Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 8 باب الطفل يموت أيصلى عليه أم لا ) · حديث 2819

2663 - حدثنا بن أبى عمران قال ثنا أبو خيثمة قال ثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد قال ثنا أبى عن بن إسحاق عن عبد الله بن أبى بكر عن عمرة عن عائشة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه و سلم دفن ابنه إبراهيم رضي الله عنه ولم يصل عليه

عمرہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بیٹے ابراہیم کو نماز جنازہ پڑھا ئے بغیر دفن کر دیا ۔

عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← بن إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← بن أبي عمران

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2819

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 8 باب الطفل يموت أيصلى عليه أم لا ) · حديث 2820

2664 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا محمد بن يحيى النيسابوري قال ثنا يعقوب فذكر مثله قال أبو جعفر فذهب قوم الى أنه لا يصلى على الطفل واحتجوا في ذلك بهذا الحديث ورووا في ذلك أيضا عن سمرة بن جندب

محمد بن یحییٰ نیسا بوری نے یعقوب سے نقل کیا پھر انہوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت بیان کی ہے امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں علماء کی ایک جماعت کا کہنا یہ ہے کہ بچوں کی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے گی اور انہوں نے اس روایت کو دلیل بنایا اور حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کی روایت بھی لی ۔

أبو جعفر فذهب قوم إلى ← مِثْلَہُ ← يَعْقُوبُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2820

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 8 باب الطفل يموت أيصلى عليه أم لا ) · حديث 2821

2665 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا أبو معمر قال ثنا عبد الوارث قال ثنا عقبة بن يسار قال حدثني عثمان بن جحاش وكان بن أخي سمرة بن جندب قال مات بن لسمرة قد كان سقى فسمع بكاء فقال ما هذا فقالوا على فلان مات فنهى عن ذلك ثم دعا بطست ونقير فغسل بين يديه وكفن بين يديه ثم قال لمولاه فلان انطلق به الى حفرته فإذا وضعته في لحده فقل بسم الله وعلى سنة رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم أطلق عقد رأسه وعقد رجليه وقل اللهم لا تحرمنا أجره ولا تفتنا بعده قال ولم يصل عليه

عثمان بن جحاش یہ سمرہ بن جندب کے بھتیجے ہیں وہ بیان کرتے ہیں کہ سمرہ کا ایک بیٹا فوت ہو گیا جس نے پانی کا گھونٹ پیا تھا سمرہ نے رونے کی آواز سنی تو پوچھا یہ آواز کسی ہے انہوں نے کہا یہ فلاں پررونے کی آواز ہے جس کی وفات ہو گئی اپ نے اس زور والی آواز سے منع کر دیا پھر ایک تھال یا لکڑی کا برتن منگوایا اور اپنے سامنے اس کو غسل دلایا پھر ان کے سامنے کفن دیا گیا پھر اپنی لونڈی کو فرمایا اس کو اس کی قبر کی طرف لے جاؤ جب لحد میں رکھو تو کہنا بسم اللہ وعلی ستہ رسول اللہ پھر اس کے سر کی اور پاؤں کی گروہ کھول دینا اور اس طرح کہنا اللہم لا تحرمنا اجرہ ولا تقتنا بعدہ عثمان کہتے ہیں کہ انہوں نے اس کی نماز جنازہ نہ پڑھی ۔

كان بن أخي سمرة بن جندب ← عُثْمَانَ بْنَ جِحَّاشٍ ← عقبة بن يسار ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← أَبُو مَعْمَرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2821

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 8 باب الطفل يموت أيصلى عليه أم لا ) · حديث 2822

2666 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا وهب قال ثنا شعبة يعنى عن خلاس عن بن جحاش عن سمرة بن جندب أن صبيا له مات فقال ادفنوه ولا تصلوا عليه فإنه ليس عليه إثم ثم ادعوا الله لأبويه أن يجعله لهما فرطا وسلفا وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا بل يصلى على الطفل واحتجوا في ذلك بما

ابن جحاش نے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ ان کا ایک بچہ فوت ہو گیا تو انہوں نے کہا اس کو دفن کر دو اور اس پر نماز جنازہ مت پڑھو یہ بے گناہ ہے پھر اس کے والدین کے لیے دعا کرنا کہ وہ اس کو ان کا استقبالی اور ذخیرہ بنائے اور دیگر علماء نے ان کی مخالفت کی ہے اور فرمایا بلکہ اس پر نماز جنازہ پڑھی جائے ان کا استدلال اس طرح ہے ۔

سمرة بن جندب أن صبيا له مات ← بن جحاش ← خِلَاسٍ، ← شُعْبَةُ يَعْنِي ← وَھْبٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2822

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 8 باب الطفل يموت أيصلى عليه أم لا ) · حديث 2823

2667 - حدثنا يونس قال أنا سفيان عن طلحة بن يحيى بن طلحة عن عمته عائشة بنت طلحة عن عائشة رضي الله عنها زوج النبي صلى الله عليه و سلم قالت جاءت الأنصار بصبى الى النبي صلى الله عليه و سلم ليصلي عليه فقلت وقيل له هنيئا له يا رسول الله لم يعمل سوءا قط ولم يدركه عصفور من عصافير الجنة فقال أو غير ذلك ان الله عز و جل لما خلق الجنة خلق لها أهلا وهم في أصلاب آبائهم وخلق النار وخلق لها أهلا وهم في أصلاب آبائهم

عائشہ بنت طلحہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ انصار ایک بچے کو آپ کی خدمت میں لائے تاکہ اس پر جنازہ پڑھا جائے میں نےکہا اس کو کہا گیا خوش نصیب ہے کہ اس نے کوئی برا عمل نہیں کیا اور نہ برے عمل کو پایا یہ جنت کی چڑیا ہے آپ نے فرمایا کیا کچھ اور بھی ۔ اللہ تعالیٰ نے جب جنت بنائی اور جنت کے اندر رہنے والے بنائے جبکہ وہ ابھی اپنے باپوں کی پشتوں میں تھے اور آگ کے بنایا اور آگے والے لوگ بنائے جبکہ وہ ابھی اپنے باپوں کی اصلاب میں تھے ۔

عائشة زوج النبي صلى الله عليه و سلم ← عَمَّتِہٖ عَائِشَۃَ بِنْتِ طَلْحَۃَ ← طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، ← سُفْيَانَ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2823

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 8 باب الطفل يموت أيصلى عليه أم لا ) · حديث 2824

2668 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا حرملة بن يحيى قال ثنا بن وهب قال أخبرني عمرو بن الحارث عن عمارة بن غزية عن إسحاق بن عبد الله بن أبى طلحة عن أبيه أن أبا طلحة دعا رسول الله صلى الله عليه و سلم الى عمير بن أبى طلحة حين توفى فأتاهم فصلى عليه فتقدم رسول الله صلى الله عليه و سلم فكان أبو طلحة وراءه وأم سليم وراء أبى طلحة لم يكن معهم غيرهم وإنما كان تزوج أبى طلحة وأم سليم بعد قدوم النبي صلى الله عليه و سلم المدينة بمدة وعمير ولده منها في ذلك النكاح توفى وهو طفل فهذا أخوه عبد الله بن أبى طلحة يذكر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم صلى عليه

اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عمیر بن ابی طلحہ پر نماز جنازہ کے لیے بلایا جب اسکی وفات ہوگئی آپ تشریف لائے اور اس پر نماز جنازہ پڑھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے ابو طلحہ آپ کے پیچھے تھے اور ام سلیم ابو طلحہ کے پیچھے تھیں ان کے ساتھ اور کوئی شامل نہ تھا ابو طلحہ نے ام سلیم سے شادی اس وقت کی جب جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ منورہ آئے کچھ وقت گزر گیا اور یہ عمیر اسی نکاح کے بعد پیدا ہوئے اور بچپن میں وفات پا گئے ۔ یہ ان کا بھائی عبداللہ بیان کررہا ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمیر کی نماز جنازہ پڑھی ۔

إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2824

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 8 باب الطفل يموت أيصلى عليه أم لا ) · حديث 2825

2669 - حدثنا عبد العزيز بن معاوية قال ثنا إسماعيل بن سعيد الجبيرى قال ثنا أبى عن زياد بن جبير بن حية عن أبيه فيما يحسب عبد العزيز يشك في أبيه خاصة عن المغيرة بن شعبة قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم الطفل يصلى عليه

زیاد بن جبیر بن حیہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں ( عبدالعزیز راوی کو ان کے والد کے متعلق شک ہے ) وہ مغیرہ بن شعبہ سے نقل کرتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بچے پر نماز پڑھی جائے گی ۔

الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← أبيه فيما يحسب عبد العزيز يشك في أبيه خاصة ← زِيَادِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ ← أَبِي ← إسماعيل بن سعيد الجبيري ← عبد العزيز بن معاوية

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2825

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 8 باب الطفل يموت أيصلى عليه أم لا ) · حديث 2826

2670 - حدثنا أبو أمية قال ثنا أبو نعيم قال ثنا عبد السلام عن ليث عن عامر عن البراء قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم أحق من صليتم عليه أطفالكم وقد قال عامر الشعبي أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد كان صلى على ابنه إبراهيم ولم يكن ليقول ذلك الا وقد كان ثبت عنده

عامر نے براہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے بچے تمہاری نماز جنازہ کے زیادہ حقدار ہیں اور عامر شعبی کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنےبیٹے ابراہیم کی نماز جنازہ پڑھی ۔

الْبَرَاءِ، ← عَامِرٍ، ← لَيْثٌ، ← عَبْدُ السَّلامِ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← اَبُوْ اُمَیَّۃَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2826

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 8 باب الطفل يموت أيصلى عليه أم لا ) · حديث 2827

2671 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عامر عن سفيان عن جابر عن الشعبي قال مات إبراهيم بن رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو بن ستة عشر شهرا فصلى عليه النبي صلى الله عليه و سلم

شعبی کہتے ہیں کہ ابراہیم بن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اس وقت ان کی عمر چھ ماہ تھی تو ان پر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ پڑھی ۔

الشَّعْبِيِّ، ← جَابِرٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو عَامِرٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2827

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 8 باب الطفل يموت أيصلى عليه أم لا ) · حديث 2828

حدثنا الحسن بن عبد الله بن منصور قال ثنا الهيثم بن جميل قال حدثني شريك عن جابر فذكر مثله بإسناده غير أنه قال وهو بن ستة عشر شهرا أو ثمانية عشر شهرا ففي هذه الآثار اثبات الصلاة على الأطفال فلما تضادت الآثار في ذلك وجب أن ننظر الى ما عليه عمل المسلمين الذي قد جرت عليه عاداتهم فيعمل على ذلك ويكون ناسخا لما خالفه فكانت عادة المسلمين الصلاة على أطفالهم فثبت ما وافق ذلك من الآثار وانتفى ما خالفه فهذا وجه هذا الباب من طريق الآثار وأما وجهه من طريق النظر فانا رأينا الأطفال يغسلون باتفاق المسلمين على ذلك وقد رأينا البالغين كل من غسل منهم صلى عليه ومن لم يغسل من الشهداء ففيه اختلاف فمن الناس من يصلى عليه ومنهم من لا يصلى عليه فكان الغسل لا يكون الا وبعده صلاة وقد يكون الصلاة ولا غسل قبلها فلما كان الأطفال يغسلون كما يغسل البالغون ثبت أن يصلى عليهم كما يصلى على البالغين فهذا هو النظر في هذا الباب وقد وافق ما جرت عليه عادة المسلمين من الصلاة على الأطفال وهو قول أبى حنيفة وأبى يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى وقد روى ذلك عن جماعة من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم

شریک نے جابر سے اس نے اپنی اسناد سے روایت بیان کی ہے البتہ روایت میں اتنا فرق ہے کہ اس نے سولہ ماہ کہا ہے یا اٹھارہ ماہ کہا ہے ۔ یہ آثار بچوں پر نما زجنازہ کو ثابت کرتے ہیں پس روایات میں ظاہری طور پر تضاد ہے تو یہ غور کرنا چاہیے کہ مسلمانوں کا معمول کیا چلا آرہا ہے تاکہ اس پر عمل کیا جائے اور وہ دوسرے حکم کا ناسخ ہو ۔ تو مسلمانوں کی عادت بچوں پر نماز جنازہ کا ادا کرنا ہے ۔ پس جو روایات اس کے مطابق ہیں وہ ثابت ہو گئیں اور مخالف روایات کی خود نفی ہو گئی آثار کے پیش نظر اس باب کا حکم یہ ہے باقی نظر و فکر کے لحاط سے اس کی صورت یہ ہے ہم دیکھتے ہیں کہ مرنے والے بچوں کو بالا تفاق غسل دیا جاتا ہے اور یہ بھی ہمارے سامنے ہے کہ جن بالغین کو غسل دیتے ہیں ان پر نمازہ جنازہ بھی پڑھتے ہیں اور جن کو غسل نہیں دیا جاتا ( جیسے شہداء) تو ان کی نماز جنازہ میں اختلاف ہے پس بعض کو نماز جنازہ پڑھی گئی اور بعض کی نہ پڑھی گئی پس جہاں غسل ہے اس کے بعد نماز ہے ۔ اور بعض اوقات جنازہ تو پڑھتے ہیں مگر اس سے پہلے غسل نہیں ہوتا ۔ تو جب بچوں کو بھی بڑوں کی طرح غسل دیا جاتا ہے ۔ تو اس سے ثابت ہوا کہ بالغوں کی طرح ان کی نماز جنازہ بھی پڑھی جائے اس باب میں قیاس اسی بات کو چاہتا ہے اور مسلمانوں کا معمول بھی اسی طرح ہے ۔ چنانچہ امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف اور محمد رحمۃ اللہ علیہم کا منسلک یہی ہے اور یہی بات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت سے بھی مروی ہے ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2828

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 8 باب الطفل يموت أيصلى عليه أم لا ) · حديث 2829

2672 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب عن يونس عن نافع أنه حدثه أن عبد الله بن عمر صلى في الدار على مولود له ثم أمر به فحمل فدفن

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق بیان فرمایا انہوں نے ایک گھر میں ایک نومولود پر نماز جنازہ پڑھی پھر اس کو اٹھانے اور دفن کرنے کا حکم فرمایا۔

نَافِعٌ أَنَّهُ ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2829

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 8 باب الطفل يموت أيصلى عليه أم لا ) · حديث 2830

2673 - حدثنا على بن شيبة قال ثنا يزيد بن هارون قال أنا محمد بن راشد عن عطاء عن جابر بن عبد الله قال إذا استهل الصبي ورث وصلى عليه

عطاء نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ انہوں نے فرمایا جب بچہ پیدائش کے بعد چیخ مارے تو وہ وارث بھی بن جاتا ہے اور اس پر نماز جنازہ بھی پڑھی جاتی ہے ۔

إِذَا اسْتَهَلَّ الصَّبِيُّ وُرِّثَ وَصُلِّيَ عَلَيْهِ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2830

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter