شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 10 باب وزن الصاع كم هو ) · حديث 3068
2900 - حدثنا بن أبى عمران قال قال ثنا محمد بن شجاع وسليمان بن بكار وأحمد بن منصور الرمادي قالوا ثنا يعلى بن عبيد عن موسى الجهني عن مجاهد قال دخلنا على عائشة رضي الله عنها فاستسقى بعضنا فأتى بعس قالت عائشة رضي الله عنها كان النبي صلى الله عليه و سلم يغتسل بمثل هذا قال مجاهد فحزرته فيما أحزر ثمانية أرطال تسعة أرطال عشرة أرطال قال أبو جعفر فذهب ذاهبون الى أن وزن الصاع ثمانية أرطال واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وقال لم يشك مجاهد في الثمانية وانما شك فيما فوقها فثبتت الثمانية بهذا الحديث وانتفى ما فوقها وممن قال بهذا القول أبو حنيفة رحمه الله وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا وزنه خمسة أرطال وثلث رطل وممن قال بذلك أبو يوسف رحمه الله وقالوا هذا الذي كان يغتسل به رسول الله صلى الله عليه و سلم هو صاع ونصف وذكروا في ذلك ما
موسی ٰ جہنی نے مجاہد سے نقل کیا کہ ہم حضرت عائشہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم میں سے بعض نے پانی مانگا تو انہوں نے بڑی ہنڈیا یا بڑا پیالہ منگوایا حضرت عائشہ ؓ فرمانے لگیں جناب نبی اکرم ﷺ اس جیسے برتن کی مقدار پانی سے غسل فرمالیتے تھے میں نے اس کو ماپا تو پیمائش میں وہ آٹھ رطل ، نورطل ، دس رطل کے برابر تھا ۔ امام طحاویؒ فرماتے ہیں کہ بعض علماء اس طرف گئے ہیں کہ صاع کا وزن آٹھ رطل ہے ۔ انہوں نے اس روایت کو دلیل بنا یا ہے ۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ امام مجاہد ؒ نے اٹھ رطل میں شک ظاہر نہیں کیا البتہ زائد میں شک ظاہر کیا تو اس روایت نے آٹھ رطل کو ثابت اور زائد کی نفی کر دی۔ اس بات کو اختیار کرنے والوں میں امام ابو حنیفہ ؒ بھی ہیں ۔ مگر دوسرے علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ صاع کا وزن پانچ رطل اور 1/3رطل ہے ۔ امام ابو ا یو سف بھی اس قول کو اختیار کرنے والے ہیں ان کا کہنا یہ ہے کہ آ پ جس پانی سے غسل فرماتے وہ ڈیڑھ صاع تھا اور انہوں نے ذیل کی روایات ذکر کیں۔
مُجَاهِدٍ ← مُوسَى الْجُهَنِيَّ، ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ بَكَّارٍ: ← مُحَمَّدُ بْنُ شُجَاعٍ، ← بن أبي عمران
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3068
