Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 9 باب ما كان النبي صلى الله عليه و سلم به محرما في حجة الوداع ) · حديث 3648

3454 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا هشيم قال ثنا أبو بشر عن سليمان اليشكري عن جابر بن عبد الله رضي الله عنه قال لو أهللت بالحج والعمرة طفت لهما طوافا واحدا ولكنت مهديا قال أبو جعفر فهذا من ذكرنا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم قد صرف تأويل قول الله عز و جل فمن تمتع بالعمرة الى الحج فما استيسر من الهدى إلى خلاف ما صرفه إليه عبد الله بن الزبير وهو أصح التأويلين عندنا والله أعلم لأن في الآية ما يدل على فساد تأويل بن الزبير لأن الله عز و جل قال فمن تمتع بالعمرة إلى الحج فما استيسر من الهدي فمن لم يجد فصيام ثلاثة أيام في الحج والصيام في الحج لا يكون بعد فوت الحج ولكنه قبل فوته ثم قال وسبعة إذا رجعتم تلك عشرة كاملة ذلك لمن لم يكن أهله حاضرى المسجد الحرام فكان الله عز و جل إنما جعل المتعة وأوجب فيها ما أوجب على من فعلها إذا لم يكن أهله حاضرى المسجد الحرام وقد أجمعت الأمة أن من كان أهله حاضرى المسجد الحرام أو غير حاضرى المسجد ففاته الحج أن حكمه في ذلك وحكم غيره سواء وأن حاله بحضور أهله المسجد الحرام لا يخالف حاله ببعدهم عن المسجد الحرام فثبت بذلك أن المتعة التي ذكرها الله عز و جل في هذه الآية هى التي يفترق فيها من كان أهله بحضرة المسجد الحرام ومن كان أهله بغير حضرة المسجد الحرام وذلك في التمتع بالعمرة إلى الحج التي كرهها مخالفنا وقد روى عبد الله بن عباس في ذلك عن النبي صلى الله عليه و سلم ما قد

سلیمان یشکری نے جابر بن عبداللہ سے روایت کی ہے اگر میں حج وعمرہ کا احرام باندھوں اور ان کے لیے میں ایک طواف کروں تو میں ضرور سیدھی راہ پانے والا ہوں ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ہم نے تذکرہ کیا انہوں نے آیت (فمن تمتع بالمعرہ ) کی تاویل و تفسیر حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی تفسیر سے مختلف کی ہے ہمارے ہاں تاویل اس سے بدرجہ اولیٰ ہے ( واللہ اعلم) کیونکہ خود آیت کریمہ میں ہی تفسیر ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے درست نہ ہونے کی دلیل موجود ہے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص حج کے ساتھ عمرہ کا فائدہ اٹھائے وہ جو جانور میسر ہو وہ لے جائے اور جس کو میسر نہ ہو وہ ایام حج میں تین دن کے روزے رکھے اور وہ روزے حج کے فوت ہونے کے بعد نہیں بلکہ پہلے رکھے جاتے ہیں پھر ارشاد فرمایا کہ سات روزے گھر لوٹ کر رکھو یہ کل دس مکمل ہوئے یہ اس شخص کے لیے اجازت ہے جس کا گھر مسجد حرام کے پاس نہ ہو ۔ تو اللہ تعالیٰ تمتع اور اس کے کرنے والے پر جو اجماع ہے کہ مکی اور غیر مکی سے اگر حج فوت ہو جائے تو ان کا ایک ہی حکم ہے ۔ مسجد حرام سےقرب کی بناء پر اس کا حکم اس حکم کے خلاف نہ ہو گا۔ جو مسجد حرام سے دور رہنے کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ پس اس سے ثابت ہوا کہ اس آیت کریمہ می جس تمتع کا تذکرہ ہے یہ وہی ہے جس میں حرم اور غیر اہل حرم سے مختلف ہے اور یہ حج کے ساتھ عمرہ ملا کر کرنے والا تمتع ہے جس کو فریق معترض مکروہ قرار دیتے ہیں روایت ابن عباس ذیل میں ملاحظہ ہو ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← سُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ ← أَبُو بِشْرِ: ← هُشَيْمٌ ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Hadith 3648

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 9 باب ما كان النبي صلى الله عليه و سلم به محرما في حجة الوداع ) · حديث 3649

3455 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا المعلي بن أسد قال ثنا وهيب عن عبد الله بن طاوس عن بن عباس قال كانوا يرون أن العمرة في أشهر الحج من أفجر الفجور قال وكانوا يسمون المحرم صفر ويقولون إذا برأ الدبر وعفا الأثر وانسلخ صفر حلت العمرة لمن اعتمر فقدم رسول الله صلى الله عليه و سلم وأصحابه صبيحة رابعه وهم ملبون بالحج فأمرهم أن يجعلوها عمرة قالوا يا رسول الله أي حل نحل قال الحل كله فهذا بن عباس رضي الله عنهما قد أخبر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم إنما فسخ الحج الى العمرة ليعلم الناس خلاف ما كانوا يكرهون في الجاهلية وليعلموا أن العمرة في أشهر الحج مباحة كهى في غير أشهر الحج فان قال قائل فقد ثبت بهذا عن بن عباس رضي الله عنهما أن إحرام رسول الله صلى الله عليه و سلم إنما كان بحجة مفردة فقد خالف هذا ما رويتم عنه من تمتع رسول الله صلى الله عليه و سلم وقرانه قيل له ما في هذا خلاف لذلك لأنه قد يجوز أن يكون إحرامه أولا كان بحجة حتى قدم مكة ففسخ ذلك بعمرة ثم أقام عليها على أنها عمرة وقد عزم أن يحرم بعدها بحجة فكان في ذلك متمتعا ثم لم يطف للعمرة حتى أحرم بالحجة فصار بذلك قارنا فهذه وجوه أحاديث بن عباس رضي الله عنهما قد صحت والتأمت على أن القران كان قبله التمتع والإفراد فلم تتضاد الا أن في قوله لولا أنى سقت الهدى لحللت كما حل أصحابى دليلا على أن سياقه الهدي قد كانت في وقت قد أحرم فيه بعمرة يريد بها التمتع الى الحجة لأنه لو لم يكن فعل ذلك لكان هديه ذلك تطوعا والتطوع من الهدى غير مانع من الإحلال الذي يكون لو لم يكن الهدى فدل ذلك على أن إحرام رسول الله صلى الله عليه و سلم كان أولا بعمرة ثم أتبعها حجة على السبيل الذي ذكرنا فيما تقدم من هذا الباب ولما ثبت بما وصفنا إباحة العمرة في أشهر الحج أردنا أن ننظر هل الهدى الواجب في القران كان لنقصان دخل العمرة أو الحجة إذا قرنتا أم لا فرأينا ذلك الهدى يؤكل منه وكذلك رسول الله صلى الله عليه و سلم فعله

عبداللہ بن طاؤس نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ ( اہل جاہلیت) عمرے کو حج کے مہینوں میں عظیم ترین گناہ قرار دیتے تھے ۔ یہ ابن عباس رضی اللہ عنہ ہیں جو یہ بتلا رہے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے حج کو فسخ کر کے عمرہ کے ملا لیا تا کہ وہ لوگوں کو جاہلیت کے طرز عمل کے خلاف بات سکھلائیں اور لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ حج کے مہینوں میں اسی طرح مباح ہے جیسا کہ حج کے مہینوں کے علاوہ مہینوں میں مباح ہے اگر کوئی معترض یہ کہے کہ جناب اس روایت نے توثابت کر دیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کا حج ، حج افراد تھا اور یہ بات تو اس روایت کے خلاف ہے جو تم پہلے ثابت کر چکے کہ آپ صلی اللہ علیہ کا حج تمتع اور قرآن تھا۔ اسکے جواب میں یہ عرض کیا جائے گا کہ اس میں کچھ قباحت نہیں کیونکہ یہ عین ممکن ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کا احرام ابتداء میں حج افراد کا ہو جب آپ مکہ تشریف لائے تو آپ نے اس کو فتح کر کے عمرہ میں تبدیل کر لیا پھر اس احرام عمرہ میں قائم رہے اور آپ عمرہ کے بعد حج کا پختہ ارادہ فرما چکے تھے تو آپ اس میں تمتع بن گئے ۔ پھر آپ نے عمرہ کا طواف اس وقت تک نہ کیا یہاں تک کہ حج کا احرام باندھا پس اس سے آپ قارن بن گئے ۔ یہ روایت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی صورتیں ہیں جو کہ صحیح ہو گئیں اور آپس میں موافق ہو گئیں اس طرح کہ قرآن سے پہلے تمتع اور افراد تھا ۔ پس ان روایات میں تضاد نہ رہا البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ آ پ نے فرمایا " لولا انی سقت الھدی لحللت کھا حل اصحابی " اگر میں نے ہدی روانہ نہ کی ہوتی تو میں بھی عمرے سے حلال ہو جاتا جیسا کہ میرے اصحاب نے عمرہ کر کے احرام کھول دیا ۔ یہ ارشاد اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کا ہدی روانہ کرنا ایسے وقت میں تھا جب آپ کہ عمرہ کا احرام باندھنے والے تھے اور آپ کا ارادہ اس سے حج تمتع کا تھا کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو پھر آپ کی ہدی نفلی ٹھہرتی ہے اور نفلی ہدی عمرے سے حلال ہونے کے لیے رکاوٹ نہیں ہے جیسا اس کے لیے کوئی مانع نہیں جو ہدی نہ رکھتا ہو ۔ پس اس سے دلالت میسر آگئی کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کا احرام پہلے تو عمرہ کے لیے تھا پھر حج کے لیے اس طریق سے ہو گیا جیسا کہ ہم نے اس کتاب میں بیان کیا اور ہمارے اس بیان سے حج کے مہینوں میں عمرہ کی اباحت بھی ثابت ہو گئی اب ہم یہ جانتے ہیں کہ ہم غور کریں کہ آیا قرآن میں جو قربانی واجب ہوتی ہے وہ اس نقصان کی بناء پر ہے جو نقصان حج و عمرہ کو ملانے کی وجہ سے ہوایا کچھ اور پس ہم جانتے ہیں کہ ہم غور کر یں کہ آیا قرآن میں جو قربانی واجب ہوتی ہے وہ اس نقصان کی بناء پر ہے جو نقصان حج و عمرہ کو ملانے کی وجہ سے ہو یا کچھ اور پس ہم جانتے ہیں کہ اس ھدی کا گوشت کھایا جاتا ہے اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے اسی طرح اپنے ہدایا کا گوشت کھایا تھا روایت ملاحظہ ہو ۔

كانوا يرون أن العمرة في أشهر الحج من أفجر الفجور ← بْنِ عَبَّاسٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، ← وُهَيْبٌ، ← الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Hadith 3649

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 9 باب ما كان النبي صلى الله عليه و سلم به محرما في حجة الوداع ) · حديث 3650

3456 - حدثنا محمد بن خزيمة وفهد قالا ثنا عبد الله بن صالح قال حدثني الليث قال حدثني بن الهاد عن جعفر بن محمد عن أبيه عن جابر بن عبد الله رضي الله عنه في الحديث الطويل قال وكان علي رضي الله عنه قدم من اليمن بهدى لرسول الله صلى الله عليه و سلم فكان جماعة الهدى الذي قدم به رسول الله صلى الله عليه و سلم وعلى من اليمن مائة بدنة فنحر رسول الله صلى الله عليه و سلم منها ثلاثا وستين بيده ونحر علي رضي الله عنه سبعة وثلاثين فأشرك عليا في هديه ثم أخذ من كل بدنه بضعة فجعلت في قدر فطبخت فأكل رسول الله صلى الله عليه و سلم وعلى رضي الله عنه من لحمها وشرب من مرقها فلما كان رسول الله صلى الله عليه و سلم قد ثبت عنه بما ذكرنا قبل هذا الفصل أنه قرن وأنه كان عليه لذلك هدى ثم أهدى هذه البدن التي ذكرنا فأكل من كل بدنة ما وصفنا ثبت بذلك إباحة الأكل من هدى المتعة والقران فلما كان ذلك الهدى مما يؤكل منه اعتبرنا حكم الدماء الواجبة للنقصان هل هى كذلك أم لا فرأينا الدم الواجب من قص الأظافر وحلق الشعر والجماع وكل دم يجب لترك شيء من الحجة لا يؤكل شيء من ذلك فكان كل دم وجب لإساءة أو لنقصان لا يؤكل منه وكان دم المتعة والقران يؤكل منهما فثبت بذلك أنهما وجبا لمعنى خلاف الإساءة والنقصان فهذه حجة قاطعة على من كره القران والتمتع بالعمرة الى الحج ثم الكلام بعد ذلك بين الذين جوزوا التمتع والقران في تفضيل بعضهم القران على التمتع وفي تفضيل الآخرين التمتع على القران فنظرنا في ذلك فكان في القران تعجيل الإحرام بالحج وفي التمتع تأخيره فكان ما عجل من الإحرام بالحج فهو أفضل وأتم لذلك الإحرام وقد روي عن علي رضي الله عنه قى قول الله عز و جل واتموا الحج والعمرة لله قال اتمامها أن تحرم بهما من دويرة أهلك

جعفر بن محمد نے اپنے والد سے انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے طویل حدیث میں بیان کیا کہ جناب علی رضی اللہ عنہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کے لیے یمن سے ہدی کے جانور لائے ان کی تعداد ایک سو اونٹ تھی پس جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے تریسٹھ اونٹ اپنے دست اقدس سے نحر فرمائے اور علی رضی اللہ عنہ نے سینتیس ذبح کے آپ صلی اللہ علیہ نے ان کو اپنی ہدی میں شریک فرمایا پھر ان میں سے ہر ایک اونٹ سے ایک ایک ٹکڑا لیا اور اس کو ایک ہنڈیا میں ڈال کر پکایا گیا پس جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ اور علی رضی اللہ عنہ نے اس گوشت میں سے کچھ گوشت کھایا اور اس کا شوربہ پیا ۔ جب ہماری سابقہ گفتگو سے آپ کا قارن ہونا ثابت ہو گیا اور آپ پر یہ ھدی اسی بناء پر تھی پھر آپ نے اپنے مذکورہ ہدیا ذبح کیے اور ہر اونٹ کے گوشت سے تھوڑا تھوڑا گوشت تناول فرمایا تو اس سے ثابت ہوا کہ تمتع و قرآن کی ہدی کا گوشت کھانا جائز ہے ۔ پس جب یہ ہدی ان قربانیوں میں سے تھی جن کا گوشت کھایا جاتا ہے تو ہم نے نقصان کی بناء پر لازم ہونے والی قربانیوں پر غور کیا کہ ان کا حکم اس طرح ہے یا اس سے مختلف تو ہم نے یہ بات پائی کہ ناخن تراشنے، بال کاٹنے اور جماع کی وجہ سے واجب شدہ قربانی اور ہر وہ قربانی جو کسی عمل کے ترک پر لازم ہوئی ہو اس میں کھانا جائز نہیں ۔ جب قربانی کسی گناہ کے ارتکاب یا کسی باعث لازم ہوتو اسے کھانا جائز نہیں اور تمتع و قرآن کی قربانی سے کھایا جا سکتا ہے تو اس سے ثابت ہو گیا کہ یہ قربانی گناہ یا ترک عمل کے علاوہ اور کسی وجہ سے لازم ہوتی ہے ۔ پس یہ ان لوگوں کے خلاف پختہ دلیل ہے جو حج و عمرہ کے قرآن و تمتع کو مکروہ جانتے ہیں اب اس کے بعد تمتع و قرآن کو جائز قرار دینے والوں کے مابین اختلاف ہے بعض علماء نے قرآن کو تمتع پر اور دوسروں نے تمتع کو قرآن پر فضیلت دی ہے ۔ ہم نے اس سلسلہ میں غور کر کے دیکھا کہ قرآن کی صورت میں حج کا احرام جلد باندھا جاتا ہے اور تمتع کی صورت میں اس احرام میں تاخیر ہوتی ہے ۔ وہ حج جس کا احرام جلد باندھا جائے وہ افضل اور زیادہ کامل ہے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد واتمع الحج و المعرۃ للہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔) کے متعلق اس طرح تفیسر وارد ہے کہ اس کا اتمام یہ ہے کہ اپنے گھر سے احرام باندھ لے۔

جابر بن عبد الله في الحديث الطويل ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← بْنِ الْهَادِ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← محمد بن خزيمة وفهد

Hadith 3650

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 9 باب ما كان النبي صلى الله عليه و سلم به محرما في حجة الوداع ) · حديث 3651

3457 - حدثنا بذلك بن مرزوق قال ثنا وهب عن شعبة عن عمرو بن مرة عن عبد الله بن سلمة عن على رضي الله عنه فلما كان في القران تقديم الإحرام بالحج على الوقت الذي يحرم به في التمتع كان القران أفضل من التمتع وكلما أثبتنا وصححنا في هذا الباب هو قول أبى حنيفة وأبى يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى

شعبہ نے عمرہ بن مرہ سے انہوں نے عبداللہ بن سلمہ سے انہوں نے علی رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کی ہے جب قرآن میں احرام حج تمتع کے احرام سے مقدم ہے تو قرآن افضل ہے اور جو کچھ ہم نے اس باب میں ثابت وصحیح قرار دیا وہ امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمۃ اللہ علیہم کا قول ہے ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← بذلك بن مرزوق

Hadith 3651

chevron_left Previous
1…5678
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter