شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 2 باب ذي المرة السوى الفقير هل يحل له الصدقة أم لا ) · حديث 2946
2782 - حدثنا أبو أمية قال ثنا المعلى بن منصور قال أخبرني يحيى بن سعيد قال أخبرني مجالد عن الشعبي عن وهب قال جاء رجل الى رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو واقف بعرفة فسأله رداءه فأعطاه إياه فذهب به ثم قال النبي صلى الله عليه و سلم إن المسألة لا تحل إلا من مدقع أو غرم مفظع ومن سأل الناس ليثرى به له فإنه خموش في وجهه ورضف يأكله من جهنم إن قليل فقليل وإن كثير فكثير فأخبر النبي صلى الله عليه و سلم أيضا في هذا الحديث أن المسألة تحل بالفقر والغرم فذلك دليل على أنها تحل بهذين المعنيين خاصة ولا يختلف في ذلك حال الزمن ولا غيره وقد
شعبی نے وہب رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ ایک آدمی جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا جبکہ آپ عرفات میں وقوف فرمارہے تھے اس نے آپ سے اوڑھنے والی چادر مانگی آپ نے اس کو عنایت فرما دی وہ لے کر چلا گیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سوال ۔ اس روایت میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی کہ فقرو احتیاج کی وجہ سے سوال کیا جائز ہو جاتا ہے اسی طرح تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ان دو حالتوں میں خصوصاَ سوال درست و حلال ہو جاتا ہے اس میں معذوری و غیرہ کا فرق نہیں ہے ۔ مزید روایات ذیل میں ہیں ۔ 1۔ شدید فقر جو ہلاک کن ہو ۔ 2۔ رسوا کن چٹی کی صورت میں درست ہے جس نے مالدار بننے کے لیے سوال کیا وہ اس کے چہرے پر خراش ہو گا۔ اور جہنم کا گرم پتھر ہو گا جس کو وہ کھائے گا اگر تھوڑا ہو گا تو تھوڑا اور زیادہ سوال ہو گا تو زیادہ گرم پتھر کھانا پڑے گا۔
وَھْبٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← مجالد ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← الْمُعَلَّی بْنُ مَنْصُورٍ ← اَبُوْ اُمَیَّۃَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2946
