Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 1 باب الصدقة على بنى هاشم ) · حديث 2893

2732 - حدثنا أبو بكرة وابن مرزوق قالا ثنا أبو عاصم عن ثابت بن عمارة عن ربيعة بن شيبان قال قلت للحسن رضي الله عنه فذكر نحوه إلا أنه قال في آخره ولا لأحد من أهله

ربیعہ بن شیبان کہتے ہیں میں نے حسن رضی اللہ عنہ سے پوچھا پھر انہوں نے اسی طرح جواب دیا البتہ اتنا فرق ہے ولا لا حد من اہلہ کے الفاظ زائد ہیں ۔

في آخره ولا لأحد من أهله ← قلت للحسن فذكر نحوه إلا أنه ← ربيعة بن شيبان ← ثَابِتُ بْنُ عُمَارَةَ ← أَبُو عَاصِمٍ ← أبو بكرة وابن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2893

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 1 باب الصدقة على بنى هاشم ) · حديث 2894

2733 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا محمد بن كثير قال ثنا سفيان الثوري عن بن أبى ليلى عن الحكم عن مقسم عن بن عباس رضي الله عنهما قال استعمل أرقم بن أرقم الزهرى على الصدقات فاستتبع أبا رافع فأتى النبي صلى الله عليه و سلم فسأله فقال يا أبا رافع إن الصدقة حرام على محمد وعلى آل محمد وإن مولى القوم من أنفسهم

مقسم نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ارقم بن ارقم زہری کو صدقات پر عامل بنایا گیا تو اس نے ابو رافع رضی اللہ عنہ کو ساتھ چلنے کے لیے کہا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تو آپ نے فرمایا اے ابورافع آل محمد پر صدقہ حرام ہے اور قول کا مولیٰ انہی میں سے ہوتا ہے ۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← مِقْسَمٍ، ← الْحَكَمِ ← بن أَبِي لَيْلَى ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2894

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 1 باب الصدقة على بنى هاشم ) · حديث 2895

2734 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا عبد الله بن محمد بن أسماء قال ثنا جويرية بن أسماء عن مالك عن الزهرى أن عبد الله بن عبد الله بن نوفل بن الحارث بن عبد المطلب حدثه أن عبد المطلب بن ربيعة بن الحارث حدثه قال اجتمع ربيعة بن الحارث والعباس بن عبد المطلب فقالا لو بعثنا هذين الغلامين لي وللفضل بن العباس على الصدقة فأديا ما يؤدى الناس وأصابا ما يصيب الناس قال فبينما هما في ذلك جاء علي بن أبي طالب رضي الله عنه فوقف عليهما فذكرا له ذلك فقال علي رضي الله عنه لا تفعلا فوالله ما هو بفاعل فقال ربيعة بن الحارث ما يمنعك من هذا إلا نفاسة علينا فوالله لقد نلت صهر رسول الله صلى الله عليه و سلم فما نفسناه عليك فقال علي رضي الله عنه أنا أبو حسن أرسلاهما فانطلقا فاضطجع فلما صلى رسول الله صلى الله عليه و سلم الظهر سبقناه الى الحجرة فقمنا عند بابها حتى جاء فأخذ بآذاننا وقال اخرجا ما تصرران ثم دخل ودخلنا عليه وهو يومئذ عند زينب بنت جحش فتواكلنا الكلام ثم تكلم أحدنا قال يا رسول الله أنت أبر الناس وأوصل الناس وقد بلغنا النكاح وقد جئناك لتؤمرنا على بعض الصدقات فنؤدي إليك كما يؤدون ونصيب كما يصيبون فسكت حتى أردنا أن نكلمه وجعلت زينب تلمع إلينا من وراء الحجاب أن لا تكلماه فقال إن الصدقة لا تنبغى لآل محمد إنما هي أوساخ الناس فجاءاه فقال لمحمية أنكح هذا الغلام ابنتك للفضل بن العباس رضي الله عنهما فأنكحه وقال لنوفل بن الحارث أنكح هذا الغلام ابنتك فأنكحنى وقال لمحمية أصدق عنهما من الخمس كذا وكذا فان قال قائل فقد أصدق عنهما من الخمس وحكمه حكم الصدقات قيل له قد يجوز أن يكون ذلك من سهم ذوى القربى الذي في الخمس وذلك خارج من الصدقات المحرمة عليهم لأنه حرم عليهم أوساخ الناس والخمس ليس كذلك

عبداللہ بن عبداللہ بن نوفل بن حارث بن عبدالمطلب نے بیان کیا کہ عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث نے مجھے بیا ن کیا کہ ربیعہ بن حارث اور عباس بن عبدالمطلب دونوں نے کہا کہ اگر ہم دوران دو لڑکوں یعنی مجھے اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کو صدقات پر مقرر کر دیں تو وہ فرض ادا کریں گے جو لوگ ادا کرتے ہیں اور وہ تنخواہ وغیرہ پا لیں گے جو دیگر عاملین کو ملتی ہے وہ دونوں اسی گفتگو میں مصروف تھے کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ آگئے اور ان کے پاس کھڑے ہو گئے دونوں نے اس بات کا تذکرہ ان سے کیا تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا تم مت یہ بات کرو اللہ کی قسم آپ ایسا بالکل نہ کریں گے حضرت ربیعہ بن حارث کہنے لگے تم تو ہم سے حسد کی بناء پر یہ بات کہتے ہو اللہ کی قسم ! تم نے دامادی رسول پائی تو ہم نے ہرگز حسد نہ کیا ۔ حضرت علی کہنے لگے میں ابو الحسن ہوں ۔ ( میں حسد نہیں کرسکتا ) تم دونوں ان کو بھیج کر دیکھ لو علی رضی اللہ عنہ لیٹ گئے ۔ جب جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ظہر پڑھ لی تو ہم حجرے کی طرف آپ سے پہلے پہنچ گئے اور دروازے کے پاس جا کھڑے ہوئے یہاں تک کہ آپ تشریف لائے تو آپ نے ہمارے کانوں کو پکڑ کر فرمایا اس بات کو تم دونوں دل سے نکال دو جو تم اپنے سینے میں جمع کرنے والے ہو پھر آپ حجرہ میں داخل ہوئے اور ہم بھی داخل ہو گئے اس دن آپ زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کے مکان میں تھے ہم نے گفتگو میں ایک دوسرے پر بھروسہ کیا پھر ہم میں سے ایک نے بات کی اور کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ لوگوں میں سب سے زیادہ محسن اور صلہ رحمی کرنے والے ہیں اور ہم بالغ ہو چکے ہیں ہم اس لیے آئے ہیں تاکہ آپ ہمیں کسی صدقہ کا عامل مقرر فرما دیں ہم لوگوں سے جمع کر کے اسی طرح ادا کریں گے جیسے دوسرے ادا کرتے ہیں اور ہمیں عمل کی تنخؤاہ مل جائے گی جیسے دوسروں کو ملتی ہے آپ نے خاموشی اختیارفرمائی یہاں تک کہ ہم نے آپ سے (دوبارہ) گفتگو کا ارادہ کیا اور پردے پیچھے زینب رضی اللہ عنہا ہمیں اشارہ کر رہی تھیں ( کہ بات نہ کرنا ) پھر آپ نے فرمایا صدقہ آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لائق نہیں یہ لوگوں کی میل کچیل ہے ۔ محمیہ رضی اللہ عنہ ( یہ خمس کے نگران تھے ) کو بلاؤ اور نوفل بن حارث بن عبدالمطلب کو بلا ؤ وہ دونوں آگئے تو آپ نے محمیہ کو فرمایا تم اس لڑکے سے اپنی بیٹی کا نکاح کر دو یعنی فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ پس انہوں نے نکاح کر دیا ۔ اور نوفل بن حارث کو کہا تم اس لڑکے سے اپنی بیٹی کا نکاح کر دو چنانچہ انہوں نے میرا نکاح کر دیا اور محمیہ رضی اللہ عنہ کو فرمایا ان دونوں کو خمس میں سے اتنی رقم مہر کے لیے دے دو ۔ اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ ان کا مہر خمس میں سے دیا گیا اور خمس کا حکم بھی صدقات جیسا ہے ۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا ۔ عین ممکن ہے کہ یہ ذوی اتوبی کے حصہ سے ہو جہ کہ خمس میں مقرر ہے اور یہ ان صدقات سے خارج ہے جن کو حرام کیا گیا ہے اس لیے کہ ان پر لوگوں کی میل کچیل حرام کی ہے اور خمس ان میں سے نہیں ہے ۔

الزُّهْرِيِّ، ← مَالِكٍ، ← جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2895

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 1 باب الصدقة على بنى هاشم ) · حديث 2896

2735 - حدثنا فهد قال ثنا محمد بن سعيد قال أنا شريك عن عبيد المكتب عن أبى الطفيل عن سلمان رضي الله عنه قال أتيت النبي صلى الله عليه و سلم بصدقة فردها وأتيته بهدية فقبلها

ابو الطفیل نے سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں صدقہ لایا تو آپ نے اس کو واپس کر دیا اور نہ لیا اور آپ کی خدمت میں ہدیہ لایا تو اسے قبول فرما لیا۔

