شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 2 باب ذي المرة السوى الفقير هل يحل له الصدقة أم لا ) · حديث 2958
2793 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا أبو اليمان قال أنا شعيب عن الزهرى قال ثنا السائب بن يزيد أن حويطب بن عبد العزى أخبره أن عبد الله بن السعدي أخبره أنه قدم على عمر بن الخطاب رضي الله عنه في خلافته فقال له عمر ألم أحدث أنك تلي من أعمال الناس أعمالا فإذا أعطيت العمالة كرهتها فقال نعم فقال عمر فما تريد الى ذلك قلت إن لي أفراسا وأعبدا وأنا أتجر وأريد أن يكون عمالتي صدقة على المسلمين فقال عمر فلا تفعل فإني كنت أردت الذي أردت وقد كان النبي صلى الله عليه و سلم يعطينى العطاء فأقول أعطه من هو أفقر اليه منى حتى أعطانى مرة مالا فقلت له ذلك فقال النبي صلى الله عليه و سلم خذه فتموله فما جاءك من هذا المال وأنت غير مشرف ولا سائل فخذه ومالا فلا تتبعه نفسك قال ففي هذا الحديث تحريم المسألة أيضا قيل له ليس هذا على أموال الصدقات إنما هذا على الأموال التي يقسمها الإمام على الناس فيقسمها على أغنيائهم وفقرائهم كما فرض عمر لأصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم حين دون الدواوين ففرض للأغنياء منهم وللفقراء فكانت تلك الأموال يعطاها الناس لا من جهة الفقر ولكن لحقوقهم فيها فكره رسول الله صلى الله عليه و سلم لعمر حين أعطاه الذي كان أعطاه منها قوله أعطه من هو أفقر اليه منى أي انى لم أعطك ذلك لأنك فقير إنما أعطيتك ذلك لمعنى آخر غير الفقر ثم قال له خذه فتموله فدل ذلك أيضا أنه ليس من أموال الصدقات لأن الفقير لا ينبغي له أن يأخذ من الصدقات ما يتخذه مالا كان ذلك عن مسألة منه أو عن غير مسألة ثم قال فما جاءك من هذا المال الذي هذا حكمه وأنت غير مشرف أي تأخذه بغير اشراف والإشراف أن تريد به ما قد نهيت عنه وقد يحتمل قوله ولا مشرف أي ولا تأخذ من أموال المسلمين أكثر مما يجب لك فيها فيكون ذلك شرفا فيها ولا سائل أي ولا سائل منها ما لا يجب لك فهذا وجه هذا الباب عندنا والله أعلم فأما ما جاء في أموال الصدقات فقد أتينا بمعانى ذلك فيما تقدم ذكره من هذا الباب
عبداللہ بن السعدی نے بتلایا کہ میں عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی خلافت کے زمانہ میں گیا تو انہوں نے مجھے فرمایا کیا میں نے تجھے نہیں بتلایا کہ تم لوگوں کے اعمال کے ذمہ دار بنتے ہو اور جب تمہیں تنخواہ دی جاتی ہے تو تم اس کو ناپسند کرتے ہو میں نے کہا جی ہاں! تو عمر کہنے لگے تیرے تنخواہ واپس کرنے سے کیا مقصد ہے میں نےکہا میرے پاس گھوڑے اور غلام ہیں اور میں تجارت بھی کرتا ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ میری تنخواہ مسلمانوں پر صدقہ بن جائے عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے ایسا نہ کرو میں نے بھی وہی ارادہ کیا جو تو نے ظاہر کیا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے عطیہ دیتے تو میں کہتا جومجھ سے زیادہ ضرورت مند ہے اس کو دے دیں یہاں تک کہ ایک مرتبہ مجھےمال دیا تو میں نے یہ بات کہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو لے لو اور اپنے پاس جمع کر لو تمہارے پاس جو مال ہے (بلا اشرف ) بلا سوال اور بلا توقع آجائے تو اس کو لے لو۔ جو ایسا نہ ہو تو اس کی طلب میں اپنے کومت لگاؤ اگرکوئی معترض کہے کہ اس روایت میں بھی سوال کی ممانعت ہے اس کے جواب میں کہا جائے گا اس روایت میں اموال صدقہ نہیں بلکہ اس سے وہ اموال مراد ہیں جن کو حاکم اغناء اور فقرا ء میں تقسیم کرتا ہے جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اموال مقرر کیے اور وہ ان میں سے اغنیاء اور فقراء سب کو تقسیم فرماتے یہ اموال انکی محتاجی کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کے حقوق کی بناء پر ان کو دیا جاتا ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عطیہ دیا اور انہوں نے واپس کرنا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو ناپسند فرمایا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ مجھ سے زیادہ ضرورت مند کو دے دیا جائے تو آپ نے فرمایا یہ تمہارے فقیر کی وجہ سے نہیں دیا جا رہا بلکہ یہ اسکے علاوہ بات کےپیش نظر ہے ۔ پھر آپ نے ان کو فرمایا اس مال کو لے کر اسے اپنی ملکیت بناؤ اس سے یہ ثبوت مل گیا کہ مال صدقات سے نہ تھا ۔ کیونکہ محتاج کےلیے تو مناسب نہیں کہ وہ مال کو اکٹھا کرنے کے لیے صدقہ لے ۔ خواہ وہ سوال کر کے حاصل کرے یا بغیر سوال اسے دیا جائے۔ پھر آپ نے ان کو یہ بھی فرمایا کہ جو اس قسم کا مال تمہارے پاس آئے اور تم اس کی طرف امیدنابدھنے والے نہ ہوتو اسے لے لو اور اشراف یہ ہے کہ تم اس مال کی طمع رکھنے والے ہو جس سے تمہیں روکا گیا ہے ۔ اور لامشرف کا قول اس بات کابھی احتمال رکھتا ہے کہ اس میں اس بات کی ممانعت ہےکہ مسلمانوں کے اموال میں سے اپنے حصہ سے زائد نہ لو ۔ اگر لو گے تو وہ دوسروں پر برتری بن جائے گی جو کہ درست نہیں ولا سائل کا مطلب یہ ہےکہ تم مت اس مال کا سوال کرو جو تمہارا حق نہیں بنتا ہمارے ہاں اس باب کی یہ صورت ہے واللہ اعلم باقی جو آثار اموال صدقہ کے سلسلہ میں آئے ہیں ان کے معانی کی وضاحت اس باب کی پہلی سطور میں کر آئے ہیں ۔
السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبٌ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← بن أبي داود
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2958
