شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 22 باب الصائم يحتجم ) · حديث 3350
3179 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا الوحاظي قال ثنا يزيد بن ربيعة الدمشقي عن أبى الأشعث الصنعاني قال إنما قال النبي صلى الله عليه و سلم أفطر الحاجم والمحجوم لأنهما كانا يغتابان وهذا المعنى معنى صحيح وليس افطارهما ذلك كالإفطار بالأكل والشرب والجماع ولكنه حبط أجرهما باغتيابهما فصارا بذلك مفطرين لا أنه إفطار يوجب عليهما القضاء وهذا كما قيل الكذب يفطر الصائم ليس يراد به الفطر الذي يوجب القضاء إنما هو على حبوط الأجر بذلك كما يحبط بالأكل والشرب وهذا نظر ما حملناه نحن عليه من التأويل الذي ذكرناه وقد روى جماعة من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذلك معنى آخر
ابو الا شعث صنعا نی کہتے ہیں بلاشبہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’افطر الحاجم والمحجوم‘ ‘کیونکہ وہ دونوں غیبت میں مصروف تھے ۔روایت کا یہ معنی درست ہے اور ان دونوں کا افطار اس طرح کا نہیں جیسا کھا نے پینے اور جماع کی وجہ سے ہوتا ہے بلکہ غیبت کے سبب ان کا ثواب جاتا رہا اس طرح وہ روزہ توڑنے والے قرار پائے ۔یہ ٹوٹنا اس طرح کر نہیں جس سے قضا لازم ہوتی ہو اور یہ اسی طرح ہے کہ جیسے کہا جائے کہ جھوٹ روزہ دار کا روزہ توڑ دیتا ہے ۔اس سے مراد قضا لازم آنے والا ٹوٹنا نہیں بلکہ اس سے اجر کا ضائع ہونا مراد ہے جیسا بظاہر ہر کھانے پینے سے بھی روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور اجر بھی پھوٹ جاتا ہے ۔ہے یہ مذکورہ تاویل جیسی نظر ہے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ کی ایک اور جماعت نے اس سلسلے میں ایک اور معنی بھی نقل کیا ہے ذیل کی روایت ملاحظہ ہو ۔
"إِنَّمَا ← أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، ← يزيد بن ربيعة الدمشقي ← الوحاظي ← بن أبي داود
Hadith 3350