أتيت النبي صلى الله عليه و سلم بصدقة فردها وأتيته بهدية فقبلها ← سَلْمَانَ ← أَبِي الطُّفَيْلِ، ← عُبَيْدٍ الْمُکْتِبِ ← شَرِيکٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2896

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 1 باب الصدقة على بنى هاشم ) · حديث 2897

2736 - حدثنا فهد قال ثنا يوسف بن بهلول قال ثنا عبد الله بن إدريس قال ثنا محمد بن إسحاق عن عاصم بن عمر بن قتادة عن محمود بن لبيد عن بن عباس قال حدثني سلمان الفارسي رضي الله عنه وذكر حديثا طويلا ذكر فيه أنه كان عبدا قال فلما أمسيت جمعت ما كان عندي ثم خرجت حتى جئت رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو بقباء فدخلت عليه ومعه نفر من أصحابه فقلت انه بلغني أنه ليس بيدك شيء وأن معك أصحابا لك وأنتم أهل حاجة وغربة وقد كان عندي شيء وضعته للصدقة فلما ذكر لي مكانكم رأيتكم أحق به ثم وضعته له فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم كله أو أمسكه ثم أتيته بعد أن تحول الى المدينة وقد جمعت شيئا فقلت رأيتك لا تأكل الصدقة وقد كان عندي شيء أحببت أن أكرمك به كرامة ليست بصدقة فأكل وأكل أصحابه

محمود بن لبید نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ مجھے سلمان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور طویل روایت ذکر کی اس میں بیان کیا کہ میں غلام تھا جب شام کا وقت ہوا تو جو میرے پاس تھا میں نے اسے جمع کیا پھر میں نکلا یہاں تک کہ آپ کی خدمت میں پہنچا اس وقت آپ قبا ء میں تھے میں جب پہنچا تو صحابہ کرام کی ایک جماعت آپ کے ساتھ تھی میں نے کہا مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ آپ کے پاس کوئی چیز نہیں اور آپ کے کچھ ساتھی بھی آپ کے ساتھ ہیں اور تم مسافر اور ضرورت مند لوگ ہو میرے پاس صدقے کی چیز پڑی تھی جب میرے سامنے تمہاری حالت ذکر کی گئی تو مجھے تم سب سے زیادہ حقدار نظر آئے پھر میں نے وہ چیز آپ کے سامنے رکھ دی تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو تم خود کھا لویا اپنے پاس محفوظ رکھ لو پھر میں اس وقت آپ کی خدمت میں آیا جب آپ مدینہ منتقل ہوچکے تھے اور میں نےکچھ چیزیں جمع کر لی تھیں میں نے کہا میں نے آپ کو صدقہ نہ کھانے والا پایا میرے پاس ایسی چیز موجود تھی جس سے میرا دل چاہا کہ آپ کا اکرام کروں یہ صدقہ نہیں ہے پس آپ نے خود کھایا اور آپ کے اصحاب نے کھایا۔

فيه أنه كان عبدا ← حَدِيثًا طَوِيلًا ← سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ ← بْنِ عَبَّاسٍ ← مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ← يُوسُفَ بْنِ بُهْلُولٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2897

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 1 باب الصدقة على بنى هاشم ) · حديث 2898

حدثنا أبو بكرة وابن مرزوق قالا ثنا وهب قال ثنا شعبة عن الحكم عن بن أبى رافع مولى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن أبيه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم بعث رجلا من بنى مخزوم على الصدقة فقال لأبى رافع أصحبني كيما تصيب منها فقال حتى استأذن رسول الله صلى الله عليه و سلم فأتى النبي صلى الله عليه و سلم فذكر ذلك له فقال ان آل محمد، لا یحل لھم الصدقۃ، وان مولی القوم من أنفسھم)۔

ابن ابی رافع رحمۃ اللہ علیہ مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے والد ابو رافعرضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی مخزوم کے ایک آدمی کو صدقہ پر عامل مقرر فرمایا اس نے ابو رافع رضی اللہ عنہ کو کہا تم میرے ساتھ چلو تاکہ تمہیں بھی اس سے فائدہ ہو اس نےجانے کی حامی بھر لی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت کے لیے آئے اور اس بات کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے صدقہ حلال نہیں اور قوم کا مولیٰ انہی میں شمار ہوتا ہے یعنی تمہارے لیے صدقہ حلا ل نہیں ہے ۔

أَبِيهِ ← بن أبى رافع مولى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← أبو بكرة وابن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2898

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 1 باب الصدقة على بنى هاشم ) · حديث 2899

2738 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا ورقاء بن عمر عن عطاء بن السائب قال دخلت على أم كلثوم بنت علي رضي الله عنهما فقالت إن مولى لنا يقال له هرمز أو كيسان أخبرني أنه مر على رسول الله صلى الله عليه و سلم قال فدعانى فجئت فقال يا أبا فلان انا أهل بيت قد نهينا أن نأكل الصدقة وإن مولى القوم من أنفسهم فلا تأكل الصدقة

عطاء بن سائب کہتے ہیں کہ میں ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گیا تو کہنے لگیں ہمارے غلام ہرمز یا کیسان بے بتلایا کہ اس کا گزر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ہوا تو آپ نے مجھے بلایا میں حاضر ہو گیا تو فرمایا اے ابو فلاں ہم (اہل بیت ) کو صدقہ سے منع کیا گیا ہے اور قوم کا غلام انہی میں سے ہوتا ہے پس تم صدقہ نہ کھانا ۔

يا أبا فلان ← فدعانى فجئت ← أنه مر على رسول الله صلى الله عليه و سلم ← إن مولى لنا يقال له هرمز أو كيسان ← دخلت على أم كلثوم بنت علي ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← وَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ، ← أسد ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2899

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 1 باب الصدقة على بنى هاشم ) · حديث 2900

2739 - حدثنا حسين بن نصر قال ثنا شبابة بن سوار ح وحدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا علي بن الجعد ح

حسین بن نصر نے شبانہ بن سوار سے روایت نقل کی ۔

عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← وحدثنا محمد بن خزيمة ← شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ← حسين بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2900

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 1 باب الصدقة على بنى هاشم ) · حديث 2901

وحدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا عبد الرحمن بن زياد قالوا ثنا شعبة عن محمد بن زياد عن أبى هريرة رضي الله عنه قال أخذ الحسن بن على رضي الله عنهما تمرة من تمر الصدقة فأدخلها في فيه فقال له النبي صلى الله عليه و سلم كخ كخ ألقها ألقها أما علمت أنا لا نأكل الصدقة

محمد بن خزیمہ نے علی بن جعد سے روایت نقل کی ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2901

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 1 باب الصدقة على بنى هاشم ) · حديث 2902

2740 - حدثنا أبو بكرة وابن مرزوق قالا ثنا مكي بن إبراهيم قال ثنا بهز بن حكيم عن أبيه عن جده قال كان النبي صلى الله عليه و سلم إذا أتى بالشيء سأل أهدية هو أم صدقة فإن قالوا هدية بسط يديه وإن قالوا صدقة قال لأصحابه كلوا

محمد بن زیاد نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے صدقات کی کھجوروں میں ایک کھجور ےلی اور اسے اپنے منہ میں ڈال لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو باہر پھینک دو پھینک دو کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ہم صدقہ نہیں کھاتے ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، ← مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أبو بكرة وابن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2902

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 1 باب الصدقة على بنى هاشم ) · حديث 2903

2741 - حدثنا أبو بكرة وابن مرزوق قالا ثنا عبد الله بن بكر عن بهز بن حكيم عن أبيه عن جده قال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول في إبل سائمة في كل أربعين بنت لبون من أعطاها مؤتجرا أي طالب أجره فله أجرها ومن منعها فانا آخذوها منه وشطر إبله عزمة من عزمات ربنا لا يحل لأحد منا منها شيء

بہز بن حکیم نے اپنے والد اور اپنے دادا سے نقل کیا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی چیز لائی جاتی تو اپ دریافت فرماتے کہ یہ ہدیہ ہے یہ صدقہ ہے ؟ اگر کہتے کہ ہدیہ ہے تو آپ اپنا دست اس کو استعمال کے لیے دراز فرماتے اور اگر وہ کہتے کہ صدقہ ہے تو صحابہ کرام کو فرماتے اس کو کھا لو ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ، ← أبو بكرة وابن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2903

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 1 باب الصدقة على بنى هاشم ) · حديث 2904

2742 - حدثنا بن مرزوق وابن أبى داود قالا ثنا أبو الوليد قال ثنا حماد بن سلمة عن قتادة عن أنس رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يمر في الطريق بالتمرة فما يمنعه من أخذها إلا مخافة أن تكون صدقة

بہز بن حکم نے اپنے والد اور اپنے دادا سے روایت کی کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ چرنے والے اونٹوں میں سے چالیس میں ایک بنت لبو ن ہے جس نے حلال اجر کے لیے دیا تو اس کا اجر اسے ملے گا اور جس نے نہ دیا ہم اس سے وصول کر یں گے۔ اور اس کے بقیہ اونٹ میں سے کوئی چیز لینی حصول نہیں وہ ہمارے رب کی پختہ بات میں بات ہے ۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← بن مرزوق وابن أبى داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2904

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter