Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 2 باب المشي في الجنازة أين ينبغي أن يكون منها ) · حديث 2689

2544 - حدثنا يونس قال انا بن وهب عن مالك عن بن شهاب قال ليس من السنة المشي خلف الجنازة قال بن شهاب والمشى خلف الجنازة من خطأ السنة قيل لهم هذا كلام بن شهاب فقوله في ذلك كقولكم إذ كان لمخالفه ومخالفكم من الحجة عليه وعليكم ما سنذكره في هذا الباب إن شاء الله تعالى ثم رجعنا الى ما روى في هذا الباب من الآثار هل فيه شيء يبيح المشي خلف الجنازة فإذا ربيع الجيزي وابن أبى داود

ابن شہاب کہتے ہیں کہ جنازے کے پیچھے چلنا سنت نہیں ہے ۔ ابن شہاب کے اس قول سے معلوم ہوا کہ جب پیچھے چلنا سنت نہیں تو خلاف سنت ہے یہ تو ابن شہاب زہری کا قول ہے جو کہ نہ اثر صحابی ہے نہ قول رسول ہے پس فریق ثانی کے اپنے قول کے برابر ہے جس کو ان کے خلاف حجت میں پیش نہیں کرسکتے ۔ ہم توجنازے کے پیچھے چلنے کا سنت ہونا عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور عمل صحابہ رضی اللہ عنہ سے ثابت کرتے ہیں ۔ روایت یہ ہے کہ اس کو ربیع اور ابن ابی داؤد نے نقل کیا۔ ابن شہاب کہتے ہیں کہجنازے کے پیچھے چلنا خلاف سنت ہے ۔ اس روایت کے جواب میں کہا جائے گا کہ یہ ابن شہاب کا کلام ہے اور اس سلسلہ میں اس کا اور تمہارا قول برابر ہے ۔ اس لیے کہ اس کے اور تمہارے مخالفین کے پاس اس کے خلاف دلیل موجود ہے ۔ ہم عنقریب اس لائیں ہے۔ اب ہم دوبارہ اس باب کے آثار کی طرف رجوع کرتے ہیں آیا ان آثار میں کوئی ایسی چیز ملتی ہے جو جنازے کے پیچھے چلنے کو مباح ثابت کرے ۔ تو ربیع چیزی اور ابن ابی داود کی روایات مل گئیں۔ ان تمام صحابہ کرام کا یہ عمل ظاہر کرتا ہے کہ آگے چلنا افضل ہے ۔

ليس من السنة المشي خلف الجنازة ← بن شِهَابٍ ← مَالِكٍ، ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Hadith 2689

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 2 باب المشي في الجنازة أين ينبغي أن يكون منها ) · حديث 2690

قد حدثانا قالا ثنا أبو زرعة قال أنا يونس بن يزيد عن بن شهاب عن أنس بن مالك رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم وأبا بكر وعمر رضي الله عنهما كانوا يمشون أمام الجنازة وخلفها

ابن شہاب نے انس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہم جنازے کے آگے اور پیچھے بھی چلتے تھے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← بن شِهَابٍ ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← أَبُو زُرْعَةَ ← قد حدثانا

Hadith 2690

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 2 باب المشي في الجنازة أين ينبغي أن يكون منها ) · حديث 2691

2545 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا محمد بن بشار قال ثنا محمد بن بكر البرساني عن يونس بن يزيد ثم ذكر بإسناده مثله ففي هذا الحديث أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يمشى خلف الجنازة كما كان يمشى أمامها فان كان مشى رسول الله صلى الله عليه و سلم وأبى بكر وعمر رضي الله عنهما امام الجنازة حجة لكم أن ذلك أفضل من المشي خلفها فكذلك مشى رسول الله صلى الله عليه و سلم وأبى بكر وعمر رضي الله عنهما خلفها حجة لمخالفكم عليكم أن ذلك أفضل من المشي أمامها فقد استوى خصمكم وأنتم في هذا الباب فلا حجة لكم فيه عليه وقد

