Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 24 باب الرجل يدخل في الصيام تطوعا ثم يفطر ) · حديث 3394

3221 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو الوليد الطيالسي ح

ابن مرزوق نے ابو الولید الطپالسی سے نقل کیا ہے۔

أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← بن مرزوق

Hadith 3394

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 24 باب الرجل يدخل في الصيام تطوعا ثم يفطر ) · حديث 3395

وحدثنا على بن شيبة قال ثنا روح بن عبادة ح

علی بن شیبہ نے روح بن عبادہ سے نقل کیا ۔

رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← وحدثنا علي بن شيبة

Hadith 3395

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 24 باب الرجل يدخل في الصيام تطوعا ثم يفطر ) · حديث 3396

وحدثنا يونس بن عبد الأعلى قال ثنا يحيى بن حسان قالوا ثنا حماد بن سلمة عن سماك بن حرب عن هارون بن أم هانئ أو بن بنت أم هانئ عن أم هانئ قالت دخلت على رسول الله صلى الله عليه و سلم وأنا صائمة فناولنى فضل شرابه فشربت ثم قلت يا رسول الله انى كنت صائمة وانى كرهت أن أرد سؤرك فقال إن كان من قضاء يوم من رمضان فصومى يوما مكانه وإن كان تطوعا فان شئت فاقضيه وإن شئت فلا تقضيه قال أبو جعفر فذهب قوم الى هذا فزعموا لأن من دخل في صوم تطوعا ثم أفطر بعد ذلك من عذر أو من غير عذر أنه لا قضاء عليه واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا عليه قضاء يوم مكانه وكان من الحجة لهم على أهل المقالة الأولى أن حديث أم هانئ إنما رواه كما ذكروا حماد بن سلمة وقد رواه غيره ممن ليس في الضبط بدونه على خلاف ذلك

سماک بن حرب نے ہارون بن ام ہا نی یا ا بن بنت ام ہانی عن ام ہانی نقل کیا کہ میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گئی میں روزے سے تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا جوٹھا پانی مجھے عنایت فرمایا تو میں نے پی لیا پھر میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں نے روزہ رکھا تھا مگر میں نے آپ کے جوٹھے کو مسترد کرنا مناسب نہ سمجھا آپ نے فرمایا ۔ اگر تمہارا روزہ قضا رمضان کا ہے تو اس کی جگہ ایک روزہ رکھ لینا اور اگر وہ نفلی روزہ ہے تو تمہاری مرضی ہے قضا کر لو یا نہ قضا کرو ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ علماء کی ایک جماعت کا کہنا ہے کہ جو شخص نفلی روزے رکھے پھر اسے توڑ دے اس پر قضا نہیں مگر دیگر علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ اسے ایک دن کا روزہ قضا کرنا ہوگا ۔ اول قول کے قائلین کے متعلق ان کی دلیل یہ ہے کہ حضرت ام ہانی رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت کو حماد بن سلمہ نے روایت کیا ہے جبکہ ان کے برابر درجہ کے حفاظ اس کے خلاف روایت کرتے ہیں ۔ذیل میں ملاحظہ ہو۔

صائمة فناولنى فضل شرابه فشربت ثم قلت ← دخلت على رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أُمِّ هَانِئٍ ← هارون بن أم هانئ أو بن بنت أم هانئ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی

Hadith 3396

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 24 باب الرجل يدخل في الصيام تطوعا ثم يفطر ) · حديث 3397

3222 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا مسدد ح

احمد بن داؤد نے مسدد سے نقل کیا ۔

مُسَدَّدٌ ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Hadith 3397

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 24 باب الرجل يدخل في الصيام تطوعا ثم يفطر ) · حديث 3398

وحدثنا بن أبى داود قال ثنا المقدمي قالا ثنا أبو عوانة عن سماك بن حرب عن بن أم هانئ عن جدته أم هانئ سمعه منها قالت أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أتى بشراب يوم فتح مكة فناولنى فشربته وكنت صائمة فكرهت أن أرد فضل سؤره فقلت يا رسول الله انى كنت صائمة فقال لها تقضين عنك شيئا قالت لا قال فلا يضرك

احمد بن داؤد نے المقدمی سے دونوں نے ابوعوانہ عن سماک بن حرب عن ابن ام ہانی نے اپنی دادی امی ہانی سے خود سن کر بیان کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فتح مکہ کے دن مشروب لایا گیا پس آپ نے وہ مجھے دیا تو میں نے پی لیا حالانکہ میں نے اس وقت روزہ رکھا تھا مگر میں نے آپ کے بچے ہوئے پانی کو مسترد کرنا پسند نہ کیا ۔ پھر میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے تو روزہ رکھا تھا آپ نے فرمایا اپنی طرف سے کیا قضا کر لوگی تو میں نے کہا نہیں آپ نے فرمایا (پھر تمہیں گناہ نہیں )پس نقصان دہ نہیں۔

جدته أم هانئ سمعه منها ← بن أم هانئ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← الْمُقَدَّمِيُّ، ← وحدثنا بن أبي داود

Hadith 3398

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 24 باب الرجل يدخل في الصيام تطوعا ثم يفطر ) · حديث 3399

3223 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا أسد بن موسى قال ثنا أبو عوانة فذكر بإسناده مثله

اسد بن موسیٰ نے ابو عوانہ سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے روایت نقل کی ہے۔

أبو عوانة فذكر بإسناده مثله ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Hadith 3399

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 24 باب الرجل يدخل في الصيام تطوعا ثم يفطر ) · حديث 3400

3224 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا أسد قال ثنا قيس بن الربيع عن سماك بن حرب عن الرجل من آل جعدة بن هبيرة عن جدته أم هانئ قالت دخلت أنا وفاطمة رضي الله عنها على رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم فتح مكة فجلست عن يمينه فدعا بشراب فشرب ثم ناولني فشربت وأنا صائمة فقلت يا رسول الله أرانى إلا قد أثمت أو أتيت حنثا عرضت على وأنا صائمة فكرهت أن أرد عليك فقال هل كنت تقضين يوما من رمضان فقالت لا قال فلا بأس

سماک بن حرب نے آل جعدہ بن ہبیرہ کے ایک آدمی سے اس نے اپنی دادی ام ہانی رضی اللہ تعالی عنہ سے نقل کیا کہتی ہیں کہ میں اور فاطمہ فتح مکہ کے روز جنا ب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گئیں میں آپ کے دائیں جانب بیٹھ گئی آپ نے پانی منگوایا اور اس میں سے کچھ پیا پھر مجھے عنایت فرمایا تو میں نے پی لیا حالانکہ میں روزے سے تھی میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے خیال میں ، میں نے گناہ کا ارتکاب کیا یا میری قسم ٹوٹ گئی ہے آپ نے مجھے پانی دیا جب کہ میں روزے سے تھی تو میں نے اسی طرح واپس کرنا ناپسند کیا آپ نے فرمایا کیا تم رمضان کے روزے کی قضا کر رہی تھی ؟اس نے کہا نہیں آپ نے فرمایا پھر تم پر کوئی حرج نہیں ۔

جَدَّتِهِ أُمِّ هَانِئٍ ← الرجل من آل جعدة بن هبيرة ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ ← أسد ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Hadith 3400

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 24 باب الرجل يدخل في الصيام تطوعا ثم يفطر ) · حديث 3401

3225 - حدثنا فهد قال ثنا الحسن بن الربيع ح

فہد نے حسن بن ربیع سے روایت نقل کی ہے۔

الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیْعِ ← فهد

Hadith 3401

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 24 باب الرجل يدخل في الصيام تطوعا ثم يفطر ) · حديث 3402

وحدثنا روح بن الفرج قال ثنا يوسف بن عدى قالا ثنا أبو الأحوص عن سماك عن بن أم هانئ عن أم هانئ عن النبي صلى الله عليه و سلم نحوه غير أنه قال فلا يضرك فقد خالف ما روى قيس وأبو عوانة وأبو الأحوص ما روى حماد بن سلمة لأن حمادا قال في حديثه إن كان قضاء من شهر رمضان فصومي يوما مكانه وإن كان تطوعا فان شئت فاقضيه وإن شئت فلا تقضيه فكان ذلك على أنه لا يجب القضاء عليها إذا كان تطوعا وقال الآخرون في حديثهم أتقضين شيئا من رمضان قالت لا قال فلا يضرك أي أنك لست بآثمة في إفطارك من هذا التطوع وليس في ذلك ما ينفى أن يكون عليها قضاء يوم مكانه فقد اضطرب حديث سماك هذا ثم نظرنا هل روى عن غيره مما فيه دلالة على شيء من ذلك

سماک نے ابن ام ہانی سے اس نے ام ہانی رضی اللہ تعالی عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے اس میں فقط اتنا فرق ہے۔’’ فلا یضرک‘‘ اس سے تمہارا کچھ نقصان نہ ہوگا۔ یعنی گناہ نہ ہو گا، پس جو قیس، ابو عوانہ رحمۃاللہ علیہ اور ابو الاحوص رحمۃاللہ علیہ نے روایت کیا وہ حماد بن سلمہ رحمۃاللہ علیہ کی روایت کے خلاف ہے۔ کیونکہ حماد کی روایت میں ہے: ’’ ان کان قضا ء من شھر رمضان فصوصی یو مام ما لکانہہ،۔۔۔ ‘‘ کہ اگر وہ قضاء رمضان کا روزہ ہو تو اس کی جگہ ایک روزہ رکھنا اور زگر نفلی روزہ ہو تو قضا ء کرنے یا نہ کرنے میں تمہاری مرضی ہے اس سے معلوم ہوا کہ نفلی روزے کی قضا ء نہیں۔ مگر دیگر حضرات اپنی روایت میں کہتے ہیں کہ آپ نے دریافت فرمایا کہ کیا تم رمضان کے روزے کی قضا ء کر رہی ہو۔ تو اس کی جگہ ایک دن کا روزہ رکھ لو۔ اور اگر نفلی روزہ ہے تو خواہ تو قضاء کر لے یا نہ کرے۔ پس نفل میں قضا ء کا مرضی پر موقوف ہونا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ قضا ء لازم نہ ہو اور دوسرے حضرات نے اپنی روایت کے الفاظ ’’ اتقضین شیئا من رمضان؟ قالت: لا قال لا یضرک‘‘ کیا تم نے رمضان کے کسی روزے کے کسی روزے کی قضاء کی ہے انہوں نے کہا تو آپ نے فرمایا اس سے تمہیں کچھ نقصان نہیں ( کیونکہ تاخیر میں کچھ حرج نہیں ہے) مطلب یہ ہے ۔کہ تم اپنے اس نفلی روزے کو افطار کر لینے میں گنہگار نہیں ہو اور اس میں اس بات کی نفی نہیں ہے کہ اس پر ایک دن کی قضاء اس کی جگہ لازم ہو۔ سماک راوی کی یہ روایت مضطرب ہے۔ پھر ہم نے دیگر روایات پر نضر ڈالی کہ آیا ان میں سے کسی میں ان باتوں مین سے کسی ہر کچھ دلالت ملتی ہو۔ تو یہ ربیع الجیزی کی روایت مل گئی۔ ذیل میں ملاحظہ کریں۔

أُمِّ هَانِئٍ ← بن أم هانئ ← سِمَاكٍ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Hadith 3402

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 24 باب الرجل يدخل في الصيام تطوعا ثم يفطر ) · حديث 3403

3226 - فإذا ربيع الجيزي قد حدثنا قال ثنا عبد الله بن مسلمة القعنبي قال ثنا عبد الله بن عمر العمرى عن بن شهاب عن عروة عن عائشة رضي الله عنها قالت أصبحت أنا وحفصة رضي الله عنها صائمتين متطوعتين فأهدى لنا طعام فأفطرنا عليه فدخل علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم فسألناه فقال اقضيا يوما مكانه ففي هذا دليل على أن حكم الإفطار في الصوم التطوع أنه موجب للقضاء فكان مما يحتج به أهل المقالة الأولى في فساد هذا الحديث أن أصله ليس عن عروة عن عائشة وانما أصله موقوف على من دون عروة وذلك

ابن شہاب نے عروہ سے انہوں نے عائشہ رضی اللہ تعالی عنہاسے نقل کیا کہ میں نے اورحفصہ رضی اللہ تعالی عنہانے نفلی روزے رکھ لئے ہمارے پاس ہدیہ کے طور پر کھانا بھیجا گیا ( انہوں نے کھانے پر مجبور کیا ) تو ہم نے آپ سے اس سلسلے میں استفسار کیا کہ آپ نے فرمایا اس کی جگہ ایک دن قضا ء کر لینا ۔اس روایت میں اس بات کی دلیل مل گئی کہ نفلی روزہ افطار کر لینے کی صورت میں قضا ء واجب ہے ۔ رہی وہ روایت جس کو قول اول کے قائلین نے دلیل بنایا تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس روایت میں شدید کمزوری ہے کہ اس کی اصل حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے ثابت نہیں بلکہ یہ عروہ سے نچلے روات پر موقوف ہے ۔ذیل کا اثر ملاحظہ ہو ۔

أصبحت ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← بن شِهَابٍ ← عبد الله بن عمر العمري ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ← فإذا ربيع الجيزي قد

Hadith 3403

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 24 باب الرجل يدخل في الصيام تطوعا ثم يفطر ) · حديث 3404

3227 - أن يونس حدثنا قال أنا بن وهب أن مالكا أخبره عن بن شهاب أن عائشة وحفصة رضي الله عنهما أصبحتا صائمتين ثم ذكر مثله قالوا فهذا هو أصل الحديث قالوا وقد سئل الزهرى عن ذلك هل سمعه من عروة فقال لا وذكروا ما

ابن وہب نے خبر دی کے مالک نے ابن شہاب سے نقل کیا گیا کہ عا یشہ و حفظہ رضی اللہ تعالی عنہا کہتی ہیں کہ ہم نے روزے کی حالت میں صبح کی پھر اسی طرح سے روایت نقل کی ہے ۔یہ ایس حدیث کی اصل ہے ، زہری سے خود دریافت کیا گیا کہ کیا اس نے عروہ سے سنا ہے تو اس نے نفی میں جواب دیا ۔

ذلك هل سمعه من عروة فقال لا وذكروا ما ← وقد سئل الزهرى ← فهذا هو أصل الحديث ← مِثْلَہُ ← بن شهاب أن عائشة وحفصة أصبحتا صائمتين ثم ← بن وهب أن مالكا ← أن يونس

Hadith 3404

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 24 باب الرجل يدخل في الصيام تطوعا ثم يفطر ) · حديث 3405

3228 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا نعيم قال سمعت بن عيينة يقول سئل الزهرى عن حديث عائشة رضي الله عنها أصبحت أنا وحفصة رضي الله عنها صائمتين فقيل له أحدثك عروة فقال لا

ابن عیینہ کہتے ہیں کہ زۃری سے حدیث عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے متعلق دریافت کیا گیا کہ ’’ اصحبت انا و حفصہ ؓ صا ئمتین‘‘ کیا تم سے عروہ نے بیان کی ہے تو انہوں نے کہا نہیں۔

وحفصة صائمتين فقيل له أحدثك عروة فقال لا ← حديث عائشة أصبحت ← سُئِلَ الزُّهْرِيُّ ← بن عُيَيْنَةَ ← نُعَيْمٌ ← بن أبي داود

Hadith 3405

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter