Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 11 باب ما يقتل المحرم من الدواب ) · حديث 3697

3498 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا مسلم بن إبراهيم قال ثنا شعبة فذكر بإسناده مثله غير أنه قال الغراب الأبقع

مسلم بن ابراہیم نے کہا ہمیں شعبہ نے بیان کیا پھر انہوں نے اپنی سند سے روایت نقل کی ہے البتہ غراب کے ساتھ الا بقع کی قید بھی لگی ہوئی ہے ۔

الغراب الأبقع ← شعبة فذكر بإسناده مثله غير أنه ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3697

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 11 باب ما يقتل المحرم من الدواب ) · حديث 3698

3499 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا الحجاج قال ثنا حماد عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال خمس فواسق يقتلن في الحل والحرم الكلب العقور والفأرة والحدأ والغراب والعقرب

ہشام نے عروہ سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے کہ جناب رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ نے فرمایا پانچ فاسق جاندار ہیں جن کو حل و حرم میں قتل کیا جائے گا ، کاٹنے والا کتا ، چوہا، چیل ، بچھو ، کوا۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← حَمَّادٌ، ← الْحَجَّاجِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3698

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 11 باب ما يقتل المحرم من الدواب ) · حديث 3699

3500 - حدثنا محمد بن حميد قال ثنا على بن معبد قال ثنا موسى بن أعين عن يزيد بن أبى زياد عن بن أبى نعم عن أبى سعيد الخدري عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال يقتل المحرم الحية والعقرب والفأرة الفويسقة قال يزيد وعد غير هذا فلم أحفظ قال قلت ولم سميت الفأرة الفويسقة قال استيقظ رسول الله صلى الله عليه و سلم ذات ليلة وقد أخذت فأرة فتيلة لتحرق على رسول الله صلى الله عليه و سلم البيت [ ص 167 ] فقام إليها فقتلها وأحل قتلها لكل محرم أو حلال فهذا ما أباح النبي صلى الله عليه و سلم للمحرم قتله في إحرامه وأباح للحلال قتله في الحرم وعد ذلك خمسا فذلك ينفى أن يكون حكم أشكال شيء من ذلك كحكم هذه الخمس إلا ما اتفق عليه من ذلك أن النبي صلى الله عليه و سلم عناه فان قال قائل فقد رأينا الحية مباحا قتلها في ذلك كله وكذلك جميع الهوام فانما ذكر النبي صلى الله عليه و سلم من ذلك العقرب خاصة فجعلتم كل الهوام كذلك فما تنكرون أن يكون السباع كذلك أيضا فيكون ما ذكر إباحة قتله منهن إباحة مثله لقتل جميعهن قيل له قد أوجدناك عن النبي صلى الله عليه و سلم نص في الضبع وهي من سباع انها غير داخلة فيما أباح قتله من الخمس فثبت بذلك أن النبي صلى الله عليه و سلم لم يرد قتل سائر السباع بإباحته قتل الكلب العقور وانما أراد بذلك خاصا من السباع ثم قد رأيناه أباح مع ذلك أيضا قتل الغراب والحدأ وهما من ذوى المخلب من الطير وقد أجمعوا أنه لم يرد بذلك كل ذي مخلب من الطير لأنهم قد أجمعوا على أن العقاب والصقر والبازى ذو مخلب وأنهم غير مقتولين في الحرم كما يقتل الغراب والحدأ وانما الإباحة من النبي صلى الله عليه و سلم لقتل الغراب والحدأ عليهما خاصة لا على ما سواهما من كل ذي مخلب من الطير وأجمعوا أن النبي صلى الله عليه و سلم أباح قتل العقرب في الإحرام والحرم وأجمعوا أن جميع الهوام مثلها وأن مراد النبي صلى الله عليه و سلم بإباحة قتل العقرب إباحة قتل جميع الهوام فذو الناب من السباع بذي المخلب من الطير أشبه منه بالهوام مع ما قد بين ذلك وشده ما رواه جابر رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم في حديث الضبع فان قال قائل إنما جعل النبي صلى الله عليه و سلم حكم الضبع كما ذكرت لأنها تؤكل فأما ما كان لا يؤكل من السباع فهو كالكلب قيل له قد غلطت في التشبيه لأنا قد رأينا النبي صلى الله عليه و سلم قد أباح قتل الغراب والحدأة والفأرة وأكل لحوم هؤلاء مباح عندكم فلم يكن إباحة أكلهن مما يوجب حرمة قتلهن فكذلك الضبع ليس إباحة أكلها أوجب حرمة قتلها وانما منع من قتلها أنها صيد وإن كانت سبعا فكل السباع كذلك إلا الكلب الذي خصه النبي صلى الله عليه و سلم بما خصه به فان قال قائل فكيف تكون سائر السباع كذلك وهي لا تؤكل قيل له قد يكون من الصيد ما لا يؤكل ومباح للرجل صيده ليطعمه كلابه إذا كان في الحل حلالا وقد روى عن النبي صلى الله عليه و سلم في قتل الحية أيضا في الحرم ما

ابن ابی نعیم نے ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے انہو ں نے جناب رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ سے نقل کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ نے فرمایا محرم سانب ، بچھو ، چوہا ، چوہیا کو قتل کر سکتا ہے یہ وہ حیوانات ہیں جن کے قتل کو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے محرم کے لیے ان کا قتل مباح قرار دیا اور حرم میں بھی ان کے قتل کو مباح قرار دیا اور پانچ کو آپ نے شمار کیا پس اس سے ان کے لیے ہم شکل کے حکم کا یہی ہونے کی نفی ہو گئی مگر یہ کہ جس کا متعلق اتفاق ہو جائے کہ جناب رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ کی مراد یہی ہے اگر معترض کہے کہ ہم جانتے ہیں کہ ان تمام صورتوں میں سانب کا قتل جائز ہے اسی طرح تمام حشرات ارضی کا حکم ہے ۔ باقی جناب رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ نے ان میں سے صرف خصوصیت بچھو کو ذکر کیا اور تم نے حشرات الارض کے متعلق یہی قول کیا پھرتم اس بات کا کیوں انکار کرتے ہو کہ درندوں کے لیے یہ حکم نہیں ۔ جن جانوروں کے قتل کو مباح قرار دیا گیا تو ان کے مثل جانوروں کے قتل کا حکم انہی جیسا ہونا چاہے اس کے جواب میں یہ کہا جائے گا ہم نے تو آپ کے سامنے بچھو کے متعلق نص پیش کی حالانکہ وہ درندہ ہے اور وہ ان پانچ میں داخل نہیں جن کے قتل کو آپ نے جائز قرار دیا ۔ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ نے کاٹنے والے کتے کا ذکر کرتے وقت دیگر تمام درندے مراد نہیں لیے بلکہ خاص درندے مراد لیے ہیں ۔ پھر اس کے ساتھ ہم یہ بھی پاتے ہیں کہ آپ نے کوے اور چیل کا قتل جائز قرار دیا اور یہ دونوں پنچے سے شکار کرنے والے پرندوں سے ہیں ۔ اور اس بات پر اس کا اتفاق ہے کہ آپ نے تمام پنجے والے پرندے مراد نہیں ہیں کیونکہ اس پر سب متفق ہیں کہ عقاب ، شکر ااور باز باوجود یکہ پنچے والے پرندے ہیں مگر ان کے حرام میں قتل کا حکم نہیں جیسا کہ کوے اور چیل کو قتل کیا جائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ نے صرف کوے اور چیل کے قتل کو خصوصا مباح قرار دیا ان کے علاوہ ہر پنچے والا پرندہ مراد نہیں ہے اور اس پر بھی اتفاق ہے کہ بچھو کا قتل حرم احرام دونوں میں جائز ہے اور اس پر بھی اتفاق کو مباح کرنا ہے ۔ اور کچلیوں والے درندے پنجے والے پرندوں کے ساتھ حشرات کی بنسبت زیادہ مشابہت رکھتے ہیں ا س کے علاوہ آپ نے اس کو واضح کیا اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ سے روایت ضبع نے اس بات کو اور زیادہ پختہ کر دیا ہے اگر کوئی معترض یہ کہے کہ آپ صلی اللہ علیہ نے تو اس میں بجو کا حکم بیان فرمایا ۔ کیونکہ اسے کھایا جا تا ہے باقی رہے وہ درندے جن کو کھایا نہیں جاتا ان کا حکم کتے جیسا ہے اس کے جواب میں یہ کہیں گے کہ تم نے تشبیہ میں غلطی کی ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے چیل ، کوے اور چوہیا کا قتل جائز قرار دیا اور تمہارے ہاں تو ان کے گوشت کا کھانا جائز ہے تو ان کے کھانے کی اباحت نے ان کے قتل کی حرمت کو لازم نہیں کیا ۔ پس اس طرح بجو کے کھانے کا جواز بھی اس کے حرمت قتل کو واجب نہیں کرتا بلکہ اس کے قتل کی ممانعت شکار ہونے کی وجہ سے ہے اگرچہ وہ درندہ ہے پس ہر درندے کا حکم سوائے کتے کے یہی ہے ، کتے کو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے اس حکم میں سے خاص فرمایا ہے ۔ اگر کوئی یہ اعتراض کرے تمام درندے اس کی مثل کس طرح ہو گئے حالانکہ وہ تو کھائے نہیں جاتے تو اس کے جواب میں یہ کہا جائے گا بعض اوقات ایسی چیز بھی شکار ہوتی ہیں جن کو کھایا نہیں جاتا مگر آدمی کو ان کا شکار اپنے کتوں کو کھلانے کے لیے حلال ہے ۔ جبکہ وہ حل میں احرام سے باہر ہو ۔ اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ سے سانپ کے قتل میں روایت وارد ہے ذیل میں ملاحظہ ہو اور یزید بن ابی زیاد کہتے ہیں کہ ابن ابی نعیم نے ان کے علاوہ بھی شمار کئے مگر وہ مجھے یاد نہ رہے ۔ میں نے ابن ابی نعیم سے پوچھا ( فآرہ) چوہیا کو فویسقہ کیوں کہا گیا انہوں نے جواب دیا کہ ایک دن جناب رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ بیدا ہوئے تو دیکھا کہ چوہیا چراغ کی بتی کو تھامے ہوئے ہے تاکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کے گھر کو آگ لگائے آپ جلدی سے اٹھے اور اس کو ہلاک کر دیا اور اس کے قتل کو محرم و غیر محرم کے لیے جائز قرار دیا ۔

قلت ولم سميت الفأرة الفويسقة ← يزيد وعد غير هذا فلم أحفظ ← يقتل المحرم الحية والعقرب والفأرة الفويسقة ← رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← بن أبي نعم ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3699

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 11 باب ما يقتل المحرم من الدواب ) · حديث 3700

3501 - حدثنا أبو أمية قال ثنا موسى بن داود قال ثنا حفص عن الأعمش عن إبراهيم عن الأسود عن عبد الله قال أمرنا رسول الله صلى الله عليه و سلم بقتل الحية ونحن ب منى فقد دل ذلك أن سائر الهوام مباح قتله في الإحرام والحرم وجميع ما صححنا في هذا الباب هو قول أبى حنيفة وأبى يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى غير الذئب فإنهم جعلوه في ذلك كالكلب سواء

اسود نے عبداللہ سے روایت کی ہے کہ ہمیں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے سانپ کو قتل کا حکم دیا جبکہ ہم منی میں تھے اس سے اس بات پر دلالت مل گئی کہ حالت احرام اور حرم میں بھی تمام حشرات کو مارنا جائز ہے اس باب میں جن روایات کی تصحیح بیان کی ہے وہ امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمۃ اللہ علیہم کا قول ہے ۔ البتہ انہوں نے بھیڑیئے کو کتے کی طرح قرار دیا ہے ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← حَفْصٌ، ← مُوسَى بْنُ دَاوُدَ، ← اَبُوْ اُمَیَّۃَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3700

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter