Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 1 باب المرأة لا تجد محرما هل يجب عليها فرض الحج أم لا ) · حديث 3427

3249 - حدثنا يونس قال ثنا على بن معبد قال ثنا عبيد الله بن عمرو عن عبد الملك فذكر بإسناده مثله قالوا ففي توقيت رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذلك ليلتين دليل على أن حكم ما هو دونهما بخلاف حكمهما وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا كل سفر يكون ثلاثة أيام فصاعدا فليس لها أن تسافر إلا مع محرم وكل سفر يكون دون ذلك فلها أن تسافر بغير محرم واحتجوا في ذلك بما

علی بن معبد نے عبید اللہ بن عمرو سے انہوں نے عبدالملک سے پس انہوں نے اسی طرح اپنی اسناد سے روایت نقل کی ہے ۔جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے دو کا وقت مقرر فرمایا اس سے یہ دلیل مل گئی کہ اس سے کم وقت کا سفر اور حکم رکھتا ہے ۔دیگر علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ ہر وہ سفر جو تین ایام یا اس سے زیادہ کا سفر محرم کے بغیر نہیں کر سکتی اور اس سے کم مدت کا سفر وہ بلا محرم کر سکتی ہے اور انہوں نے اس روایت کو اپنا مستدل بنایا ہے ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3427

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 1 باب المرأة لا تجد محرما هل يجب عليها فرض الحج أم لا ) · حديث 3428

3250 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا مسدد قال ثنا يحيى عن عبيد الله عن نافع عن بن عمر رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لا يحل لامرأة أن تسافر مسيرة ثلاثة أيام إلا مع محرم

نافع نے ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے نقل کیا ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی عورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ تین دن کا سفر بغیر محرم کے کرے۔

بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← يَحْيَى ← مُسَدَّدٌ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3428

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 1 باب المرأة لا تجد محرما هل يجب عليها فرض الحج أم لا ) · حديث 3429

3251 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا مكي بن إبراهيم قال ثنا بن جريج قال ثنا عبد الكريم بن مالك عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله

عمرو بن شعیب نے اپنے والد سے انہوں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ عبد اللہ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← عبد الكريم بن مالك ← بن جُرَيْجٍ ← مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3429

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 1 باب المرأة لا تجد محرما هل يجب عليها فرض الحج أم لا ) · حديث 3430

3252 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا محمد بن المنهال قال ثنا يزيد بن زريع قال ثنا روح بن القاسم عن سهيل بن أبى صالح عن أبيه عن أبى هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا يحل لامرأة إن تسافر مسيرة ثلاثة أيام إلا مع رجل يحرم عليها نكاحه

ابو صالح نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی عورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ تین دن یا اس سے زیادہ کا سفر کسی ایسے شخص کے بغیر کرے جس کا اس سے نکاح جائز نہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3430

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 1 باب المرأة لا تجد محرما هل يجب عليها فرض الحج أم لا ) · حديث 3431

3253 - حدثنا محمد بن عمرو بن يونس قال ثنا يحيى بن عيسى وعبد الله بن نمير عن الأعمش عن أبى صالح عنأبى سعيد الخدري قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا تسافر المرأة سفرا ثلاثة أيام فصاعدا إلا ومعها زوجها أو ابنها أو أخوها أو ذي رحم محرم منها غير أن بن نمير قال في حديثه فوق ثلاث

ابو صالح نے ابو سعید الخدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی عورت تین دن کا سفر اپنے خاوند یا بیٹے یا بھائی یا ذی رحم محرم کے ساتھ کرے ۔ابن نمیر نے کہا فوق ثلاث تین دن سے زائد۔

أبى صالح عنأبى سعيد الخدري ← الْاَعْمَشِ ← يحيى بن عيسى وعبد الله بن نمير ← محمد بن عمرو بن يونس

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3431

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 1 باب المرأة لا تجد محرما هل يجب عليها فرض الحج أم لا ) · حديث 3432

3254 - حدثنا فهد قال ثنا عمر بن حفص قال ثنا أبى عن الأعمش فذكر بإسناده مثله وقال سفر ثلاثة أيام

ابی نےاعمش سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے روایت نقل کی اور یہ الفاظ ہیں ’’سفر ثلاثہ ایام ‘‘ تین دن کا سفر ۔

الأعمش فذكر بإسناده مثله وقال سفر ثلاثة أيام ← أَبِي ← عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3432

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 1 باب المرأة لا تجد محرما هل يجب عليها فرض الحج أم لا ) · حديث 3433

3255 - حدثنا فهد قال ثنا موسى بن إسماعيل أبو سلمة قال ثنا وهب بن خالد قال ثنا سهيل عن أبيه وعن المقبري حدثاه عن أبى هريرة رضي الله عنه رفعه قال لا تسافر امرأة فوق ثلاث ليال إلا مع بعل أو ذي رحم محرم قالوا ففي توقيت رسول الله صلى الله عليه و سلم الثلاث في ذلك دليل على أن حكم ما دون الثلاث بخلاف ذلك وممن قال بهذا القول أبو حنيفة وأبو يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى فقد اتفقت هذه الآثار كلها عن النبي صلى الله عليه و سلم في تحريم السفر ثلاثة أيام على المرأة بغير ذي محرم واختلفت فيما دون الثلاث فنظرنا في ذلك فوجدنا النهى عن السفر بلا محرم مسيرة ثلاثة أيام فصاعدا ثابتا بهذه الآثار كلها وكان توقيته ثلاثة أيام في ذلك إباحة السفر دون الثلاث لها بغير محرم ولولا ذلك لماكان لذكره الثلاث معنى ونهى نهيا مطلقا ولم يتكلم بكلام يكون فضلا ولكنه ذكر الثلاث ليعلم أن ما دونها بخلافها وهكذا الحكيم يتكلم بما يدل على غيره ليغنيه عن ذكر ما يدل كلامه ذلك عليه ولا يتكلم بالكلام الذي لا يدل غيره وهو يقدر أن يتكلم بكلام يدل على غيره وهذا تفضل من الله عز و جل لنبيه صلى الله عليه و سلم بذلك إذ آتاه جوامع الكلم الذي ليس في طبع غيره القوة عليه ثم رجعنا الى ما كنا فيه فلما ذكر الثلاث وثبت بذكره إياها إباحة ما هو دونها ثم ما روى عنه في منعها من السفر دون الثلاث من اليوم واليومين والبريد فكل واحد من تلك الآثار ومن الأثر المروي في الثلاث متى كان بعد الذي خالفه نسخه إن كان النهى عن سفر اليوم بلا محرم بعد النهى عن سفر الثلاث بلا محرم فهو ناسخ له وإن كان خبر الثلاث هو المتأخر عنه فهو ناسخ له فقد ثبت أن أحد المعاني التي دون الثلاث ناسخة للثلاث أو الثلاث ناسخة لها فلم يخل خبر الثلاث من أحد وجهين اما أن يكون هو المتقدم أو يكون هو المتأخر فإن كان هو المتقدم فقد أباح السفر أقل من ثلاث بلا محرم ثم جاء بعده النهى عن سفر ما هو دون الثلاث بغير محرم فحرم ما حرم الحديث الأول وزاد عليه حرمة أخرى وهو ما بينه وبين الثلاث فوجب استعمال الثلاث على ما أوجبه الأثر المذكور فيه وإن كان هو المتأخر وغيره المتقدم فهو ناسخ لما تقدمه والذي تقدمه غير واجب العمل به فحديث الثلاث واجب استعماله على الأحوال كلها وما خالفه فقد يجب استعماله إن كان هو المتأخر ولا يجب إن كان هو المتقدم فالذى قد وجب علينا استعماله والأخذ به في كلا الوجهين أولى مما قد يجب استعماله في حال وتركه في حال وفي ثبوت ما ذكرنا دليل على أن المرأة ليس لها أن تحج إذا كان بينها وبين الحج مسيرة ثلاثة أيام إلا مع محرم فإذا عدمت المحرم وكان بينها وبين مكة المسافة التي ذكرنا فهى غير واجدة للسبيل الذي يجب عليها الحج بوجوده وقد قال قوم لا بأس بأن تسافر المرأة بغير محرم واحتجوا في ذلك بما

سہیل نے اپنے والد اور مقبری سے دونوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ اور ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ ، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ کوئی عورت تین رات سے زیادہ سفر نہ کرے مگر کہ اس کے ساتھ اس کا خاوند یاذی رحم محرم ہو ۔ان علماء کا کہنا یہ ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس ارشاد میں تین دن کی تعیین فرمائی ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس سے کم کا حکم اس کے خلاف ہے ۔حضرت امام ابو حنیفہ، ابو یوسف، محمد رحمہم اللہ نے بھی اسی قول کو اختیار کیا ہے ۔تو ان تمام آثار میں یہ بات بالا تفاق ثابت ہے کہ عورت کے لئے تین دن کا سفر بلا محرم تین دن سے کم میں اختلاف ہے ہم نے اس میں غور کرکے دیکھا کہ محرم کے بغیر تین دن یا اس سے زائد سفر کی ممانعت ان روایت سے ثابت ہے اور ان روایات میں تین دن کا تعین یہ ظاہر کرتا ہے ۔کہ عورت تین دن سے کم مدت کا سفر بغیر محرم کے کر سکتی ہے اگر یہ بات نہ ہوتی تو تین دن کے تعین کا چند اں فائدہ نہ ہوتا ممانعت تو مطلق ہے اور آپ نے کوئی کلام نہیں فرمایا بلکہ صرف تین کا ذکر کیا تھا کہ معلوم ہو جائے کہ اس سے کم مدت کا حکم اس کے خلاف ہے ۔ دانا آدمی کی گفتگو اسی طرح کی ہوتی ہے جو غیر پر بھی دلالت کرتی ہے اور جس پر اس کا کلام دلالت کرتا ہے تاکہ اس کے بیان کی ضرورت نہ رہے اور جو بعد اس کے غیر پر دلالت نہیں کرتی اس کے ساتھ وہ کلام نہیں کرتا ۔حالانکہ وہ اس بات پر قادر ہوتا ہے کہ ایسی گفتگو کریں جو اس کے غیر پر بھی دلالت کرے اور یہ اللہ تعالی کا اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم پر احسان ہے کہ آپ کو جو ’’ امع قلم ‘‘ کا وصف خاص عنایت فرمایا یا جب کہ کسی دوسرے کی فطرت میں یہ قوت مطابقت نہیں ۔ ہم دوبارہ زیر بحث موضوع کی طرف آتے ہیں کہ جب آپ نے تین کا ذکر فرمایا تو اس سے کم مدت کے سفر کا جواز خود ثابت ہوگیا ۔پھر آپ سے ایک دن دو دن اور ایک برید سفر کی ممانعت بھی روایت میں آئی ہے ۔ان تمام روایات میں اور تین دن کے متعلق روایات میں سے جو بعد میں ثابت ہوگی وہ ماقبل کم مدت کے لئے ناسخ ہوگی ۔ اگر بلا محرم عورت کے ایک دن کے سفر کی ممانعت تین دن سفر والی روایت سے مؤخر ہو تو وہ اس کے لئے ناسخ ہوگی اور تین دن والی روایت بعد والی ثابت ہو تو یہ ناسخ ہوگی ۔ اس سے ثابت ہوا کہ تین دن سے کم مدت کے سلسلے میں جو کچھ روایات میں آیا ہے ۔ان میں سے کوئی روایت تین دن کے لئے ناسخ نہ ہوگی اور تین دن والی ان کے لئے ناسخ ہو گی ۔تین دنوں کے متعلق روایات ان دو باتوں سے خالی نہیں کہ وہ مقدم ہوگی یا موخر ۔ اگر وہ مقدم ہو بلا محرم تین دن کا سفر جائز ہوگا پھر بلا محرم تین دن سے کم مدت سفر کے سلسلے میں ممانعت وارد ہوئی ہے ۔ اس سے وہ کچھ حرام ہوا جو پہلی روایت سے حرام تھا اور مزید ایک حر مت بڑھا دی اور وہ یہ مدت ہے جو اس کے اور تین دنوں کے درمیان ہے ۔پس تین کا استعمال اس پر لازم ہوا جیسا کہ مذکورہ روایت اس کے وجوب کو ثابت کرتی ہے ۔ اور اگر وہ متاثر ہو اور اس کے علاوہ روایات مقدم ہو تو یہ ان مقدم روایت کی ناسخ ہوگی اور وہ مقدم پر عمل نہ ٹھہرے گا ۔پس تین پر عمل تو بہرحال واجب ہے اور جو اس کے خلاف ہے وہ اگر متاخر ہے ۔تو اس پر عمل لازم ہے ۔مگر مقدم ہونے کی صورت میں اس پر عمل لازم نہیں ۔تو وہ بات جس پر عمل کرنا اور اس کو اختیار کرنا دونوں صورتوں میں واجب ہے اور وہ اس سے اولیٰ ہے ۔ جس پر عمل کسی بھی صورت واجب ہوتا ہے اور کسی صورت میں واجب نہیں ہوتا ۔ جو کچھ ہم نے عرض کیا اس کے ثابت ہونے کی صورت میں اس بات کی دلیل ہے کہ عورت کے مسکن اور مقام حج کے درمیان تین دن کا فاصلہ ہو تو محرم کے بغیر اس کو حج کرنا جائز نہیں اور اگر مکہ مکرمہ اور اس کے مابین مذکورہ مسافت تو وہ راستے کی طاقت رکھنے والوں میں شامل نہ ہوگی جس کے پائے جانے کی وجہ سے حج فرض ہوتا ہے ہوتا ۔دوسرے علماء کہتے ہیں کہ عورت کو بلا محرم سفر حج میں کچھ حرج نہیں ہے انہوں نے دو روایات سے استدلال کیا ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ رَفَعَهُ ← المقبري حدثاه ← أَبِيهِ ← سُهَيْلٍ، ← وَهْبُ بْنُ خَالِدٍ، ← موسى بن إسماعيل أبو سلمة ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3433

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 1 باب المرأة لا تجد محرما هل يجب عليها فرض الحج أم لا ) · حديث 3434

3256 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني يونس عن بن شهاب عن عمرة عن عائشة رضي الله عنها أنها سمعتها تقول في المرأة تحج وليس معها ذو محرم فقالت مالكلهن ذو محرم

ابن شہاب نے عمرہ سے اس نے عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ وہ فرماتی تھیں عورت اس وقت بھی حج کرے جبکہ اس کے ساتھ محرم نہ ہو کیونکہ ہر عورت کو محرم میسر نہیں ۔

مالكلهن ذو محرم ← عائشة أنها سمعتها تقول في المرأة تحج وليس معها ذو محرم ← عَمْرَةَ ← بن شِهَابٍ ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3434

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 1 باب المرأة لا تجد محرما هل يجب عليها فرض الحج أم لا ) · حديث 3435

3257 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا بن وهب عن الليث أن بن شهاب حدثه عن عمرة أن عائشة رضي الله عنها أخبرت أن أبا سعيد الخدري يفتى أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لا يصلح للمرأة أن تسافر إلا ومعها محرم فقالت مالكلهن ذو محرم فان الحجة عليهم في ذلك ما قد تواترت به الآثار التي قد ذكرناها عن رسول الله صلى الله عليه و سلم فهى حجة على كل من خالفها فان قال قائل إن الحج لم يدخل في السفر الذي نهى عنه في تلك الآثار فالحجة على ذلك القائل حديث بن عباس الذي بدأنا بذكره في هذا الباب إذ يقول خطب رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال لا تسافر امرأة إلا مع محرم فقال له رجل إني أردت أن أحج بامرأتى وقد اكتتبت في غزوة كذا وكذا فقال احجج بامرأتك فدل ذلك علىانها لا ينبغي لها أن تحج إلا به ولولا ذلك لقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم وما حاجتها إليك لأنها تخرج مع المسلمين وأنت فامض لوجهك فيما اكتتبت ففي ترك النبي صلى الله عليه و سلم أن يأمره بذلك وأمره أن يحج معها دليل على أنها لا يصلح لها الحج إلا به فان قال قائل قد رويتم عن بن عمر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لا تسافر امرأة مسيرة ثلاثة أيام إلا مع ذي محرم وقد روى عنه من قوله بعد النبي صلى الله عليه و سلم خلاف ذلك فذكر ما

ابن شہاب نے عمرہ سے انہوں نے عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ سے نقل کیا کہ ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ فتویٰ دیتے تھے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورت کے لیے اس وقت تک سفر درست نہیں جب تک کے اس کے ساتھ محرم نہ ہو تو اس پر عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا ہر عورت کا تو محرم نہیں ہوتا ۔ ان مستدلین کے خلاف دلیل وہ کثیر روایات ہیں جن کو ہم نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے ۔اگر کوئی معترض یہ کہے کہ حج کا سفر اس سفر میں شامل ہی نہیں جس کی بلا محرم ممانعت کی گئی ہے تو ان کے جواب میں ہم یہ کہیں گے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کی وہ روایت جو اس باب کی ابتدا میں مذکور ہو چکی ہے وہ تمہارے جواب کے لئے کافی ہے کہ اس میں مذکور ہے کہ ، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ ارشاد فرمایا اور فرمایا عورت اپنے محرم ہی کے ساتھ سفر کرے ۔ایک شخص نے آپ سے سوال کیا کہ حضرت میں اپنی بیوی سمیت حج کرنا چاہتا ہوں اور فلاں غزوہ میں میرا نام درج کیا گیا ہے ۔تو آپ نے ارشاد فرمایا اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔ اس سے یہ دلالت مل گئی کہ عورت کو اپنے محرم کے بغیر حج درست نہ تھا اگر یہ بات نہ ہوتی تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو فرما دیتے کہ اسے تو تیری ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہ دوسرے مسلمانوں کے ساتھ حج کرے گی تو اپنے مقررہ غزوہ کی طرف چلے جا۔ آپ کے غزوہ ترک کرانے اور اپنی بیوی کے ساتھ حج کا حکم دینے میں دلیل یہ ہے کہ اس کو حج اپنی بیوی کے ساتھ ضروری ہے (ممکن ہے پھر محرم میسر نہ ہو )ایک معترض کا کہنا یہ ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کوئی عورت تین دن کی مسافت پر محرم کے علاوہ سفر نہ کرے ۔مگر ان کا اپنا فتوی اس کے مخالف ہے ملاحظہ ذیل ہو۔

أن أبا سعيد الخدري يفتى ← عمرة أن عائشة ← الليث أن بن شهاب ← بن وَهْبٍ ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3435

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 1 باب المرأة لا تجد محرما هل يجب عليها فرض الحج أم لا ) · حديث 3436

3258 - حدثنا على بن عبد الرحمن قال ثنا عبد الله بن صالح قال ثنا بكر بن مضر عن عمرو بن الحارث عن بكير أن نافعا حدثه أنه كان يسافر مع بن عمر رضي الله عنهما مواليات له ليس معهن ذو محرم قيل له ما هذا بخلاف لما رويناه عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم لأنا لم نرو عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم نهيا أن تسافر المرأة سفرا أي سفرا كان إلا بمحرم ولكنا روينا عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه نهى أن تسافر المرأة سفرا ثلاثة أيام إلا مع ذي محرم فكان ذلك ناهيا لها عن السفر الذي مقدار مسافته الثلاث إلا بمحرم ومبيحا لما هو أقل منه مسافة بغير محرم فقد يجوز أن يكون السفر الذي كان يسافره معه هؤلاء المواليات بغير محرم هو السفر الذي لم يدخل فيما نهى عنه ما رويناه عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم واحتج آخرون فى إباحة السفر للمرأة بغير محرم بما روى عن عائشة رضي الله عنها أنها كانت تسافر بغير محرم

نافع بیان کرتے ہیں کہ کہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ اپنی آزاد کردہ لونڈیوں کے ساتھ سفر کرتے تھے جبکہ ان کے ساتھ ان کا کوئی محرم نہ ہوتا تھا حالانکہ آزاد کردہ لونڈی تو غیر محرم کے حکم میں ہے ۔ اس کے جواب میں ہم یہ عرض کریں گے کہ یہ روایت اس کے مخالفت جو ہم نے ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی وساطت سے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کی ہے ۔کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہم نے مطلق ممانعت نقل نہیں ہے کہ عورت کوئی سا سفر بھی بلا محرم نہ کرے بلکہ ہم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی وساطت سے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ نے عورت کو محرم کے علاوہ تین دن کا سفر کرنے سے منع فرمایا ہے ، تو اس میں محرم کے بغیر تین دن کی مسافت پر سفر کرنے کی ممانعت ہے اور اس سے کم مسافت کا سفر درست ہے ۔تو عین ممکن ہے کہ ان کے ساتھ محرم کے بغیر لونڈیوں کا سفر ہوجو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کردہ ممانعت میں داخل نہیں ۔دوسرے علماء نے بلا محرم سفر کے مباح پر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ کی یہ روایت پیش کی ہے کہ وہ بلا محرم سفر کرتی تھی روایت ذیل میں ہے۔

بُكَيْرٍ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← علي بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3436

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 1 باب المرأة لا تجد محرما هل يجب عليها فرض الحج أم لا ) · حديث 3437

فحدثني بعض أصحابنا عن محمد بن مقاتل الرازي لا أعلمه عن حكام الرازي قال سألت أبا حنيفة رحمه الله هل تسافر المرأة بغير محرم فقال لا نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم أن تسافر امرأة مسيرة ثلاثة أيام فصاعدا إلا ومعها زوجها أو أبوها أو ذو رحم منها قال حكام فسألت العرزمي فقال لا بأس بذلك

یہ روایت حکام الرازی نے محمد بن مقاتل رازی سے نقل کی ہے کہ میں نے ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ سے پوچھا کہ کیا عورت بغیر محرم کے سفر کر سکتی ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا نہیں کیونکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین دن رات کا سفر عورت اپنے خاوند یا والد یا زی رحم محرم کے ساتھ کرے حکام کہتے ہیں میں نے عرزمی سے سوال کیا تو اس نے کہا اس میں کچھ حرج نہیں اور یہ روایت نقل کر دی ۔

سألت أبا حنيفة هل تسافر المرأة بغير محرم ← حَكَّامٌ الرَّازِيُّ ← محمد بن مقاتل الرازي لا أعلمه ← بَعْضُ أَصْحَابِنَا

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3437

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 1 باب المرأة لا تجد محرما هل يجب عليها فرض الحج أم لا ) · حديث 3438

حدثني عطاء أن عائشة رضي الله عنها كانت تسافر بلا محرم قال فأتيت أبا حنيفة رحمه الله فأخبرته بذلك فقال أبو حنيفة رحمه الله لم يدر العرزمي ما روى كان الناس لعائشة محرما فمع أيهم سافرت فقد سافرت مع محرم وليس الناس لغيرها من النساء كذلك وكل الذي أثبتنا في هذا الباب من منع المرأة من السفر مسيرة ثلاثة أيام إلا مع محرم ومن إباحة ما دون ذلك لها من السفر بغير محرم ومن أن المرأة لا يجب عليها فرض الحج إلا بوجودها المحرم مع وجود سائر السبيل الذي يجب بوجودها فرض الحج قول أبى حنيفة وأبى يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى

عطا ء نے عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ سے نقل کیا کہ وہ بغیر محرم کے سفر کرتی تھیں، راوی کہتا ہے میں ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے پاس آیا اور ان کو اس کی اطلاع دی تو ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا عرزمی کو اس روایت کا مفہوم سمجھ نہ آیا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ تو سب کی ماں تھیں اور تمام لوگ ان کے محرم تھے تو ان میں سے جس کے ساتھ انھوں نے سفر کیا تو محرم کے ساتھ کیا دوسری عورتوں کا حکم ان جیسا نہیں ۔پس ان کے فعل سے استدلال باطل ہے ۔اس باب میں ہم نے جو کچھ ثابت کیا کہ عورت تین دن کا سفر بلا محرم نہیں کر سکتی اور اس سے کم سفر بلا محرم بھی درست ہے ۔ اس طرح عورت پر حج کی فرضیت کی شرط محرم کا وجود ہے اور یہ استطا عت سبیل میں شامل ہے جس کی وجہ سے اس پر حج فرض ہوتا ہے ۔اما م ابو حنیفہ، ابو یوسف، محمد رحمہم اللہ کا یہی قول ہے۔

فأتيت أبا حنيفة فأخبرته بذلك ← عطاء أن عائشة كانت تسافر بلا محرم

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3438

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter