شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 9 باب مقدار صدقة الفطر ) · حديث 3039
2873 - أبا بكرة قد حدثنا قال ثنا حجاج بن المنهال قال ثنا حماد عن يونس عن الحسن أن مروان بعث الى أبى سعيد أن ابعث الى بزكاة رقيقك فقال أبو سعيد للرسول إن مروان لا يعلم إنما علينا أن نعطى لكل رأس عند كل فطر صاعا من تمر أو نصف صاع من بر فهذا أبو سعيد قد أخبر في هذا بما عليه في زكاة الفطر عن عبيده فدل ذلك على ما ذكرنا وأن ما روى عنه مما زاد على ذلك كان اختيارا منه ولم يكن فرضا وقد جاءت الآثار عن رسول الله صلى الله عليه و سلم بما فرضه في زكاة الفطر موافقة لهذا أيضا
یونس نے حسن سے نقل کیا کہ مروان نے ابو سعید ؓ کی طرف پیغام بھیجا کہ اپنے غلام کی زکوٰۃ فطر بھیج دو تو ابو سعید ؓ نے قاصد کو کہا مروان کو علم نہیں ہمارے ذمہ لازم ہے کہ ہم ہر شخص کی طرف سے صدقۃالفطر گندم کا ایک صاع یا نصف صاع گندم ادا کر یں ۔ یہ حضرت ابو سعید ؓ ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ ان پر غلام کا صدقہ فطر کتنی مقدار میں ہے ۔یہ بھی تو اس بات پر دلیل ہے۔ جو کچھ ان سے زیادہ دینے کے بارے میں مروی ہے تو وہ ان کی اختیار بات تھی ان پر فرض نہ تھا ۔ جناب رسول اللہﷺ اور اس کے موافق جناب رسول اللہ سے روایات بھی آ تی ہیں ذیل ملا حظہ ہوں۔
الحسن أن مروان بعث الى أبى سعيد أن ابعث الى بزكاة رقيقك ← يُونُسَ ← حَمَّادٌ، ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← أبا بكرة قد
Hadith 3039
