شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 15 باب الصيام في السفر ) · حديث 3181
3013 - ما حدثنا يونس رضي الله عنه قال ثنا عبد الله بن يوسف ح وحدثنا ربيع المؤذن قال ثنا شعيب بن الليث قالا ثنا الليث عن يزيد بن أبى حبيب عن أبى الخير عن منصور الكلبي أن دحية بن خليفة خرج من قريته بدمشق الى قدر قرية عقبة في رمضان فأفطر ومعه أناس وكره آخرون أن يفطروا فلما رجع الى قريته قال والله لقد رأيت اليوم أمرا ما كنت أظن أن أراه إن قوما رغبوا عن هدى رسول الله صلى الله عليه و سلم وأصحابه يقول ذلك للذين صاموا ثم قال اللهم اقبضنى إليك فكان من الحجة للذين استحبوا الصوم في السفر في هذا الحديث أن دحية إنما ذم من رغب من هدى رسول الله صلى الله عليه و سلم وأصحابه فمن صام في سفره كذلك فهو مذموم ومن صام في سفره غير راغب عن هديه بل على التمسك بهديه فهو محمود
منصور کلبی روایت کرتے ہیں حضرت دحیہ کلبی ؓ اپنی بستی سے نکلے جو دمشق میں واقع تھی آپ قریہ عقبہ ؓ جو معمولی فاصلہ کی مقدار پر واقع تھی رمضان میں سفر کرنا چاہتے تھے انہوں نے افطار کیا اور کچھ لوگ بھی ان کے ساتھ تھے جنہوں نے افطار کیا اور دوسروں نے افطار نہ کیا جب وہ اپنی بستی کی طرف لوٹے تو کہنے لگے اللہ کی قسم میں نے آج ایسا معاملہ دیکھا ہے ۔ میرے تو خیال میں بھی یہ بات نہ تھی کہ مجھے دیکھنے کا موقعہ ملے گا۔ پس جو لو گ سفر میں روزے بہتر قرار دیتے ہیں اس روایت میں ان کی دلیل یہ ہے کہ حضر ت کلبی ؓ نے ان لوگوں کی مذمت فرمائی جنہوں نے جناب رسول اللہﷺ اور صحابہ کی سیرت سے اعراض کیا پس جس شخص نے اپنے سفر میں صحابہ کرام اور جناب رسول اللہ ﷺ کی سیرت سے اعراض کرتے ہوئے روزہ رکھا وہ قابل مذمت ہے اور جو شخص اپنے سفر میں آپ کے عمل سے گریز نہ کرتے ہوئے بلکہ اس کو مضبوطی سے تھامتے ہوئے روزہ رکھے تو وہ قابل تعریف ہے۔ کچھ لوگوں نے جناب رسول اللہﷺ کے طرز عمل سے منہ موڑ لیا۔(یہ بات آپ نے ان لوگوں کو کہی جنہوں نے روزہ رکھا تھا پھر کہنے لگے اللھم اقبضنی الیک )
مَنْصُورٍ الْكَلْبِيِّ: ← أَبِي الْخَيْرِ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← اللَّيْثُ ← شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، ← ربيع المؤذن ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← يُونُسَ ← مَا
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3181
