Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 9 باب مقدار صدقة الفطر ) · حديث 3039

2873 - أبا بكرة قد حدثنا قال ثنا حجاج بن المنهال قال ثنا حماد عن يونس عن الحسن أن مروان بعث الى أبى سعيد أن ابعث الى بزكاة رقيقك فقال أبو سعيد للرسول إن مروان لا يعلم إنما علينا أن نعطى لكل رأس عند كل فطر صاعا من تمر أو نصف صاع من بر فهذا أبو سعيد قد أخبر في هذا بما عليه في زكاة الفطر عن عبيده فدل ذلك على ما ذكرنا وأن ما روى عنه مما زاد على ذلك كان اختيارا منه ولم يكن فرضا وقد جاءت الآثار عن رسول الله صلى الله عليه و سلم بما فرضه في زكاة الفطر موافقة لهذا أيضا

یونس نے حسن سے نقل کیا کہ مروان نے ابو سعید ؓ کی طرف پیغام بھیجا کہ اپنے غلام کی زکوٰۃ فطر بھیج دو تو ابو سعید ؓ نے قاصد کو کہا مروان کو علم نہیں ہمارے ذمہ لازم ہے کہ ہم ہر شخص کی طرف سے صدقۃالفطر گندم کا ایک صاع یا نصف صاع گندم ادا کر یں ۔ یہ حضرت ابو سعید ؓ ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ ان پر غلام کا صدقہ فطر کتنی مقدار میں ہے ۔یہ بھی تو اس بات پر دلیل ہے۔ جو کچھ ان سے زیادہ دینے کے بارے میں مروی ہے تو وہ ان کی اختیار بات تھی ان پر فرض نہ تھا ۔ جناب رسول اللہﷺ اور اس کے موافق جناب رسول اللہ سے روایات بھی آ تی ہیں ذیل ملا حظہ ہوں۔

الحسن أن مروان بعث الى أبى سعيد أن ابعث الى بزكاة رقيقك ← يُونُسَ ← حَمَّادٌ، ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← أبا بكرة قد

Hadith 3039

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 9 باب مقدار صدقة الفطر ) · حديث 3040

2874 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا عارم ح

ابراہیم بن مرزوق نے عارم سے روایت نقل کی ہے۔

عَارِمٌ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Hadith 3040

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 9 باب مقدار صدقة الفطر ) · حديث 3041

وحدثنا بن أبى داود قال ثنا سليمان بن حرب قالا ثنا حماد بن زيد عن أيوب عن نافع عن بن عمر رضي الله عنهما قال أمر النبي صلى الله عليه و سلم بصدقة الفطر عن كل صغير وكبير حر وعبد صاعا من شعير أو صاعا من تمر قال فعدله الناس بمدين من حنطة

نافع نے ابن عمر ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے ہر چھوٹے بڑے ، آزاد غلام کی طرف سے جو کا ایک صاع ، کھجور کا ایک صاع مقر ر کیا لوگوں نے اس کا معادلہ دو مد گندم سے کر لیا۔

فعدله الناس بمدين من حنطة ← كل صغير وكبير حر وعبد صاعا من شعير أو صاعا من تمر ← أمر النبي صلى الله عليه و سلم بصدقة الفطر ← بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← وحدثنا بن أبي داود

Hadith 3041

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 9 باب مقدار صدقة الفطر ) · حديث 3042

2875 - حدثنا على بن شيبة قال ثنا قبيصة قال ثنا سفيان عن عبيد الله عن نافع عن بن عمر رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

نافع نے ابن عمر ؓ سے انہوں نے جناب بنی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ، ← علي بن شيبة

Hadith 3042

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 9 باب مقدار صدقة الفطر ) · حديث 3043

2876 - حدثنا محمد بن عمرو قال ثنا يحيى بن عيسى عن أبى ليلى عن نافع عن بن عمر رضي الله عنهما مثله

نافع نے ابن عمر ؓ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔

بن عمر مثله ← نَافِعٍ ← أَبِي لَيْلَى ← يَحْيَى بْنُ عِيسَى ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو،

Hadith 3043

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 9 باب مقدار صدقة الفطر ) · حديث 3044

2877 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا أبو الوليد الطيالسي وبشر بن عمر قالا ثنا ليث بن سعد عن نافع عن بن عمر رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله غير أنه لم يذكر التعديل

نافع نے ابن عمر ؓ سے انہوں نے جناب بنی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کی البتہ تعدیل کا تذکرہ نہیں ہے۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله غير أنه لم يذكر التعديل ← بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أبو الوليد الطيالسي وبشر بن عمر ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Hadith 3044

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 9 باب مقدار صدقة الفطر ) · حديث 3045

2878 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا أخبره ح

ابن وہب سے خبر دی کہ مالک نے ہمیں خبر دی ہے ۔

بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Hadith 3045

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 9 باب مقدار صدقة الفطر ) · حديث 3046

وحدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا عبد الله بن مسلمة قال ثنا مالك عن نافع عن بن عمر رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله غير أنه قال عن كل حر وعبد ذكر وأنثى من المسلمين

نافع نے ابن عمر ؓ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے البتہ یہ لفظ مختلف ہیں : عن کل حر و عبدذکر وانفی من المسلمین کے الفاظ زائد ہیں۔

وأنثى من المسلمين ← كل حر وعبد ← النبي صلى الله عليه و سلم مثله غير أنه ← بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مَالِكٍ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، ← وحدثنا صالح بن عبد الرحمن

Hadith 3046

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 9 باب مقدار صدقة الفطر ) · حديث 3047

2879 - حدثنا فهد قال ثنا عمرو بن طارق قال أنا يحيى بن أيوب عن يونس بن يزيد أن نافعا أخبره قال قال عبد الله بن عمر رضي الله عنهما فرض رسول الله صلى الله عليه و سلم زكاة الفطر صاعا من تمر أو صاعا من شعير على كل أنسان ذكر حر أو عبد من المسلمين قال وكان عبد الله بن عمر رضي الله عنهما يقول فجعل الناس عدله مدين من حنطة فقول بن عمر رضي الله عنهما فجعل الناس عدله مدين من حنطة إنما يريد أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم الذي يجوز تعديلهم ويجب الوقف عند قولهم فإنه قد روى عن عمر مثل ذلك في كفارة اليمين أنه قال ليسار بن نمير انى أحلف أن لا أعطى أقواما شيئا ثم يبدو لي فأفعل فإذا رأيتني فعلت ذلك فأطعم عنى عشرة مساكين كل مسكين نصف صاع من بر أو صاعا من تمر أو شعير وروى عن علي مثل ذلك وسنذكر ذلك في موضعه من كتابنا هذا إن شاء الله تعالى مع أنه قد روى عن عمر وعن أبى بكر أيضا وعن عثمان بن عفان في صدقة الفطر أنها من الحنطة نصف صاع وسنذكر ذلك أيضا في هذا الباب إن شاء الله تعالى فدل ذلك على أنهم هم المعدلون لما ذكرنا من الحنطة بالمقدار من الشعير والتمر الذي ذكرنا ولم يكونوا يفعلون ذلك إلا بمشاورة أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم واجماعهم لهم على ذلك فلو لم يكن روى لنا في مقدار ما يعطى من الحنطة في زكاة الفطر إلا هذا التعديل لكان ذلك عندنا حجة عظيمة في ثبوت ذلك المقدار من الحنطة وأنه نصف صاع فكيف وقد روى مع ذلك عن أسماء أنها كانت تخرج ذلك المقدار على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم أيضا ثم قد روى في غير هذه الآثار التي ذكرناها عن النبي صلى الله عليه و سلم ما يوافق ذلك أيضا فمن ذلك ما

نافع نے عبداللہ بن عمرؓ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے زکوٰۃ فطر کھجور سے ایک صاع اور ایک صاع جو ہر انسان آزاد و غلام پر مسلمانو ں میں سے فرض کی ۔ عبداللہ کہا کرتے تھے کہ لوگوں نے اس کے بدلے دو مد گندم مقرر کرلی ۔ پس ابن عمر ؓ کو قول فجعل الناس عدلہ مد ین من حنطۃ "الناس سے مراد صحابہ کرام ؓ ہیں جن کا اسے برابر ٹھہرانا جائز ہے اور ان کے قول پر رک جانا ضروری ہے حضرت عمرؓ سے کفارہ قسم کے سلسلہ میں اسی طرح کا قول منقول ہے۔ کہ انہوں نے یسار بن نمیر کو فرمایا کہ میں قسم اتھا لیتا ہوں کہ بعض لوگوں کو کچھ نہ دوں گا ۔ پھر میرے سامنے یہ بات آتی ہے کہ مجھے ان کو دینا چاہیے تو ان کو دیتاہوں ۔ پس جب تم مجھے ایسا کرتے ہوئے پاو تو میر ی طرف سے دس مساکین کو کھانا کھلادو کہ ہر مسکین کو نصف صاع گند م یا ایک صاع کھجور یا جو دو، اور حضرت علی ؓ سے بھی اس طرح کی روایت آئی ہے جس کو اپنے موقعہ پر ہم اپنی اس کتاب میں ذکر کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ اور حضرت عمر اور حضرت ابو بکر اور حضرت عثمان ؓ سے صدقۃ الفطر کے متعلق اسی طرح کی روایت آئی ہے کہ اس کی مقدار گندم سے نصف صاع ہے۔ یہ روایات عنقریب ہم اسی باب میں ذکر کریں گے ۔ پس اس سے یہ دلالت مل گئی کہ وہ گندم کی اس مقدار کو جو اور کھجور کے برابر قرار دینے والے تھے جس کا ہم نے تذکرہ کیا اور وہ ایسا اصحاب رسول اللہ ﷺ کے مشورے اور اتفاق سے کرتے تھے ۔ پس اگر گندم کی اس مقدار کے متعلق صدقۃ الفطر میں کھجور وغیرہ کے متعلق برابری کی یہی روایات ہوتیں۔ تو دلیل کےلئے کافی تھیں کہ وہ مقدار نصف صاع ہے ۔ مگر اس کے ساتھ حضرت اسماءؓ کی روایت موجود ہے کہ وہ زمانہ نبوت میں یہی مقدار دیتی تھیں۔ پھر اس سلسلہ اور بھی آثار جناب رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق مروی ہیں جن میں بعض ذیل میں ہیں ۔ ابن عمر ؓکے اس قول کامطلب الناس سے اصحاب رسول اللہ ﷺ مرادہیں جن کی تعدیل درست ہے ان کے قول پر اکتفالازم ہے حضرت عمر ؓ سے کفارہ قسم میں مروی ہے کہ انہوں نے یسار بن نمیر کو فرمایا میں بعض اوقات یہ قسم اٹھاتا ہوں کہ بعض لوگوں کو کچھ نہ دوں پھر میرے سامنے کوئی بات آتی ہے تو میں کردیتا ہوں جب میں دیکھتا ہوں کہ میں نے اپنی قسم کے خلاف کر دیا تو میں دس مساکین کو کھانا کھلا دیتاہوں ہر مسکین کو نصف صاع گندم یا ایک صاع کھجور یا جو دیتا ہوں اور حضرت علی ؓ سے بھی اسی طرح کی روایت وارد ہے جس کو ہم اپنے مقام پر اس کتاب میں ذکر کریں گے (ان شا؍اللہ) اور ابو بکر و عمر عثمان رضوان اللہ علیہ اجمعین سے صدقۃ الفطر میں منقول ہے کہ وہ گندم سے نصف صاع ہے آئندہ ذکر کریں گے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ گندم کے متعلق جو اور کھجور کے مقابلےمیں تعدیل والی بات وہ مشورہ سے ہوئی اور اس پر صحابہ کرام ؓکا اجماع ہوا اگر اور کوئی روایت نہ بھی ہوتی یہ اجماع صحابہ کرام ہمارے لئے کافی حجت تھا اور یہ گندم کے نصف صاع صدقۃ الفطر ہونے میں عظیم حجت ہے اس اجماع کے ساتھ حضرت اسما ؓ کی روایت گزری کہ ہم نصف صاع گندم صد قہ فطر میں جناب رسو ل اللہ ﷺ کے زمانہ میں ادا کیا کرتے تھے اس کے علاوہ بھی ایسے آثار موجود ہیں جو اس بات کو صراحت سے ثابت کرتے ہیں ۔ تائیدی آثار و روایات ملاحظہ ہوں جن میں تین مرفوع سات موقوف ہیں ۔

يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← عَمْرُو بْنُ طَارِقٍ، ← فهد

Hadith 3047

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 9 باب مقدار صدقة الفطر ) · حديث 3048

2880 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا مسدد قال ثنا حماد بن زيد عن النعمان بن راشد عن الزهرى عن ثعلبة بن أبى صعير عن أبيه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم صاع من بر أو قمح عن كل اثنين حر أو عبد ذكر أو أنثى أما غنيكم فيزكيه الله وأما فقيركم فيرد عليه مما أعطى

زہری نے ثعلبہ بن ابی صعیر سے انہوں نے اپنے والد سے نقل کیا کہ جنا ب رسول اللہ ﷺ گندم کا ایک صاع دو آدمیوں کی طرف سے خواہ وہ آزاد ہو یا غلام مرد ہو یا عورت ۔ جو غنی ہیں ان کا تزکیہ ہو جائے گا اور فقیر کو اللہ تعالیٰ جو اس نے دیا ہے لوٹا دے گا۔

أَبِيهِ ← ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي صُعَيْرٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← النُّعْمَانَ بْنَ رَاشِدٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← مُسَدَّدٌ ← بن أبي داود

Hadith 3048

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 9 باب مقدار صدقة الفطر ) · حديث 3049

2881 - حدثنا على بن عبد الرحمن قال ثنا عفان قال ثنا حماد بن زيد عن النعمان بن راشد عن الزهرى عن ثعلبة بن أبى صعير عن أبيه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم أدوا زكاة الفطر صاعا من تمر أو صاعا من شعير أو نصف صاع من بر أو قال قمح عن كل انسان صغير أو كبير ذكر أو أنثى حر أو مملوك غنى أو فقير

زہری نے ثلبہ نے ابی صعیر سے انہوں نے اپنے والد سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا صدقۃ الفطر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو یا آدھا صاع گندم ہر انسان کی طرف سے ادا کرو خواہ وہ چھوٹا ہو یا مرد ہو یا عورت آزاد ہو یا غلام ، مالدار ہو یا فقیر۔

أَبِيهِ ← ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي صُعَيْرٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← النُّعْمَانَ بْنَ رَاشِدٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عَفَّانُ، ← علي بن عبد الرحمن

Hadith 3049

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 9 باب مقدار صدقة الفطر ) · حديث 3050

2882 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا حسين بن مهدى قال ثنا عبد الرزاق عن معمر عن الزهرى عن عبد الرحمن الأعرج عن أبى هريرة رضي الله عنه قال زكاة الفطر عن كل حر وعبد ذكر أو أنثى صغير أو كبير غنى أو فقير صاع من تمر أو نصف صاع من قمح قال معمر وبلغني عن الزهرى أنه كان يرفعه

زہری نے عبداالرحمٰن اعراج سے انہوں نے ابو ہریرہ ؓ سے نقل کیا کہ صد قۃ الفطر ہر آزاد و غلام ، مرد عورت ، بچے ، بوڑھے ، مالدار وفقیر کی طرف سے کھجور کا ایک صاع اور گند م کا نصف صاع ادا کرو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← حُسَیْنُ بْنُ مَھْدِیٍّ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Hadith 3050

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter