شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 17 باب من أحرم بحجة فطاف لها قبل أن يقف بعرفة ) · حديث 3827
3622 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا يعقوب بن حميد بن كاسب قال ثنا عبد الله بن رجاء عن عبيد الله عن نافع عن بن عمر رضي الله عنهما قال خرجنا مع النبي صلى الله عليه و سلم حجاجا فما حللنا من شيء أحرمنا به حتى كان يوم النحر فمن الحجة على من أحتج بهذا أن بكر بن عبد الله قد روى عن بن عمر رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه و سلم وأصحابه قدموا مكة ملبين بالحج فقال من شاء أن يجعلها عمرة فليفعل إلا من كان معه الهدي وقد ذكر ذلك بإسناده في هذا الباب ففي هذا أن رسول الله صلى الله عليه و سلم جعل لهم أن يحلوا إن شاءوا إلا أنه عزم عليهم بذلك فيجوز أن يكونوا لم يحلوا وقد كان لهم أن يحلوا فقد عاد ذلك الى فسخ الحج لمن شاء أن يفسخه الى عمرة وقد روي عن عائشة رضي الله عنها أيضا في ذلك ما
نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ہم جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کی معیت میں نکلے ہم حج کا ارادہ رکھتے تھے ہم نے کوئی احرام نہیں کھولا یہاں تک کہ نحر کا دن آیا ۔ جن حضرات نے روایت بالا کو اپنے استدلال میں پیش کیا ان کے خلاف دلیل یہ ہے کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ اور آپ کے اصحاب مکہ میں حج کا تلبیہ کہتے ہوئے داخل ہو ئے تو آپ نے فرمایا جو پسند کرے اس کو عمرہ بنا لے البتہ وہ شخص جس کے ساتھ ہدی کا جانور ہو اور یہ روایت اپنی اسناد کے ساتھ اسی باب میں مذکور ہو چکی ۔ اس روایت میں یہ بھی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے ان کے یہ مقرر فرمایا کہ اگر وہ پسند کریں تو حلال ہو جائیں بلکہ آپ نے ان پر یہ بات موکد کر دی پس یہ کہنا بھی درست ہے کہ انہوں نے احرام نہ کھولا اور ان کے لیے احرام کھولنا درست تھا تو یہ بات حج کے نسخ ہی کی طرف لوٹی کہ جو چاہے اسے نسخ کر ے اور عمرہ بنا لے اور اس سلسلہ میں حضر ت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت آئی ہے ۔ ذیل میں ملاحظہ ہو ۔
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3827
