شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 26 باب التلبية متى يقطعها الحاج ) · حديث 3939
3726 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا وهب قال ثنا شعبة عن أبي إسحاق عن عبد الرحمن بن يزيد قال كنت مع عبد الله بعرفة فلبى عبد الله فلم يزل عبد الله يلبي حتى رمى جمرة العقبة فقال رجل من هذا الذي يلبي في هذا الموضع قال وقال عبد الله في تلبيته شيئا ما سمعته من أحد لبيك عدد التراب ففي هذه الآثار أن عمر رضي الله عنه كان يلبي بعرفة وهو على المنبر وأن عبد الله بن الزبير فعل ذلك من بعده لما أخبره الأسود به عن عمر رضي الله عنه ولم ينكر ذلك أحد من أهل الآفاق فذلك إجماع وحجة وهذا عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قد فعل ذلك فثبت بفعل من ذكرنا لموافقتهم رسول الله صلى الله عليه و سلم في فعله ذلك أن التلبية في الحج لا تنقطع حتى ترمى جمرة العقبة وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ میں عبداللہ کے ساتھ عرفات میں موجود تھا عبداللہ نے تلبیہ کہا اور وہ تلبیہ پڑھتے رہے یہاں تک کہ جمرہ عقبہ کے پاس آئےایک آدمی کہنے لگا یہاں یہ تلبیہ پڑھنے والا کون ہے؟ عبداللہ نے اپنے تلبیہ میں ایسی چیز کہی جو میں نے کسی سے نہیں سنی وہ یہ کلمات تھے : لبیک عد دالتراب ان روایات میں یہ بات موجود ہے کہ جناب عمررضی اللہ عنہ عرفہ میں منبر پر تلبیہ کہتے تھے اور ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے بھی معلوم ہونے پر اس عمل کو اپنایا جب کہ حضرت اسودرحمہ اللہ نے ابن زبیررضی اللہ عنہ کو یہ بتلایا تو اطراف والوں میں سے کسی شخص نے ان پر اعتراض نہ کیا پس یہ جماع اور مستقل دلیل ہے ۔ یہ ابن مسعودرضی اللہ عنہ ہیں جنہوں نے یہی طر زاختیار کیا۔ تو جن لوگوں کا ہم نے تذکرہ کیا تو چونکہ انہوں نے جناب رسول اللہﷺ کی موافقت کی ہے ۔ پس ان کے عمل نے یہ ثابت کر دیا کہ جمرہ عقبہ کی کنکریاں یوم نحر کے دن مارنے تک تلبیہ کوترک نہ کیا جائے ۔ چنانچہ امام بوحنیفہ ابو یوسف ومحمد رحمہم اللہ کا قول یہی ہے۔
عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← بن مرزوق
Hadith 3939
