Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 22 باب الصائم يحتجم ) · حديث 3350

3179 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا الوحاظي قال ثنا يزيد بن ربيعة الدمشقي عن أبى الأشعث الصنعاني قال إنما قال النبي صلى الله عليه و سلم أفطر الحاجم والمحجوم لأنهما كانا يغتابان وهذا المعنى معنى صحيح وليس افطارهما ذلك كالإفطار بالأكل والشرب والجماع ولكنه حبط أجرهما باغتيابهما فصارا بذلك مفطرين لا أنه إفطار يوجب عليهما القضاء وهذا كما قيل الكذب يفطر الصائم ليس يراد به الفطر الذي يوجب القضاء إنما هو على حبوط الأجر بذلك كما يحبط بالأكل والشرب وهذا نظر ما حملناه نحن عليه من التأويل الذي ذكرناه وقد روى جماعة من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذلك معنى آخر

ابو الا شعث صنعا نی کہتے ہیں بلاشبہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’افطر الحاجم والمحجوم‘ ‘کیونکہ وہ دونوں غیبت میں مصروف تھے ۔روایت کا یہ معنی درست ہے اور ان دونوں کا افطار اس طرح کا نہیں جیسا کھا نے پینے اور جماع کی وجہ سے ہوتا ہے بلکہ غیبت کے سبب ان کا ثواب جاتا رہا اس طرح وہ روزہ توڑنے والے قرار پائے ۔یہ ٹوٹنا اس طرح کر نہیں جس سے قضا لازم ہوتی ہو اور یہ اسی طرح ہے کہ جیسے کہا جائے کہ جھوٹ روزہ دار کا روزہ توڑ دیتا ہے ۔اس سے مراد قضا لازم آنے والا ٹوٹنا نہیں بلکہ اس سے اجر کا ضائع ہونا مراد ہے جیسا بظاہر ہر کھانے پینے سے بھی روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور اجر بھی پھوٹ جاتا ہے ۔ہے یہ مذکورہ تاویل جیسی نظر ہے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ کی ایک اور جماعت نے اس سلسلے میں ایک اور معنی بھی نقل کیا ہے ذیل کی روایت ملاحظہ ہو ۔

"إِنَّمَا ← أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، ← يزيد بن ربيعة الدمشقي ← الوحاظي ← بن أبي داود

Hadith 3350

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 22 باب الصائم يحتجم ) · حديث 3351

3180 - حدثنا سليمان بن شعيب الكيسانى قال ثنا عبد الرحمن بن زياد قال ثنا شعبة عن قتادة عن أبى المتوكل الناجي عن أبى سعيد الخدري قال إنما كرهنا أو كرهت الحجامة للصائم من أجل الضعف

ابو المتوکل ناجی نے ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ ہم نے سینگی کو اس لئے نا پسند کیا کہ یہ ضعف و کمزوری کا باعث بنتی ہے تو گویا ضعف کا باعث ہونے کی وجہ سے اس کو مفطر کہہ دیا گیا ۔

إنما كرهنا أو كرهت الحجامة للصائم من أجل الضعف ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ الْكَيْسَانِيُّ

Hadith 3351

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 22 باب الصائم يحتجم ) · حديث 3352

3181 - حدثنا سليمان قال ثنا عبد الرحمن قال ثنا شعبة عن حميد قال سأل ثابت البناني أنس بن مالك هل كنتم تكرهون الحجامة للصائم قال لا إلا من أجل الضعف

حمید کہتے ہیں کہ ثابت بنانی نے انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھا کہ کی اتم روزہ دار کے لئے سینگی کو نا پسند کرتے ہو انہوں نے کہا نہیں۔ البتہ کمزوری کی وجہ سے نا پسند کرتے تھے۔

لا إلا من أجل الضعف ← سأل ثابت البناني أنس بن مالك هل كنتم تكرهون الحجامة للصائم ← حُمَيْدٍ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← سُلَیْمَانَ

Hadith 3352

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 22 باب الصائم يحتجم ) · حديث 3353

3182 - حدثنا على بن شيبة قال ثنا يزيد بن هارون قال أنا حميد الطويل قال سئل أنس بن مالك عن الحجامة للصائم فقال ما كنت أرى الحجامة تكره للصائم إلا من الجهد

حمید الطویل کہتے ہیں کہ انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھا گیا کہ روزہ دار کے لئے سینگی کا کیا حکلم ہے تو فرمایا سینگی کو روزہ دار کے لئے اس لئے نا پسند کرتا ہوں کہ اس سے کمزوری و مشقت پیدا ہوتی ہے۔

الحجامة للصائم فقال ما كنت أرى الحجامة تكره للصائم إلا من الجهد ← سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← علي بن شيبة

Hadith 3353

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 22 باب الصائم يحتجم ) · حديث 3354

3183 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا هدية بن خالد قال ثنا سليمان بن المغيرة عن ثابت عن أنس رضي الله عنه قال ما كنا ندع الحجامة إلا كراهة الجهد

سلیمان بن المغیرہ نے ثابت سے انہوں نے انس رضی اللہ تعالی عنہ سے نقل کیا کہ ہم تھکن و تکلیف کی نا پسند دیدگی کی وجہ سے روزہ دار کے لئے سینگی کو ترک کرتے تھے۔

ما كنا ندع الحجامة إلا كراهة الجهد ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← هدية بن خالد ← بن أبي داود

Hadith 3354

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 22 باب الصائم يحتجم ) · حديث 3355

3184 - حدثنا فهد قال ثنا محمد بن سعيد قال أنا شريك عن جابر عن أبى جعفر وسالم عن سعيد ومغيرة عن إبراهيم وليث عن مجاهد عن بن عباس رضي الله عنه قال إنما كرهت الحجامة للصائم مخافة الضعف فدلت هذه الآثار على أن المكروه من أجله الحجامة في الصيام هو الضعف الذي يصيب الصائم فيفطر من أجله بالأكل والشرب وقد روى نحو من هذا المعنى عن أبى العالية

ابراہیم ولیث نے مجاہد سے انہوں نے عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ میں روزہ دار کے لیے سینگی کو اس لیے ناپسند کرتا ہوں کہ اس سے ضعف پیدا نہ ہوجائے ۔ روایات سے یہ وضاحت مل گئیی کہ روزے کی حالت میں سینگی لگوانے کی کراہت کا اصل باعث وہ کمزوری ہے ہے جو اس کی بنا پر پیش آتی ہے اور وہ اس کمزوری کے لئے کھانے کی بنا ء پر روزہ توڑ دیتا ہے حضرت ابوالعالیہ رحمتہ اللہ علیہ نے بھی تقریبا اسی مفہوم کو ذکر کیا ہے روایت ذیل میں ہے ۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← مُجَاهِدٍ ← إِبْرَاهِيمَ وَلَيْثٌ ← سعيد ومغيرة ← أبى جعفر وسالم ← جَابِرٍ ← شَرِيکٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ ← فهد

Hadith 3355

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 22 باب الصائم يحتجم ) · حديث 3356

3185 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد قال أنا عاصم الأحول أن أبا العالية قال إنما كرهت مخافة أن يغشى عليه قال فأخبرت بذلك أبا قلابة فقال لي إن غشي عليه يسقى الماء وقد روى هذا المعنى أيضا بعينه عن سالم بن عبد الله

حماد بن عا صم احوال سے بیان کیا کہ ابو العالیہ کہنے لگے میں سینگی کو روزہ دار کے لئے اس وجہ سے ناپسند کرتا ہوں کہ کہیں اس کی وجہ سے اس پر غشی نہ آجائے حماد کہتے ہیں کہ میں نے ابوقلابہ کو یہ بات بیان کی تو وہ مجھے فرمانے لگے اگر اس پر غشی طاری ہو جائے تو اس کو پانی پلایا جائے ۔یہی مفہوم من و عن سالم بن عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ نے بیان کیا ہے ۔

سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← لي إن غشي عليه يسقى الماء وقد روى هذا المعنى أيضا بعينه ← بذلك أبا قلابة ← إنما كرهت مخافة أن يغشى عليه ← عاصم الأحول أن أبا العالية ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Hadith 3356

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 22 باب الصائم يحتجم ) · حديث 3357

3186 - حدثنا فهد قال ثنا بن أبى مريم قال أنا يحيى بن أيوب قال حدثني يحيى بن سعيد قال سمعت القاسم بن محمد وهو يذكر قول الناس أفطر الحاجم والمحجوم فقال القاسم لو أن رجلا حجم يده أو بعض جسده ما يفطره ذلك فقال سالم إنما كرهت الحجامة للصائم مخافة أن يغشى عليه فيفطر والمعنى الذي روى في تأويل ذلك عن أبى الأشعث كأنه أشبه بذلك لأن الضعف لو كان هو المقصود بالنهى اليه لما كان الحاجم داخلا في ذلك فإذا كان الحاجم والمحجوم قد جمعا في ذلك أشبه أن يكون ذلك لمعنى واحد هما فيه سواء مثل الغيبة التي هما فيها سواء كما قال أبو الأشعث وقد روى أيضا عن الشعبي وإبراهيم أنهما قالا إنما كرهت من أجل الضعف أيضا

یحیی بن سعید کہتے ہیں کہ میں نے قاسم بن محمد کو: ’’ افطر الحاجم والمحجوم ‘‘ کا تذکرہ کرتے سنا تو قاسم کہنے لگے اگر کوئی آدمی اس کے ہاتھ یا جسم کے کسی حصے پر سینگی لگائے تو یہ چیز اس کے روزے کو نہ توڑے گی سالم کہنے لگے میں تو روزہ دار کے لیے سینگی اس لیے نہ پسند کرتا ہوں کہ کہیں اس کی وجہ سے روزہ دار پر غشی نہ آ جائے اور پھر اسے روزہ توڑنا پڑے ۔حضرت اشعث کی تاویل میں جس معنی کو ذکر کیا گیا وہ زیادہ بہتر ہے ۔اس لیے کہ اگر ممانعت کی وجہ سے کمزوری ہوتی تو سینگی لگانے والا اس میں شامل نہ ہوتا ۔پھر جب میں اس میں سینگی لگانے اور لگوانے والا شامل ہیں تو وہ بات سب سے بہتر ہو گی جو ان دونوں میں پائی جا ئے گی مثلاً غبیت دونوں میں برابر ہے جیسا کہ ابوالا شعث نے فرمایا کہ حضرت شعبی اور ابراہیم سے بھی مروی ہے انہوں نے فرمایا کہ یہ کمزوری کی وجہ سے مکروہ ہے ۔

القاسم لو ← القاسم بن محمد وهو يذكر قول الناس أفطر الحاجم والمحجوم ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← بن اَبِیْ مَرْیَمَ ← فهد

Hadith 3357

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 22 باب الصائم يحتجم ) · حديث 3358

3187 - حدثنا يزيد هو بن سنان قال ثنا يحيى القطان قال ثنا الأعمش قال سألت إبراهيم عن الحجامة للصائم فقال إنما كرهت من أجل الضعف

اعمش کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے پوچھا کہ سینگی کا کیا حکم ہے تو انہوں نے کہا میں کمزوری کے پیدا ہو جانے کی وجہ سے اس کو نا پسند کرتا ہوں۔

الحجامة للصائم فقال إنما كرهت من أجل الضعف ← سَأَلْتُ إبْرَاهِيمَ ← الْاَعْمَشِ ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← يزيد هو بن سنان

Hadith 3358

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 22 باب الصائم يحتجم ) · حديث 3359

3188 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد قال أنا داود عن الشعبي أن الحسن بن علي احتجم وهو صائم وقال الشعبي إنما كرهت الحجامة لأنها تضعفه وقد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في إباحة الحجامة للصائم ما

داود نے شعبی سے خبر دی کہ حسن بن علی رضی اللہ تعالی عنہ نے روزے کی حالت میں سینگی لگوائی شعبی کہنے لگے میں تو سینگی کو اس لئے نا پسند کرتا ہوں کیونکہ اس سے ضعف پیدا ہوتا ہے۔

الشعبي إنما كرهت الحجامة لأنها تضعفه وقد روى ← الشعبي أن الحسن بن علي احتجم وهو صائم ← دَاوُدُ، ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Hadith 3359

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 22 باب الصائم يحتجم ) · حديث 3360

3189 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا أبو معمر قال ثنا عبد الوارث عن أيوب عن عكرمة عن بن عباس رضي الله عنهما قال احتجم رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو صائم

عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے نقل کیا ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے سینگی لگوائی اور آپ اس وقت روزے سے تھے۔

احتجم رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو صائم ← بْنِ عَبَّاسٍ ← عِكْرِمَةَ، ← أَيُّوبَ، ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← أَبُو مَعْمَرٍ، ← بن أبي داود

Hadith 3360

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 22 باب الصائم يحتجم ) · حديث 3361

3190 - حدثنا ربيع الجيزي قال ثنا أبو الأسود وهو النضر بن عبد الجبار المرادي قال أنا بن لهيعة عن جعفر بن ربيعة عن عكرمة عن بن عباس رضي الله عنهما عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله

عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← بْنِ عَبَّاسٍ ← عِكْرِمَةَ، ← جَعْفَرِ بْنِ رَبِیعَۃَ، ← بن لهيعة ← أبو الأسود وهو النضر بن عبد الجبار المرادي ← ربيع الجيزي

Hadith 3361

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter