شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 9 باب ما كان النبي صلى الله عليه و سلم به محرما في حجة الوداع ) · حديث 3600
3412 - حدثنا على بن شيبة قال ثنا إسحاق بن إبراهيم الحنظلي قال أنا وكيع قال ثنا الأعمش عن شقيق عن الصبي بن معبد قال أهللت بهما جميعا فمررت بسلمان بن ربيعة وزيد بن صوحان فعابا ذلك على فلما قدمت على عمر رضي الله عنه ذكرت ذلك له فقال انهما لم يقولا شيئا هديت لسنة نبيك صلى الله عليه و سلم فدل قوله هديت لسنة نبيك بعد قوله انهما لم يقولا شيئا أن ذلك كان منه على التصويب منه لا على الدعاء وقد روى عن بن عباس رضي الله عنهما عن عمر رضي الله عنه ما يدل على ذلك أيضا
شقیق نے صبی بن معبد سے نقل کیا کہ میں نے حج و عمرہ کا اکٹھا احرام باندھا تو میرا گزر سلیمان بن ربیعہ اور زید بن صوحان کے پاس سے ہوا ان دونوں نے اس سلسلے میں مجھے قصووار گردانا جب میں عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آیا اور ان کو میں نے سارا واقعہ سنایا تو انہوں نے فرمایا ان دونوں نے غلط بات کہی ہے تم نے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ کی سنت کو پالیا ہے تو آپ کے ھدیت لسنۃ نبیک سے جو کہ آپ نے ( انھما لم یقولا شبیا) بعد فرمایا عمر رضی اللہ عنہ سے جو روایت نقل کی ہے وہ بھی اس پر دلالت کرتی ہے ذیل میں روایات ملاحظہ ہوں ۔
الصَّبِيِّ بْنِ مَعْبَدٍ ← شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← علي بن شيبة
Hadith 3600
