شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 2 باب المشي في الجنازة أين ينبغي أن يكون منها ) · حديث 2701
2555 - حدثنا فهد قال ثنا محمد بن سعيد قال أنا شريك عن مغيرة عن إبراهيم قال كان الأسود إذا كان معها نساء أخذ بيدى فتقدمنا نمشي أمامها فإذا لم يكن معها نساء مشينا خلفها فهذا الأسود بن يزيد على طول صحبته لعبد الله بن مسعود وعلى صحبته لعمر رضي الله عنه قد كان قصده في المشي مع الجنازة الى المشي خلفها الا أن يعرض له عارض فمشى أمامها لذلك العارض لا لأن ذلك أفضل عنده من غيره فكذلك عمر ما رويناه عنه فيما فعله في جنازة زينب هو على هذا المعنى عندنا والله أعلم وقد
محمد بن ابراہیم نے نقل کیا کہ جب جنازے کے ساتھ عورتیں ہو میں تو اسود میرے ہاتھ کوپکڑتے ہم ان کےآگے چلنے کے لیے آگے بڑھ جاتے اور جب جب عورتیں نہ ہوتیں تو ہم جنازے پیچھے چلتے یہ اسود بن یزید ہیں جنہوں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی طویل صحبت اٹھائی اور انکو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی صحبت بھی ملی ان کا طریقہ جنازہ میں پیچھے چلنے کا تھا سوائے اس صورت کے جب کوئی عارضہ پیش آ جائے تو وہ اس عارضہ کی بناء پھر آگے چلتے اس بناء پر نہیں کہ یہ آگے چلنا پیچھے چلنے سے ان کے افضل ہے پس اسی طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے جنازہ میں کیا اس کا یہی مطلب ہمارے نزدیک ہے واللہ اعلم۔
إِبْرَاهِيمَ، ← مُغِيرَةَ، ← شَرِيکٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ ← فهد
Hadith 2701
