Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 26 باب التلبية متى يقطعها الحاج ) · حديث 3927

3714 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا بشر بن عمر الزهراني قال ثنا شعبة قال أخبرني الحكم عن إبراهيم عن عبد الرحمن بن يزيد قال حججت مع عبد الله فلما أفاض إلى جمع جعل يلبي فقال رجل أعرابي فقال عبد الله أنسي الناس أم ضلوا ثم لبى حتى رمى جمرة العقبة

عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ کے ساتھ حج کیا جب وہ مزدلفہ کی طرف روانہ ہوئےتو تلبیہ پڑھنے لگے ۔ایک بدو نے کہا تو عبداللہ کہنے لگے کیالوگ بھول گئے یا گمراہ ہو گئے ۔ پھرانہوں نے تلبیہ کہا یہاں تک کہ جمرہ عقبہ کی رمی کی ۔

رجل أعرابي ← حججت مع عبد الله فلما أفاض إلى جمع جعل يلبي ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← بِشْرُ بْنُ عُمَرَ الزَّهْرَانِيُّ، ← بن مرزوق

Hadith 3927

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 26 باب التلبية متى يقطعها الحاج ) · حديث 3928

3715 - حدثنا فهد قال ثنا أحمد بن حميد الكوفي قال ثنا عبد الله بن المبارك عن الحارث بن أبي ذهاب عن مجاهد عن عبد الله بن سخبرة قال لبى عبد الله وهو متوجه إلى عرفات فقال أناس من هذا الأعرابي فالتفت إلى عبد الله فقال أضل الناس أم نسوا والله ما زال رسول الله صلى الله عليه و سلم يلبي حتى رمى الجمرة إلا أن يخلط ذلك بتهليل أو تكبير

مجاہد نے عبداللہ بن سخرہ سے روایت کی کہ عبداللہ نے اس وقت تلبیہ کہا جب کہ وہ عرفات کی طرف جا رہے تھے۔ کچھ لوگوں نے کہا یہ بد وکون ہے؟ میں عبداللہ کی طرف متوجہ ہوا تو انہوں نے کہا کیا لوگ بھول گئے یا گمراہ ہو گئے ؟ اللہ کی قسم رسول اللہ ﷺ جمر وعقبہ کی رمی تک تلبیہ کہتے رہے ۔البتہ کبھی تہلیل اور تکبیر بھی ملا لیتے تھے۔

أناس من هذا الأعرابي فالتفت إلى عبد الله ← لبى عبد الله وهو متوجه إلى عرفات ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَخْبَرَةَ ← مُجَاهِدٍ ← الحارث بن أبي ذهاب ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← أحمد بن حميد الكوفي ← فهد

Hadith 3928

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 26 باب التلبية متى يقطعها الحاج ) · حديث 3929

3716 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا أبو مصعب قال ثنا الدراوردي عن الحارث بن أبي ذهاب عن مجاهد المكي عن بن سخبرة قال غدوت مع بن مسعود غداة جمع وهو يلبي فقال بن مسعود رضي الله عنه أضل الناس أم نسوا أشهد لكنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم فلبى حتى رمى جمرة العقبة

مجاہد مکی نے ابن سخبر ہ سے روایت کی ہے کہ میں صبح سویرے مزدلفہ کی صبح کو عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو تلبیہ پڑھ رہے تھے اس پر ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا لوگ بھول گئے یا گمراہ ہو گئے میں گواہی دیتا ہوں کہ ہم جناب رسول اللہﷺ کے ساتھ تھے آپ تلبیہ کہتے رہے یہاں تک کہ جمرہ عقبہ کے پاس آئے۔

غدوت مع بن مسعود غداة جمع وهو يلبي ← بن سخبرة ← مجاهد المكي ← الحارث بن أبي ذهاب ← الدَّرَاوَرْدِيُّ ← أَبُو مُصْعَبٍ ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Hadith 3929

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 26 باب التلبية متى يقطعها الحاج ) · حديث 3930

3717 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا عاصم بن علي قال ثنا أبو الأحوص عن حصين عن كثير بن مدرك عن عبد الرحمن بن يزيد قال قال عبد الله بن مسعود ونحن بجمع سمعت الذي أنزلت عليه سورة البقرة يلبي في هذا المكان لبيك اللهم لبيك

عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہنے لگے جبکہ ہم مزدلفہ میں تھے میں نے جناب رسول اللہﷺ کو اس جگہ لبیک اللہم لبیک کہتے سنا۔ اس وقت سورہ بقرہ کی بعض آیات اتاری گئیں ۔

الذي أنزلت عليه سورة البقرة يلبي في هذا المكان لبيك اللهم لبيك ← عبد الله بن مسعود ونحن بجمع ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← کَثِيرِ بْنِ مُدْرِکٍ ← حُصَيْنٍ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← علي بن شيبة

Hadith 3930

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 26 باب التلبية متى يقطعها الحاج ) · حديث 3931

3718 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا الحسين بن عبد الأول الأحول قالا ثنا يحيى بن آدم قال ثنا سفيان عن حصين ثم ذكر مثله بإسناده

یحییٰ بن آدم سفیان سے انہوں نے حصین سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے روایت نقل کی ہے۔

مثله بإسناده ← حصين ثم ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← الحسين بن عبد الأول الأحول ← بن أبي داود

Hadith 3931

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 26 باب التلبية متى يقطعها الحاج ) · حديث 3932

3719 - حدثنا علي بن عبد الرحمن قال ثنا يحيى بن معين قال ثنا وهب بن جرير قال ثنا أبي قال سمعت يونس عن الزهري عن عبيد الله بن عبد الله عن بن عباس رضي الله عنهما قال كان أسامة بن زيد ردف النبي صلى الله عليه و سلم من عرفة إلى المزدلفة ثم أردف الفضل بن عباس رضي الله عنهما من مزدلفة إلى منى فكلاهما قالا لم يزل رسول الله صلى الله عليه و سلم يلبي حتى رمى جمرة العقبة فقد جاءت هذه الآثار عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه كان يلبي حتى رمى جمرة العقبة وصح مجيئها ولم يخالفها عندنا ما قدمناه في أول هذا الباب لما قد شرحنا وبينا وهذا الفضل بن عباس رضي الله عنهما فقد كان رديف رسول الله صلى الله عليه و سلم حين دفع من عرفة وقد رأى رسول الله صلى الله عليه و سلم بعرفة يلبي حينئذ وبعد ذلك وقد ذكرنا عن أسامة أنه قال كنت رديف رسول الله صلى الله عليه و سلم بعرفة فلم يكن يزيد على التهليل والتكبير فدلت تلبيته بعرفة أنه كان له أن يلبي أيضا بعرفة وأنه إنما كان تكبيره وتهليله بعرفة كما كان له قبلها لا أن يجعل مكان التلبية تهليلا وتكبيرا ألا ترى الى قول عبد الله في حديث مجاهد لبى رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى رمى جمرة العقبة إلا أنه ربما كان خلط ذلك بتكبير وتهليل فأخبر عبد الله أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد كان يخلط التكبير بالتهليل وكان التهليل والتكبير لا يدلان على أن لا تلبية في وقتها والتلبية في ذلك الوقت تدل على أن ذلك الوقت كان وقت تلبيته فثبت بتصحيح هذه الآثار أن وقت التلبية الى أن يرمي جمرة العقبة يوم النحر فإن قال قائل فقد روي عن أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم خلاف ما صححتم عليه هذه الآثار وذكر ما

عبیداللہ بن عبداللہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ جناب نبی اکرمﷺ کے پیچھے بیٹھے تھے جبکہ آپﷺ عرفات سے مزدلفہ تشریف لے جار ہے تھے۔ پھر آپ نے فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کو مز دلفہ سے منیٰ تک پیچھے بٹھا لیا۔ دونوں نے بتلایا کہ جناب رسول اللہﷺ جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ کہتے رہے۔ جناب رسول اللہﷺ سے یہ ثابت ہور ہا ہے کہ جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے تک آپ تلبیہ پڑھتے رہے اور یہ روایات صحیح و درست ہیں اور وہ روایات جو شروع باب میں آئی ہیں اور ہم نے ان کی وضاحت کی ہے ۔ وہ اس کے خلاف نہیں ۔ فضل بن عباس رضی اللہ عنہ ہیں جو کہ جناب رسول اللہﷺ کے پیچھے سوار تھے جب کہ آپ عرفات سے روانہ ہوئے۔ انہوں نے جناب رسول اللہﷺ کو عرفات کے اس موقعہ پر اور بعد میں بھی تلبیہ کہتے سنا اور ہم نے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کی ہے کہ میں عرفات میں جناب رسول اللہﷺ کی سواری پر پیچھے بیٹھا ہوا تھا اور آپ اس وقت صرف تکبیرو تہلیل کہہ رہے تھے اور عرفہ کے بعد آپ کا تلبیہ کہنا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ عرفات میں بھی تلبیہ کہہ سکتے تھے اور آپ کا عرفات میں تکبیرو تہلیل اسی طرح تھا جیسا کہ آپ سے پہلے کہتے تھے ایسا نہیں کہ آپ نے تکبیرو تہلیل تلبیہ کی جگہ کہی۔ کیا تم دیکھتے کہ وہ فرماتے ہیں جناب رسول اللہﷺ جمرہ عقبہ کی کنکریاں مارنے تک تلبیہ کہتے رہے۔ البتہ بعض اوقات درمیان میں تکبیر وتہلیل کہتے تھے۔ تو اس میں حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے اس بات کی اطلاع دی ہے کہ جناب رسول اللہﷺ بھی تکبیر کوتہلیل سے ملا دیتے تھے اور میں اس بات کی دلالت نہیں کہ اس وقت میں تلبیہ نہیں ہے اورتلبیہ کا وجود یہ ثابت کر تا ہے کہ یہ تلبیہ کا وقت ہے۔ پس ان آ ثار کی تصحیح سے معلوم ہوگیا کہ یوم نحرکو جمرہ عقبہ کنکریاں مارنے تک تلبیہ کا وقت ہے۔اگر کوئی معترض کہے کہ اصحاب رسول اللہﷺ سے ان روایات کے خلاف روایات بھی وارد ہیں جوذیل میں درج ہیں ۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← علي بن عبد الرحمن

Hadith 3932

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 26 باب التلبية متى يقطعها الحاج ) · حديث 3933

3720 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا بن أبي مريم قال أنا موسى بن يعقوب عن مصعب بن ثابت عن عمه عامر بن عبد الله بن الزبير عن أبيه أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه كان يهل يوم عرفة حتى يروح

عامر بن عبداللہ بن زبیر نے اپنے والد سے نقل کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ لا الہ الا اللہ عرفہ کے دن پڑھتے رہتے یہاں تک کہ وہاں سے لوٹتے ۔

أبيه أن عمر بن الخطاب كان يهل يوم عرفة حتى يروح ← عمه عامر بن عبد الله بن الزبير ← مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ، ← مُوسَى بْنِ يَعْقُوبَ، ← بن اَبِیْ مَرْیَمَ ← بن أبي داود

Hadith 3933

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 26 باب التلبية متى يقطعها الحاج ) · حديث 3934

3721 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن عبد الرحمن بن القاسم عن أبيه عن عائشة رضي الله عنها أنها كانت تترك التلبية إذا راحت إلى الموقف فمن الحجة عليهم لأهل المقالة الأخرى أن القاسم لم يخبر في حديثه الذي رويناه عنه عن عائشة رضي الله عنها أنها قالت إن التلبية تنقطع قبل الوقوف بعرفة وإنما أخبر عن فعلها فقال كانت تترك التلبية إذا راحت إلى الموقف فقد يجوز أن تكون كانت تفعل ذلك لا على أن وقت التلبية قد انقطع ولكن لأنها تأخذ فيما سواها من الذكر من التكبير والتهليل كما لها أن تفعل ذلك قبل يوم عرفة أيضا ولا يكون ذلك دليلا على انقطاع التلبية وخروج وقتها وكذلك ما رواه عبد الله بن الزبير عن عمر رضي الله عنه في ذلك أيضا وهو مثل هذا وقد

عبدالرحمٰن بن قاسم نے عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ وہ جب مؤقف عرفات کی طرف روانہ ہوتیں تو تلبیہ چھوڑ دیتیں ۔ان کے خلاف دوسرے قول والوں کی دلیل یہ ہے کہ قاسم رحمہ اللہ نے اپنی اس روایت میں یہ بات نہیں بتلائی کہ ’’وقوف عرفات سے پہلے تلبیہ قطع کر دیاجائے۔صرف حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہ کے فعل کا ذکر کیا گیا ہے اور کہا کہ جب حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہ مؤقف کی طرف جاتیں تو تلبیہ ترک کر دیتیں ۔عین ممکن ہے کہ آپ یہ عمل اس لئے نہ کرتی ہوں کہ تلبیہ کاوقت ختم ہوگیا بلکہ اس کے علاوہ تکبیرو تہلیل اذکارکواختیار کرتی تھیں جیسا کہ عرفہ کے دن سے پہلے آپ کر سکتی تھیں ۔ پس یہ ترک تلبیہ اور اس کے وقت چلے جانے کا ثبوت نہیں ہے ۔اس طرح ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے جونقل کیاوہ بھی اس کیمثل ہے۔ ملاحظہ ہو ۔

بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Hadith 3934

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 26 باب التلبية متى يقطعها الحاج ) · حديث 3935

3722 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا يزيد بن هارون قال أنا محمد بن إسحاق عن عبد الرحمن بن الأسود قال حججت مع الأسود فلما كان يوم عرفة وخطب بن الزبير بعرفة فلما لم يسمعه يلبي صعد اليه الأسود فقال ما يمنعك أن تلبي فقال أو يلبي الرجل إذا كان في مثل مقامك هذا قال الأسود نعم سمعت عمر بن الخطاب رضي الله عنه يلبي في مثل مقامك هذا ثم لم يزل يلبي حتى صدر بعيره عن الموقف قال فلبى بن الزبير

عبدالرحمٰن بن اسود کہتے ہیں کہ میں نے اسود کے ساتھ حج کیا جب عرفہ کا دن آیا اور ابن زبیررضی اللہ عنہ نے عرفات میں خطبہ دیا جب اسود نے ان سے تلبیہ نہ سنا تو اسودان کی طرف گئے اور کہنے لگے تلبیہ کیوں نہیں کہتے؟ تو انہوں نے کہا کیا آدی اس مقام پر بھی تلبیہ کہے گا ؟ تو اسود کہنے لگے جی ہاں۔ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اس مقام پرتلبیہ کہتے سنا پھر وہ مؤقف سے لوٹنے تک تلبیہ کہتے رہتے ۔ یہ بات سن کر ابن زبیر تلبیہ پڑھنے لگے

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← علي بن شيبة

Hadith 3935

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 26 باب التلبية متى يقطعها الحاج ) · حديث 3936

3723 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا سعيد بن عامر عن صخر بن جويرية عن عبد الرحمن بن الأسود قال سمعت بن الزبير يخطب يوم عرفة فقال إن هذا يوم تسبيح وتكبير وتهليل فسبحوا وكبروا فجد إلي يعني الأسود يحرش الناس حتى صعد اليه وهو على المنبر فقال أشهد على عمر رضي الله عنه أنه لبى على المنبر في هذا اليوم فقال بن الزبير لبيك اللهم لبيك أفلا ترى أن الأسود لما أخبر بن الزبير بتلبية عمر رضي الله عنه في مثل يومه ذلك قبل ذلك منه وأخذ به فلبى ولم يقل له بن الزبير إني قد رأيت عمر رضي الله عنه لا يلبي في هذا اليوم على ما قد رواه عامر بن عبد الله عن أبيه عن عمر رضي الله عنه ولكن بن الزبير إنما حضر من عمر ترك التلبية يومئذ ولم يخبره عمر أن ذلك الترك إنما كان منه لخروج وقت التلبية فكان ذلك عند بن الزبير لخروج وقت التلبية فلما أخبره الأسود عن عمر رضي الله عنه بأنه لبى يومئذ علم بن الزبير أن ذلك الوقت الذي لم يكن عمر رضي الله عنه لبى فيه وقت للتلبية وأن ذلك الترك الذي كان من عمر إنما كان لغير خروج وقت التلبية فتوهم بن الزبير هو أنه لخروج وقت التلبية وليس كذلك فلبى ورآى أن ما أخبره به الأسود عن عمر من تلبيته أولى مما رآه هو منه في ترك التلبية

عبدالرحمن بن اسود کہتے ہیں کہ میں نے ابن الز بیر کو سنا کہ وہ عرفہ کے دن خطبہ دے رہے ہیں اس میں فرمانے لگے یہ تسبیح تہلیل کا دن ہے اس میں تسبیح وتہلیل خوب کرو ۔ لوگوں کو چیرتے ہوئے جلدی سے اسود میری طرف بڑھے یہاں تک کہ منبر پر چڑھ گئے اس وقت ابن زبیر رضی اللہ عنہ بھی منبر پر تھے اور کہنے لگے۔ میں عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق گواہی دیتا ہوں کہ وہ آج کے دن منبر پر بھی تلبیہ کہتے تھے ۔ ابن الز بیر رضی اللہ عنہ یہ سن کر کہنے لگے لبیک اللہم لبیک ۔کیاتم یہ معلوم نہیں کرر ہے کہ جب اسودرحمہ اللہ نے ابن زبیر رضی اللہ عنہ کوصرف عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق بتلایا کہ اس جیسے دن میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ تلبیہ کہتے تھے اور ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے ان کی بات کو قبول کرلیا اور تلبیہ کہا، ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے اسود کو یہ نہیں کہا کہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے تلبیہ نہیں کہا۔ جیسا کہ عامر بن عبد اللہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا مگر ابن زبیر رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس اس وقت حاضرہوئے جب انہوں نےتلبیہ ترک کیا اور حضرت عمررضی اللہ عنہ نے ان کو یہ نہیں بتلایا کہ میں نے اس کا وقت ختم ہونے کی وجہ سے تلبیہ ترک کیا ہے ۔ ابن زبیر رضی اللہ عنہ ٰ کے ہاں یہ تلبیہ کا وقت نکل جانے کے سبب ترک تھا ۔ پس جب اسود رحمہ اللہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق یہ اطلاع دی کہ آپ نے اس دن بھی تلبیہ کہا ہے ۔ تو ابن زبیررضی اللہ عنہ کو معلوم ہو گیا کہ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے اس وقت تلبیہ نہیں کہا یہ وقت تلبیہ کا ہے اوران کے ترک تلبیہ کی وجہ خروج وقت نہیں بلکہ دوسری وجہ تھی ۔ابن زبیررضی اللہ عنہ کو وقتی طور پر نہ پڑھنے سے یہ خیال ہوا کہ وہ ترک وقت تلبیہ کے نکل جانے کی بناء پر ہے حالانکہ ایسا نہیں تھا پس انہوں نے تلبیہ کہا انہوں نے سمجھ لیا کہ اسودرحمہ اللہ نے جوعمررضی اللہ عنہ کے تلبیہ سے متعلق فرمایا ہے۔ وہ اس روایت سے جوترک تلبیہ سے متعلق اسودؒ کا قول اولی ہے۔ روایت ذیل میں ملاحظہ ہو۔

بن الزبير يخطب يوم عرفة ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، ← صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Hadith 3936

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 26 باب التلبية متى يقطعها الحاج ) · حديث 3937

3724 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا يزيد بن هارون قال أنا إسماعيل بن أبي خالد عن وبرة قال صعد الأسود بن يزيد إلى بن الزبير وهو على المنبر يوم عرفة فساره بشيء ثم نزل الأسود ولبى بن الزبير فظن الناس أن الأسود أمره بذلك

و برہ کہتے ہیں کہ اسود بن یزید ابن الزبیر کے منبر پر بیٹھنے کی حالت میں منبر پر چڑھے اور بی عرفہ کے دن کی بات ہے اور ان کے کان میں کوئی بات کہی پھر اسود نیچے اترے اور ابن الزبیر رضی اللہ عنہ نے تلبیہ شروع کر دیالوگوں نے خیال کیا کہ اسود نے ان کو اس بات کا حکم دیا ہے۔

وَبَرَةَ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← علي بن شيبة

Hadith 3937

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 26 باب التلبية متى يقطعها الحاج ) · حديث 3938

3725 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد عن قيس بن سعد عن عطاء عن بن عباس قال سمعت عمر بن الخطاب رضي الله عنه يلبي غداة المزدلفة

عطاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میں نے عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کومز دلفہ کی صبح تلبیہ پڑھتے دیکھا۔

عمر بن الخطاب يلبي غداة المزدلفة ← بْنِ عَبَّاسٍ ← عَطَاءٍ، ← قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ، ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Hadith 3938

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter