شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 5 باب التطييب عند الإحرام ) · حديث 3507
3323 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا عثمان بن عمر قال ثنا عيينة بن عبد الرحمن عن أبيه أنه قال انطلقت حاجا فرافقنى عثمان بن أبى العاص فلما كان عند الإحرام قال اغسلوا رؤسكم بهذا الخطمي الأبيض ولا يمس أحد منكم غيره فوقع في نفسي من ذلك شيء فقدمت مكة فسألت بن عمر وابن عباس رضي الله عنهم فأما بن عمر فقال ما أحبه وأما بن عباس فقال أما أنا فأضمخ به رأسي ثم أحب بقاءه فهذا بن عباس رضي الله عنهما قد خالف عمر وعثمان وابن عمر وعثمان بن أبى العاص في ذلك وقد روى فىذلك عن النبي صلى الله عليه و سلم ما يدل على إباحته
عینہ بن عبدالرحمن نے اپنے والد سے نقل کیا کہ میں حج کوگیا میرے ساتھ عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ تھے جب احرام کا وقت آیا تو وہ کہنے لگے تم لوگ اپنے سروں کو سفید خطمی سے دھو لو اور اس کے علاوہ تم کسی چیز کو مت چھونا مجھے اس کے متعلق اشکال ہوا چنانچہ میں مکہ پہنچا تو میں نے ابن عمر ، ابن عباس رضی اللہ عنہم سے پوچھا ابن عمر کا جواب یہ تھا کہ میں اس کو پسند نہیں کرتا باقی ابن عباس رضی اللہ عنہ کہنے لگے میں تو اس کو خوب سر پر ملوں گا پھر میں چاہوں گا کہ یہ میرے سر پرباقی رہے ۔ تو یہ ابن عباس رضی اللہ عنہ ہیں جنہوں نے حضرت عمر ، عثمان اور ابن عمر اور عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہم کی مخالفت کی ہے اور اس سلسلہ میں جناب رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ سے اس کی اباحت و جواز پر روایات وارد ہیں ۔
أَبِيهِ ← عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← بن مرزوق
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3507
