی سواری کو بٹھایا۔ پھر آپ نے قربانی کی اورحلق کرایا پھراپنی جگہ تشریف لے گئے اور بیت اللہ کی طرف روانہ ہوئے۔ یعنی خوشبونہیں لگائی

الطيب فهذا اليوم قبل ← ابن شهاب فسألهم ← خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← دعانا سليمان بن عبد الملك يوم النحر أرسل الى عمر بن عبد العزيز ← أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، ← أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3960

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 27 باب اللباس والطيب متى يحلان للمحرم ) · حديث 3961

3746 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن يحيى بن سعيد وعبد الله بن أبي بكر وربيعة بن أبي عبد الرحمن أن الوليد بن عبد الملك سأل سالم بن عبد الله وخارجة بن زيد بن ثابت بعد أن رمى جمرة العقبة وحلق عن الطيب فنهاه سالم ورخص له خارجة

ربیعہ بن ابوعبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ولید بن عبدالملک نے سالم بن عبداللہ ،خارجہ بن زید بن ثابت سے پوچھا کہ حلق ورمی جمرہ عقبہ کے بعد خوشبو کا کیا حکم ہے تو سالم نے منع کیا اور خارجہ نے اجازت دی مگر سالم کا یہ فتویٰ او پر والے سالم کے فتویٰ کے خلاف ہے البتہ خارجہ کا اس کے مطابق ہے۔ اس باب میں فریق ثالث کا مؤقف دلیل ونظر دونوں کے لحاظ سے مضبوط ہے۔ طحاویؒ نے اس کو دونظروں اور تابعین کے فتاویٰ سے مزید پختہ کیا ہے۔

بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3961

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter