شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( باب التكبير على الجنائز كم هو ) · حديث 2787
2631 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا مؤمل قال ثنا سفيان عن عامر بن شقيق عن أبى وائل أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه جمع أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم فسألهم عن التكبير على الجنازة فأخبر كل واحد منهم بما رأى وبما سمع فجمعهم عمر رضي الله عنه على أربع تكبيرات كأطول الصلوات صلاة الظهر
ابو وائل کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمع کر کے پوچھا کہ جنازے کی تکبیرات کتنی ہیں ہر ایک نے جو سنا تھا اور دیکھا تھا بتلادیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو چار تکبیرات پر جمع کر دیا جو طویل پڑھی جانے والی ظہر کے برابر طویل ہوں گی۔ یہ روایت اس کے خلاف ہے جو رائے حضرت عمر اور علی رضی اللہ عنہ اہل بدر کے سلسلہ میں رکھتے تھے کہ ان پر چار سے زیادہ تکبیرات کہی جائیں۔
عَامِرِ بْنِ شَقِيقٍ ← سُفْيَانَ، ← مُؤَمَّلٍ، ← أَبُو بَکْرَةَ
Hadith 2787
