Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 15 باب ما يستلم من الأركان في الطواف ) · حديث 3765

3563 - حدثنا فهد قال ثنا أحمد بن يونس قال ثنا زهير بن معاوية قال ثنا أبو الزبير عن جابر بن عبد الله قال كنا نستلم الأركان كلها

ابو الزبیر نے جابر بن عبداللہ سے نقل کیا کہ ہم تمام ارکان کا استلام کیا کرتے تھے ۔

كنا نستلم الأركان كلها ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3765

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 15 باب ما يستلم من الأركان في الطواف ) · حديث 3766

3564 - وحدثنا أحمد بن داود قال ثنا يعقوب بن حميد قال ثنا وكيع عن إبراهيم بن طهمان عن أبي الزبير عن جابر رضي الله عنه مثله قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن من طاف بالبيت فينبغي له أن يستلم أركانه كلها واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لا ينبغي أن يستلم من الأركان في الطواف غير الركنين اليمانيين واحتجوا في ذلك بما

ابو الزبیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ علماء کی ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ جو شخص بیت اللہ شریف کا طواف کرے اسے چاہیے کہ وہ اس کے تمام ارکان کوبوسہ دیا اور انہوں نے اس کی دلیل میں مذکورہ بالا روایات کو پیش کیا ۔ مگر علماء کی دوسری جماعت نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا طواف میں دو یمانی ارکان کو بوسہ دیا جائے گا اور انہوں نے ذیل کی روایات سے استدلال کیا ہے ۔

جابر مثله ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← وَكِيعٌ، ← يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3766

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 15 باب ما يستلم من الأركان في الطواف ) · حديث 3767

3565 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عاصم عن بن أبي داود عن نافع عن بن عمر رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لم يكن يمر بهذين الركنين الأسود واليماني إلا استلمهما في الطواف ولا يستلم هذين الآخرين

نافع نے ابن عمررضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کا گزر طواف میں جب رکن حجر اور یمانی کے پاس سے ہوتا تو آپ ان کا استلام فرماتے اور دوسرے دو ارکان کا استلام نہ فرماتے تھے ۔

بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← بن أبي داود ← أَبُو عَاصِمٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3767

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 15 باب ما يستلم من الأركان في الطواف ) · حديث 3768

3566 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا أبو عاصم فذكر بإسناده مثله

یزید بن سنان نے ابو عاصم سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے روایت ذکر کی ہے ۔

أبو عاصم فذكر بإسناده مثله ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3768

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 15 باب ما يستلم من الأركان في الطواف ) · حديث 3769

3567 - حدثنا يزيد وابن مرزوق قالا ثنا أبو الوليد الطيالسي ح

یزید اور ابن مرزوق دونوں نے ابو الولید طیالسی سے روایت کی ہے ۔

أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← يزيد وابن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3769

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 15 باب ما يستلم من الأركان في الطواف ) · حديث 3770

وحدثنا يزيد بن سنان قال ثنا الليث عن بن شهاب عن سالم عن أبيه قال لم أر رسول الله صلى الله عليه و سلم يمسح من البيت إلا الركنين اليمانيين

ابن شہاب نے سالم سے انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کو بیت اللہ شریف کے دو ارکان یمانی کے علاوہ کسی رکن کو ہاتھ لگاتے نہیں دیکھا ۔

أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← بن شِهَابٍ ← اللَّيْثُ ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3770

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 15 باب ما يستلم من الأركان في الطواف ) · حديث 3771

3568 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب قال أخبرني يونس عن بن شهاب عن سالم عن أبيه قال لم يكن رسول الله صلى الله عليه و سلم يستلم من أركان البيت إلا الركن الأسود والذي يليه من نحو دار الجمحيين

سالم نے اپنے والد سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ ارکان بیت اللہ میں سے رکن اسود اور جو رکن وار جمحین کے قریب ہے (رکن یمانی ) ان کا استلام فرماتے تھے ۔

أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← بن شِهَابٍ ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3771

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 15 باب ما يستلم من الأركان في الطواف ) · حديث 3772

3569 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا بن وهب عن الليث عن بن شهاب فذكر بإسناده مثله

لیث نے ابن شہاب سے پھر انہوں نے اپنی سند سے روایت نقل کی ہے ۔

بن شهاب فذكر بإسناده مثله ← اللَّيْثُ ← بن وَهْبٍ ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3772

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 15 باب ما يستلم من الأركان في الطواف ) · حديث 3773

3570 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن سعيد بن أبي سعيد المقبري عن عبيد بن جريج أنه قال لعبد الله بن عمر رضي الله عنهما رأيتك لا تمس من الأركان إلا اليمانيين فقال رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم لا يمس من الأركان إلا اليمانيين

عبید بن جریح نے عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ کو کہا تم صرف دویمانی ارکان کا استلام کرتے ہو تو انہوں نے فرمایا میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کو ان دونوں ارکان کے علاوہ اور کسی رکن کو چھوتے نہیں دیکھا ۔

لعبد الله بن عمر رأيتك لا تمس من الأركان إلا اليمانيين ← عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ، أَنَّهُ ← سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3773

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 15 باب ما يستلم من الأركان في الطواف ) · حديث 3774

3571 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا زهير بن عباد قال ثنا عتاب بن بشير الجزري عن خصيف عن مجاهد عن بن عباس رضي الله عنهما أن معاوية بن أبي سفيان طاف بالبيت الحرام فجعل يستلم الأركان كلها فقال بن عباس رضي الله عنهما لم تستلم هذين الركنين ولم يكن رسول الله صلى الله عليه و سلم يستلمهما فقال معاوية ليس من البيت شيء مهجور فقال بن عباس رضي الله عنهما لقد كان لكم في رسول الله أسوة حسنة قال صدقت فهذه الآثار كلها تخبر عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه لم يكن يستلم في طوافه غير الركنين اليمانيين ومع هذه الآثار من التواتر ما ليس مع الأثر الأول وكان من الحجة عندنا والله أعلم لمن ذهب إلى هذه الآثار أيضا على من ذهب إلى من خالفها أن الركنين اليمانيين هما مبنيان على منتهى البيت مما يليهما والآخران ليسا كذلك لأن الحجر وراءهما وهو من البيت وقد أجمعوا أن ما بين الركنين اليمانيين لا يستلم لأنه ليس بركن للبيت فكان يجىء في النظر أن يكون كذلك الركنان الآخران لا يستلمان لأنهما ليسا بركنين للبيت وقد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في الحجر أنه من البيت ما

مجاہد نےابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے بیت اللہ کا طواف کیا اور تمام ارکان کو بوسہ دینے لگے ۔ تو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا ان دو عراقی ارکان کا تم کیوں استلام کرتے ہو۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ ان کا استلام نہ کرتے تھے ۔ تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا بیت اللہ کا کوئی حصہ مہجور و متروک نہیں ہے ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا " لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ۔۔۔۔۔۔) امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم نے درست کہا۔ (یعنی غلطی کو تسلیم کر لیا ) یہ تمام آثار جناب رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ کی جانب سے اس بات کی خبر دے رہے ہیں کہ آ پ صلی اللہ علیہ اپنے طواف دو یمانی ارکان کے علاوہ کی رکن کا استلام نہ فرماتے تھے دوسری بات یہ ہے کہ ان آثار میں وہ تو اتر ہے جو پہلے اثر کو حاصل نہیں اور ہمارے ہاں ایک دلیل (واللہ اعلم) یہ بھی ہے کہ جس کو اس قول ثانی کے قائلین اول قول والے کےخلاف اختیار کرتے ہیں کہ یمانی ارکان بیت اللہ کی اصل حد ر تعمیر کیے گئے ہیں جبکہ دوسرے دونوں ارکان اس طرح نہیں کیونکہ مقام حجران کے پچھلی جانب سے حالانکہ وہ بیت اللہ کا حصہ ہے ۔ اور اس پر اس کا اتفاق ہے کہ ارکان یمانی کے مابین بیت اللہ کے حصہ کا استلام نہ کیاجائے کیونکہ وہ بیت اللہ کے ارکان نہیں پس نظرو فکر میں یہ بات آتی ہے کہ دوسرے ارکان کا بھی یہی حکم ہو کہ ان کا استلام کیا جائےگا ۔ کیونکہ وہ بیت اللہ کے ارکان نہیں پس نظروفکر میں یہ بات آتی ہے کہ دوسرے ارکان کا بھی یہی حکم ہو کہ ان کا استلام نہ ہو کیونکہ وہ بیت اللہ شریف کے ارکان نہیں اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ سے حجر (حطیم) کے متعلق مروی ہے کہ وہ بیت اللہ شریف کا حصہ ہے ۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← مُجَاهِدٍ ← خُصَيْفٍ ← عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ الْجَزَرِيُّ، ← زُهَيْرُ بْنُ عَبَّادٍ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3774

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 15 باب ما يستلم من الأركان في الطواف ) · حديث 3775

3572 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا شيبان بن عبد الرحمن أبو معاوية عن الأشعث بن أبي الشعثاء عن الأسود بن يزيد عن عائشة رضي الله عنها قالت سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم عن الحجر فقال هو من البيت فقلت ما منعهم أن يدخلوه فيه قال عجزت بهم النفقة

اسود بن یزید نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ سے حجرا سود کے متعلق دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ نے فرمایا یہ بیت اللہ کا حصہ ہے میں نے پوچھا پھر انہوں نے اس کو بیت اللہ میں کیوں شامل نہیں کیا ؟ تو آ پ صلی اللہ علیہنے فرمایا خرچہ کی تنگی نے ان کو اس سے عاجز کر دیا کہ وہ اس کو تعمیر میں شامل کریں ۔

عجزت بهم النفقة ← الحجر فقال هو من البيت فقلت ما منعهم أن يدخلوه فيه ← سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَائِشَةَ ← الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ← الأشعث بن أبي الشعثاء ← شيبان بن عبد الرحمن أبو معاوية ← أسد ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3775

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 15 باب ما يستلم من الأركان في الطواف ) · حديث 3776

3573 - حدثنا فهد قال ثنا الحسن بن الربيع قال ثنا أبو الأحوص عن الأشعث عن الأسود بن يزيد قال قالت عائشة رضي الله عنها سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم عن الحجر أمن البيت هو قال نعم قلت ما لهم لم يدخلوه في البيت قال إن قومك قصرت بهم النفقة فقلت ما شأن بابه مرتفع قال فعل قومك ليدخلوا من شاءوا ويمنعوا من شاءوا ولولا أن قومك حديثو عهدهم بجاهلية فأخاف أن تنكر قلوبهم ذلك لنظرت أن أدخل الحجر في البيت وأن ألزق بابه بالأرض

اسود بن یزید سے روایت ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ سے حطیم کے متعلق دریافت کیا کہ کیا وہ بیت اللہ کا حصہ ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ نے فرمایا جی ہاں میں نے کہا پھر انہوں نے اسے بیت اللہ کی عمارت میں کیونکر داخل نہ کیا ؟تو آپ صلی اللہ علیہ نے جواب دیا تمہاری قوم کے پاس رقم ختم ہو گئی میں نے پوچھا بیت اللہ کا دروازہ اتنا بلند کیوں ہے آپ صلی اللہ علیہ نے فرمایا یہ تمہاری قوم نے اپنی برتری برقرار رکھنے کے لیے کیا تاکہ جس کو وہ چاہیں داخل ہونے دیں جس کو وہ نہ چاہیں داخل نہ ہونے دیں اگر تمہاری قوم نئی نئی مسلمان نہ ہوتی جس سے مجھے خطرہ ہے کہ ان کے دل اسلام سے برگشتہ ہوجائیں گے تو میرا خیال تھا کہ میں حطیم کو بیت اللہ میں داخل کر دیتا اور دروازہ کوزمین کے برابر کر دیتا،۔

إن قومك قصرت بهم النفقة فقلت ما شأن بابه مرتفع ← «نَعم» قلتُ: ما لَهم لم يُدخِلوهُ في البيتِ؟ ← الْحِجْرِ أَمِنَ الْبَيْتِ هُوَ؟ ← عائشة سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم ← الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ← الْأَشْعَثِ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیْعِ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3776

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter