شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 4 باب الخيل السائمة هل فيها صدقة أم لا ) · حديث 2963
2798 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا معلى بن أسد قال ثنا عبد العزيز بن المختار عن سهيل بن أبى صالح عن أبيه عن أبى هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم ذكر الخيل فقال هي لثلاثة لرجل أجر ولرجل ستر وعلى رجل وزر فأما الذي هى له ستر فالرجل يتخذها تكرما وتجملا ولا ينسى حق ظهورها وبطونها في عسرها ويسرها
سہیل بن ابی صالح نے اپنے والد سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہےکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑے کا ذکر فرمایا کہ وہ تین قسم ہیں ۔ 1۔ آدمی کے لیے اجر کا باعث ہے ۔ 2۔ آدمی کےلیے باعث سترہے ۔ 3۔ آدمی کے لیے بوجھ ہے وہ گھوڑا جو ستر کا باعث ہے وہ جس کو عزت و جمال کے لیے پالا ہو اور اس میں وہ گھوڑے کا حق نہ بھولتا ہو اس کو خوب خوراک اور مناسب سواری و بار برداری کرتا ہو جو تنگ دست ہویا خوش حال ۔ ( اجروالا جو جہاد وغیرہ دینی مقاصد کے لیے پالا جائے اور بوجھ وہ گھوڑا جو ریاکاری اور دکھلاوے کےلیے پالا جائے )۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ← مُعَلَّی بْنُ أَسَدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2963
