Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 3 باب الجنازة تمر بالقوم أيقومون لها أم لا ) · حديث 2716

وحدثنا بن أبى داود قال ثنا موسى بن إسماعيل قال ثنا أبان عن يحيى بن أبى كثير عن عبيد الله بن مقسم عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما قال بينما نحن مع رسول الله صلى الله عليه و سلم إذ مرت عليه جنازة فقمنا لنحملها فإذا جنازة يهودي أو يهودية فقلنا يا نبي الله انها جنازة يهودي أو يهودية فقال إن الموت فزع فإذا رأيتم الجنازة فقوموا

موسیٰ بن اسماعیل نے ابان سے انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے انہوں نے عن عبیداللہ بن مقسم سے انہوں نےجابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے جب کہ آپ کے پاس سے ایک جنازہ گزرا ہم اٹھانے کے لیے کھڑے ہوئے تو معلوم ہوا کہ یہ یہودی مرد یا عورت کا جنازہ ہے ہم نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ یہودی مرد یا عورت کا جنازہ ہے فرمایا بلاشبہ موت گھبراہٹ ہے جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جایا کرو۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبَانُ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2716

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 3 باب الجنازة تمر بالقوم أيقومون لها أم لا ) · حديث 2717

2568 - حدثنا محمد بن عبد الله بن ميمون قال ثنا الوليد عن الأوزاعي عن يحيى فذكر بإسناده مثله

ولید نے اوزاعی سے انہوں نے یحییٰ سے پھر اس نے اپنی سند سے روایت نقل کی ہے ۔

يحيى فذكر بإسناده مثله ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِیْدُ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَيْمُونٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2717

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 3 باب الجنازة تمر بالقوم أيقومون لها أم لا ) · حديث 2718

2569 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا وهب قال ثنا شعبة عن بن أبى السفر عن الشعبي عن أبى سعيد الخدري رضي الله عنه قال مر على مروان بجنازة فلم يقم فقال أبو سعيد إن رسول الله صلى الله عليه و سلم مر عليه بجنازة فقام فقام مروان

شعبی نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ مروان پر ایک جنازہ گزارا گیا وہ اس کے لیے کھڑا نہ ہوا تو ابو سعید کہنے لگے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے جنازہ گزارا گیا تو آپ اس کے لیے کھڑے ہوگئے تو مروان (یہ سن کر) کھڑا ہو گیا ۔

مر على مروان بجنازة فلم يقم فقال أبو سعيد ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← الشَّعْبِيِّ، ← بن أبى السفر ← شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2718

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 3 باب الجنازة تمر بالقوم أيقومون لها أم لا ) · حديث 2719

2570 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا وهب عن شعبة عن سهيل بن أبى صالح عن أبيه عن أبى سعيد رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم قال إذا رأيتم الجنازة فقوموا فمن تبعها فلا يقعد حتى توضع

سہیل بن ابی صالح نے اپنے والد سے انہون نے ابو سعید رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا کہ آپ نے فرمایا کہ جب تم جنازہ دیکھوتو کھڑے ہو جاؤ جو جنازے کے پیچھے جائے وہ اس وقت تک نہ بیٹھے جب تک جنازہ زمین پر نہ رکھ دیا جائے ۔

إِذَا رَأَيْتُمْ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا فَمَنْ تَبِعَهَا فَلَا يَقْعُدْ حَتَّی تُوضَعَ ← النبي صلى الله عليه و سلم ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2719

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 3 باب الجنازة تمر بالقوم أيقومون لها أم لا ) · حديث 2720

2571 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا مسلم قال ثنا أبان قال ثنا يحيى بن أبى كثير عن أبى سلمة عن أبى سعيد رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

ابو سلمہ نے ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبَانُ، ← مُّسْلِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2720

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 3 باب الجنازة تمر بالقوم أيقومون لها أم لا ) · حديث 2721

2572 - حدثنا محمد بن عبد الله بن ميمون قال ثنا الوليد عن الأوزاعي عن يحيى ح

ولید نے اوزاعی سے انہوں نے یحیٰ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

يَحْيَى ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِیْدُ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَيْمُونٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2721

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 3 باب الجنازة تمر بالقوم أيقومون لها أم لا ) · حديث 2722

وحدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا هشام عن يحيى عن أبى سلمة قال ثنا أبو سعيد عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله

یحییٰ نے ابو سلمہ نے انہوں نے ابو سعید رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت کی ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← أَبُو سَعِيدٍ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى ← هِشَامٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← وحدثنا أبو بكرة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2722

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 3 باب الجنازة تمر بالقوم أيقومون لها أم لا ) · حديث 2723

2573 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا الوهبي قال ثنا بن إسحاق عن محمد بن إبراهيم عن سعيد بن مرجانة عن أبى هريرة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه و سلم قال إذا صلى أحدكم على جنازة ولم يمش معها فليقم حتى تغيب عنه وإن مشى معها فلا يقعد حتى توضع قال أبو جعفر فذهب قوم الى هذه الآثار فاتبعوها وجعلوها أصلا وقلدوها وأمروا من مرت به جنازة أن يقوم لها حتى تتوارى عنه ومن مشى معها أن لا يقعد حتى توضع وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا ليس على من مرت به جنازة أن يقوم لها ولمن تبعها أن يجلس وإن لم توضع وقالوا أما قيام النبي صلى الله عليه و سلم لجنازة اليهودى في الحديث الذي رواه قيس بن سعد وسهل بن حنيف فان ذلك لم يكن من النبي صلى الله عليه و سلم لأن من حكم الجنائز أن يقام لها ولكن لمعنى غير ذلك وذكروا في ذلك ما

سعید بن مرجانہ نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی جنازہ پڑھے اور اس کے ساتھ نہ جانا ہو تو اسے اس وقت تک کھڑا رہنا چاہیے یہاں تک کہ وہ نظروں سے غائب ہو جائے اور اگر ساتھ جائے تو جنازے کے زمین پر رکھنے سے پہلے نہ بیٹھے امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ کچھ علماء نے ان آثار کی اتباع کی اور ان کو اصل قرار دیکر ان کی تقلید کی اور انہوں نے کہا کہ جس شخص کے پاس سے جنازہ گزرے اسے اس وقت تک کھڑا رہنا چاہیے یہاں تک کہ نظروں سے اوجھل ہو اور اس کے ساتھ چلنے والا جنازہ رکھنے سے پہلے نہ بیٹھے ۔ دیگر علماء نے ان کی مخالفت کرتے ہوئے کہا جس کےپاس سے جنازہ گزرے اسے کھڑے ہونے کی ہاجت نہیں اور اس کے ساتھ چلنے والوں کو جنازہ رکھنے سے پہلے بیٹھنا جائز ہے ۔ باقی رہی یہ بات کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہودی کے جنازے کے لیے کھڑے ہوتے جیسا قیس بن سعد اور سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کی روایات میں ہے ۔ آپ کا کھڑا ہونا جنازے کی وجہ سے نہ تھا ۔ جنازے کے لیے کھڑا ہونا چاہیے مگر کسی اور وجہ سے نہ کہ اس بناء اور انہوں نے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ مَرْجَانَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← بن إِسْحَاقَ، ← الوهبي ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2723

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 3 باب الجنازة تمر بالقوم أيقومون لها أم لا ) · حديث 2724

2574 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عاصم عن بن جريج قال سمعت محمد بن عمر يحدث عن الحسن وابن عباس رضي الله عنهما أو عن أحدهما أن رسول الله صلى الله عليه و سلم مرت به جنازة يهودي فقام لها وقال آذانى ريحها فدل هذا الحديث على أن قيامه كان لما آذاه ريحها ليتباعد عنه لا لغير ذلك وأما ما روى من قيامه لجنازة إنما كان ليصلى عليها

محمد بن عمر نے حسن اور ابن عباس رضی اللہ عنہ نے نقل کی ہے یا ایک سے نقل کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے یہود ی کا جنازہ گزرا تو آپ اس کی وجہ سے کھڑے ہو گئے اور فرمایامجھے اس کی بدبو نے تکلیف پہنچائی ہے ۔

أَحَدُهُمَا ← الحسن وابن عباس أو ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، ← بن جُرَيْجٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2724

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 3 باب الجنازة تمر بالقوم أيقومون لها أم لا ) · حديث 2725

2575 - حدثنا محمد بن عمرو قال ثنا عبد الله بن نمير عن سعيد عن قتادة عن الحسن أن العباس بن عبد المطلب والحسن بن علي رضي الله عنه عنهما مرت بهما جنازة فقام العباس ولم يقم الحسن رضي الله عنه فقال العباس للحسن أما علمت أن رسول الله صلى الله عليه و سلم مرت عليه جنازة فقام فقال نعم وقال الحسن للعباس أما علمت أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يصلى عليها قال نعم فدل هذا الحديث أن قيام رسول الله صلى الله عليه و سلم ذلك إنما كان ليصلى عليها لا لأن من سنتها أن يقام لها وأما ما ذكر من أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم من القيام للجنازة ومن ترك القعود إذا اتبعت حتى توضع فان ذلك قد كان ثم نسخ

قتادہ نے حسن سے روایت کی ہے کہ عباس بن عبدالمطلب اور حسن بن علی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو اس کے لیے عباس تو کھڑے ہو گئے مگر حسن کھڑے نہ ہوئے تو عباس رضی اللہ عنہ نے حسن کو کہا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے جنازہ گزرا تو آپ کھڑے ہو گئے تو حسن رضی اللہ عنہ نے کہا جی ہاں ۔ حسن رضی اللہ عنہ نے عباس رضی اللہ عنہ سے کہا کیا آپ کو معلوم نہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( اس لیے کھڑے ہو تے تھے ) کہ آپ نے اس پر جنازہ پڑھنا ہوتا تھا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا بات تو ایسے ہی ہے ۔ یہ روایت اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کھڑا ہونا جنازہ پڑھنے کے لیے تھا ۔ اس وجہ سے نہیں کہ یہ جنازہ کے سنن میں سے ہے باقی جو آپ جنازہ کے لیے قیام کا تم نے ذکر کیا ہے اور جب جنازہ کے ساتھ جاتے تو رکھنے سے پہلے نہ بیٹھے یہ حکم پہلے موجود تھا پھر منسوخ ہو گیا ۔

العباس للحسن أما علمت ← الحسن بن علي عنهما مرت بهما جنازة فقام العباس ولم يقم الحسن ← الحسن أن العباس بن عبد المطلب ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2725

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 3 باب الجنازة تمر بالقوم أيقومون لها أم لا ) · حديث 2726

2576 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب قال أخبرني مالك عن يحيى بن سعيد عن واقد بن عمرو عن نافع بن جبير عن مسعود بن الحكم عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال قام رسول الله صلى الله عليه و سلم مع الجنازة حتى توضع وقام الناس معه ثم قعد بعد ذلك وأمرهم بالقعود

مسعود بن حکم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنازہ کے ساتھ کھڑے رہتے جب تک کہ وہ رکھ نہ دیا جاتا اور لوگ بھی کھڑے رہتے پھر اس کے بعد آپ بیٹھتے اور صحابہ کرام کو بھی بیٹھنے کا حکم فرماتے۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ ← نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ← وَاقِدِ بْنِ عَمْرٍو، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مَالِكٍ، ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2726

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 3 باب الجنازة تمر بالقوم أيقومون لها أم لا ) · حديث 2727

2577 - حدثنا يونس وبحر قالا ثنا بن وهب قال أخبرني أسامة بن زيد الليثي أن محمد بن عمرو بن علقمة حدثه عن واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ عن مسعود بن الحكم الزرقي عن علي عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

مسعود بن حکم زرقی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← عَلِيٍّ، ← مسعود بن الحكم الزرقي ← وَاقِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ← أسامة بن زيد الليثي أن محمد بن عمرو بن علقمة ← بن وَهْبٍ ← يونس وبحر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2727

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter