Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 15 باب الصيام في السفر ) · حديث 3157

2989 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا القعنبي قال ثنا مالك عن سمى عن أبى بكر بن عبد الرحمن عن رجل من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم قال رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم بالعرج في الحر وهو يصب على رأسه الماء وهو صائم من العطش أو من الحر ثم إن رسول الله صلى الله عليه و سلم لما بلغ الكديد أفطر

قزعہ بن یحیٰی نے ابو سعید خدریؓ سے نقل کیا کہ ہم جناب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جب (مکہ کی طرف) نکلے تو تیسری تار یخ رمضان المبارک کی تھی ہم روزہ کے ساتھ سفر کرتے رہے یہاں تک کہ مقام کد ید میں پہنچے تو آپ ﷺنے ہمیں افطار کا حکم فرمایا اگلی صبح ہم میں بعض روزہ دار تھے اور بعض افطار کر نے والے تھے جب ہم مر الظہر ان میں پہنچ گئے تو آپ ﷺ نے دشمن کا سا منا کرنے کی اطلاع دی اور ہمیں افطار کاحکم دیا۔ امام طحاوی ؒ فرماتے ہیں یہ روایات اس بات کو ثابت کرتی ہیں کہ سفر میں روزہ جائزہ ہے اور جناب نبی اکرم ﷺ نے اس کو صحابہ کی دشواری کے پیش نظر چھوڑا ۔تو آپ ہی بتلائیے کہ کیا یہ کہنا درست ہے کہ یہ روزہ نیکی نہیں ہے یہ کہنا بالکل جائز نہیں روزہ نیکی ہے ۔ لیکن افطار اس سے بڑی نیکی ہے جب کہ اس افطار سے مقصود دشمن سے مقابلہ کے لئے اپنے کو تیار کرنا ہو ۔چنانچہ اسی لیے رسول اللہﷺ نے ان کو ارشاد فرمایا ۔ لیس من البر الصیامر فی السفر۔ اس ارشاد کا یہی مفہوم ہے پھر اگر کوئی معترض یہ کہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کا روزہ رکھنے کے بعد افطار کرنا اور صحابہ کو اس کا حکم کرنا وہ روزہ کہ جس سے آپ نے ان کو منع نہیں کیا تھا تو قطعی طور پر سفر میں روزہ کے حکم کو منسوخ کرنے والا ہے۔ تو اس کے جواب میں یہ کہا جائے گا کہ آپ کے پاس اپنی بات کی کیا دلیل ہے حا لانکہ حضرت ابو سعید خدری والی روایت جس کو ہم پہلی فصل میں ذکر آئے اس میں یہ بات موجود ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سفر میں اس کے بعد بھی روزے رکھتے ہو ۔ تو اس روایت سے یہ دلالت مل گئی ۔ کہ سفر میں جناب رسول اللہ ﷺ کے روزہ افطار کرنے کے بعد بھی روزہ مباح تھا اور ابن عباس ؓ جو اس افطار والی روایت کے روات میں سے ایک ہیں وہ بھی یہی بات فرماتے ہیں۔ روایت ملاحظہ ہو۔

رجل من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِی بکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← سُمَيٍّ ← مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3157

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 15 باب الصيام في السفر ) · حديث 3158

2990 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو عاصم قال ثنا سعيد بن عبد العزيز قال ثنا عطية بن قيس عن قزعة بن يحيى عن أبى سعيد الخدري قال خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم لليلتين مضتا من رمضان فخرجنا صواما حتى بلغ الكديد فأمرنا بالإفطار فأصبحنا ومنا الصائم ومنا المفطر فلما بلغنا مر الظهران أعلمنا بلقاء العدو وأمرنا بالإفطار قال أبو جعفر ففي هذه الآثار اثبات جواز الصوم في السفر وأن رسول الله صلى الله عليه و سلم إنما كان تركه إياه إبقاء على أصحابه أفيجوز لأحد أن يقول في ذلك الصوم انه لم يكن برا لا يجوز هذا ولكنه بر وقد يكون الإفطار أبر منه إذا كان يراد به القوة للقاء العدو الذي أمرهم رسول الله صلى الله عليه و سلم بالفطر من أجله ولهذا المعنى قال لهم النبي صلى الله عليه و سلم والله أعلم ليس من البر الصوم في السفر على هذا المعنى الذي ذكرنا فان قال قائل إن فطر رسول الله صلى الله عليه و سلم وأمره أصحابه بذلك بعد صومه وصومهم الذي لم يكن ينهاهم عنه ناسخ لحكم الصوم في السفر أصلا قيل له وما دليلك على ما ذكرت وفي حديث أبى سعيد الخدري الذي قد ذكرناه في الفصل الذي قبل هذا أنه كان يصوم مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في السفر بعد ذلك فدل هذا الحديث على أن الصوم في السفر بعد إفطار النبي صلى الله عليه و سلم المذكور في هذه الآثار مباح وقد قال بن عباس رضي الله عنهما وهو أحد من روى عنه في إفطار النبي صلى الله عليه و سلم ما ذكرنا ما

طاوس نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا کہ اللہ تعالی ٰ نے سفر میں افطار کا حکم د ے کر تم پر آسانی فرمائی ہے ۔ پس جس کو ہمت ہو وہ روزہ رکھے اور جس کو افطار میں آسانی ہو وہ افطار کرے ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← قَزَعَۃَ بْنِ یَحْیٰی ← عَطِیَّۃَ بْنِ قَیْسٍ، ← سَعِیْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ ← أَبُو عَاصِمٍ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3158

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 15 باب الصيام في السفر ) · حديث 3159

2991 - حدثنا يونس قال ثنا علي بن معبد قال ثنا عبيد الله بن عمرو عن عبد الكريم بن مالك عن طاوس عن بن عباس رضي الله عنهما قال إنما أراد الله عز و جل بالفطر في السفر التيسير عليكم فمن يسر عليه الصيام فليصم ومن يسر عليه الفطر فليفطر

منصور نے مجاہد سے انہوں نے ابن عباس ؓ نقل کیا ہے کہ اگر چاہے تو روزہ رکھ لے اور اگر چاہے تو افطار کرے ۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ ہیں جنہوں نے جناب رسول اللہﷺ کے سفر میں روزہ رکھنے کے بعد افطار کر لینے کو آ ئندہ سفر میں روزے کو نا سخ نہیں بنایا بلکہ اس کو سہولت کا حکم قراردیا ہے ۔ اگر کوئی شخص یہ اعتراض کرے کہ ابن عباس کی روایت جو عبداللہ بن عبداللہ نے ان سے نقل کی ہے اس کے یہ الفاظ : کانو ایا خذون بالا حدث فالا حدث من امررسول اللہ ﷺ ۔ کہ صحابہ کرام جناب رسول اللہﷺ کے نئے سے نئے حکم کو اختیار کرنے والے تھے ۔ تو ان کے جواب میں یہ کہا جائے گا ۔ واللہ اعلم کہ صحابہ کرام کو اس سے پہلے معلوم نہیں تھا کہ مسافر سفر میں افطار کر سکتا ہے جیسا کہ اس کو اقامت کی حالت میں روزہ کے ترک کی اجازت نہیں ہے اور حضر اور سفرکا حکم ان کے ہاں یکساں تھا۔ یہا ں تک کہ جناب رسول اللہﷺ نے وہ نیا فعل کیا جس نے ان کےلیے سفر کے لئے افطار کو مباح کر دیا پس ان نے اس حکم کو اس طور پر اختیار کیاکہ ان کے لیے افطار بھی مباح ہے اور ترک افطار بھی ۔ حضرت ابن عباس کی روایت کا یہی معنیٰ ہے اور اس پر دوسری دلالت وہ ہے جس کو ہم نے پہلے بیان کر دیا ہے اور ہم نے اس کے قریب قریب روایت حضرت انس بن مالک ؓ کی نبی اکرم ﷺ سے نقل کر آئے ہیں جس کو ہم نے اور اسی کے قریب حضرت ابن عباس سے بھی منقول ہے پھر حضرت انس ؓ سے بھی اس مفہوم کی روایت آئی ہے جس کو ہم ابن عباس ؓ سے پہلے ذکر کر آئے ہیں ۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← طَاوْسٍ ← عبد الكريم بن مالك ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3159

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 15 باب الصيام في السفر ) · حديث 3160

2992 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا روح قال ثنا شعبة عن منصور عن مجاهد عن بن عباس قال إن شاء صام وإن شاء أفطر فهذا بن عباس لم يجعل إفطار النبي صلى الله عليه و سلم في السفر بعد صيامه فيه ناسخا للصوم في السفر ولكنه جعله على جهة التيسير فان قال قائل فما معنى قول بن عباس في حديث عبيد الله بن عبد الله الذي ذكرته عنه في ذلك وكانوا يأخذون بالأحدث فالأحدث من أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم قيل له معنى ذلك عندنا والله أعلم أنهم لم يكونوا علموا قبل ذلك أن للمسافر أن يفطر في السفر كما ليس له أن يفطر في الحضر وكان حكم الحضر وحكم السفر في ذلك عندهم سواء حتى أحدث لهم رسول الله صلى الله عليه و سلم ذلك الفعل الذي إباحه لهم الإفطار في أسفارهم فأخذوا بذلك على أن لهم الإفطار على الإباحة ولهم ترك الإفطار فهذا معنى حديث بن عباس رضي الله عنهما هذا ويدل على ذلك ما قد ذكرناه عنه من قوله الذي وصفنا وقد ذكرنا عن أنس بن مالك عن النبي صلى الله عليه و سلم في ذلك قريبا مما ذكرناه عن بن عباس عن النبي صلى الله عليه و سلم ثم قد يروى عن أنس ما يدل على إن معنى ذلك عنده مثل معناه الذي ذكرناه عن بن عباس رضي الله عنهما

عاصم احوال کہتے ہیں کہ میں نے انس ؓ سے سوال کیا کہ رمضان میں سفر کی حالت میں روزے کا کیا حکم ہے تو انہوں نے فرمایا روزہ افضل ہے۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← مُجَاهِدٍ ← مَنْصُورٌ، ← شُعْبَةُ، ← رَوْحٌ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3160

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 15 باب الصيام في السفر ) · حديث 3161

2993 - حدثنا إبراهيم بن محمد بن يونس قال ثنا أبو حذيفة قال ثنا سفيان عن عاصم وهو الأحول قال سألت أنس بن مالك عن صوم شهر رمضان في السفر فقال الصوم أفضل

حسن بن صالح نے عاصم سے انہوں نے انس ؓ سے نقل کیا کہ انہوں نے فرمایا اگر تم افطار کرو تو تیرے لئے رخصت ہے اور اگر روزہ رکھوتو روزہ افضل ہے۔

صوم شهر رمضان في السفر فقال الصوم أفضل ← سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ: ← عاصم وهو الأحول ← سُفْيَانَ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← إبراهيم بن محمد بن يونس

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3161

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 15 باب الصيام في السفر ) · حديث 3162

2994 - حدثنا فهد قال ثنا أبو نعيم قال ثنا الحسن بن صالح عن عاصم عن أنس رضي الله عنه قال إن أفطرت فرخصة وإن صمت فالصوم أفضل

عاصم نے انس ؓ سے بیان کیاکہ اگر تم چاہو روزہ رکھو اور اگر چاہو تو افطار کرو مگر روزہ افضل ہے ۔ ان روایات میں سے جن سے پہلے قول والوں نے سفر میں روزے کے متعلق اس روایت کو بھی پیش کیا کہ آپ ﷺ نے فرمایا ان اللہ وضع عن المسافر الصیام کہ اللہ تعالی ٰ نے مسافر سے روزے کو اٹھا لیاہے انہوں نے اس سے استدلال کرتے ہوئے کہا کہ جب اللہ نے اس سے روزے کو اٹھا لیا اور اس نے اگر روزہ رکھ لیا تو اس نے صرف روزہ رکھا جو کہ اس پر فرض نہیں تھا پس وہ فرضی روزے کی جگہ کام نہیں دے گا ۔ دوسرے علماء کی طرف سے ان کے جواب میں یہ کہا گیا کہ عین ممکن ہے کہ جس روزے کو اس سے ہٹایا گیا وہی روزہ ہو جس کو انہی دنوں میں رکھنا ضروری تھا جیسا کہ مقیم کے لیے ضروری ہے کہ وہ رمضان کے انہی دنوں میں روزے رکھے اور یہ روایت ہمارے اس مفہوم پر دلالت کر رہی ہے کیا ہم نہیں جانتے ہو کہ حاملہ اور مرضعہ سے بھی روزے کو اٹھالیا گیا ہے تو جناب کیا فرماتے ہیں کہ اگر حاملہ اور مرضعہ رمضان المبارک کا روزہ رکھ لیں تو ان کےلیے کافی ہو جائے گا ؟ یا وہ ان لوگوں کی طرح نہیں ہوں گی کہ جس نے روزے کے لازم ہونے سے پہلے روزے کو رکھ لیا۔ بلکہ مہینے کے داخل ہوتے ہی ان پر روزہ لازم ہو جاتا ہے ۔البتہ ضرورت کی وجہ سے ان کےلیے تاخیر کی اجازت دی گئی ۔ مسافر کا حال بھی اس سلسلے میں انہی کی طرح ہے اور اس معنیٰ پر اس اثر کو محمول کرنا زیادہ بہتر ہے تاکہ یہ اثر اس باب میں مذکورہ روایات کے خلاف نہ ہواور پہلے قول والوں کے خلاف ایک اور دلیل بھی موجود ہے جس کو ہم بیان کرتے ہیں ۔وہ اس طرح کہ ہم یہ جانتے ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس کے بعد بھی روزہ رکھتے رہے کہ جب آپ ﷺ نے ان کے لیے سفر میں افطار کو مباح کر دیا چنانچہ اس سلسلہ کی روایات ذیل میں درج کی جاتی ہیں۔

إن أفطرت فرخصة وإن صمت فالصوم أفضل ← أَنَسٍ، ← عَاصِمٍ، ← الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3162

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 15 باب الصيام في السفر ) · حديث 3163

2995 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا روح قال ثنا شعبة قال سمعت عاصما يحدث عن أنس قال إن شئت فصم وإن شئت فأفطر والصوم أفضل وكان مما احتج به أيضا أهل المقالة الأولى في دفعهم الصوم في السفر ما قد ذكرناه في غير هذ الموضع من قول رسول الله صلى الله عليه و سلم إن الله وضع عن المسافر الصيام قالوا فلما كان الصيام موضوعا عنه كان إذا صامه فقد صامه وهو غير مفروض عليه فلا يجزيه فكان من الحجة للآخرين عليهم في ذلك أنه قد يجوز أن يكون ذلك الصيام الذي وضعه عنه هو الصيام الذي لا يكون له منه بد في تلك الأيام كما لا بد للمقيم من ذلك وفي هذا الحديث ما قد دل على هذا المعنى ألا تراه يقول وعن الحامل والمرضع أفلا ترى أن الحامل والمرضع إذا صامتا رمضان أن ذلك يجزيهما أو أنهما لا يكونان كمن صام قبل وجوب الصوم عليه بل جعل ما يجب الصوم عليهما بدخول الشهر فجعل لهما فأخبره للضرورة والمسافر في ذلك مثلهما وهذا أولى ما حمل عليه هذا الأثر حتى لا يضاد غيره من الآثار التي ذكرناها في هذا الباب وكان من الحجة على أهل المقالة الأولى التي قد ذكرناها لأهل المقالة الثانية التي وصفناها أنا قد رأيناهم كانوا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم بعد أن أباح لهم الإفطار في السفر يصومون فيه فمما روى في ذلك ما

عثمان بن حیان و مشقی نے ام الدرداءؓ سے نقل کیا کہ ابوالدرداءؓفرماتے تھے ہم نے اپنے کو جناب رسول اللہ ﷺ کی معیت میں ایک سخت گرم دن میں سفر میں پایا ۔ گرمی اس قدر شدید تھی کہ لوگ سخت حرارت کی وجہ سے گرمی سے حفاظت کے لئے سروں پر ہاتھ رکھ رہے تھے اور ہم میں سے صرف جناب رسول اللہ ﷺ اور عبداللہ بن رواحہ روزے سے تھے۔

أَنَسٍ، ← عاصما ← شُعْبَةُ، ← رَوْحٌ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3163

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 15 باب الصيام في السفر ) · حديث 3164

2996 - حدثنا يزيد بن سنان وربيع الجيزي وصالح بن عبد الرحمن قالوا ثنا القعنبي قال ثنا هشام بن سعد عن عثمان بن حيان الدمشقي عن أم الدرداء قالت قال أبو الدرداء لقد رأيتنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في بعض أسفاره في يوم شديد الحر حتى إن الرجل ليضع يده على رأسه من شدة الحر وما منا صائم إلا رسول الله صلى الله عليه و سلم وعبد الله بن رواحة

ابو نضرہ نے جابر ؓ سے نقل کیا کہ ہم جناب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر میں تھے ہم میں سے بعض روزہ سے تھے اور بعض افطار کرنے والے تھے اور کوئی ایک دوسرے پر نکتہ چینی نہ کرتا تھا(کہ تونے روزہ کیوں رکھا اور کیوں نہیں رکھا)

أُمِّ الدَّرْدَاءِ، ← عُثْمَانَ بْنِ حَيَّانَ الدِّمَشْقِيِّ ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← يزيد بن سنان وربيع الجيزي وصالح بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3164

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 15 باب الصيام في السفر ) · حديث 3165

2997 - حدثنا محمد بن عمرو بن يونس قال ثنا أبو معاوية عن عاصم عن أبى نضرة عن جابر رضي الله عنه قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في سفر فمنا الصائم ومنا المفطر فلم يكن يعيب بعضنا على بعض

ابو نضرہ نے ابو سعید الخدریؓ سے روایت نقل کی ہے کہ ہم جناب رسول اللہﷺ کے ساتھ ۱۹ رمضان یا سترہ رمضان کو فتح مکہ کے دن موجود تھے بعض روزہ رکھنے والوں نے روزہ رکھا اور افطار کرنے والوں نے افطار کیالیکن کسی نے ایک دوسرے کو عیب نہیں لگایا (روزہ رکھنے نہ رکھنے کا)

جَابِرٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← عَاصِمٍ، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← محمد بن عمرو بن يونس

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3165

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 15 باب الصيام في السفر ) · حديث 3166

2998 - حدثنا على بن شيبة قال ثنا روح بن عبادة قال ثنا شعبة قال سمعت قتادة يحدث عن أبى نضرة عن أبى سعيد الخدري قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم فتح مكة لتسع عشرة أو لسبع عشرة من رمضان فصام صائمون وأفطر مفطرون فلم يعب هؤلاء على هؤلاء ولا هؤلاء على هؤلاء

سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے نقل کیا پھر انہوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی البتہ انہوں نے ۱۲ رمضان بتلایا ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3166

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 15 باب الصيام في السفر ) · حديث 3167

2999 - حدثنا على بن شيبة قال ثنا روح قال ثنا سعيد بن أبى عروبة عن قتادة فذكر بإسناده مثله غير أنه قال لاثنتي عشرة

ہشام بن ابو عبداللہ نے قتادہ سے نقل کیا پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی تاریخ ۱۸ رمضان بتلائی۔

لاثنتي عشرة ← قتادة فذكر بإسناده مثله غير أنه ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← رَوْحٌ، ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3167

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 15 باب الصيام في السفر ) · حديث 3168

3000 - حدثنا علي قال ثنا روح قال ثنا هشام بن أبى عبد الله عن قتادة فذكر بإسناده مثله غير أنه قال لثمان عشرة

وہب نے ہشام سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے روایت اسی طرح نقل کی ہے ۔

لثمان عشرة ← قتادة فذكر بإسناده مثله غير أنه ← هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، ← رَوْحٌ، ← عَلِيٍّ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3168

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter