Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 2 باب ذي المرة السوى الفقير هل يحل له الصدقة أم لا ) · حديث 2934

2770 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا محمد بن المنهال قال ثنا يزيد بن زريع قال ثنا سعيد بن أبى عروبة عن قتادة عن هلال بن مرة عن أبى سعيد الخدري قال أعوزنا مرة فأتيت النبي صلى الله عليه و سلم فذكرت ذلك له فقال النبي صلى الله عليه و سلم من استعف أعفه الله ومن استغنى أغناه الله ومن سألنا أعطيناه قال قلت فلأستعف فيعفني الله ولأستغنى فيغنيني الله قال فوالله ما كان إلا أياما حتى أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قسم زبيبا فأرسل إلينا منه ثم قسم شعيرا فأرسل إلينا منه ثم سألت علينا الدنيا فغرقتنا إلا من عصم الله

حلال بن مرہ نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ ایک مرتبہ ہمیں شدید محتاجی نے آلیا تو میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور میں نے اس کا تذکرہ کیا تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو سوال سے بچے گا اللہ تعالیٰ اسکو سوال سے محفوظ کر دیں گے اور جو غناء اختیار کر ے گا اللہ تعالیٰ اس کو غنی بنا دیں گے اور جو ہم سے سوال کرے گا ہم اسے دے دیں گے ابو سعید کہتے ہیں میں سوال سے دامن کو بچا لیا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے سوال سے محفوظ رکھا اور میں نے اللہ تعالیٰ سے غنا مانگا اس نے مجھے غناء عنایت فرما دیا ابو سعید کہتے ہیں ابھی چند دن گزرے تھے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کشمش تقسیم فرمائی تو اس میں سے کچھ ہمارے ہاں بھی بھیجی پھر جو تقسیم کئے اس میں سے کچھ ہماری طرف بھیجے پھر ہم پر دنیا بہہ پڑی اور اس نے ہمیں ڈبو دیا مگر وہ بچا جس کو اللہ تعالیٰ نے محفوظ رکھا ۔

فوالله ما كان إلا أياما حتى ← قلت فلأستعف فيعفني الله ولأستغنى فيغنيني الله ← أعوزنا مرة فأتيت النبي صلى الله عليه و سلم فذكرت ذلك له ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← هلال بن مرة ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2934

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 2 باب ذي المرة السوى الفقير هل يحل له الصدقة أم لا ) · حديث 2935

2771 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا محمد بن المنهال قال ثنا يزيد قال ثنا هشام عن قتادة عن هلال بن حصين أخى بنى مرة بن عباد عن أبى سعيد عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله قال بن أبى داود هذا هو الصحيح قال أبو جعفر فهذا رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول من سألنا أعطيناه ويخاطب بذلك أصحابه وأكثرهم صحيح لا زمانة به إلا أنه فقير فلم يمنعهم منها لصحتهم فقد دل ذلك على ما ذكرنا وفضل من استعف ولم يسأل على من سأل فلم يسأله أبو سعيد لذلك ولو سأله لأعطاه إذ قد كان بذل ذلك له ولأمثاله من أصحابه وقد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أيضا من غير هذا الوجه ما يدل على ما ذكرنا

ہلال بن حصین جو بنی مرہ بن عباد کے بھائی ہیں انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اور انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ابن ابی داؤد نے اس کی تصحیح کی ہے ۔ امام طحاوی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مخاطب کر کے فرما رہے ہیں کہ جو شخص ہم سے مانگے گا ہم اسے دیں گے اکثر صحابہ کرام تندرست و توانا تھے اور صحت مند تھے معذو ر و اپاہج نہ تھے وہ تنگ دست تھے تو ان کی صحت مندی کی وجہ سے آپ نے ان سے صدقہ کو روکا اور نہ حرام قرار دیا ۔ تو اس سے یہ بات ثابت ہو گئی جو ہم نے اوپر ذکر کی آپ نے سوال نہ کرنے کا فضل قرار دیا مگر سوال کرنے والے سے نہیں پوچھا ۔ حضرت ابو سعید نے سوال سے بچتے ہوئے سوال نہیں کیا اگر وہ سوال کرتے تو آپ ان کو ضرور عنایت فرما تے اللہ نے اس کا بدل انکو عنایت کر دیا اور اسی طرح اور بھی ان کے ساتھی تھے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اس کے علاوہ سند سے روایت وارد ہے جو ہماری اس بات پر دلالت کرتی ہے ۔

أبو جعفر فهذا رسول الله صلى الله عليه و سلم ← بن أبى داود هذا هو الصحيح ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← هلال بن حصين أخى بنى مرة بن عباد ← قَتَادَةَ ← هِشَامٍ ← يَزِيدُ: ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2935

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 2 باب ذي المرة السوى الفقير هل يحل له الصدقة أم لا ) · حديث 2936

2772 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني عبد الرحمن بن زياد بن أنعم عن زياد بن نعيم أنه سمع زياد بن الحارث الصدائي يقول أمرني رسول الله صلى الله عليه و سلم على قومي فقلت يا رسول الله أعطنى من صدقاتهم ففعل وكتب لي بذلك كتابا فأتاه رجل فقال يا رسول الله أعطنى من الصدقة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم إن الله عز و جل لم يرض بحكم نبي ولا غيره في الصدقات حتى حكم فيها هو من السماء فجزأها ثمانية أجزاء فان كنت من تلك الأجزاء أعطيتك منها قال أبو جعفر فهذا الصدائي قد أمره رسول الله صلى الله عليه و سلم على قومه ومحال أن يكون أمره وبه زمانة ثم قد سأله من صدقة قومه وهى زكاتهم فأعطاه منها ولم يمنعه منه لصحة بدنه ثم سأله الرجل الآخر بعد ذلك فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم إن كنت من الأجزاء الذين جزأ الله عز و جل الصدقة فيهم أعطيتك منها فرد رسول الله صلى الله عليه و سلم بذلك حكم الصدقات الى ما ردها الله عز و جل اليه بقوله إنما الصدقات للفقراء والمساكين الآية فكل من وقع عليه اسم صنف من تلك الأصناف فهو من أهل الصدقة الذين جعلها الله عز و جل لهم في كتابه ورسوله في سنته زمنا كان أو صحيحا وكان أولى الأشياء بنا في الآثار التي رويناها عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في الفصل الأول من قوله لا تحل الصدقة لذى مرة سوى ما حملناها عليه لئلا يخرج معناها من الآية المحكمة التي ذكرنا ولا من هذه الأحاديث الأخر التي روينا ويكون معنى ذلك كله معنى واحدا يصدق بعضه بعضا ثم قد روى قبيصة بن المخارق عن النبي صلى الله عليه و سلم ما قد دل على ذلك أيضا

زیاد بن نعیم کہتے ہیں کہ میں نے زیاد بن حارث کو کہتے سنا کہ جناب رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے میری قوم پر امیر بنایا میں نے عرض کیا مجھے ان کے صدقات میں سے کچھ عنایت فرمائیں آپ نے دے دیا اور میرے لیے اس سلسلے میں ایک تحریر کروا کر عنایت فرمایا اس وقت آپ کی خدمت میں ایک آدمی آیا اور اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے صدقہ میں کچھ دیں پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاا للہ تعالیٰ نے کسی نبی اور غیر نبی کے فیصلے کو صدقات کے سلسلہ میں پسند نہیں کیا یہاں تک کہ آسمان سے اس کے متعلق فیصلہ اتار دیا اور اس کو آٹھ اقسام پر بانٹ دیا اگر تم ان میں سے ہو تو میں تجھے دے دیتا ہوں امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہ حضرت صدائی رضی اللہ عنہ ہیں جن کو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم پر عامل بنایا اور یہ بات ناممکن ہے کہ آپ اس کو امیر بنائیں اور وہ اپاہج ہوں ۔ آپ سے انہوں نے اپنی قوم کے صدقات میں سوال کیا اور وہ اس وقوم کے اموال زکوۃ تھے تو آپ نے ان کو اس میں سے عنایت فرمایا اور ان کے قوی و صحت مندہونے کی وجہ سے منع نہ فرمایا پھر اس کے بعد دوسرے آدمی نے سوال کیا تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم ان لوگوں میں شامل ہو جن پر اللہ تعالیٰ نے صدقہ کو تقسیم کرنے کا حکم دیا ہے تو میں تمہیں اس میں سے دے دیتا ہوں پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کا حکم ان لوگوں ی طرف لوٹا دیا جن کی اللہ نے لوٹا یا ہے " انما الصدقات للفقراء والمساکن " ۔۔۔۔۔ پس ہر وہ شخص جو ان اضا ف کے تحت داخل ہو گا اس پر صدقہ درست ہو گا ۔ جن کا تذکرہ اللہ تعالیٰ اپنی کتاب اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سنت میں فرماتے ہیں خواہ وہ شخص اپاہج ہو جا تندرست ہمارے لیے فصل اول میں مذکور آثار میں وہی معن لا تحل الصدقۃ۔۔۔۔۔ کا لینا مناسب ہے جو ہم نے بیان کیا ہے تاکہ اس کا مفہوم آیت محکہ او دیگر احادیث باہر نہ نکلے بلکہ تمام کا معنی ایک ہو جو ایک دوسرے پر صادق آ سکے دوسری بات یہ ہے کہ حضرت قبیصہ بن المخارق رضی اللہ عنہ کی جناب رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقولہ روایت بھی اسی بات پر دلالت کرتی ہے ۔

أمرني رسول الله صلى الله عليه و سلم على قومي فقلت ← زِيَادَ بْنَ الْحَارِثِ الصُّدَائِيَّ ← زياد بن نعيم أنه ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ، ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2936

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 2 باب ذي المرة السوى الفقير هل يحل له الصدقة أم لا ) · حديث 2937

2773 - حدثنا يونس قال ثنا سفيان عن هارون بن رئاب عن كنانة بن نعيم عن قبيصة بن المخارق أنه تحمل بحمالة فأتى النبي صلى الله عليه و سلم فسأله فيها فقال تخرجها عنك من إبل الصدقة أو نعم الصدقة يا قبيصة إن المسألة حرمت إلا في ثلاث رجل تحمل بحمالة فحلت له المسألة حتى يؤديها ثم يمسك ورجل أصابته جائحة فاجتاحت ماله فحلت له المسألة حتى يصيب قواما من عيش أو سدادا من عيش ثم يمسك ورجل أصابته حاجة حتى تكلم ثلاثة من ذوى الحجى من قومه أن حلت حلت له المسألة حتى يصيب قواما من عيش أو سدادا من عيش ثم يمسك وما سوى ذلك من المسألة فهم سحت

کنانہ بن نعیم نے قبیصہ بن مخارق رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ میں نے ایک ذمہ داری اٹھائی اور اس سلسلہ میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا تم اس کو صدقہ کے اونٹوں سے لے لینا ۔ ابل الصدقہ یا نعم الصدقہ کا لفظ فرمایا اے قبیصہ سوال تین آدمیوں کو درست ہے ۔ 1۔ جس آدمی نے کسی کی ضمانت اٹھائی وہ اس پر پڑ گئی اور اس وقت تک سوال کر سکتا ہے جب تک اس کی ادائیگی کرنا ہو گی ۔2۔وہ آدمی جس کو کوئی آسمانی آفت پہنچی جس سے اس کا مال جاتا رہا اس کو اس وقت تک درست ہے یہاں تک کہ گزر اوقات یا مناسب گزار ا پا لے پھر وہ رک جائے ۔

کِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ ← هَارُونُ بْنُ رِئَابٍ، ← سُفْيَانَ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2937

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 2 باب ذي المرة السوى الفقير هل يحل له الصدقة أم لا ) · حديث 2938

2774 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا سليمان بن حرب قال ثنا حماد عن هارون بن رئاب عن كنانة بن نعيم العدوى عن قبيصة بن المخارق عن النبي صلى الله عليه و سلم نحوه

کنانہ بن نعیم عدوی نے قبیصہ بن المخارق رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت بیان کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم نحوه ← قَبِيصَةَ بْنِ الْمُخَارِقِ ← كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ الْعَدَوِيِّ، ← هَارُونُ بْنُ رِئَابٍ، ← حَمَّادٌ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2938

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 2 باب ذي المرة السوى الفقير هل يحل له الصدقة أم لا ) · حديث 2939

2775 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا الحجاج بن المنهال قال ثنا حماد بن سلمة عن هارون بن رئاب فذكر بإسناده مثله وزاد رجل تحمل بحمالة عن قومه أراد بها الإصلاح فأباح رسول الله صلى الله عليه و سلم في هذا الحديث لذى الحاجة أن يسأل لحاجته حتى يصيب قواما من عيش أو سدادا من عيش فدل ذلك أن الصدقة لا تحرم بالصحة إذا أراد بها الذي تصدق بها عليه سد فقر وإنما تحرم عليه إذا كان يريد بها غير ذلك من التكثر ونحوه ومن يريد بها ذلك فهو ممن يطلبها لسوى المعاني الثلاثة التي ذكرها رسول الله صلى الله عليه و سلم في حديث قبيصة بن مخارق الذي ذكرنا فهو عليه سحت وقد روى سمرة أيضا مثل ذلك عن رسول الله صلى الله عليه و سلم

حماد بن سلمہ نے ہارون بن راب سے پھر انہوں نے اپنی سند سے روایت نقل کی ہے البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ کسی آدمی نے کسی قوم کاذمہ اصلاح کے لیے اٹھایا اس ارشاد میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حاجت والے کے لیے مباح کر دیا کہ وہ اپنی حاجت کے متعلق سوال کرے اور اس وقت تک سوال کر سکتا ہے جب تک کہ اس کا مناسب گزر اوقات یا بہتر حالا گزران نہ پالے۔ اس سے یہ بات دلالت مل گئی کہ صدقہ صحت کی وجہ سے حرام نہیں ہوتا جب کہ وہ شخص جس کو صدقہ دیا گیا ہے وہ اپنی فقر والی حالت کا ازالہ چاہتا ہو۔ وہ بلا شبہ اس پر اس وقت حرام ہو گا جب کہ اس کا مقصد مال میں کثرت کرنا وغیرہ ہو اور جس کا یہ ارادہ ہو وہ ان لوگوں سے ہے جو ان مقاصد کے علاوہ ماننے والوں سے ہے ۔ جن کا تذکرہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیصہ بن مخارق رضی اللہ عنہ والی روایت میں فرمایا وہ صدقہ اس مانگنے والے کے لیے نری آگ ہے حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے بھی جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔ جو ذیل ہے ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2939

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 2 باب ذي المرة السوى الفقير هل يحل له الصدقة أم لا ) · حديث 2940

2776 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا عفان بن مسلم قال ثنا شعبة عن عبد الملك بن عمير عن زيد بن عقبة قال سمعت سمرة بن جندب عن النبي صلى الله عليه و سلم قال السائل كدوح يكدح بها الرجل وجهه فمن شاء أبقى على وجهه ومن شاء ترك إلا أن يسأل الرجل ذا سلطان أو يسأل في أمر لا يجد منه بدا

زید بن عقبہ کہتے ہیں کہ میں نے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے سوال کرنے والا اپنے چہرے کو نوچنے والا ہے جو آدمی نوچنے کے آثار کو اپنے چہرے پر باقی رکھے اور جو چاہے سوال نہ کر کے اس کو بچائے البتہ جو آدمی مرتبہ والے حاکم سے سوال کرے یا ایسے معاملے میں سوال کرے جس میں کوئی چارہ کار نہ ہو ۔ (تو درست ہے)

النبي صلى الله عليه و سلم ← سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← شُعْبَةُ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2940

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 2 باب ذي المرة السوى الفقير هل يحل له الصدقة أم لا ) · حديث 2941

2777 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا وهب قال ثنا شعبة فذكر بإسناده مثله

وہب نے شعبہ سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے روایت نقل کی ہے ۔

شعبة فذكر بإسناده مثله ← وَھْبٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2941

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 2 باب ذي المرة السوى الفقير هل يحل له الصدقة أم لا ) · حديث 2942

2778 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا سعيد بن منصور قال ثنا أبو عوانة عن عبد الملك بن عمير عن زيد بن عقبة عن سمرة بن جندب عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله قال أبو جعفر فقد أباح هذا الحديث المسألة في كل أمر لا بد من المسألة فيه فدخل في ذلك ما أبيحت فيه المسألة في حديث قبيصة بن وزاد هذا الحديث عليه ما سوى ذلك من الأمور التي لا بد منها وفي ذلك إباحة المسألة بالحاجة خاصة لا بالزمانة وقد روى عن أنس عن النبي صلى الله عليه و سلم في هذا المعنى ما قد

زید بن عقبہ نے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے اس روایت میں ہر ایسے کام کے سلسلہ میں سوال کو درست قرار دیا جہاں سوال لازم ہو اس میں وہ بات بھی شامل ہے جس میں حضرت قبیصہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں مانگنا مباح قرار دیا گیا ۔ اس روایت میں کچھ اضافہ ہے جو کہ نہایت ضروری ہے ان میں خاص طور پر ضرورت کے پیش نظر مانگنا ہے اپاہج ہونا نہیں اور حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بھی جناب نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلم اس طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2942

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 2 باب ذي المرة السوى الفقير هل يحل له الصدقة أم لا ) · حديث 2943

2779 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا محمد بن عبد الله الأنصاري قال حدثني الأخضر بن عجلان عن أبى بكر الحنفي عن أنس بن مالك رضي الله عنه أن رجلا من الأنصار أتى النبي صلى الله عليه و سلم فسأله فقال إن المسألة لا تصلح إلا لثلاث لغرم موجع أو دم مفظع أو فقر مدقع قال أبو جعفر فكل هذه الأمور مما لا بد منه فقد دخل ذلك أيضا في معنى حديث سمرة وقد روى عن أبى سعيد الخدري عن النبي صلى الله عليه و سلم في ذلك أيضا ما قد

ابو بکر حنفی رضی اللہ عنہ نے نقل کیا کہ ایک انصاری جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے سوال کیا تو آپ نے فرمایا سوال تین آدمیوں کو جائز اور مناسب ہے امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ تمام ضروری امور حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کے معنی میں داخل ہیں اور حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ نے بھی جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اسی طرح کی بھی روایت کی ہے ۔ 1۔ تکلیف دہ چٹی کا چکار ہونے والا۔ 2۔دم دیت قتل جس میں قاتل کے ورثاء کے پاس دینے کو مال نہ ہو ۔ 3۔فقر جو سخت ہونے کی وجہ سے پریشانی میں مبتلا کر دے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي بَکْرٍ الْحَنَفِيِّ ← الْأَخْضَرُ بْنُ عَجْلَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2943

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 2 باب ذي المرة السوى الفقير هل يحل له الصدقة أم لا ) · حديث 2944

2780 - حدثنا فهد هو بن سليمان قال ثنا الحسن بن الربيع قال ثنا أبو إسحاق عن سفيان عن عمران البارقي عن عطية بن سعد عن أبى سعيد قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا تحل الصدقة لغني إلا أن يكون في سبيل الله أو بن السبيل أو يكون له جار فيتصدق عليه فيهدى له أو يدعوه

عطیہ بن سعد نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صدقہ کسی مالدار کو اس وقت حلال ہے جبکہ وہ اللہ تعالی ٰکی راہ میں (جہاد میں ) ہو یا پھر سفر میں ہو یا اس کا پڑوسی ہو اس کا مستحق ہونے کی وجہ سے صدقہ دیا جا سکتا ہے اور وہ اس کو ہدیہ میں دے یا اسکی دعوت کر ے۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عطية بن سعد ← عِمْرَانَ الْبَارِقِيِّ ← سُفْيَانَ، ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیْعِ ← فهد هو بن سليمان

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2944

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 2 باب ذي المرة السوى الفقير هل يحل له الصدقة أم لا ) · حديث 2945

2781 - حدثنا عبد الرحمن بن الجارود قال ثنا عبيد الله بن موسى قال أنا بن أبى ليلى عن عطية عن أبى سعيد عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله فأباح رسول الله صلى الله عليه و سلم الصدقة للرجل إذا كان في سبيل الله أو بن السبيل فقد جمع ذلك الصحيح وغير الصحيح فدل ذلك أيضا على أن الصدقة إنما تحل بالفقر كانت معه الزمانة أو لم تكن وقد روى عن وهب بن حنبش عن النبي صلى الله عليه و سلم ما قد

عطیہ نے ابو سعید رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔ تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کو جو مسافر ہو یا جہاد میں ہو صدقہ دینا جائز قرا ر دیا اس میں صحت مند اور بیمار کو جمع فرمایا اس سے اس بات کاثبوت مل گیا کہ صدقہ فقرو احتیاج کی وجہ سے جائز ہوتا ہے ۔ خواہ وہ معذور ہو یا نہ ہو ۔ حضرت وھب بن خنبش رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح روایت کی ہے ۔ ذیل میں ملاحظہ ہو ۔

وهب بن حنبش ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عَطِيَّةَ، ← بن أَبِي لَيْلَى ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← عبد الرحمن بن الجارود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2945

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter