شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 9 باب ما كان النبي صلى الله عليه و سلم به محرما في حجة الوداع ) · حديث 3648
3454 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا هشيم قال ثنا أبو بشر عن سليمان اليشكري عن جابر بن عبد الله رضي الله عنه قال لو أهللت بالحج والعمرة طفت لهما طوافا واحدا ولكنت مهديا قال أبو جعفر فهذا من ذكرنا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم قد صرف تأويل قول الله عز و جل فمن تمتع بالعمرة الى الحج فما استيسر من الهدى إلى خلاف ما صرفه إليه عبد الله بن الزبير وهو أصح التأويلين عندنا والله أعلم لأن في الآية ما يدل على فساد تأويل بن الزبير لأن الله عز و جل قال فمن تمتع بالعمرة إلى الحج فما استيسر من الهدي فمن لم يجد فصيام ثلاثة أيام في الحج والصيام في الحج لا يكون بعد فوت الحج ولكنه قبل فوته ثم قال وسبعة إذا رجعتم تلك عشرة كاملة ذلك لمن لم يكن أهله حاضرى المسجد الحرام فكان الله عز و جل إنما جعل المتعة وأوجب فيها ما أوجب على من فعلها إذا لم يكن أهله حاضرى المسجد الحرام وقد أجمعت الأمة أن من كان أهله حاضرى المسجد الحرام أو غير حاضرى المسجد ففاته الحج أن حكمه في ذلك وحكم غيره سواء وأن حاله بحضور أهله المسجد الحرام لا يخالف حاله ببعدهم عن المسجد الحرام فثبت بذلك أن المتعة التي ذكرها الله عز و جل في هذه الآية هى التي يفترق فيها من كان أهله بحضرة المسجد الحرام ومن كان أهله بغير حضرة المسجد الحرام وذلك في التمتع بالعمرة إلى الحج التي كرهها مخالفنا وقد روى عبد الله بن عباس في ذلك عن النبي صلى الله عليه و سلم ما قد
سلیمان یشکری نے جابر بن عبداللہ سے روایت کی ہے اگر میں حج وعمرہ کا احرام باندھوں اور ان کے لیے میں ایک طواف کروں تو میں ضرور سیدھی راہ پانے والا ہوں ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ہم نے تذکرہ کیا انہوں نے آیت (فمن تمتع بالمعرہ ) کی تاویل و تفسیر حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی تفسیر سے مختلف کی ہے ہمارے ہاں تاویل اس سے بدرجہ اولیٰ ہے ( واللہ اعلم) کیونکہ خود آیت کریمہ میں ہی تفسیر ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے درست نہ ہونے کی دلیل موجود ہے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص حج کے ساتھ عمرہ کا فائدہ اٹھائے وہ جو جانور میسر ہو وہ لے جائے اور جس کو میسر نہ ہو وہ ایام حج میں تین دن کے روزے رکھے اور وہ روزے حج کے فوت ہونے کے بعد نہیں بلکہ پہلے رکھے جاتے ہیں پھر ارشاد فرمایا کہ سات روزے گھر لوٹ کر رکھو یہ کل دس مکمل ہوئے یہ اس شخص کے لیے اجازت ہے جس کا گھر مسجد حرام کے پاس نہ ہو ۔ تو اللہ تعالیٰ تمتع اور اس کے کرنے والے پر جو اجماع ہے کہ مکی اور غیر مکی سے اگر حج فوت ہو جائے تو ان کا ایک ہی حکم ہے ۔ مسجد حرام سےقرب کی بناء پر اس کا حکم اس حکم کے خلاف نہ ہو گا۔ جو مسجد حرام سے دور رہنے کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ پس اس سے ثابت ہوا کہ اس آیت کریمہ می جس تمتع کا تذکرہ ہے یہ وہی ہے جس میں حرم اور غیر اہل حرم سے مختلف ہے اور یہ حج کے ساتھ عمرہ ملا کر کرنے والا تمتع ہے جس کو فریق معترض مکروہ قرار دیتے ہیں روایت ابن عباس ذیل میں ملاحظہ ہو ۔
جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← سُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ ← أَبُو بِشْرِ: ← هُشَيْمٌ ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ
Hadith 3648
