Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 10 باب الهدى يساق لمتعة أو قران هل يركب أم لا ) · حديث 3664

3470 - حدثنا قال ثنا أبو بكر بن أبى شيبة قال ثنا أبو خالد الأحمر عن بن جريج عن أبى الزبير عن جابر بن عبد الله رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم اركبوا الهدى بالمعروف حتى تجدوا ظهرا

ابو الزبیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے فرمایا ہدی پر مناسب انداز سے سواری کرتے رہو یہاں تک کہ تم سواری پا لو۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← بن جُرَيْجٍ ← أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،

Hadith 3664

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 10 باب الهدى يساق لمتعة أو قران هل يركب أم لا ) · حديث 3665

3471 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا بن أبى مريم ح

یزید بن سنان کہتے ہیں کہ ہمیں ابن ابی مریم نے بیان کیا ۔

بن اَبِیْ مَرْیَمَ ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Hadith 3665

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 10 باب الهدى يساق لمتعة أو قران هل يركب أم لا ) · حديث 3666

وحدثنا بن أبى داود قال ثنا عبد الله بن صالح قالا ثنا بن لهيعة عن أبى الزبير عن جابر رضي الله عنه في ركوب الهدى سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول اركبها بالمعروف إذا ألجئت إليها حتى تجد ظهرا فأباح النبي صلى الله عليه و سلم في هذا الحديث ركوبها في حال الضرورة ومنع من ذلك إذا ارتفعت الضرورة ووجد غيرها فثبت بذلك أن هذا حكم الهدى من طريق الآثار تركب للضرورات وتترك لارتفاع الضرورات ثم اعتبرنا حكم ذلك من طريق النظر كيف هو فرأينا الأشياء على ضربين فمنها ما الملك فيها متكامل لم يدخله شيء يزيل عنه شيئا من أحكام الملك كالعبد الذي لم يدبره مولاه وكالأمة التي لم تلد من مولاها وكالبدنة التي لم يوجبها صاحبها فكل ذلك جائز بيعه وجائز الانتفاع به وجائز تمليك منافعه بإبدال وبلا ابدال ومنها ما قد دخله شيء منع من بيعه ولم يزل عنه حكم الانتفاع به من ذلك أم الولد التي لا يجوز لمولاها بيعها والمدبر في قول من لا يرى بيعه فذلك لا بأس بالانتفاع به وبتمليك منافعه للذي يريد أن ينتفع بها ببدل أو بلا بدل فكان ماله أن ينتفع به فله أن يملك منافعه من شاء بإبدال وبلا أبدال ثم رأينا البدنة إذا أوجبها ربها فكل قد أجمع أنه لا يجوز له أن يؤاجرها ولا يتعوض بمنافعها بدلا فلما كان ليس له تمليك منافعها ببدل كان كذلك ليس له الانتفاع بها ولا يكون له الانتفاع بشيء إلا شيء له التعوض بمنافعه ابدالا منها فهذا هو النظر أيضا وهو قول أبى حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله وقد روى ذلك عن جماعة من المتقدمين

ابو الزبیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے رکوب ہدی کے سلسلہ میں روایت کیا ہے کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کو فرماتے سنا اس پر خوش اسلوبی سےسواری کرو جب کہ تم مجبور ہو جاؤ۔ یہاں تک کہ تمہیں اور سواری میسر ہو جائے ۔ پس اس روایت میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ نے ضرورت کے وقت سواری کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی اور ضرورت پورا ہونے پر وک دیا اور دوسری بات پائی گئی پس آثا کے پیش نظر تو ھدی کا حکم یہی ہے ۔ کہ ان پر ضرورت کے لیے سواری کی جا سکتی ہے اور اختتام ضرورت پر چھوڑ دیا جاتا ہے ۔ اب بطور نظر و فکر اس کا حکم دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ کیا ہو گا ہم نے اشیاء کو دو قسم پر پایا بعض اشیاء وہ ہیں جن میں ملک کامل ہے اور اس میں کوئی چیز ملک کے حکم کو زائل نہیں کر سکتی مثلاَ وہ غلام جس کو آقا نے مدبرنہ بنایا ہوا اور وہ لونڈی جس سے آقا کی اولاد نہ ہوئی ہو اسی طرح وہ ہدی کا جانور جس کی قربانی کو ھدی روانہ کرنے والے نے اپنے اوپر لازم نہ کیا ہو ۔ ان سب کا فروخت کرنا اور ان سے فائدہ حاصل کرنا جائز ہے اور تبادلے میں ان کے منافع کا کسی کو مالک بنانا بھی جائز ہے ۔ اور بلا بدل مین مالک منافع بنایا جا سکتا ہے ۔ اور دوسری قسم وہ ہے کہ جس میں کسی ایسی چیز کی مداخلت کی وجہ سے اس کی بیع کو ناجائز قرار دیا مگر اس سے مالک کی ملک زائل نہیں ہوئی ، اور نہ اس سے نفع اٹھانے کا حکم زائل ہوا ان میں سے ام والد ہے کہ اس کے آقاکو اس کی فروخت درست نہیں ہے اسی طرح مد بران لوگوں کے بقول جو اس کی بھی بیع کے قائل نہیں ان سے انتقاع میں کچھ حرج نہیں جو شخص ان چیزوں سے نفع حاصل کرنا چاہے خواہ بدل کے ذریعہ یا بلا بدل وہ انکے منافع کے مالک بن جائے گا اور ان سے نافع اٹھانے میں کچھ حرج نہیں وہ اس کا مال ہے وہ اس سے منافع اٹھاسکتا ہے اور اس کو حق حاصل ہے کہ وہ اس کے منافع کا مالک بدلے کے ساتھ یابلا بدل کے جس کو چاہے بنائے پھر ہم دیکھتے ہیں کہ ہدی کو اس کے مالک نے اپنے اوپر لازم کیا پس سب کا اس کے منافع کا مالک بنانا جائز نہیں تو اس سے نفع اٹھا نا بھی جائز نہیں پس اس چیز سے نفع حاصل کیا جا سکتا ہے جس کے منافع کے عوض و بدلہ کا لین دین جائز ہو ۔ قیاس کا یہی تقاضا ہے اور امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمۃ اللہ علیہم کا یہی قول ہے ۔

جابر في ركوب الهدى ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← بن لهيعة ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← بن أبي داود

Hadith 3666

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 10 باب الهدى يساق لمتعة أو قران هل يركب أم لا ) · حديث 3667

3472 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا بشر بن عمر قال ثنا شعبة أراه عن مغيرة عن إبراهيم قال لا يشرب لبن البدنة ولا يركبها إلا أن يضطر إلى ذلك

شعبہ نے بیان کیا میرے خیال میں اس نے مغیرہ سے اور اس نے ابراہیم سے نقل کیا کہ ہدی کی اونٹنی کا ددودھ نہ پیا جائے اور نہ اس پر سواری کر ے مگر اس صورت میں جبکہ مجبور ہو جائے ۔

لا يشرب لبن البدنة ولا يركبها إلا أن يضطر إلى ذلك ← إِبْرَاهِيمَ، ← مُغِيرَةَ، ← شعبة أراه ← بِشْرُ بْنُ عُمَرَ؛ ← بن مرزوق

Hadith 3667

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 10 باب الهدى يساق لمتعة أو قران هل يركب أم لا ) · حديث 3668

3473 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال هشام بن عروة عن أبيه قال البدنة إذا احتاج إليها سائقها ركبها ركوب غير قادح

ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے نقل کیا کہ جب ہدی کے جانور کا چلانے والا سواری کے لیے ضرورت محسوس کرے تو اس پر اس طرح کی سواری کر سکتا ہے جو تکلیف دہ نہ ہو۔

البدنة إذا احتاج إليها سائقها ركبها ركوب غير قادح ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Hadith 3668

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 10 باب الهدى يساق لمتعة أو قران هل يركب أم لا ) · حديث 3669

3474 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد عن قيس عن عطاء مثله وقد روى عن المتقدمين في قول الله عز و جل لكم فيها منافع الى أجل مسمى ما

حجاج نے کہا ہمیں حماد نے قیس سے انہوں نے عطاء سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

عطاء مثله وقد روى ← قَيْسٍ ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Hadith 3669

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 10 باب الهدى يساق لمتعة أو قران هل يركب أم لا ) · حديث 3670

3475 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عامر عن شعبة عن الحكم عن مجاهد ح

ابن ابی نحیج نے مجاہد سے لکم فیھا منافع۔۔۔۔۔کی تفسیر میں نقل کیا کہ منافع میں ان کی پشت اور دودھ اور اون بال ہیں جن کا استعمال ہدی بنا لینے سے پہلے پہلے جائز ہے ۔

مُجَاهِدٍ ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو عَامِرٍ ← بن مرزوق

Hadith 3670

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 10 باب الهدى يساق لمتعة أو قران هل يركب أم لا ) · حديث 3671

وحدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو حذيفة عن سفيان وحبان عن حماد كليهما عن بن أبى نجيح عن مجاهد لكم فيها منافع الى أجل مسمى قال في ظهورها وألبانها وأصوافها وأوبارها حتى تصير بدنا حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد قال أنا بن أبى نجيح عن مجاهد لكم فيها منافع الى أجل مسمى قال هى الإبل ينتفع بها حتى تقلد

ابن ابی نحیج نے مجاہد سے لکم فیھا منافع۔۔۔۔۔کی تفسیر میں لکھا ہے اس سے مراد اونٹ ہیں جن سے منافع کی اس وقت تک اجازت ہے جب تک ان کو ہدی نہ بنایا جائے ۔

هى الإبل ينتفع بها حتى تقلد ← مجاهد لكم فيها منافع الى أجل مسمى ← بن أَبِي نَجِيحٍ، ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ ← في ظهورها وألبانها وأصوافها وأوبارها حتى تصير بدنا ← مجاهد لكم فيها منافع الى أجل مسمى ← بن أَبِي نَجِيحٍ، ← حماد كليهما ← سفيان وحبان ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← وحدثنا بن مرزوق

Hadith 3671

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 10 باب الهدى يساق لمتعة أو قران هل يركب أم لا ) · حديث 3672

3477 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا ورقاء عن منصور عن إبراهيم لكم فيها منافع الى أجل مسمى قال إن احتاج الى ظهرها ركبوا إن احتاج الى لبنها شرب يعنى البدن

منصور نے ابرہیم سے لکم فیھا منافع۔۔۔۔۔۔کے متعلق نقل کیا ہے کہ اگر ضرورت ہو تو ان پر سواری درست ہے اسی طرح اگر ضرورت پڑھ جائے تو دودھ سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے ۔

إن احتاج الى ظهرها ركبوا إن احتاج الى لبنها شرب يعنى البدن ← إبراهيم لكم فيها منافع الى أجل مسمى ← مَنْصُورٌ، ← وَرْقَاءُ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Hadith 3672

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter