Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 17 باب صوم يوم عاشوراء ) · حديث 3206

3036 - حدثنا على بن شيبة قال ثنا روح قال ثنا شعبة قال سمعت الحكم قال سمعت القاسم بن مخيمرة عن عمرو بن شرحبيل عن قيس بن سعد مثله

عروہ بن شرحبیل نے قیس بن سعد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

قيس بن سعد مثله ← عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، ← الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← رَوْحٌ، ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3206

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 17 باب صوم يوم عاشوراء ) · حديث 3207

3037 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا سعيد بن عامر عن شعبة عن الحكم عن القاسم بن مخيمرة فذكر بإسناده مثله ففي هذه الآثار نسخ وجوب صوم يوم عاشوراء ودليل أن صومه قد رد الى التطوع بعد أن كان فرضا وقد رويت عن رسول الله صلى الله عليه و سلم آثار أخر فيها دليل على أن صومه كان اختيارا لا فرضا فمنها ما

حکم نے قاسم بن مخیمرہ سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے روایت نقل کی ہے ۔ ان روایات میں عاشوراء کے دن روزہ کا منسوخ ہو نا مذکو ر ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اس دن کے روزے کو نفل قرار دیا گیا جب کہ یہ پہلے فرض تھا ۔ جناب رسول اللہ ﷺ سے اس کے علاوہ روایات بھی وارد ہیں جو اس بات کو ثابت کرتی ہیں کہ اس روزہ کے رکھنے اور نہ رکھنے کا اختیا ر تھا فرض یہ تھا ۔ ان میں سے چند ذیل میں ہیں ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3207

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 17 باب صوم يوم عاشوراء ) · حديث 3208

3038 - حدثنا أبو بكرة وعلى بن شيبة قالا ثنا روح قال ثنا شعبة عن أبى بشر عن سعيد بن جبير عن بن عباس رضي الله عنهما أنه قال لما قدم رسول الله صلى الله عليه و سلم المدينة وجد اليهود يصومون يوم عاشوراء فسألهم فقالوا هذا اليوم الذي أظهر الله عز و جل فيه موسى عليه السلام على فرعون فقال أنتم أولى بموسى منهم فصوموه ففي هذا الحديث أن رسول الله صلى الله عليه و سلم إنما صامه شكرا لله عز و جل في إظهاره موسى على فرعون فذلك على الاختيار لا على الفرض وقد

سعید بن جبیر نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا کہ جب جناب رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو آپ نے یہود کو عاشورہ کے دن روزہ رکھتے پایا آپ نے دریافت کیا(کہ یہ روزہ کیوں کر رکھتے ہو) تو انہوں نے کہا اس دن اللہ تعالی ٰ نے موسی ی علیہ السلام کو فرعون پر غلبہ عنایت فرمایا تو آپ نے فرمایا تم ان کی نسبت موسی ٰ علیہ السلام سے زیادہ قریب ہو ۔ پس تم روزہ رکھو۔ اس روایت نے واضح کردیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اس دن کا روزہ اس شکر یہ میں رکھا کہ اللہ تعالیٰ نے فرعون پر جناب موسیٰ علیہ السلام کو غلبہ عنایت فرمایا ۔ پس اس روزے میں اختیار ہو ا نہ کہ فرضیت ۔ ذیل کی روایات ملاحظہ ہوں ۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي بِشْرٍ، ← شُعْبَةُ، ← رَوْحٌ، ← أبو بكرة وعلى بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3208

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 17 باب صوم يوم عاشوراء ) · حديث 3209

3039 - حدثنا أبو بكرة وابن مرزوق قالا ثنا روح قال ثنا بن جريج قال ثنا عبيد الله بن أبى يزيد أنه سمع بن عباس يقول ما علمت رسول الله صلى الله عليه و سلم يتحرى صيام يوم على غيره إلا هذا اليوم يوم عاشوراء أو شهر رمضان

ابو یزید کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس ؓ کو فرماتے سنا کہ میرے علم میں نہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ اس دن کے روزہ کا جس قدر اہتمام فرماتے تھے اور کسی (نفلی) روزہ کا اتنا اہتمام نہ ہوتا تھا یا پھر رمضان کا اہتمام ہوتا ۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ أَنَّهُ ← بن جُرَيْجٍ ← رَوْحٌ، ← أبو بكرة وابن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3209

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 17 باب صوم يوم عاشوراء ) · حديث 3210

3040 - حدثنا ربيع الجيزي قال ثنا أحمد بن محمد الأزرقى قال ثنا عبد الجبار بن الورد قال سمعت بن أبى مليكة يقول حدثني عبيد الله بن أبى يزيد عن بن عباس عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال ليس ليوم فضل على يوم في الصيام إلا شهر رمضان ويوم عاشوراء

عبید اللہ بن ابی یزید نے ابن عباس ؓ سے انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے نقل فرمایا کہ کسی دن کے روزے کو دوسرے دن کے روز ے پر فضیلت حاصل نہیں سوائے رمضان المبارک اور عاشورہ کے روزے کے۔

ليس ليوم فضل على يوم في الصيام إلا شهر رمضان ويوم عاشوراء ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← بْنِ عَبَّاسٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ1 بْنِ أبي يزيد، ← بن أبي مليكة ← عبد الجبار بن الورد ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْرَقِيُّ، ← ربيع الجيزي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3210

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 17 باب صوم يوم عاشوراء ) · حديث 3211

3041 - حدثنا أبو بكرة وابن مرزوق قالا ثنا روح قال ثنا حاجب بن عمر قال سمعت الحكم بن الأعرج يقول قلت لابن عباس أخبرني عن يوم عاشوراء قال عن أي باله تسأل قلت أسأل عن صيامه أي يوم أصوم قال إذا أصبحت من تاسعة فأصبح صائما قلت كذلك كان يصوم محمد صلى الله عليه و سلم قال نعم فهذا بن عباس قد روى عنه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه كان يصوم يوم عاشوراء وقد دل ذلك على صومه ذلك أنه كان اختيارا لا فرضا ما قد رواه سعيد بن جبير عن بن عباس في اخباره بالعلة التي من أجلها صام رسول الله صلى الله عليه و سلم يومئذ وقد

حکم بن اعرج کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس ؓ سے کہا کہ آپ مجھے یوم عاشورہ کے متعلق بتلائیں تو وہ کہنے لگے کیا تم اس کے روزے سے متعلق پوچھتے ہو کہ میں کسی دن روزہ رکھوں تو فرمانے لگے جب تم نویں کی صبح کرو تو روزہ رکھو ۔ میں نے پوچھا ؟ کیا حضرت محمد ﷺ اسی طرح روزہ رکھتے تھے اس پر انہوں نے کہا جی ہا ں ! تو یہ حضرت ابن عباس ؓ ہیں جن کی روایت گزری کہ آپ ﷺ عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے ۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ کا روزہ نفلی تھا نہ فرض ۔ حضرت ابو سعید الخدری ؓ نے روایا ت میں جو انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کی ہیں ۔ ان میں سے علت کو واضح کیا جس بناء پر آپ ﷺ نے اس دن روزہ رکھا ۔ روایت ملاحظہ کریں۔

الْحَكَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ، ← حَاجِبِ بْنِ عُمَرَ، ← رَوْحٌ، ← أبو بكرة وابن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3211

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 17 باب صوم يوم عاشوراء ) · حديث 3212

3042 - حدثنا الحسن بن عبد الله بن منصور قال ثنا الهيثم بن جميل قال ثنا شريك عن جابر عن سعد بن عبيدة عن أبى عبد الرحمن عن على رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يصوم يوم عاشوراء فقد يجوز أن يكون ذلك أيضا من أجل المعنى الذي ذكره بن عباس رضي الله عنهما وقد

ابو عبدالرحمٰن نے علی ؓ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ عاشورہ کے دن کا روزہ رکھتے تھے ۔ اس روایت میں جو کچھ مذکو ر ہے کہ یہ اسی بنیاد پر ہو جو روایت ابن عباس ؓ میں منقول ہوئی یعنی رکھنے نہ رکھنے کااختیا ر تھا تاکید نہ تھی ۔

عَلِيٍّ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ← جَابِرٍ ← شَرِيکٍ ← الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ، ← الحسن بن عبد الله بن منصور

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3212

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 17 باب صوم يوم عاشوراء ) · حديث 3213

3043 - حدثنا فهد قال ثنا أبو غسان قال ثنا إسرائيل عن ثور قال سمعت عبد الله بن الزبير يقول هذا يوم عاشوراء فصوموه فان رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يأمر بصومه فقد يجوز أن يكون ذلك للعلة التي ذكرناها أيضا

ثو ر کہتے ہیں کہ عبداللہ بن زبیر سے میں نے سنا یہ عاشورہ کا دن ہے پس تم روزہ رکھو اس لئے کہ جنا ب رسول اللہ ﷺ اس کے روزے کا حکم فرماتے تھے ۔ امام طحاوی ؒ فرماتے ہیں ممکن ہے کہ یہ روزے کا حکم اس علت کی بنا پر ہو جس کا ہم نے تذکرہ کیا ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← ثَوْرٍ ← اِسْرَائِیْلُ ← أبو غسان، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3213

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 17 باب صوم يوم عاشوراء ) · حديث 3214

3044 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا مسلم قال ثنا عبد الله بن ميسرة الواسطي قال ثنا مزيدة بن جابر عن أمه أن عثمان استعمل أبا موسى على الكوفة فقال يوم عاشوراء صوموا هذا اليوم فإن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يصومه فهذا الحديث يحتمل ما في حديث بن عباس أيضا

مزید ہ بن جابر نے اپنی والدہ سے نقل کیا کہ عثمان ؓ نے ابو موسی ٰؓ کو کوفہ کا عامل بنایا تو انہوں نے عاشورہ کے دن کہا آج کے دن روزہ رکھو اس لئے کہ جناب رسول اللہ ﷺ روزہ رکھتے تھے۔ اس روایت میں بھی وہی احتمال ہے جو روایت ابن عباس ؓ میں ہم نے ذکر کیا۔

أمه أن عثمان استعمل أبا موسى على الكوفة ← مَزِيدَةَ بْنِ جَابِرٍ ← عبد الله بن ميسرة الواسطي ← مُّسْلِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3214

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 17 باب صوم يوم عاشوراء ) · حديث 3215

3045 - حدثنا ربيع الجيزي قال ثنا أسد قال ثنا أبو عوانة عن الحر بن الصياح عن هبيرة بن خالد عن امرأته عن بعض أزواج النبي صلى الله عليه و سلم أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يصوم نصف ذي الحجة ويوم عاشوراء وثلاثة أيام من كل شهر فهذا أيضا مثل الذي قبله

ہبیرہ بن خالد نے اپنی بیوی سے نقل کیا اس نے ازواج النبی ﷺ میں سے کسی سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نو ذی الحجہ اور یو م عاشورہ ہر ما ہ میں تین دن کے روزے رکھتے تھے یہ روایت بھی ما قبل کی طرح ہے۔

بعض أزواج النبي صلى الله عليه و سلم ← امْرَأَتِهِ ← هبيرة بن خالد ← الْحُرِّ بْنِ الصَّيَّاحِ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أسد ← ربيع الجيزي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3215

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 17 باب صوم يوم عاشوراء ) · حديث 3216

3046 - حدثنا فهد قال ثنا الحماني قال ثنا أبو أسامة قال ثنا أبو عميس عن قيس بن مسلم عن طارق بن شهاب عن أبى موسى قال قال النبي صلى الله عليه و سلم قد كان يوم عاشوراء يوما يصومه اليهود ويتخذونه عيدا فصوموه أنتم ففي هذا الحديث أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أمر بصومه لأن اليهود كانت تصومه وقد أخبر بن عباس في حديثه بالعلة التي من أجلها كانت اليهود تصومه أنها على الشكر منهم لله تعالى في اظهاره موسى على فرعون وأن رسول الله صلى الله عليه و سلم أيضا صامه كذلك والصوم للشكر اختيار لا فرض

ابن شہاب نے ابو موسی ٰؓ سے نقل کیا کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا عاشورہ کا دن وہ تھا جس میں یہود روزہ رکھتے تھے اور اس کو عید کے طور پر مناتے تھے پس تم بھی روزہ رکھو ۔ یہ روایت بتلارہی ہے کہ جناب رسول اللہ نے اس دن کے روزے کا حکم فرمایا اور یہود یہ روزہ اس شکریہ کے طور پر رکھتے تھے کہ اللہ تعالی ٰ نے موسی ٰ علیہ السلام کو فرعون پر غلبہ عنایت فرمایا ۔ اور آپ ﷺ نے بھی اسی طور پر روزہ رکھا اور شکر کا روزہ اختیار ہوتا ہے نہ کہ فرض ۔ ذیل کی روایات۔ ملا حظہ کریں۔ اس روایت میں آپ نے ان کو روزے کا حکم فرمایا جس کا مقصد گناہوں کا کفارہ اور ثواب کا حصول تھا اور یہ ہماری پیش کردہ روایت ابن عباس ؓ کے خلاف نہیں کیونکہ یہ عین ممکن ہے کہ آپ اللہ تعالی ٰ کی بارگا ہ اس بات پر شکر گزرای کرتے ہوئے روزہ رکھتے ہوں کہ اللہ تعالی ٰ نے موسیٰ سے اد اکرتے ہو کہ موسی ٰ علیہ السلام نے اس کے ذریعے شکر یہ ادا کیا پس اللہ تعالی ٰ اس کے ذریعہ گزشتہ سال کے گناہ مٹا دیتے ہوں

اَبِیْ مُوْسیٰ ← طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، ← قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← أَبُو عُمَيْسٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← الحماني ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3216

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 17 باب صوم يوم عاشوراء ) · حديث 3217

3047 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال حدثني عبد الله بن عمرو الليث بن سعد عن نافع عن بن عمر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال من أحب منكم أن يصوم يوم عاشوراء فليصمه ومن لم يحب فليدعه

نافع نے ابن عمرؓ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے جو تم میں روزہ رکھنا پسند کرے تو وہ عاشورہ کا روزہ رکھے اور جو نہ چاہے نہ رکھے ۔

بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عبد الله بن عمرو الليث بن سعد ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3217

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter