شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 2 باب المشي في الجنازة أين ينبغي أن يكون منها ) · حديث 2689
2544 - حدثنا يونس قال انا بن وهب عن مالك عن بن شهاب قال ليس من السنة المشي خلف الجنازة قال بن شهاب والمشى خلف الجنازة من خطأ السنة قيل لهم هذا كلام بن شهاب فقوله في ذلك كقولكم إذ كان لمخالفه ومخالفكم من الحجة عليه وعليكم ما سنذكره في هذا الباب إن شاء الله تعالى ثم رجعنا الى ما روى في هذا الباب من الآثار هل فيه شيء يبيح المشي خلف الجنازة فإذا ربيع الجيزي وابن أبى داود
ابن شہاب کہتے ہیں کہ جنازے کے پیچھے چلنا سنت نہیں ہے ۔ ابن شہاب کے اس قول سے معلوم ہوا کہ جب پیچھے چلنا سنت نہیں تو خلاف سنت ہے یہ تو ابن شہاب زہری کا قول ہے جو کہ نہ اثر صحابی ہے نہ قول رسول ہے پس فریق ثانی کے اپنے قول کے برابر ہے جس کو ان کے خلاف حجت میں پیش نہیں کرسکتے ۔ ہم توجنازے کے پیچھے چلنے کا سنت ہونا عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور عمل صحابہ رضی اللہ عنہ سے ثابت کرتے ہیں ۔ روایت یہ ہے کہ اس کو ربیع اور ابن ابی داؤد نے نقل کیا۔ ابن شہاب کہتے ہیں کہجنازے کے پیچھے چلنا خلاف سنت ہے ۔ اس روایت کے جواب میں کہا جائے گا کہ یہ ابن شہاب کا کلام ہے اور اس سلسلہ میں اس کا اور تمہارا قول برابر ہے ۔ اس لیے کہ اس کے اور تمہارے مخالفین کے پاس اس کے خلاف دلیل موجود ہے ۔ ہم عنقریب اس لائیں ہے۔ اب ہم دوبارہ اس باب کے آثار کی طرف رجوع کرتے ہیں آیا ان آثار میں کوئی ایسی چیز ملتی ہے جو جنازے کے پیچھے چلنے کو مباح ثابت کرے ۔ تو ربیع چیزی اور ابن ابی داود کی روایات مل گئیں۔ ان تمام صحابہ کرام کا یہ عمل ظاہر کرتا ہے کہ آگے چلنا افضل ہے ۔
ليس من السنة المشي خلف الجنازة ← بن شِهَابٍ ← مَالِكٍ، ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ
Hadith 2689