محمد بن بکر برسانی نے یونس بن یزید سے پھر انہوں نے اپنی سند سے روایت نقل کی ہے اس روایت میں یہ ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنازے کے پیچھے چلتے جیسا کہ آگے چلتے اگر جنازے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر وعمر رضی اللہ عنہم کا جنازے سے آگے چلنا تمہاری دلیل ہے اور یہ پیچھے چلنے سے افضل ہے تو اسی طرح جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہم کا پیچھے چلنا تمہارے مخالفین کی دلیل ہے اور آگے چلنے سے ان کے ہاں افضل ہے ۔ اب اس سلسلے میں تم اور تمہارا حزب مکالف برابر ہو گیا ۔ پس اب تمہاری دلیل میں ان کے خلاف کوئی حجت نہ رہی ۔

بإسناده مثله ففي هذا الحديث ← يونس بن يزيد ثم ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← بن أبي داود

Hadith 2691

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 2 باب المشي في الجنازة أين ينبغي أن يكون منها ) · حديث 2692

2546 - حدثنا أبو بكرة وابن مرزوق قالا ثنا عثمان بن عمر بن فارس قال ثنا سعيد بن عبيد الله عن زياد بن جبير عن أبيه عن المغيرة بن شعبة قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم الراكب خلف الجنازة والماشى حيث شاء منها فأباح في هذا الحديث أيضا رسول الله صلى الله عليه و سلم المشي خلف الجنازة كما أباح المشي أمامها وليس في شيء مما ذكرنا ما يدل على الأفضل من ذلك ما هو وقد روى عن أنس بن مالك رضي الله عنه ما معناه قريب من معنى حديث المغيرة ولم يذكر عن النبي صلى الله عليه و سلم

زیاد بن جبیر نے اپنے والد سے انہوں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سوار جنازے کے پیچھے چلے پیدل جہاں چاہے چلے ۔ اس روایت میں بھی جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنازے کے پیچھے چلنے کو مباح قرار دیا ۔ جیسا کہ آگے چلنے کو مباح قرار دیا ان روایات میں کسی ایک کے دوسرے سے افضل ہونے کی کوئی دلیل نہیں اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ایسی روایت آتی ہے جس کا مفہوم روایت مغیرہ رضی اللہ عنہ کے قریب ہے مگر اس میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ نہیں ہے ۔

الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← أَبِيهِ ← زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ، ← سَعِيدَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ بْنِ فَارِسٍ ← أبو بكرة وابن مرزوق

Hadith 2692

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 2 باب المشي في الجنازة أين ينبغي أن يكون منها ) · حديث 2693

2547 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا يوسف بن عدى قال ثنا بكر بن عياش عن حميد الطويل عن أنس بن مالك رضي الله عنه في الرجل يتبع الجنازة قال إنما أنتم مشيعون لها فامشوا بين يديها وخلفها وعن يمينها وشمالها

حمید الطویل نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اس آدمی کے متعلق دریافت کیا جو جنازے کے پیچھے چلے تو انہوں نے فرمایا تم تو جنازے کی مشایعت کرتے ہو اس کے آگے پیچھے دائیں بائیں چل سکتے ہو۔

إنما أنتم مشيعون لها فامشوا بين يديها وخلفها وعن يمينها وشمالها ← أنس بن مالك في الرجل يتبع الجنازة ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← بكر بن عياش ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Hadith 2693

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 2 باب المشي في الجنازة أين ينبغي أن يكون منها ) · حديث 2694

2548 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا بن عفير قال حدثني يحيى بن أيوب عن حميد عن أنس بن مالك رضي الله عنه مثله وقد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذلك أيضا ما

ایوب نے حمید الطویل سے انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذلك أيضا ما ← أنس بن مالك مثله وقد روى ← حُمَيْدٍ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← بن عفير ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Hadith 2694

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 2 باب المشي في الجنازة أين ينبغي أن يكون منها ) · حديث 2695

2549 - حدثنا عبد الغنى بن رفاعة اللحني قال ثنا عبد الرحمن بن زياد قال ثنا شعبة عن أشعث بن سليم قال سمعت معاوية بن سويد بن مقرن قال سمعت البراء بن عازب يقول أمرنا رسول الله صلى الله عليه و سلم باتباع الجنازة ففي هذا الحديث أنه أمرهم باتباع الجنازة والمتبع المشي هو المتأخر عنه لا المتقدم أمامه ففيما ذكرنا ما قد دل على فساد قول الزهرى أن المشي خلف الجنازة من خطأ السنة

معاویہ بن سوید بن مقرن کہتے ہیں کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم فرمایا کہ ہم جنازے کے پیچھے چلا کریں اس روایت میں یہ فرمایا کہ آپ نے ان کو جنازے کے پیچھے چلنے کا حکم فرمایا اور پیچھے چلنے والا جنازے سے متاخر ہوتا ہے آگے اور مقدم نہیں اس روایت میں زھری کے قول کی غلطی ظاہر ہوتی ہے کہ جنازے کے پیچھے چلنا خلاف سنت ہے ۔

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ ← أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ، ← شُعْبَةُ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← عبد الغنى بن رفاعة اللحني

Hadith 2695

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 2 باب المشي في الجنازة أين ينبغي أن يكون منها ) · حديث 2696

2550 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا حماد بن سلمة عن يعلى بن عطاء عن عبد الله بن يسار عن عمرو بن حريث قال قلت لعلي بن أبي طالب رضي الله عنه ما تقول في المشي أمام الجنازة فقال علي بن أبي طالب رضي الله عنه المشي خلفها أفضل من المشي أمامها كفضل المكتوبة على التطوع قال قلت فإني رأيت أبا بكر وعمر رضي الله عنهما يمشيان أمامها فقال إنهما يكرهان أن يحرجا الناس

عمرو بن حریث کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا آپ جنازے سے آگے چلنے کے متعلق کیا فرماتے ہیں تو علی رضی اللہ عنہ فرمانے لگے پیچھے چلنا آگے چلنے سے اتنا افضل ہے جتنا کہ فرض نماز نفل سے افضل ہے میں نے دوسرا سوال کیا میں نے تو ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہم کو جنازہ کے آگے چلتے دیکھا ہے تو فرمایا وہ اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ لوگوں کو تنگی میں مبتلا کریں (یعنی سب لوگ ان کے ساتھ چلنا پسند کرتے جس سے مجمع کو تکلیف ہوتی تو انہوں نے آگے چل کر اس تنگی سے لوگوں کو محفوظ کر دیا )۔

عَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ، ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أسد ← ربيع المؤذن

Hadith 2696

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 2 باب المشي في الجنازة أين ينبغي أن يكون منها ) · حديث 2697

2551 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا يوسف بن عدى قال ثنا أبو الأحوص عن أبى فروة الهمداني عن زائدة بن خراش قال ثنا بن أبزى عن أبيه قال كنت أمشي في جنازة فيها أبو بكر وعمر وعلى رضي الله عنهم فكان أبو بكر وعمر رضي الله عنهما يمشيان أمامها وعلى رضي الله عنه يمشى خلفها يدي في يده فقال علي رضي الله عنه أما إن فضل الرجل يمشى خلف الجنازة على الذي يمشى أمامها كفضل صلاة الجماعة على صلاة الفذ وانهما ليعلمان من ذلك مثل الذي أعلم ولكنهما سهلان يسهلان على الناس ففي هذا الحديث تفضيل علي رضي الله عنه المشي خلف الجنازة على المشي أمامها وقوله ان أبا بكر وعمر رضي الله عنهما يعلمان مثل ما أعلم وانهما إنما يتركان ذلك للتسهيل على الناس لا لأن ذلك أفضل من غيره وهذا مما لا يقال بالرأى إنما يقال ويعلم بما قد وقفهم عليه رسول الله صلى الله عليه و سلم وعلمهم إياه من ذلك فقد ثبت بتصحيح ما روينا أن المشي خلف الجنازة أفضل من المشي أمامها وقد

ابن ابزی نے اپنے والد سے نقل کیا کہ میں جنازہ میں جا رہا تھا جس میں ابو بکر و عمر و علی رضی اللہ عنہم بھی تھے ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہم جنازے سے آگے تھے اور علی رضی اللہ عنہ اس کے پیچھے چل رہے تھے اور میرا ہاتھ ان کے ہاتھ میں تھا تو علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا سنو! آدمی کے لیے بہتر یہ ہے کہ وہ جنازے کے پیچھے چلے اور آگے چلنے والے کے مقابلے میں اس کو اتنی فضیلت حاصل ہے جس قدر جماعت کی نماز کو منفرد کی نماز پر فضیلت حاصل ہے اور وہ دونوں حضرات اس بات کو جانتے ہیں جیسا میں جانتا ہوں مگر وہ لوگوں کے لیے سہولت پیدا کرتے ہیں اس روایت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جنازے سے پیچھے چلنے کو آگے سے افضل قرار دیا اور اس کا یہ قول کہ ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہم اس بات کو اسی طرح جانتےتھے جیسے میں جانتا ہوں ۔ انہوں نے لوگوں کی سہولت کے لیے اسے ترک کیا اس وجہ سے نہیں کہ وہ اسے دوسرے افضل مانتے تھے اور یہ بات راوی و قیاس سے معلوم نہیں ہو سکتی ۔ یہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتلانے اور سکھانے سے ہی معلوم ہو سکتی ہے ۔ ان روایات کی تصحیح کے انداز سے معلوم ہوا کہ جنازے کے پیچھے چلنا آگے چلنے سے افضل ہے ۔

علي أما ← عمر وعلى فكان أبو بكر وعمر يمشيان أمامها وعلى يمشى خلفها يدي في يده ← كنت أمشي في جنازة فيها أبو بكر ← أَبِيهِ ← بن أبزي ← زائدة بن خراش ← أَبِي فَرْوَةَ الْهَمْدَانِيِّ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Hadith 2697

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 2 باب المشي في الجنازة أين ينبغي أن يكون منها ) · حديث 2698

2552 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا أبو اليمان الحكم بن نافع البهراني قال ثنا أبو بكر بن أبى مريم عن راشد بن سعد عن نافع قال خرج عبد الله بن عمر رضي الله عنهما وأنا معه على جنازة فرأى معها نساء فوقف ثم قال ردهن فإنهن فتنة الحي والميت ثم مضى فمشى خلفها فقلت يا أبا عبد الرحمن كيف المشي في الجنازة أمامها أم خلفها فقال أما ترانى أمشي خلفها فهذا عبد الله بن عمر رضي الله عنهما لما سئل عن المشي في الجنازة أجاب سائله أنه خلفها وهو الذي روينا عنه في الباب الأول أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يمشي أمامها فدل ذلك أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يفعل ذلك على جهة التخفيف على الناس ليعلمهم أن المشي خلف الجنازة وإن كان أفضل من المشي أمامها ليس هو مما لا بد منه ولا مما يحرج تاركه ولكنه مما له أن يفعله ويفعل غيره وكذلك ما روى عن بن عمر من ذلك فروى عنه سالم أنه كان يمشي أمام الجنازة فدل ذلك على إباحة المشي أمامها لا على أن ذلك أفضل من المشي خلفها ثم روى عنه نافع أنه مشى خلفها فدل ذلك أيضا على إباحته المشي خلفها لا على أن ذلك أفضل من غيره فلما سأله أخبره بالمشي الذي ينبغي له أن يفعل في الجنازة خلفها على أنه هو الذي هو أفضل من غيره وقد روينا في حديث البراء أن النبي صلى الله عليه و سلم أمرهم باتباع الجنازة والأغلب من معنى ذلك هو المشي خلفها أيضا فصار بذلك من حق الجنازة إتباعها والصلاة عليه إن كان يصلى عليها يكون في صلاته عليها متأخرا عنها فالنظر على ذلك أن يكون المتبع لها في اتباعه لها متأخرا عنها فهذا هو النظر مع ما قد وافقه من الآثار وقد

نافع نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ میں ایک جنازے کے لیے ان کے ساتھ نکلا انہوں نے جنازے کے ساتھ عورتوں کو پایا تو وہ رک گئے پھر فرمایا ان کو واپس کر دو یہ زندہ اور مردہ دونوں کے لیے فتنہ ہیں پھر چل دیے اور پیچھے چلے میں نے کہا اے ابو عبدالرحمن ! جنازے کے پیچھے چلنا کیسا ہے ؟ آگے یا پیچھے چلیں ۔ فرمایا کیا تم مجھے پیچھے چلتا نہیں دیکھ رہے ۔ تو یہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ہیں کہ جب ان سے جنازہ کے ساتھ متعلق سوال ہو انہوں نے سائل کو اپنے چلنے کا عمل مسائل کا عمل مسائل کے سامنے رکھ دیا ۔ یہ ابن عمر رضی اللہ عنہ ہیں باب کے شروع میں روایت کر رہے تھے کہ آپ جنازے لے کر آگےچلتے اس سے یہ دلالت مل گئی کہ آپ کا آگے چلنا لوگوں کے لیے حکم میں تخفیف کی غرض سے تھا تاکہ لوگوں کو سکھا دیا جائے اصل تو جنازے کے پیچھے چلنا آگے چلنے سے افضل ہے ، مگر وہ لازم نہیں اور نہ ہی اس کا ترک کرنے والا گناہ کا مرتکب ہے بلکہ وہ ان کاموں سے ہے جس کو اختیار کرنا یا اس کے علاوہ کا اختیار کرنا درست ہے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق اسی طرح مروی ہے سالم رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ وہ جنازے کے آگے چلتے اس سے معلوم ہوا کہ آگے چلنا مباح ہے یہ مطلب نہیں کہ یہ پیچھے چلنے سے افضل ہے پھر ان سے نافع نے بیان کیا کہ وہ جازے کے پیچھے چلتے تھے ۔ اس سے بھی یہ دلالت یسر آئی کہ پیچھے چلنا مباح ہے یہ معنی نہیں کہ یہ آگے چلنے سے افضل ہے پھر جب ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے بتلایا کہ جنازے ساتھ کس طرح چلنا چاہیے تو انہوں نے پیچھے چلنا بتلایا اور یہ کہ دوسری طرح چلنے سے یہ افضل ہے ہم نے حضڑت براء رضی اللہ عنہ کی حدیث میں یہ نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو جنازہ میں پیچھے چلنے کا حکم فرمایا اور اس کا غالب مفہوم پیچھے چلنا ہے ۔ پس یہ جنازے کا حق بن گیا ۔ کہ پیچھے چلا جائے اور نماز جنازہ پڑھی جائے اور نماز جنازہ میں اس سے پیچھے رہے ۔ پس اس پر غور و فکر کا تقاضا یہ ہے کہ پیچھے جانے والا بھی جنازے کے پیچھے چلے ۔ قیاس کا تقاضا یہی ہے اس کے ساتھ ساتھ کہ آثار بھی اس کے موید ہیں ۔لیجئے یہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ہیں جن کے قول کو فریق اول سے پیش کیا تھا خود ان کا فتویٰ اور عمل جنازہ میں پیچھے چلنے کا ہے اس سے بھی یہ بات ثابت ہوئی کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فصل اول میں جو بات نقل کی ہے اس کا مطلب یہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے چلنے سے لوگوں کو سہولت ہو جائے نہ یہ کہ یہ افضل ہے اور اگر اس کا مطلب یہ نہ بھی مانو تب بھی اس قدر تو ثابت ہوگا کہ آگے نہ چلنے والا گناہگار نہیں کبھی اس کو کرے کبھی دوسرا عمل کرے بالکل اسی طرح سالم والی روایت کا مفہوم بھی یہ ہے کہ آگے چلنا بھی جائز و مباح ہے اور ثبوت یہ ہے کہ نافع ان کا پیچھے چلنا ثابت کر رہے ہیں اس سے بس ابا حیت ثابت ہو گی نہ کہ افضلیت پھر جب ان سے سوال ہوا تو انہوں نے پیچھے چلنے کا حکم فرمایا اس سے معلوم ہوا کہ یہی ان کے ہاں افضل ہے اور ہم نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے اتباع جنائز والی روایت نقل کر دی جس کا معنی جنازے کے پیچھے چلنا متبا در ہے پس اس سے جنازہ کا یہ حق بن گیا کہ وہ اس کے پیچھے جائے اس پر نماز ادا کرے اور نماز میں بھی جنازہ مقدم ہو گا اور یہ متاخر ہو گا۔

نَافِعٍ ← رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← أبو اليمان الحكم بن نافع البهراني ← بن أبي داود

Hadith 2698

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 2 باب المشي في الجنازة أين ينبغي أن يكون منها ) · حديث 2699

2553 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا أحمد بن يونس قال ثنا إسرائيل عن عبد الله بن شريك العامري قال سمعت الحارث بن أبى ربيعة سأل عبد الله بن عمر عن أم ولد له نصرانية ماتت فقال له بن عمر رضي الله عنهما تأمر بأمرك وأنت بعيد منها ثم تسير أمامها فان الذي يسير أمام الجنازة ليس معها فهذا بن عمر يخبر أن الذي يسير أمام الجنازة ليس معها فاستحال أن يكون ذلك عنده كذلك وقد رأى النبي صلى الله عليه و سلم يمشى أمام الجنازة فثبت بذلك أن أصل حديث سالم الذي رويناه في أول هذا الباب إنما هو كما رواه مالك عن الزهرى موقوفا أو كما رواه عقيل ويونس عن الزهرى عن سالم موقوفا لا كما رواه بن عيينة عن الزهرى عن سالم عن أبيه مرفوعا

حارث بن ابی ربیعہ نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا میری نصرانی ام ولد مر گئی اس کا کیا حکم ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس کے بارے میں (دفن وغیرہ کا ) حکم دو لیکن تم اس سے دور رہو پھر اس کے جنازے کے آگے چلو کیونکہ آگے چلنے والا وہ جنازے کے ساتھ شمار نہیں ہوتا ۔ یہ ابن عمر رضی اللہ عنہ جو کہ یہ بتلا رہے ہیں کہ جنازے سے آگے چلنے والا گویا جنازہ کے ساتھ جانے والا نہیں اور یہ بات اس وقت تک کہنا ممکن نہیں جب کہ انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنازے سے آگے چلتے دیکھا پس اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ سالم والی روایت کی اصل وہ جو ہم نے باب کے شروع میں مالک کے واسطے سے زھری سے موقوف نقل کی ہے یا جیسا عقیل و یونس نے زھری کی وساطت سے سالم سے موقوف نقل کی ہے یا جیسا عقیل و یونس نے زھری کی وساطت سے سالم سے موقوف کی ہے ۔ اس طرح نہیں جیسا ابن عینہ نے زھری کے واسطہ سے مرفوعا ً نقل کیا ہے ۔ لو سنو یہ ! ابن عمر رضی اللہ عنہ تو جنازے سے آگے چلنے والے کو جنازہ کے ساتھ نہ جانے والا فرما رہے ہیں پس یہ ناممکن ہے کہ وہ ایسی بات اپنی طرف سے کہیں جبکہ فصل اول کی روایات میں وہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جنازے سے آگے چلنا نقل کر چکے ہیں اس سے یہ ثابت ہوا کہ سالم والی روایت کی اصل وہ ہے جو امام مالک نے زہری سے نقل کی ہے وہ موقوف ہے مرفوع روایت نہیں ہے ۔ مزید ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت دیکھیں ۔

له بن عمر تأمر بأمرك ← أم ولد له نصرانية ماتت ← الحارث بن أبى ربيعة سأل عبد الله بن عمر ← عَبْدِ اللهِ بْنِ شَرِيكٍ الْعَامِرِيِّ ← اِسْرَائِیْلُ ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← بن أبي داود

Hadith 2699

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 2 باب المشي في الجنازة أين ينبغي أن يكون منها ) · حديث 2700

2554 - حدثنا بن أبى مريم قال ثنا الفريابي قال ثنا إسرائيل قال ثنا أبو يحيى عن مجاهد قال كنت مع عبد الله بن عمر رضي الله عنهما جالسا فمرت جنازة فقام بن عمر رضي الله عنهما ثم قال قم فإني رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم قام لجنازة يهودي مرت عليه فقيل هل لك أن تتبعها فإن في اتباع الجنازة أجرا فانطلقنا نمشي معها فنظر فرأى ناسا فقال ما أولئك الذين بين يدي الجنازة قلت هم أهل الجنازة فقال ما هم مع الجنازة ولكن كتفيها أو وراءها فينما هو يمشي إذ سمع رانة فاستدارنى وهو قابض على يدي فاستقبلها فقال لها شرا حرمتينا هذه الجنازة اذهب يا مجاهد فإنك تريد الأجر وهذه تريد الوزر إن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهانا أن نتبع الجنازة معها رانة فان قال قائل وكيف يجوز أن يكون المشي خلف الجنازة أفضل من المشي أمامها وقد كان عمر بن الخطاب بحضرة أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم في جنازة زينب يقدم الناس أمامها فذلك دليل على انه كان لا يرى المشي خلفها أصلا ولولا ذلك لأباحه لمن مشى خلفها قيل له وكيف يجوز ما ذكرت وقد قال على بن أبى طالب رضي الله عنه أنهما يريد أبا بكر وعمر رضي الله عنهما يعلمان أن المشي خلفها أفضل من المشي أمامها ثم يفعل هذا المعنى الذي ذكرت ولكنه فعل ذلك عندنا والله أعلم لعارض إما لنساء كن خلفها فكره للرجال مخالطتهن فأمرهم بتقدم الجنازة لذلك العارض لا لأنه أفضل من المشي خلفها وقد سمعت يونس يذكر عن بن وهب أنه سمع من يقول ذلك وهو أولى ما حمل عليه معنى ذلك الحديث حتى لا يتضاد ما ذكره على عن أبى بكر وعمر رضي الله عنهم وقد

مجاہد کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا ان کے پاس سے ایک جنازہ گزرا ابن عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے پھر فرمایا تم بھی اٹھو میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک یہود کا جنازہ گزرتے وقت کھڑے ہوتے دیکھا ان سے سوال ہوا کیا تم کو ان کے ساتھ جانا مناسب ہے اس لیے جنازے کے ساتھ جانے میں ثواب ہے ؟( وہ اٹھ کر چل دیئے) ہم دونوں اس کے ساتھ چلتے گئے آپ کی نظر جنازہ کے آگے کچھ لوگوں پرپڑی میں نے کہا یہ جنازہ والے متعلقین ہیں یہ لوگ جنازہ کے ساتھ نہیں ۔ وہ لوگ ساتھ ہیں جو اس کے دونوں اطراف اور پیچھے ہیں چلتے ہوئے انہوں نے ایک رونے والی عورت کو سنا میرا ہاتھ پکڑکرمجھے گھمایا اور اس کے سامنے کرکے فرمایا تو بہت بری ہے کہ اس جنازہ کے اجر سے محروم کر رہی ہے اے مجاہد جاؤ! تو تو اجر کا خواستگار تھا اور یہ گناہ چڑھا رہی ہے ۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے جنازے کے ساتھ جانے سے روکا ہے جس کے بین کرنے والی ہو۔ اگر کوئی معترض یہ کہے کہ یہ کس طرح ثابت ہوگیا کہ جنازے کے پیچھے چلنا آگے چلنے سے افضل ہے حالانکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ صحابہ کرام کی موجودگی حضرت زینت کےجنازے میں لوگوں کو اس سے آگے بڑھاتے تھے پس اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ وہ پیچھے چلنے کی کوئی اصل نہ پاتے تھے ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو آپ پیچھے چلنے کو بھی مباح قرار دیتے ؟ اس کےجواب میں اس طرح عرض کریں گے کہ تمہاری یہ بات کیسے درست ہے ۔ حالانکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کاقول گزرا کہ ان دونوں حضرات کامقصد یہ ہے کہ وہ لوگوں کو سکھاتے ہیں کہ جنازے پیچھے چلنا آگے چلنے سے افضل ہے پھر ان کا یہ طرز عمل اختیار کرنا تو اس کا مطلب ہمارے نزدیک یہ ہے ( واللہ اعلم) کہ یہ کسی عارضہ کی وجہ سے تھا خواہ ان عورتوں کی وجہ سے جوان کےپیچھے تھیں تو آپ نے مردوں عورتوں کے اختلاط کو ناپسند کیا اس سے انہوں نے مردوں کو جنازے سے آگے بڑھ جانے کا حکم دیا تو اس کا سبب یہ عارضہ تھا نہ یہ کہ یہ چلنے سےافضل ہے ۔ میں نے یونس سے سنا کروہ ابن دھب سے یہ بیان کرتے اور کہتے کہ اس نے یہ بات خود کہنے والے سے سنی ۔ اس حدیث کا یہ معنی کرنا زیادہ بہتر ہے تاکہ یہ اس روایت کے خلاف نہ ہو ۔ جس کو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے سابقہ سطور میں حضرت ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق ذکر کیا ہے ۔

مُجَاهِدٍ ← أبو يحيى ← اِسْرَائِیْلُ ← الْفِرْيَابِيُّ، ← بن اَبِیْ مَرْیَمَ

Hadith 2700

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter