شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 15 باب الصيام في السفر ) · حديث 3145
2977 - حدثنا أبو أمية قال ثنا علي بن عياش قال ثنا بن ثوبان عن عبد الله بن الفضل عن الأعرج عن أبى هريرة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله
اعراج نے ابو ہریرہؓ سےانہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے۔ آپﷺ کے ارشاد لیس المسکین بالطواف کا معنیٰ یہ نہیں کہ اس میں مسکینی کا کوئی سبب نہیں پایا جاتا بلکہ مراد یہ ہے کہ وہ کامل مسکنت والا مسکین نہیں کامل مسکنت والا مسکین وہ ہے جو نہ تو لوگوں سے سوال کرتا ہے اور نہ اس کو لوگ مسکین سمجھتے ہیں کہ اس کو صدقہ دیں پس اسی طرح روایت لیس من البر الصیام فی السفر (الحدیث) اس میں روزے کو مطلقًا نیکی سے نہیں نکالا گیا بلکہ اس کو اعلیٰ درجے کی نیکی سے نکلا گیا ہے کیونکہ بسا اوقات افطار کرنا اس سے زیادہ نیکی ہے مثلاً جب کہ دشمن سے سامنے کا خطرہ ہو وغیرہ ۔یہی مطلب درست ہے اور اس معنیٰ سے یہ زیادہ بہتر ہے جس پر قول اول والوں نے محمول کیاہے اور اس کا مقصد یہ ہے تاکہ اس باب کی منقولہ روایات میں تضاد نہ رہے ۔ چنانچہ ان روایات کو ملاحظہ فرمائیں ۔
رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، ← بن ثَوْبَانَ، ← عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ← اَبُوْ اُمَیَّۃَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3145
