Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 12 باب الصيد يذبحه الحلال في الحل هل للمحرم أن يأكل منه أم لا ) · حديث 3725

3524 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن يحيى بن سعيد رضي الله عنه أنه قال أخبرني محمد بن إبراهيم ثم ذكر بإسناده مثله

یحییٰ بن سعید نے محمد بن ابراہیم سے پھر انہوں نے اپنی سند سے روایت نقل کی ہے ۔

بإسناده مثله ← محمد بن إبراهيم ثم ← يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3725

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 12 باب الصيد يذبحه الحلال في الحل هل للمحرم أن يأكل منه أم لا ) · حديث 3726

3525 - حدثنا ربيع الجيزي قال ثنا أبو الأسود قال أنا نافع بن يزيد عن بن الهاد أن محمد بن إبراهيم حدثه عن عيسى بن طلحة عن عمير بن سلمة الضمري قال بينا نحن نسير مع رسول الله صلى الله عليه و سلم ببعض أفناء الروحاء وهو محرم إذا حمار معقور فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم دعوه فيوشك صاحبه أن يأتيه فجاء رجل من بهز هو الذي عقر الحمار فقال يا رسول الله شأنكم بهذا الحمار فأمر رسول الله صلى الله عليه و سلم أبا بكر رضي الله عنه فقسمه بين الناس ثم ذكر نحو ما في حديث يزيد عن يزيد بن هارون

عیسیٰ بن طلحہ نے عمیر بن سلمہ ضمیری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ اسی دوران کہ ہم جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کے ساتھ روحاء کے میدان میں جا رہے تھے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ احرام سے تھے اچانک آ پ کی نگاہ ایک وحشی گدھے پر پڑی جس کی کھونچیں کٹی ہوئیں تھیں ۔ تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے فرمایا اس کو اسی حال میں چھوڑ دو شاید اس کا مالک شکار آجائے ۔ اچانک ایک بہزی آدمی آنکلا اسی نے اس کو کھونچیں کاٹی تھی ۔ اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ یہ حمار وحشی آپ کو ہدیہ ہے ۔ پس جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے ابو بکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے لوگوں میں تقسیم کر دیا ۔ پھر انہوں نے اسی طرح روایت کی ہے جیسا کہ یزید بن ہارون سے یزید نے روایت کی ہے ۔

عُمَيْرِ بْنِ سَلَمَةَ الضَّمْرِيِّ، ← عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ← بن الهاد أن محمد بن إبراهيم ← نَافِعُ بْنُ یَزِیدَ ← أَبُو الْأَسْوَدِ، ← ربيع الجيزي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3726

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 12 باب الصيد يذبحه الحلال في الحل هل للمحرم أن يأكل منه أم لا ) · حديث 3727

3526 - حدثنا محمد بن خزيمة وفهد قالا ثنا عبد الله بن صالح قال حدثني الليث قال حدثني بن الهاد ثم ذكر بإسناده مثله ففي حديث طلحة وعمير بن سلمة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه أباح للمحرمين أكل لحم الصيد الذي تولى صيده الحلال فقد خالف ذلك حديث على وزيد بن أرقم والصعب بن جثامة عن النبي صلى الله عليه و سلم غير أن حديث طلحة وحديث عمير بن سلمة هذين ليس فيهما دليل على حكم الصيد إذا أراد الحلال به المحرم فنظرنا في ذلك فإذا بن أبى داود قد

لیث نے ابن الہاد سے پھر اس نے اپنی سند سے روایت نقل کی ہے ۔ حضرت طلحہ اور عمیر بن سلمہ رضی اللہ عنہ کی وہ روایت جو انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ سے نقل کی اس میں محرم کے لیے شکار کے گوشت کا کھانا حلال قرار دیا گیا جس شکار کو کسی حلال نے کیا ہو اور یہ روایت حضرت علی ، زید بن ارقم اور صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہم کی ان روایات کے خلاف ہے جو انہوں نے جناب رسول اللہصلی اللہ علیہ سے نقل کی ہیں البتہ روایت طلحہ اور عمیر بن سلمہ رضی اللہ عنہ میں اس بات کا کوئی حکم موجود نہیں جبکہ کوئی شکار غیر محرم نے محرم کی نیت سے کیا ہو پس اس میں ہم نے جانچ پڑتال کی تو یہ روایات مل گئیں جو ذیل میں درج ہیں ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3727

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 12 باب الصيد يذبحه الحلال في الحل هل للمحرم أن يأكل منه أم لا ) · حديث 3728

3527 - حدثنا قال ثنا عياش بن الوليد الرقام قال ثنا عبد الأعلى عن عبيد الله بن عياض بن عبد الله عن أبى سعيد الخدري قال بعث رسول الله صلى الله عليه و سلم أبى قتادة الأنصاري على الصدقة وخرج رسول الله صلى الله عليه و سلم وأصحابه وهم محرمون حتى نزلوا عسفان فإذا هم بحمار وحش قال وجاء أبو قتادة وهو حل فنكسوا رؤوسهم كراهية أن يحدوا أبصارهم فيفطن فرآه فركب فرسه وأخذ الرمح فسقط منه فقال ناولونيه فقالوا ما نحن بمعينيك عليه بشيء فحمل عليه فعقره فجعلوا يشوون منه ثم قالوا رسول الله صلى الله عليه و سلم بين أظهرنا قال وكان تقدمهم فلحقوه فسألوه فلم ير بذلك بأسا

عبید اللہ بن عیاض بن عبداللہ نے ابو سعید انصاری رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ کو صدقات پر عامل مقرر فرمایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ اور صحابہ کرام احرام باندھ کر روانہ ہوئے ۔ یہاں تک کہ مقام عسفان میں پہنچ گئے اچانک ایک وحشی گدھا سامنے آیا ۔ ابو سعید کہتے ہیں کہ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ آئے وہ غیر محرم تھے صحابہ کرام نے شکار کی طرف نگاہ دوڑانے سے اپنی نگائیں ہٹا لیں کہ ابو قتادہ کو خبر کا ذریعہ نہ بنے ۔ ابو قتادہ تو شکار کو پہلے دیکھ چکے تھے وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور اپنا نیزہ لیا وہ گر پڑا انہوں نے کہا مجھے پکڑا دو۔ انہوں نےکہا ہم اس سلسلہ میں تیری کوئی مدد کرنے والے نہیں انہوں نے شکار پر حملہ کر کے اس کو شکار کر لیا بعض اس میں سے گوشت لے کر بھوننے لگے ۔ پھر کہنے لگے ہمارے درمیان جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ موجود ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ ان سے کچھ آگے بڑھ گئے تھے وہ آپ صلی اللہ علیہ سے جا ملے اور آپ صلی اللہ علیہ سے اس کے متعلق دریافت کیا آپ صلی اللہ علیہ نے اس میں کوئی حرج قرار نہ دیا ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عبيد الله بن عياض بن عبد الله ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ الرَّقَّامُ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3728

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 12 باب الصيد يذبحه الحلال في الحل هل للمحرم أن يأكل منه أم لا ) · حديث 3729

3528 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا أبو عمر الحوضى قال أنا خالد بن عبد الله قال أنا عمرو بن يحيى عن عباد بن تميم عن أبى قتادة أنه كان على فرس وهو حلال ورسول الله صلى الله عليه و سلم وأصحابه محرمون فبصر بحمار وحش فنهى رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يعينوه فحمل عليه فصرع أتانا فأكلوا منه

عبادبن تمیم نے ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میں اپنے گھوڑے پر سوار تھا میں نے احرام نہیں باندھا تھا اس وقت جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ اور صحابہ کرام احرام سے تھے ۔ ابو قتادہ نے ایک حمار وحشی دیکھا آپ نے صحابہ کرام کو انکی کسی قسم کی اعانت سے منع فرمادیا ۔ انہوں نے حملہ کر کے اس کو بچھا لیا اور وہ شکار ہمارے پاس لائے سب نے اس میں سے کھایا ۔

عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ← عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3729

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 12 باب الصيد يذبحه الحلال في الحل هل للمحرم أن يأكل منه أم لا ) · حديث 3730

3529 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج بن المنهال قال ثنا شعبة قال أخبرني عثمان بن عبد الله بن وهب عن عبد الله بن أبى قتادة عن أبيه أنه كان في قوم محرمين وليس هو محرما وهم يسيرون فرأى حمارا فركب فرسه فصرعه فأتوا النبي صلى الله عليه و سلم فسألوه عن ذلك فقال أشرتم أو صدتم أو قتلتم قالوا لا قال فكلوا

عبداللہ بن ابو قتادہ نے اپنے والد ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ میں محرمین کے ساتھ چل رہا تھا اور احرام باندھے ہوئے نہیں تھا ۔ ہم چلے جا رہے تھے ابو قتادہ نے ایک حمار وحشی دیکھا وہ اپنےگھوڑے پر سوار ہوئے اور اسے شکار کر کے لائے صحابہ کرام اس کو آپ صلی اللہ علیہ کی خدمت میں لائے اور آپ صلی اللہ علیہ سے اس کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ نے فرمایا کیا تم نے اشارہ کیا یا شکار کیا یا قتل کیا؟ انہوں نے کہا نہیں آپ صلی اللہ علیہ نے فرمایا پس اس کو کھاؤ ۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ← عُثَمْانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ ← شُعْبَةُ، ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3730

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 12 باب الصيد يذبحه الحلال في الحل هل للمحرم أن يأكل منه أم لا ) · حديث 3731

3530 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن أبى النضر عن نافع مولى أبى قتادة عن بن قتادة بن ربعى أنه كان مع رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى إذا كان ببعض طريق مكة تخلف مع أصحاب له محرمون وهو غير محرم فرأى حمارا وحشيا فاستوى على فرسه ثم سأل أصحابه أن يناولوه سوطه فأبوا فسألهم رمحهم فأبوا فأخذه ثم شد على الحمار فقتله فأكل منه بعض أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم وأبى بعضهم فلما أدركوا رسول الله صلى الله عليه و سلم سألوه عن ذلك فقال إنما هى طعمة أطعمكموها الله

نافع مولیٰ ابو قتادہ نے ابو قتادہ بن ربعی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کے ساتھ تھا مکہ کے کسی راستہ میں وہ اپنے محرم ساتھیوں کے ساتھ پیچھے رہ گے یہ غیر محرم تھے چنانچہ انہوں نے ایک حمار وحشی دیکھا اور اپنے گھوڑے پر سوارے ہوئے پھر اپنے ساتھیوں سے کہا کہ وہ ان کو ان کا کوڑا پکڑا دیں انہوں نے انکار کر دیا پھر اپنے نیزے کے متعلق سوال کیا انہوں نے اس سے بھی انکار کر دیا ۔ انہوں نے اپنا نیزہ اور کوڑا خود لے کر شکار پر حملہ کیا اور اس کو قتل کر دیا اس شکار میں بعض نے کھایا اور بعض نے انکار کر دیا جب ی حضرات جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کو جاملے تو آپ صلی اللہ علیہ نے اس کے متعلق دریافت کیا آپ صلی اللہ علیہ نے فرمایا وہ تو تمارا لقمہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں کھلایا ہے ۔

بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3731

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 12 باب الصيد يذبحه الحلال في الحل هل للمحرم أن يأكل منه أم لا ) · حديث 3732

3531 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار أخبره عن أبى قتادة مثله وزاد إن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال هل معكم من لحمه شيء فقد علمنا أن أبا قتادة لم يصده في وقت ما صاده إرادة منه أن يكون له خاصة وإنما أراد أن يكون له ولأصحابه الذين كانوا معه فقد أباح رسول الله صلى الله عليه و سلم ذلك له ولهم ولم يحرمه عليهم لأرادته أن يكون لهم معه وفي حديث عثمان بن عبد الله بن وهب أن رسول الله صلى الله عليه و سلم سألهم فقال أشرتم أو سدتم أو قتلتم قالوا لا قال فكلوا فدل ذلك أنه إنما يحرم عليهم إذا فعلوا شيئا من هذا ولا يحرم عليهم بما سوى ذلك وفي ذلك دليل أن معنى قول رسول الله صلى الله عليه و سلم في حديث عمرو مولى المطلب أو يصاد لكم أنه على ما صيد لهم بأمرهم فهذا وجه هذا الباب من طريق الآثار المروية عن رسول الله صلى الله عليه و سلم وقد قال بهذا القول أيضا عمر بن الخطاب رضي الله عنه

عطاء بن یسار نے ابی قتادہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت کی ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے فرمایا کیا تمہارے پاس اس کا کچھ گوشت موجود ہے ؟ ہم جان چکے تھے کہ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے ایسے وقت میں فقط آپ کے لیے شکار نہیں کیا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ اور آپ کے ان اصحاب رضی اللہ عنہم کے لیے کیا جو آپ کے ساتھ تھے ۔ تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے اس شکار کو اپنے اور اپنے اصحاب کے لیے مباح قرار دیا اور ابو قتادہ کے اس ارادہ کی وجہ سے کہ یہ آپ اور آپ کے اصحاب کے لیے ہو گا آپ نے اس کو حرام قرار نہیں دیا اور عثمان بن عبداللہ کی روایت میں یہ لفط ہیں( اشرتم اوصدتم او قتلتم قالو الا قال فکلوا) کیا تم نے شکار کے لیے اشارہ کیا یا خود شکار کیا تم نے شکار خود قتل کیا تو انہوں نے کہا نہیں آپ نے فرمایا اسے کھاؤ اس سے یہ دلالت میسرآئی کہ ان کے لیے حرام اس وقت ہو گا جب کہ وہ ان مذکورہ بالا چیزوں میں سے کوئی ایک کریں ۔ اس کے علاوہ وہ شکار ان کے لیے حرام نہ ہو گا۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کے اس ارشاد کا مطلب جو حدیث عمرو مولیٰ مطلب میں آیا ہے ( اوبصادلکم ) کہ اس سے محرم کے حکم سے شکار کرنا مراد ہے آثار کو سامنے رکھتے ہوئے اس باب کا یہی حکم ہے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا بھی یہی قول ہے ۔

أبى قتادة مثله وزاد ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3732

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 12 باب الصيد يذبحه الحلال في الحل هل للمحرم أن يأكل منه أم لا ) · حديث 3733

3532 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا هارون بن إسماعيل قال ثنا على بن المبارك قال ثنا يحيى بن أبى سلمة عن أبى هريرة رضي الله عنه أن رجلا من أهل الشام استفتاه في لحم الصيد وهو محرم فأمره بأكله قال فلقيت عمر بن الخطاب رضي الله عنه فأخبرته بمسألة الرجل فقال بما أفتيته فقلت بأكله فقال والذي نفسي بيده لو أفتيته بغير ذلك لعلوتك بالدرة إنما نهيت أن تصطاده

یحییٰ بن ابی سلمہ نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ ایک شامی آدمی نے مجھ سے احرام کی حالت میں شکار کے گوشت سے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے اسے استعمال کرنے کا حکم دیا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر میں عمر رضی اللہ عنہ سے ملا اور میں نے ان کو اس مسئلہ میں کی خبر دی تو انہوں نے فرمایا تم نے پھر کیا فتویٰ دیا تو میں نے کھانے کا کہا اس پر وہ فرمانے لگے مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر تو اس کے علاوہ فتویٰ دیتا تو میں درہ سے تمہاری خدمت کرتا ۔ بلاشبہ تمہیں اس کے شکار سے روکا گیا ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ← عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ← هارون بن إسماعيل ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3733

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 12 باب الصيد يذبحه الحلال في الحل هل للمحرم أن يأكل منه أم لا ) · حديث 3734

3533 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن يحيى بن سعيد أنه سمع سعيد بن المسيب يحدث عن أبى هريرة رضي الله عنه فذكر مثله غير انه قال لفعلت بك يتوعده

سعید بن المسیب نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے انہوں نے اسی طرح روایت بیان کی ۔ البتہ یہ الفاظ زائد ہیں ۔ اگر تو اس کے خلاف فتویٰ دیتا تو میں تمہیں سمجھ لیتا (ڈرایا )

لفعلت بك يتوعده ← أبى هريرة فذكر مثله غير انه ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3734

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 12 باب الصيد يذبحه الحلال في الحل هل للمحرم أن يأكل منه أم لا ) · حديث 3735

3534 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن بن شهاب عن سالم أنه سمع أبا هريرة رضي الله عنه يحدث عن عمر رضي الله عنه فذكر مثله

ابن شہاب نے سالم سے روایت ہے کہ انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق بیان کرتے پھر اسی طرح کی روایت ذکر کی ہے ۔

عمر فذكر مثله ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← سَالِمٍ أَنَّهُ ← بن شِهَابٍ ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3735

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 12 باب الصيد يذبحه الحلال في الحل هل للمحرم أن يأكل منه أم لا ) · حديث 3736

3535 - حدثنا نصر بن مرزوق وابن أبى داود قالا ثنا عبد الله بن صالح قال حدثني الليث قال حدثني عقيل عن بن شهاب فذكر بإسناده مثله فلم يكن عمر رضي الله عنه ليعاقب رجلا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم في فتياه في هذا بخلاف ما يرى والذي عنده في ذلك مما يخالف ما أفتى به رأيا ولكن ذلك عندنا والله أعلم لأنه قد كان أخذ علم ذلك من غير جهة الرأي

لیث نے عقیل سے انہوں نے ابن شہاب سے روایت کی پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت بیان کی ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کسی صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ کو اس کے ذاتی فتویٰ پر سزا نہ دیتے تھے بس اس رائے پر سزا دیتے جس میں وہ سمجھتے کہ یہ رائے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کے قول و فعل کے خلاف جارہی ہے ۔ ( اور اس رائے دنے والے کو وہ معلوم نہیں اور انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کا وہ قول و فعل دیکھا اور سنا ہے ) بقیہ اجتہادی مسائل میں وہ کبھی سزا نہ دیتے ۔

بن شِهَابٍ ← عَقِیلٍ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← نصر بن مرزوق وابن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3736

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter