شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 5 باب التطييب عند الإحرام ) · حديث 3531
3347 - حدثنا قال ثنا أبو غسان قال ثنا أبو عوانة عن إبراهيم بن محمد بن المنتشر عن أبيه قال سألت بن عمر رضي الله عنهما عن الطيب عند الإحرام فقال ما أحب أن أصبح محرما ينضح منى ريح الطيب فأرسل بن عمر رضي الله عنهما بعض بنيه الى عائشة رضي الله عنها ليسمع أباه ما قالت قال فقالت عائشة رضي الله عنها أنا طيبت رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم طاف في نسائه فأصبح محرما فسكت بن عمر رضي الله عنهما قال أبو جعفر فدل هذا الحديث على أنه قد كان بين إحرامه وبين تطييبها إياه غسل لأنه لا يطوف عليهن إلا اغتسل فكأنها إنما أرادت بهذه الأحاديث الاحتجاج على من كره أن يوجد من المحرم بعد إحرامه ريح الطيب كما كره ذلك بن عمر رضي الله عنهما فأما بقاء نفس الطيب على بدن المحرم بعد ما أحرم وإن كان إنما تطيب به قبل الإحرام فلا نتفهم هذا الحديث فان معناه معنى لطيف فقد بينا وجوه هذه الآثار فاحتجنا بعد ذلك أن نعلم كيف وجه ما نحن فيه من الاختلاف من طريق النظر فاعتبرنا ذلك فرأينا الإحرام يمنع من لبس القميص والسراويلات والخفاف والعمائم ويمنع من الطيب وقتل الصيد وإمساكه ثم رأينا الرجل إذا لبس قميصا أو سراويلا قبل أن يحرم ثم أحرم وهو عليه أنه يؤمر بنزعه وإن لم ينزعه وتركه عليه كان كمن لبسه بعد الإحرام لبسا مستقبلا فيجب عليه في ذلك ما يجب عليه فيه لو استأنف لبسه بعد إحرامه وكذلك لو صاد صيدا في الحل وهو حلال فأمسكه في يده ثم أحرم وهو في يده أمر بتخليته وان لم يخله كان إمساكه إياه بعد إحرامه بصيد كان منه بعد إحرامه المتقدم كإمساكه إياه بعد إحرامه بصيد كان منه بعد إحرامه فلما كان ما ذكرنا كذلك وكان الطيب محرما على المحرم بعد إحرامه كحرمة هذه الأشياء كان ثبوت الطيب عليه بعد إحرامه وإن كان قد تطيب به قبل إحرامه كتطييبه به بعد إحرامه قياسا ونظرا على ما بينا فهذا هو النظر في هذا الباب وبه نأخذ وهو قول محمد بن الحسن رحمه الله
ابراہیم بن محمد بن المنتشر نے اپنے والد سے نقل کیا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے خوشبو کے متعلق سوال کیا کہ آیا احرام کے وقت لگانا درست ہے تو انہوں نے فرمایا کہ میں اس کو پسند نہیں کرتا کہ میں صبح کے وقت احرام باندھوں اور مجھ سے خوشبو مہک رہی ہو ۔ پھر ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے کسی بیٹے کو عائشہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھیجا تا کہ ان کا ارشاد معلوم ہو تو اس بیٹے سے نقل کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہ فرما تی ہیں میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کو خوشبو لگائی پھر آپ نے اپنی ازواج کے ہاں چکر لگایا پھر صبح کو احرام باندھا تو یہ سن کر ابن عمر رضی اللہ عنہ خاموش ہو گئے ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس روایت میں اس بات کی دلالت موجود ہے کہ آپ کے احرام باندھنے اور خوشبو لگانے کے مابین غسل کا فاصلہ پایا گیا کیونکہ آپ اپنی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہم کےپاس غسل کے بغیر جاتے تھے ۔ تو گویا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ان روایات سے ان لوگوں کےخلاف استدلال کیا ہے جو اس کو مکروہ قرار دیتے ہیں کہ احرام کے بعد اس سے خوشبو آئے جیسا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اس کو پسند نہ فرمایا ۔ باقی احرام کے بعد محرم کے جسم پر خوشبو کا باقی رہنا جب کہ اس نے احرام سے پہلے خوشبو لگائی پس اس روایت کا معانی ہماری سمجھ میں نہیں آتا اس لیے کہ اس کا معنی نہایت لطیف ہے ہم ان آثار کی وجوہ بیان کر چکے پس ہمیں اس بات کی ضرورت پیش آئی کہ ہم بطریق نظر اس اختلاف کی صورت معلوم کریں پس ہم نے پڑتال کی تو ہم نے احرام کو قمیص، پاجامہ احرام سے پہلے پہن لے پھر احرام باندھے اور وہ پاجامہ پہنے ہو تو اسے اس کے اتار ڈالنے کا کہا جائے گا اگر وہ اسے نہ اتارے اور جسم پر باقی رہنے دے تو اس کا حال اسی طرح شمار ہو گا جیسا اس نے احرام کے بعد مستقبل کے لباس کے طور پر پہن رکھا ہے ۔ اس پر وہ چیز لازم ہو گی جو بعد میں پہننے سے لازم آتی ہے جب کہ و ہ احرام کے بعد دوبارہ سلے ہوئے کپڑے پہن لے ۔ اسی طرح اگر اس نے شکار کر لیا جب کہ وہ حل میں تھا اور وہ اس وقت حلال تھا پھر اسے تھامے رکھا پھر اس نے احرام باندھ لیا تو اس شکار کو اپنے ہاتھ سے چھوڑنے کا کہا جائے گا اگر اس نے شکار نہ چھوڑا تو اس کا حکم احرام کے بعد شکار کرنے والے کی طرح ہے ۔ جس شکار کو احرام باندھنے کی حالت میں پکڑا اسی طرح خوشبو محرم کے لیے حرام ہے جیسا یہ چیز حرام ہیں تو اس پر خوشبو کا باقی رہنا خواہ اس نے احرام سے پہلے خوشبو لگائی ہو وہ احرام کے بعد خوشبو لگانے کی طرح ہے ۔ قیاس و نظر کا یہی تقاضا ہے جیسا کہ ہم نے وضاحت کر دی ۔ اس باب میں قیاس یہی ہے اور اسی کو ہم (طحاوی رحمۃ اللہ علیہ ) نے اختیار کیا اور یہ امام محمد بن الحسن رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے ۔
مَا أُحِبُّ ← الطِّيبِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ ← سألت بن عمر ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أبو غسان،
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3531
